متفرق مضامین

یورپ میں قدرت ثانیہ کے دَور میں جماعت احمدیہ کی ترقیات پر ایک طائرانہ نظر

(جاوید اقبال ناصر۔مربی سلسلہ جرمنی)

خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا۔ ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے(حضرت مسیح موعودؑ)

اللہ تعالیٰ نے جب سے دُنیا کوپیدا کیاتو ا سی وقت سے ہی لوگوں کی اصلاح کے لیے انبیاء کو بھجوانے کا سلسلہ بھی شروع کیا۔اور کرہٴ ارض پر ہر جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسل و انبیاء کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا جیسا کہ فرمایا: وَاِنۡ مِّنۡ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ۔(فاطر: ۲۵) اور کوئی امت نہیں مگر ضرور اس میں کوئی ڈرانے والا گزرا ہے۔ آج سے تقریباًپندرہ سو سال قبل ایک ایسے وجود کا نزول ہوا جو کہ تمام دنیا کی تمام اقوام اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کی طرف بھیجا گیا تھا۔ جس کا نام محمد ﷺتھا اورجس کا کام دنیا کے اطراف میں وحدانیت کو پھیلانا تھا۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیۡرًا وَّنَذِیۡرًا وَّلٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ۔(سبا:۲۹)اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ نبی کریمﷺ نےاپنے گذر جانے کے بعد اپنی امت میں ایک ایسے وجود کے آنے کی پیشنگوئی فرمائی جس نے تمام دنیا کے لوگوں کے لیے ہادی و امام اور مسیح موعود بن کر آنا تھا۔ جس کےہاتھ پر تمام دنیا کے بھٹکے ہوؤں نے اکٹھے ہوکراسلام کےجھنڈےکو ہر جہت واطراف میں لہرانا تھا۔ چنانچہ وہ وجود اپنے وقت پرآیا اور اللہ تعالیٰ کے اذن و حکم سے مخلوقِ خدا کو ایک ہاتھ پراکٹھا کرنے کے لیے اس نےایک درخت ۲۳؍مارچ ۱۸۸۹ء کولدھیانہ میں لگایااوراس کوشش میں دن رات ایک کی کہ کسی طرح خدائے واحد کانام دنیا کے کونوں تک پہنچایا جائےتاکہ اس ثمر وردرخت کی شاخیں دنیا کے کناروں تک پہنچ جائیں۔ چنانچہ آپؑ نے ایک جگہ فرمایا:’’خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا۔ ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔ یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا۔ سو تم اس مقصد کی پیروی کرو۔‘‘(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۳۰۶تا۳۰۷)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شدید خواہش تھی کہ یورپ کے لوگ بھی آپؑ کے لائے ہوئے پیغام کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی ہستی کو پہچانیں۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحب بیان کرتے ہیں کہ’’ایک دفعہ جب میں حضرت مسیح موعود ؑکی خدمت میں حاضر تھا تو آپ کے کمرہ کا دروازہ زور سے کھٹکا اور سید آل محمد صاحب امروہوی نے آواز دی کہ حضور میں ایک نہایت عظیم الشان فتح کی خبر لا یا ہوں۔ حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ آپ جاکر ان کی بات سن لیں کہ کیا خبر ہے۔ میں گیا اور سید آل محمد صاحب سے دریافت کیا انہوں نے کہا کہ فلاں جگہ مولوی سید محمد احسن صاحب امروہوی کا فلاں مولوی سے مباحثہ ہوا تو مولوی صاحب نے اُسے بہت سخت شکست دی۔ اور بڑا رگیدا۔ اور وہ بہت ذلیل ہوا وغیرہ وغیرہ۔ اور مولوی صاحب نے مجھے حضرت صاحب کے پاس روانہ کیا ہے کہ جاکر اس عظیم الشان فتح کی خبر دوں۔ مفتی صاحب نے بیان کیا کہ میں نے واپس آکر حضرت صاحب کے سامنے آل محمد صاحب کے الفاظ دہرا دیئے۔ حضرت صاحب ہنسے اور فرمایا۔ (کہ ان کے اس طرح دروازہ کھٹکھٹانے اور فتح کا اعلان کرنے سے) ’’میں سمجھا تھا کہ شاید یورپ مسلمان ہو گیا ہے‘‘۔ مفتی صاحب کہتے تھے کہ اس سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت اقدس ؑ کو یورپ میں اسلام قائم ہو جانے کا کتنا خیال تھا۔‘‘(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ۲۷۳)

