خلاصہ خطبہ جمعہ

جنگِ بدر کی تیاری کےحالات و واقعات اور آنحضور ﷺکی متضرعانہ دعاؤں کا بیان: خلاصہ خطبہ جمعہ حضور انور فرمودہ ۳۰؍جون۲۰۲۳ء

(ادارہ الفضل انٹرنیشنل)

٭… جب کفار نے عام حملہ کرديا تو آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے خدا کے حضور بڑے اضطراب سے دعا کي کہ اے ميرے اللہ! اپنے وعدوں کو پورا کر۔ اے ميرے مالک! اگر مسلمانوں کي يہ جماعت آج ہلاک ہوگئي تو دنيا ميں تجھے پوجنے والا کوئي نہيں رہے گا

٭… حضرت علي ؓکہتے ہيں کہ ہم جنگ کے دن رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کي آڑ ليتے تھے۔ حضور صلي اللہ عليہ وسلم دشمن کے قريب تر تھے سب مجاہدين سے زيادہ حضور صلي اللہ عليہ وسلم جنگ کرنے والے تھے

٭… اے معشرقريش! مَيں نے ديکھا ہے کہ مسلمانوں کے لشکر ميں اونٹنيوں نے اپنے اوپر آدميوں کو نہيں بلکہ موتوں کو اٹھايا ہوا ہے

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۳۰؍جون۲۰۲۳ء بمطابق۳۰؍احسان ۱۴۰۲ ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۳۰؍جون ۲۰۲۳ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانافیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔

تشہد، تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

سواد بن غزیہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کے عجیب اظہار کا واقعہ گذشتہ خطبے میں بیان ہوا تھا۔ اس حوالے سے مزید تفصیل اس طرح ہے کہ سواد اس جنگ میں فاتحانہ شان کے ساتھ لوٹے اور مشرکین میں سے ایک شخص خالد بن ہشام کو قیدی بھی بنایا۔ بعد میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنگِ خیبر کے اموال جمع کرنے کے لیے عامل بھی بنایا۔ بعض کے نزدیک یہ واقعہ سواد بن عمرو سے بھی منسوب ہے۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے اس واقعے کا ذکر یوں فرمایا ہے کہ رمضان ۲؍ہجری کی ۱۷؍تاریخ اور جمعے کا دن تھا۔ صبح سب سے پہلے نماز ادا کی گئی اور پرستارانِ احدیت کھلے میدان میں خدا تعالیٰ کے حضور سر بسجود ہوئے۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے موضوع پر خطبہ ارشاد فرمایا۔ پھر جب کچھ روشنی ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تیر کی مدد سے مسلمانوں کی صفوں کو درست کرنا شروع کیا۔ ایک صحابی سواد نامی صف سے کچھ آگے نکلا کھڑا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر کے اشارے سے اسے پیچھے ہٹنے کو کہا۔ مگر اتفاق سے اس تیر کی لکڑی اس صحابی کے سینے پر جا لگی۔ اس صحابی نے جرأت کے انداز سے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو اللہ تعالیٰ نے حق اور انصاف کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ مگر آپ نے مجھے ناحق تیر مارا ہے۔ واللہ! مَیں تو اس کا بدلہ لوں گا۔ اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے سواد تم بھی مجھے تیر مار لو۔ یہ کہہ کر آپ نے اپنے سینے سے کپڑا اٹھا دیا۔ صحابہ انگشت بدنداں حیران پریشان تھے کہ سواد کو یہ کیا ہوا۔

سواد نے فرطِ محبت سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کو چوم لیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے پوچھا کہ سواد یہ تمہیں کیا سوجھی؟ سواد نے رقت بھری آواز میں عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن سامنے ہے کچھ خبر نہیں کہ یہاں سے بچ کر جانا ملتا ہے کہ نہیں۔ مَیں نے چاہا کہ شہادت سے پہلے آپ کے جسمِ مبارک سے اپنا جسم چھو جاؤں۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے نزدیک اسی طرح کے واقعے کا تذکرہ فرمایا ہے۔