ایک جگہ حضورعلیہ السلا م فرماتے ہیں:’’درحقیقت آج تک مغربی ملکوں کی مناسبت دینی سچائیوں کے ساتھ بہت کم رہی ہے۔ گویا خدا تعالیٰ نے دین کی عقل تمام ایشیا کو دے دی اور دنیا کی عقل تمام یورپ اور امریکہ کو۔ نبیوں کا سلسلہ بھی اوّل سے آخرتک ایشیاء کے ہی حصہ میں رہا اور ولایت کے کمالات بھی انہیں لوگوں کو ملے۔ اب خدائے تعالیٰ ان لوگوں پر نظر رحمت ڈالنا چاہتا ہے۔‘‘(ازالہ اوہام حصہ دوئم، روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ۳۷۷)ایک اور جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان الفاظ میں خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا: ’’نئی زمین ہو گی اور نیا آسمان ہو گا۔ اب وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ جو سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے چڑھے گا اور یورپ کو سچے خدا کا پتہ لگے گا اور بعد اِس کے توبہ کا دروازہ بند ہو گا۔ کیونکہ داخل ہونے والے بڑے زور سے داخل ہو جائیں گے اور وہی باقی رہ جائیں گے جن کے دل پر فطرت سے دروازے بند ہیں اور نور سے نہیں بلکہ تاریکی سے محبت رکھتے ہیں۔‘‘(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۳۰۴-۳۰۵،ایڈیشن۱۹۸۹ء)یوں توحضرت مسیح موعود علیہ السلام تصویر کشی کو نا پسندفرماتے تھے۔ لیکن جب اس کی اجازت دی تو اس لیے کہ یورپ کے لوگوں تک آپؑ کا پیغام اس ذریعہ سے بھی پہنچا یاجائے۔ جیسا آپؑ نے فرمایا:’’ مَیں نے دیکھا ہے کہ آج کل یورپ کے لوگ جس شخص کی تالیف کو دیکھنا چاہیں اوّل خواہشمند ہوتے ہیں جواُس کی تصویر دیکھیں کیونکہ یورپ کے ملک میں فراست کے علم کو بہت ترقی ہے۔ اور اکثر اُن کی محض تصویر کو دیکھ کر شناخت کر سکتے ہیں کہ ایسا مدعی صادق ہے یا کاذب۔ اور وہ لوگ بباعث ہزار ہا کوس کے فاصلہ کے مجھ تک پہنچ نہیں سکتے اور نہ میرا چہرہ دیکھ سکتے ہیں لہٰذا اُس ملک کے اہلِ فراست بذریعہ تصویر میرے اندرونی حالات میں غور کرتے ہیں۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو انہوں نے یورپ یا امریکہ سے میری طرف چٹھیاں لکھی ہیں اور اپنی چٹھیوں میں تحریر کیا ہے کہ ہم نے آپ کی تصویر کو غور سے دیکھا اور علم فراست کے ذریعہ سے ہمیں ماننا پڑا کہ جس کی یہ تصویر ہے وہ کاذب نہیں ہے۔ اور ایک امریکہ کی عورت نے میری تصویر کو دیکھ کر کہا کہ یہ یسوع یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی تصویر ہے‘‘۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد۲۱ صفحہ۳۶۶)

دنیا توعارضی و فانی ہے۔ ہر ایک نے ایک نہ ایک دن رختِ سفر باندھنا ہے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سےواپسی کے اشارے آنے لگے تو آپؑ نےاپنے بعد اپنے جانشین کے آنے کا ذکرکیا تاکہ الٰہی مشن کو دنیا کے کناروں تک پہنچایا جائے۔ چنانچہ آپؑ نے فرمایا:’’تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا…میں خدا کی مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔ ‘‘(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۳۰۵تا۳۰۶)

یوں یہ بزرگ و برتر ہستی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اس منادی اوربشارت کو لوگوں کے کانوں میں ڈالتے ہوئےالٰہی منشا کے مطابق ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ءکو اس دنیائے فانی سے رخصت ہوکر اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔یقیناً سچ ہی کہاگیا ہے،آپؑ کے لیے:

یارو مسیحِ وقت کہ تھی جن کی انتظار

رہ تکتے تکتے جن کی کروڑوں ہی مر گئے

آمد تھی ان کی یا کہ خدا کا نزول تھا

صدیوں کا کام تھوڑے سے عرصے میں کر گئے

لیکن آپؑ کا لایا ہوا پیام و پیغام آپؑ کی وصیت کے مطابق آپؑ کے جا نشین و خلفائے کرام آپؑ کے بعد مخلوق الٰہی کو پہنچاتے رہے اور قیامت تک پہنچاتے رہیں گے۔ان شاءاللہ

اس دوسری قدرت نے براعظم یورپ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو پہنچانے کی بھر پور کوششیں کیں اور اس میدان میں ہر طور و طریقے اپنائے۔کہیں تو مبلغین کو بھجوایا گیا اورکہیں مساجد کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ بعض جگہ مشن ہاؤسز کے لیے پلاٹ خریدےگے اوربعض جگہ پربنے بنائے ہاؤسزان مقاصد لیے حاصل کیے گئے۔جہاں پیغام حق کو پہنچانے کے لیےدورہ جات کیے گئےوہاں پر احمدی احباب کی تعلیم و تربیت کے لیے مجالس سوال و جواب بھی منعقد کی گئیں۔ روحانی ترقی کے لیےجلسہ سالانہ شروع کیے گئےجبکہ جسمانی قوتوں کی مضبوطی کے لیے اجتماعات کو فروغ ملا۔کسی جگہ تبلیغ و دعوت الیٰ اللہ کے لیے فلائرز تقسیم کرنے کا ارشاد ہوا اور کسی ملک میں لٹریچر کی وسیع اشاعت کرنے کا مشورہ دیا جاتا رہا۔ ایک طرف ان ممالک میں قرآن کریم کے تراجم ان کی لوکل زبان میں کرنے کے لیے زبان دان کی مدد لی گئی اور دوسری طرف مبلغین کو یورپین ممالک کی زبانیں سیکھنے کی خاص ہدایات جاری کی گئیں۔اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم الشان نعمت مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ انٹرنیشنل کا آغاز بھی آپؑ کےچوتھے خلیفہ کے ذریعہ دُنیا نے دیکھا اور اس کے چینلز بھی پانچویں جانشین کےہاتھوں سے یورپ کی سر زمین سے شروع ہوتے ہوئے دیکھے گئے۔جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتےہیں:’’ ایم ٹی اے کے ذریعہ سے دنیا کے تمام ممالک میں اسلام کا حقیقی پیغام پہنچ رہا ہے۔ پہلے ایک زبان میں تھا اور ایک چینل تھا۔ اس وقت دنیا میں ایم ٹی اے کے آٹھ مختلف چینل کام کر رہے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں ایم ٹی اے سٹوڈیوز بن گئے ہیں جہاں سے ایم ٹی اے کے پروگرام جاری رہتے ہیں۔ اب ایک جگہ سٹوڈیو نہیں ہر جگہ بن چکے ہیں، ہر جگہ تو نہیں لیکن کئی جگہ افریقہ میں بھی اور نارتھ امریکہ میں بھی اور یورپ میں بھی بن چکے ہیں۔ اگر ہم اپنے وسائل کو دیکھیں تو یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعہ بھی اسلام کا حقیقی پیغام پہنچ رہا ہے۔ ‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۸؍ مئی ۲۰۲۱ء،الفضل انٹرنیشنل ۱۸؍جون ۲۰۲۱ء،صفحہ۸تا۹)

یورپ کی سر زمین کویہ امتیازاور فخر بھی حاصل ہے کہ یہاں سےحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ آن لائن و ورچوئل ملاقات کے نظارےبھی دنیا دیکھ رہی ہے۔ حضور انور اس بارے میں یوں فرماتے ہیں:’’اللہ تعالیٰ نےخلافت سے تعلق قائم کرنے کے لیے ایک نیا رستہ بھی سمجھادیا ہے۔ جو آن لائن(online) ملاقات یاورچوئل (virtual) ملاقات کے ذریعہ سے اس کووِڈ کی بیماری کی وجہ سے سامنے آیا۔ اس ذریعہ سے میٹنگیں بھی ہو رہی ہیں۔ ملاقاتیں بھی ہو رہی ہیں جس سے براہِ راست جماعتوں سے رابطہ ہو رہا ہے۔ لوگ خلیفۂ وقت سے براہ راست راہنمائی لے رہے ہیں۔ میں یہاں لندن سے کبھی افریقہ کے کسی ملک سے، کبھی انڈونیشیا سے، کبھی آسٹریلیا سے، کبھی امریکہ سے ملاقات کر لیتا ہوں تو یہ سب خدا تعالیٰ کی تائیدات کے نظارے ہیں۔ پس ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جو اپنے فضلوں کے نظارے دکھا رہا ہےاور خلافت کے انعام سے جو ہمیں نوازا ہوا ہے اس کا ہم نے ہمیشہ حق ادا کرنے والا بننا ہے۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۸؍ مئی ۲۰۲۱ء،الفضل انٹرنیشنل ۱۸؍جون ۲۰۲۱ء، صفحہ ۹)

جرمنی جماعت کو سو مساجد بنانے کا ایک جلیل القدرٹارگٹ دیا تو گیاحضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی زبان مبارک سے لیکن اس کی تکمیل ان شاء اللہ تعالیٰ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے دور مبارک میںہو رہے ہیں۔ یورپ میں کبڈی کےمیچ کھیلنے اور دیکھنے کو ملےاورکرکٹ کے کھلاڑیوں نے اپنے شوق پورے کیے تو اسی دوسری قدرت کے زیر سایہ۔ مجلس مشاورت کی ابتدایورپ میں ہوئی تو خلافت کے زیر سایہ۔ ا سائیلم لینے والوں کو یورپ میں پناہ ملی تو اسی کی برکت سے۔دور از قیاس باتیں نزدیک ہوتی ہوئی دنیائے یورپ نے دیکھیں تو اس کے طفیل۔ مختلف زبانوں کے ماہرین کے ڈیسک یورپ میں بنائے گے تو انہیں کے ہاتھوں سے قرآن کریم کے تراجم یورپین ممالک کی زبانوں میں شائع ہونے کا کارنامہ جو ہوا وہ بھی انہی بزرگان کے زیر نگرانی ہوا ۔براعظم یورپ کی زمین، دعاؤں کی قبولیت کے بے شمار واقعات کی جب گواہ بنی تو اسی وقت۔ یورپ یا دنیا کے کسی بھی ملک میں اگرناانصافی ہوتی ہوئی نظر آئی تو آپؑ کے خلفائے کرام نے اپنے خطبات وخطابات میں اس کا کھل کر ذکر کیا اوراس کے خلاف آواز اٹھائی۔ جس کی واضح مثال بوسنیا میں ہونے والا ظلم ہے۔جس کے خلاف حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے بہت کچھ کہا، بلکہ یہاں تک فرمایا اگر پاکستان کی گورنمٹ جہاد کا اعلان کرے تو احمدی اس میں بھر پور شامل ہوں۔چنانچہ آپؒ نے فرمایا: ’’ بوسنیا میں جو مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے او ربےانتہا مظالم ہو رہے ہیں اُن میں صرف اسلام وجہ ہے۔چنانچہ مغربی قومیں بھی اور ان کے تمام نشریاتی ادارے بھی بار بار مسلمان کا ذکر کرتے ہیں اور قومی ذکر نہیں کرتے۔چنانچہ بعض دفعہ بعض ناقدین نے ان کو متوجہ بھی کیا۔انہیں کہا تم کیوں بار بار مسلمان کہتے ہو یہ کیوں نہیں کہتے کہ بوسنیا کے خلاف سربزنے حملہ کیا ہوا ہے۔تو جو لوگ جانتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہاں سربین اور بوسنین کی لڑائی نہیں بلکہ بوسنین کے اسلام کی وجہ سے بوسنین سے نفرت کی جارہی ہے اور جس رنگ کے مظالم وہاں توڑے جا رہے ہیں وہ بلاشبہ Hitler کے دور کو بھی شرماتے ہیں۔بعض ایسے جرائم کا ارتکاب ہو رہا ہے، دنیا کے ظلم کی تاریخ میں ایسے ابواب کا اضافہ ہو رہا ہے، جو اس سے پہلے نہیں دیکھے گئے تھے یا سنے گئے تھے۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۹؍اکتوبر۱۹۹۲ء،مطبوعہ خطبات طاہر جلد ۱۱ صفحہ ۷۰۶تا۷۰۷)