جنگِ بدر میں صحابہ کا شعار یعنی نشان یا نعرہ یا بنی عبد الرحمٰن تھا۔ اسی طرح خزرج کا نعرہ یا بنی عبد اللہ تھا۔ قبیلہ اوس کا شعار یا بنی عبیداللہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھڑ سواروں کو خَیل اللہ کا نام دیا تھا۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوں کو سیدھا کرلیا تو صحابہؓ کو فرمایا جب تک مَیں تمہیں حکم نہ دوں دشمن پر حملہ نہ کرنا۔ تلواریں اس وقت تک نہ سوتنا جب تک دشمن بالکل قریب نہ آجائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے میں جہاد اور صبر کی تلقین فرمائی۔ فرمایا

اللہ کا دامن مضبوطی سے تھام لو کہ وہ تم سے راضی ہوجائے۔ اس جگہ تم اپنے رب کی آزمائش پر پورا اترو۔ ہم اللہ کے ساتھ ہیں جو حیّ و قیوم ہے۔ ہم اسی پر توکل کرتے ہیں اسی کی طرف ہم نے لوٹنا ہے۔

حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے روز صحابہؓ سے فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بنو ہاشم اور کچھ دوسرے لوگ مشرکین کے ساتھ مجبوراً آئے ہیں وہ ہم سے لڑنا نہیں چاہتے۔ پس تم میں سے جو کوئی بنو ہاشم کے کسی فرد سے ملے تو وہ اسے قتل نہ کرے۔ جو ابو البختری سے ملے وہ اسے قتل نہ کرے۔ جو عباس بن عبد المطلب سے ملے وہ بھی انہیں قتل نہ کرے۔ ابو حذیفہ نے اس پر کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اپنے بھائی بندوں کو تو قتل کریں لیکن عباس کو قتل نہ کریں۔ اس بات سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت تکلیف ہوئی اور آپ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ کیا اب رسول اللہ کے چچا پر تلوار چلائی جائے گی۔ بعد میں حضرت ابو حذیفہ اپنی اس بات کو یاد کرکے بہت افسوس کیا کرتے اور کہتے کہ صرف شہادت ہی اس غلطی کا کفارہ ہوسکتی ہے۔ چنانچہ ابو حذیفہ جنگِ یمامہ کے دن شہید ہوگئے۔

حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان ہدایات کے بعد دوبارہ سائبان میں تشریف لے گئے اور دعاؤں میں مشغول ہوگئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کو دیکھا تو قبلے کی طرف رخ کیا اور دونوں ہاتھ پھیلا کر خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ

اے اللہ! جو تو نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما۔ اے اللہ! اگر تُو نے مسلمانوں کا یہ گروہ آج ہلاک کردیا تو تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔

قبلے کی طرف رخ کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے اپنے رب کو پکارتے رہے یہاں تک کہ آپ کی چادر کندھوں سے گِر گئی۔ حضرت ابوبکرؓ آپ کے نزدیک تشریف لائے، آپ کی چادر اٹھائی اور دوبارہ کندھوں پر ڈال دی۔ پھر حضرت ابوبکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے سے چمٹ گئے اور عرض کی کہ اے اللہ کے نبی! آپ کی اپنے رب سے کی گئی یہ دعا کافی ہے۔ وہ آپ سے کیے گئے وعدے ضرور پورے فرمائے گا۔

جب کفار نے عام حملہ کردیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کے حضور بڑے اضطراب سے دعا کی کہ

اے میرے اللہ! اپنے وعدوں کو پورا کر۔ اے میرے مالک! اگر مسلمانوں کی یہ جماعت آج ہلاک ہوگئی تو دنیا میں تجھے پوجنے والا کوئی نہیں رہے گا۔ اس دعا کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر کرب کی حالت میں تھے کہ کبھی سجدے میں گِر جاتے اور کبھی کھڑے ہوکر خدا کو پکارتے۔

حضرت علی ؓبیان کرتے ہیں کہ لڑتے ہوئے مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال آتا تو میں آپ کے سائبان کی طرف بھاگا جاتا۔ مگر جب بھی مَیں گیا مَیں نے آپ کو سجدے میں گڑگڑاتے ہوئے پایا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ قرآن میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو باربار کافروں پر فتح پانے کا وعدہ دیا گیا تھا۔ مگر جب بدر کی لڑائی شروع ہوئی، جو اسلام کی پہلی لڑائی تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رونا اور دعا کرنا شروع کیا اور روتے روتے یہ الفاظ آپ کی زبان سے نکلے کہ اے میرے خدا! اگر آج تُو نے اس جماعت کو جو صرف تین سَو تیرہ آدمی تھے، ہلاک کردیا تو پھر قیامت تک کوئی تیری بندگی نہیں کرے گا۔