احمدیوں کو بوسنین کی مدد کے لیے جہاد میں شامل ہونے کی طرف توجہ دلائی اورآپؒ نے فرمایا:’’جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے اگر پاکستان کی حکومت ایسے جہاد کا اعلان کرتی ہے جس میں پاکستانی بھی شریک ہوں تو میں تمام احمدیوں کو تحریک کرتا کہ وہ بڑھ کر اس میں حصہ لیں اوربتائیں کہ ہم اسلامی جہاد میں کسی سے پیچھے رہنے والے نہیں بلکہ صفحہ اول میں آگے بڑھ کر لڑیں گے اور یہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔ جب بھی اسلام کے تقاضے کسی جہادکا اعلان کرتے ہیں یا جہاد کی تحریک اسلامی تقاضوں کے مطابق ہوتی ہے تو جماعت احمدیہ خدا کے فضل سے کبھی کسی سے پیچھے نہیں رہی بلکہ ہمیشہ آگے بڑھ کر قربانیاں پیش کی ہیں۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۹؍ اکتوبر۱۹۹۲ء،مطبوعہ خطبات طاہر جلد ۱۱ صفحہ ۷۱۰)

جب تیسری جنگ عظیم کے آثار نظر آئے توحضر ت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یورپ کے بعض ممالک کے پارلیمنٹ ہاؤس میں جاکر خطاب کیا اور اس کے نقصانات سے دُنیا کو آگاہی کروائی۔چنانچہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے برطانوی پارلیمنٹ کے ہاؤس آف کامنز میں ۲۲؍اکتوبر ۲۰۰۸ء کے اپنے خطاب میں فرمایا: ’’گزشتہ صدی میں دو عالمی جنگیں لڑی گئی ہیں۔ اُن کی جو بھی وجوہات تھیں اگر غور سے دیکھا جائے تو ایک ہی وجہ سب سے نمایاں دکھائی دیتی ہے اور وہ یہ ہے کہ پہلی مرتبہ عدل کو صحیح رنگ میں قائم نہیں کیا گیا تھا۔ اور پھر وہ آگ جو بظاہر بجھی ہوئی معلوم ہوتی تھی دراصل سلگتے ہوئے انگارے تھے جن سے بالآخر وہ شعلے بلند ہوئے جنہوں نے دوسری مرتبہ ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔آج بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ وہ جنگیں اور دیگر اقدامات جو امن کو قائم کرنے کی خاطر کیے جا رہے ہیں ایک اور عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن رہے ہیں۔ موجودہ اقتصادی اور سماجی مسائل اس صورتحال میں اور بھی زیادہ ابتری کا باعث بن رہے ہیں۔ قرآن کریم نے دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے بعض سنہری اصول عطا فرمائے ہیں۔یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ہوس سے دشمنی بڑھتی ہے۔کبھی یہ ہوس توسیع پسندانہ عزائم سے ظاہر ہوتی ہے۔ کبھی اس کا اظہار قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے سے ہوتا ہے اور کبھی یہ ہوس اپنی برتری دوسروں پر ٹھونسنے کی شکل میں نظر آتی ہے۔ یہی لالچ اور ہوس ہے جو بالآخر ظلم کی طرف لے جاتی ہے۔ خواہ یہ بے رحم جابر حکمرانوں کے ہاتھوں سے ہو جو اپنے مفادات کے حصول کے لیے لوگوں کے حقوق غصب کر کے اپنی برتری ثابت کرنا چاہتے ہوں یا جارحیت کرنے والی اَفواج کے ہاتھوں سے ہو۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مظلوموں کی چیخ و پکار کے نتیجہ میں بیرونی دنیا مدد کے لیے آ جاتی ہے۔ بہرحال اس کا نتیجہ جو بھی ہو ہمیں آنحضرت نے یہ سنہری اصول سکھایا ہے کہ ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کرو۔ صحابہؓ نے پوچھا کہ مظلوم کی مدد کرنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن ظالم کی مدد کس طرح کر سکتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ اُس کے ہاتھوں کو ظلم سے روک کر کیونکہ بصورت دیگر اُس کا ظلم میں بڑھتے چلے جانا اُسے خدا کے عذاب کا مورد بنا دے گا۔ پس اُس پر رحم کرتے ہوئے اُسے بچانے کی کوشش کرو۔ یہ وہ اصول ہے جو معاشرہ کی چھوٹی سے چھوٹی اکائی سے لے کر بین الاقوامی سطح تک اطلاق پاتا ہے… قیام امن کے لیے سب سے ضروری چیز عدل کا قیام ہے۔ اور اصولِ عدل کی پابندی کے باوجود اگر قیام امن کی کوششیں ناکام ثابت ہوں تو مل کر اُس فریق کے خلاف جنگ کرو جو ظلم کا مرتکب ہو رہا ہے۔‘‘(عالمی بحران اور امن کی راہ، صفحہ ۱۵ – ۱۶)پھرحضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے برطانوی پارلیمنٹ کے ہاؤس آف کامنز میں ۱۱؍جون ۲۰۱۳ء کو ممبرانِ پارلیمنٹ سے خطاب میں جنگ کی ہولناک تباہی کاذکر کرتے ہوئے فرمایا:’’ہم سبھی پچھلی دو عالمی جنگوں کی ہولناک تباہیوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ بعض ممالک کی پالیسیوں کی وجہ سے ایک اور عالمی جنگ کے آثار دنیا کے افق پر نمودار ہو رہے ہیں۔ اگر عالمی جنگ چھڑ گئی تو مغربی دنیا بھی اس کے دیر تک رہنے والے تباہ کن نتائج سے متاثر ہوگی۔ آ ئیں خود کو اس تباہی سے بچا لیں۔ آئیں اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو جنگ کے مہلک اور تباہ کن نتائج سے محفوظ کر لیں کیونکہ یہ مہلک جنگ ایٹمی جنگ ہی ہوگی اور دنیا جس طرف جارہی ہے اس میں یقینی طور پر ایک ایسی جنگ چھڑنے کا خطرہ ہے۔‘‘(عالمی بحران اور امن کی راہ، صفحہ۱۲۹)اسی طرح۴؍دسمبر ۲۰۱۲ء کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے یورپین پارلیمنٹ برسلز بیلجیم میں اپنے خطاب میں نفرت اور جنگ سے دور رہنےکی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: ’’مظالم کو ختم ہونا چاہیے کیونکہ اگر انہیں پھیلنے دیا گیا تو نفرت کے شعلے لازماً تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے اور پھر یہ نفرت اس حد تک بڑھ جائے گی کہ دنیا حالیہ معاشی بحران سے پیدا ہونے والے مسائل کو بھی بھول جائے گی اور اس کی جگہ پہلے سے بھی بڑھ کرہولناک صورتحال کا سامنا ہوگا۔ اس قدر جانیں ضائع ہوں گی کہ ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ پس یوروپین ممالک، جو دوسری جنگ عظیم میں بڑے نقصان دیکھ چکے ہیں، ان کا فرض ہے کہ وہ ماضی کے اپنے تجربہ سے سبق حاصل کریں اور دنیا کو تباہی سے بچائیں۔‘‘ (عالمی بحران اور امن کی راہ،صفحہ۹۶)

ہیومینٹی فرسٹ نے یورپ کے غریب ممالک میں خدمت کی توفیق پائی تو انہیں کی راہنمائی اور دعاؤں سے۔پارلیمنٹ میں حضرت خلیفۃ المسیح کی آواز کو یورپ کے حکمرانوں نے سنا تو اسی زمانہ میں،افریقہ کے بادشاہ جلسہ سالانہ میں شمولیت کر کے خلافت کی برکت سے فیض یاب ہوئے ،تو اسی جگہ۔ خلیفہ وقت کی آواز کے براہ راست تراجم کو مختلف ممالک کے لوگوں تک پہنچانے کا سہرا بھی اسی دور کو حاصل ہے۔ جلسہ سالانہ اور جماعتی پروگرامز کے لیے بڑے بڑے پلاٹس کی رجسٹری جماعت کے نام ہوئی ،تو اس عرصہ میں۔مبلغین کو تیار کرنے کے لیےجامعات کھلے تو وہ بھی اس زمانے کے مسیح موعودؑ کے خلفائےکرام کے ذریعہ سے۔اسلام کا پیغام یورپ کے کونے کونے تک پھیلانے کے منصوبے بنے توحضرت امام مہدیؑ کے جانشینوں کے ہاتھوں،تحریک جدید و وقف جدید کو یورپ میں پذیرائی ہوئی تو بھی خلافت کی آوازسے۔ وصیت کے نظام میں ایک نئی جان پڑی اور موصیان کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا وہ بھی انہیں ہستیوں کی کوششوں سے۔ واقفین نو کی سکیم کا پوداجو لگا اوراس کی شاخیں جو مختلف ممالک میں پھلیں اورپھولیں وہ خلافت کی مرہون منت توہیں ہی لیکن اس کی شروعات بھی اس خطہ کے حصہ میں آئی۔بڑے بڑے جلسوں کے نظارےدنیا نے جو اپنے گھروں میں بیٹھ کردیکھے،ہاں ! ان کی شروعات جو ہوئی وہ بھی یورپ سے ہوئی ۔اسی طرح کا ایک جلسہ سالانہ ۲۰۰۱ء میں جرمنی میں ہوا۔ جب ۲۰۰۱ء میں برطانیہ میں فوٹ اینڈ ماؤتھ(Foot &Mouth) کی بیماری پھیل جانے کے باعث جلسہ سالانہ برطانیہ کا انعقاد ممکن نہ رہاتو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے فیصلہ فرمایا کہ اس سال جرمنی میں مرکزی جلسہ سالانہ منعقد ہو۔ اس موقع پرحضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ جرمنی تشریف لائے اور اس جلسہ کو رونق بخشی۔ یہ جلسہ من ہائیم کی مئی مارکیٹ میں منعقد ہوا اور اس میں ساٹھ سے زائدممالک کے اڑتالیس ہزار چھ سو احباب نے شرکت کی۔ اس موقع پر پہلی مرتبہ سر زمین جرمنی پر عالمی بیعت کی تقریب بھی عمل میں آئی۔(ماخوذاز الفضل انٹرنیشنل ۷؍ستمبر ۲۰۰۱ء،صفحہ اول)