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سائبان میں دعا کر رہے تھے تو آپ پر اونگھ طاری ہوئی پھر یکایک بیدار ہوئے اور فرمایا اے ابو بکر! خوش ہوجاؤ! تمہارے پروردگار کی مدد آگئی ہے۔ یہ دیکھو جبرائیل اپنے گھوڑے کی باگ تھامے اسے چلاتے چلے آرہے ہیں۔ اس کے پاؤں پر غبار کے نشان ہیں۔

ایک اور روایت میں آتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابو بکر! تمہیں بشارت ہو کہ یہ جبرائیل ہیں جو زرد عمامہ پہنے ہوئے ہیں۔ وہ زمین اور آسمان کے مابین اپنے گھوڑوں کی لگام تھامے ہوئے ہیں۔ جب وہ زمین پر اترے تو کچھ دیر کے لیے مجھ سے غائب ہوئے۔ پھر نمودار ہوئے۔ ان کے گھوڑے کے پاؤں غبار آلود تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ جب آپ نے دعا مانگی ہے تو اللہ کی نصرت آپ کے پاس آگئی ہے۔

میدان بدر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر بن العوام کو میمنہ پر، مقداد بن عمرو کو میسرہ پر، قیس کو پیادہ فوج پر افسر مقرر کیا۔ لشکر کی امامت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھی، آپ اگلی صفوں میں تھے۔ حضرت علیؓ کہتے ہیں کہ ہم جنگ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آڑ لیتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کے قریب تر تھے۔ سب مجاہدین سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کرنے والے تھے۔

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ جب فوجیں بالکل آمنے سامنے آگئیں تو یہ قدرت الٰہی کا عجیب تماشا ہے کہ اس وقت لشکر کے کھڑے ہونے کی ترتیب ایسی تھی کہ اسلامی لشکر قریش کو دوگنا نظر آتا تھا۔ جبکہ دوسری طرف قریش کا لشکر مسلمانوں کو اپنی اصلی تعداد سے کم دکھائی دیتا تھا۔ رؤسائے قریش نے عمیر بن وہب کو اس مقصد سے بھیجا کہ وہ مسلمانوں کے لشکر کا صحیح اندازہ لگا سکے۔ عمیر پر مسلمانوں کا ایسا جلال اور رعب طاری ہوا کہ وہ سخت مایوس ہوکر کفار کی طرف لوٹا اور قریش کو مخاطب کرکے کہا کہ

اے معشرقریش! مَیں نے دیکھا ہے کہ مسلمانوں کے لشکر میں اونٹنیوں نے اپنے اوپر آدمیوں کو نہیں، بلکہ موتوں کو اٹھایا ہوا ہے۔ یثرب کی سانڈھنیوں پر گویا ہلاکتیں سوار ہیں۔ قریش نے جب یہ سنا تو ان میں بےچینی پھیل گئی۔

حکیم بن حزام نے یہ بات سنی تو عتبہ بن ربیعہ کے پاس آیا اور عتبہ کو واپس چلنے کا مشورہ دیا۔ عتبہ تو خود ڈرا ہوا تھا اس نے یہ رائے پسند کی اور حکیم کو کہا کہ ہم اور مسلمان آپس میں رشتے دار ہی تو ہیں۔ کیا یہ اچھا لگتا ہے کہ بھائی بھائی پر تلوار اٹھائے۔ پس تم ابوجہل کے پاس جاؤ اور اس کے سامنے یہ تجویز پیش کرو۔ جب حکیم بن حزام نے ابوجہل کے سامنے یہ تجویز پیش کی تو وہ فرعونِ امت بھلا ایسی باتوں میں کہاں آنے والا تھا۔ جھٹ بولا اچھا اچھا! اب عتبہ کو اپنے سامنے اپنے رشتے دار نظر آنے لگے ہیں۔ پھر ابوجہل نے حکمتِ عملی کے ساتھ اس تجویز کو ایسے رد کیا کہ لشکرِ کفار کے سینوں میں عداوت کے شعلے بلند ہوگئے اور جنگ کی بھٹی اپنے پورے زور سے دہکنے لگی۔

خطبے کے آخر میں حضورِ انور نے فرمایا کہ جنگ شروع ہونے کی بقیہ تفصیل آئندہ بیان ہوگی۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button