الفضل قادیان کے بعد ربوہ سے بہت کامیابی سے شائع ہورہاتھا۔ پاکستان میں جماعت کی مخالفانہ حالت کے پیش نظر اس کا انٹرنیشنل ایڈیشن ۱۹۹۶ء میں لندن سے ہفتہ وار جاری کیا گیا جو بڑی کامیابی کے ساتھ اب روزنامہ ہوچکا ہے۔

الفضل کوجب یہ اعجاز ملا کہ وہ آن لائن چھپےاوربرق رفتار لہروں کے ذریعہ دنیا کےگھروں میں پہنچے تو یہ معجزہ بھی یورپ کو نصیب ہوا۔ جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے روز نامہ الفضل آن لائن کے اجرا کے موقع پر فرمایا: ’’الفضل کے ۱۰۶ سال پورے ہونے پر لندن سے الفضل آن لائن ایڈیشن کا آغاز ہو رہا ہے اور یہ اخبار روزنامہ الفضل آج سے ۱۰۶ سال پہلے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت خلیفة المسیح الاولؓ کی اجازت اور دعاؤں کے ساتھ ۱۸؍جون ۱۹۱۳ء کو شروع فرمایا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد کچھ عرصہ لاہور سے شائع ہوتا رہا۔ پھر حضرت مصلح موعودؓ کی قیادت میں یہ ربوہ سے نکلنا شروع ہوا۔ اس قدیم اردو روزنامہ اخبار کا لندن سے الفضل آن لائن ایڈیشن کا مؤرخہ ۱۳؍دسمبر ۲۰۱۹ء سے آغاز ہو رہا ہے۔ آج ان شاء اللہ تعالیٰ آغاز ہو جائے گا جو بذریعہ انٹرنیٹ دنیا بھر میں ہر جگہ بڑی آسانی کے ساتھ دستیاب ہو گا۔ اس کی ویب سائٹ alfazlonline.org تیار ہو چکی ہے اور پہلا شمارہ بھی اس پر دستیاب ہے…اس میں الفضل کی اہمیت اور افادیت کے حوالے سے بہت کچھ موجود ہے جو ارشاد باری تعالیٰ کے عنوان کے تحت قرآن کریم کی آیات بھی آیا کریں گی اور فرمان رسول ﷺکے تحت احادیث نبویؐ بھی ہوں گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کے اقتباسات بھی ہوں گے۔ اسی طرح بعض احمدی مضمون نگاروں کے مضمون اور دوسرے جو اہم مضامین ہیں وہ بھی ہوں گے۔ نظمیں بھی احمدی شعراء کی ہوں گی۔ یہ اخبار ویب سائٹ کے علاوہ ٹوئٹر پر بھی موجود ہے۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۳؍دسمبر ۲۰۱۹ء،الفضل انٹرنیشنل ۰۳جنوری۲۰۲۰ء،صفحہ۸)

مورخہ ۲۳؍ مارچ ۲۰۲۳ء سے یہ اب روزنامہ الفضل انٹرنیشنل میں مدغم ہو چکا ہے۔فالحمد للہ علی ذالک

وہ ثمربارو سر سبز درخت جو کہ ہر عالم میں شاخیں اور ٹہنیاں بکھیر رہاہےاور اس کے تمام رنگ برنگے پھل و پھول کا احاطہ کرنا انسان کا کام نہیں۔لیکن صرف چند ایک کی تفصیل پیش کی جاتی ہے۔

یورپ میں جماعتی مشن کا آغاز اور خلفائے کرام کے دورہ جات

جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اطلاع دی تھی ایسا ہی ہوا اور آپ کے بعد دوسری قدرت کا ظہور آپؑ کے پہلے خلیفہ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رنگ میں ہوا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتِ احمدیہ کا پہلا مشن انگلستان میں ۱۹۱۳ء میں شروع کیا گیا۔جب حضرت چودھری فتح محمد سیال صاحب ؓ کو تبلیغ کی غرض سے اس ملک میں بھجوایا گیا۔ الحمد للہ یوں بیرون ہند یورپ میں پہلے مشن کی بنیاد پڑی۔اس کے بعدتواللہ تعالیٰ کے افضال اس قدر ہونے لگے کہ ان کا شمار کرنا اور سب کو ایک مضمون میں جمع و تحریر میں لانا ایک مشکل امر ہے۔ اس لیےصرف چند ایک تبلیغی مراکز و مشن ہاؤسزجو کہ یورپ کی سرزمین پرخلفائے کرام کے دور میں شروع کیے گے یا پروان چڑھے قلم بند کیے جا رہے ہیں۔یوں تو امریکہ کی سرزمین پر حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کی زندگی میں ہی پیغام حق پہنچ چکا تھا۔لیکن ۱۹۲۰ء میں باقاعدہ امریکہ میں احمدیہ مشن خلافت ِثانیہ کے دور میں قائم ہوا۔جب حضرت مفتی محمد صادق صاحب وہاں مبلغ کے طور پرتشریف لے گئے۔۱۹۲۴ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یورپ کا تاریخی دورہ فرمایااور اٹلی اور فرانس کے ذریعہ برطانیہ تشریف لے گئے اوران تمام ممالک میں براہ راست مسیح محمدیؑ کی آواز کو پہنچا یا۔

تحریک جدید کےاجرا کے بعد جماعتِ احمدیہ تبلیغ کے ایک نئے دَور میں داخل ہوئی۔ سپین، ہنگری، البانیا، یوگوسلاویا، اٹلی اور پولینڈ میں جماعت کے مشنز کا قیام ہوا۔ اس کےبعد کچھ ہی عرصہ میں متعدد ممالک میں جماعت کے مشنز قائم ہونا شروع ہوئے۔ جن میں فرانس، سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ، جرمنی اور سکاٹ لینڈشامل ہیں۔اپریل ۱۹۵۴ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ، اٹلی، آسٹریا، جرمنی اور انگلستان کو دوبارہ اپنے دورہ سےشرف بخشا۔ اس دوران آپ نے ہر مقام پر خطابات اور ملاقاتوں کے ذریعہ احمدیت کے پیغام کو پہنچایا۔۱۹۵۶ء میں حضورؓ نے Scandinavia کے ممالک میں تبلیغ کی غرض سے مبلغین بھجوائے اور اس طرح سویڈن، ڈنمارک اور ناروے میں احمدیت کا پیغام آپ کے بھجوائے ہوئے مبلغین کے ذریعہ پہنچا۔

جماعتِ احمدیہ کا قدم خلافت ثالثہ کے دور میں بھی آگے بڑھتا اورپھلتا رہا۔۱۹۷۳ءمیں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ یورپ تشریف لے گئے۔جس کے دوران انگلستان، ہالینڈ، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، اٹلی، سویڈن اور ڈنمارک کا دورہ کیا… ۱۹۷۶ء میں آپ نے امریکہ اور کینیڈا کا دورہ فرمایا۔جس سے واپسی پر آپ انگلستان، سویڈن، ناروے، ڈنمارک، مغربی جرمنی، سوئٹزرلینڈاور ہالینڈ بھی تشریف لے گئے۔ ۱۹۸۰ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒنے وہ تاریخی دورہ فرمایا جو کہ تین بر اعظم اور تیرہ ممالک پر محیط تھا۔ ان ممالک میں مغربی جرمنی، سوئٹزرلینڈ، آسٹریا، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، ہالینڈ، سپین، نائجیریا، غانا، کینیڈا، امریکہ اور انگلستان شامل تھے۔ اسی دورہ کے دوران آپؒ نے ۹؍اکتوبر ۱۹۸۰ء کو سپین میں مسجد بشارت کی بنیاد رکھی۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نےجب جماعتِ احمدیہ کی کمان سنبھالی تواحمدیوں کے خلاف پاکستان بھر میں ایک خطرناک آگ بھڑکائی جارہی تھی۔ اللہ تعالیٰ جو جماعتِ احمدیہ کا والی و وارث ہے، اس کا فیصلہ حضرت خلیفۃ المسیحؒ کی حفاظت کاتھا اور اس کا ارادہ تھا کہ وہ نہ صرف خلیفۃ المسیحؒ کو دشمن کے وار سے بچائے بلکہ ہجرت کی صورت میں جماعتِ احمدیہ کو ایک نیا مرکز عطا کر کے اس کی ترقی کے پہلے سے بھی بڑھ کر راستے کھول دے۔ یعنی آپؒ برطانیہ تشریف لے گئے۔ اس سنہری دور میں یورپ کے نئے ممالک جماعتِ احمدیہ میں داخل ہوتے رہے۔ ان میں سے بعض ایسے ممالک بھی تھے، جن میں احمدیت کا پودا خلافت ثانیہ اور خلافت ثالثہ میں لگ چکاتھا، مگر بعض وجوہات کی بنا پر وہاں سے احمدی کسی اور ملک میں ہجرت کرگئے تھے یا جماعت سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ آپؒ دوبارہ احمدیت کو قائم کرنے کا درد رکھتے تھے اورآپ کی یہ بھی خواہش اور کوشش تھی کہ جماعت نئے ممالک تک بھی حق کی آواز جلد سے جلد پہنچائے۔ خدا کے فضل سے آپؒ کے دور میں یہ کام بہت تیزی سے ہوا۔ وہ ممالک جو خلافت رابعہ کے دوران احمدیت کی صداقت کے قائل ہوئے: ان میں، یوکرین، تاتارستان، رومانیہ، بلغاریہ، سلووینیا، بوسنیا، چیک ریپبلک،، کوسوو،، مالٹا اور دیگر کئی ممالک شامل ہیں۔ اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نےاپنے دور میں خود بھی متعدد دورہ جات کے ذریعہ دنیا والوں کو براہ راست اسلام کی حقیقی تعلیم سےروشناس کرنے کی سعی فرمائی۔ ان ممالک میں ناروے، سویڈن، ڈنمارک، جرمنی، آسٹریا، سوئٹزرلینڈ، فرانس، لکسمبرگ، ہالینڈ، سپین، کینیڈا، بیلجیم اور آئرلینڈشامل ہیں۔ان میں بعض ممالک ایسے بھی ہیں جن میں پہلی بارکسی خلیفۃالمسیحؒ نے قدم رکھا۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتِ احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز کی قیادت تلے ترقی کی راہوں پر گامزن ہے۔آپ کی خلافت کے دور میں جبرالٹر، ایسٹونیا،مونٹی نیگرو، لیٹویا، آئیس لینڈ،سربیا، Lithuania اور بعض اور یورپ کے ممالک اس سرسبزدرخت کے ساتھ پیوند جوڑ کر اس کی ثمر بار شاخیں بنیں اور بنتی جارہی ہیں۔ جلسہ سالانہ ۲۰۱۹ء کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز نے فرمایاکہ’’خدا تعالیٰ کے فضل سے اس وقت تک دنیا کے ۲۱۳ممالک میں احمدیت کا پودا لگ چکا ہےاور اللہ تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ ۳۵سالوں میں ۱۲۲نئےممالک اللہ تعالیٰ نے جماعت کو عطا فرمائے ہیں‘‘۔اسلام کی حقیقی تعلیم کو دنیا کے کونے کونے پر قائم کرنے کی خاطر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ خود بھی براہ راست دورہ جات کرتے ہیں۔ ان دورہ جات میں یورپین ممالک جرمنی، فرانس، آئر لینڈ، ہالینڈ، بیلجیم، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، سپین اور دیگر ممالک شامل ہیں۔(ماخوذاز الفضل انٹرنیشنل ۲۲؍مئی ۲۰۲۰،صفحہ۲۹)

براعظم یورپ میں مساجد کی تعمیر کی ایک جھلک

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی شدید خواہش تھی کہ انگلستان میں توحید کی آواز کی بلندی کے لیے مسجد کی تعمیر ہو۔ چنانچہ آپ فرماتےہیں: ’’یاد رکھیں انگلستان وہ مقام ہے جو صدیوں سے تثلیث پرستی کا مرکز بن رہا ہے۔اس میں ایک ایسی مسجد کی تعمیر جس پر سے پانچ وقت لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کی صدا بلند ہو کوئی معمولی کام نہیں ہے،یہ ایک عظیم الشان کام ہے۔ جس کے نیک اثرات نسلاً بعد نسلٍ پیدا ہوتے رہیں گے اور تاریخیں اس کی یاد کو تازہ رکھیں گی۔ وہ مسجد ایک مرکزی نقطہ ہوگی جس میں سے نورانی کرنیں نکل کر تمام انگلستان کو منور کر دیں گی…پس اے صاحب ثروت احباب!بلند حوصلگی سے اُٹھو اور ہمیشہ کے لیے ایک نیک یادگار چھوڑ جاؤ۔‘‘(الفضل قادیان ۲۲؍ جنوری۱۹۲۰ صفحہ۳)

خدا تعالیٰ نے جلد ہی جماعت احمدیہ کو لندن میں خلافت ثانیہ کے دور میں اپنی مسجد تعمیر کرنے کے لیے جگہ عنایت فرمائی۔ حضورؓ نے اس خوشی کے موقعے پر ۹؍ ستمبر ۱۹۲۰ء کو ایک جلسہ ڈلہوزی میں کیا اور اس مجوزہ مسجد کا نام ’’مسجد فضل‘‘ رکھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ ۲۲؍اگست ۱۹۲۴ء کو لندن تشریف لائے۔ ویمبلےکانفرنس اور دوسرے بہت سارے تبلیغی پروگرامز منعقد ہوئے اور اسی دوران حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے مسجد فضل کا سنگ بنیاد ۱۹؍اکتوبر ۱۹۲۴ءبروز اتوار رکھا…جولائی ۱۹۶۷ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں مسجد نصرت جہاں کا افتتاح فرمایا۔۲۰؍اگست ۱۹۷۶ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے سویڈن کے شہرGöthenburg میں مسجد ناصر کا افتتاح فرمایا۔۱۹۸۰ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے ناروے کے شہر اوسلو میں مسجد نور کا افتتاح فرمایا۔۲؍ اکتوبر ۱۹۸۰ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے انگلستان کے شہر Bradford میں مسجد بیت الحمدکا افتتاح فرمایا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نےبنفسِ نفیس سپین تشریف لے جا کر مورخہ ۹؍اکتوبر ۱۹۸۰ء کودورۂ یورپ کے دوران مسجدبشارت کا سنگ بنیاد رکھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے مورخہ ۱۰؍ستمبر ۱۹۸۲ء کو سپین کے شہر پیدرو آباد میں سات سو سال بعد تعمیر ہونے والی ’’مسجد بشارت‘‘کا افتتاح فرمایا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے برطانیہ کی نئی اور وسیع مسجد کے لیے ۲۴؍فروری ۱۹۹۵ء کو پانچ ملین پاؤنڈ کی تحریک فرمائی۔۲۸؍مارچ ۱۹۹۹ء کو حضورؒ نے بیت الفتوح کی مجوزہ جگہ پر نماز عید الاضحی پڑھائی اور اسی سال ۱۹؍اکتوبر کو حضور ؒنے مسجد بیت الفتوح کا سنگِ بنیاد رکھا۔۱۶؍فروری ۲۰۰۱ء کو حضورؒ نے اس مسجد کے لیے مزید ۵ ملین پاؤنڈ کی تحریک فرمائی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۳؍اکتوبر ۲۰۰۳ء کو اس کا افتتاح فرمایا۔ اس مسجد میں بیک وقت دس ہزارافراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔ یہ مغربی یورپ کی سب سے بڑی مساجد میں شمار کی جاتی ہے۔ حال ہی میں ۱۴؍ مارچ ۲۰۲۳ء کو حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کی نوتعمیر شدہ عمارت کا افتتاح فرمایا۔ ۵؍ اکتوبر ۱۹۸۲ء میںحضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے انگلستان کے شہر Gillingham میں احمدیہ مشن کا افتتاح فرمایا۔۷؍ اکتوبر ۱۹۸۲ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے لندن کے علاقہ کرائیڈن میں احمدیہ مشن بیت السبحان کا افتتاح فرمایا۔۱۹۸۵ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے ٹلفورڈ اسلام آباد میں مسجد بیت الاسلام کا افتتاح فرمایا اور بعد میں یہاں تعمیرِ نو کے بعد خلافت خامسہ میں مسجد مبارک وجود میں آئی۔۱۳؍ستمبر ۱۹۸۵ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے نَن سپیٹ (ہالینڈ )میں نئے مرکز بیت النور کا افتتاح فرمایا۔۱۷؍ستمبر ۱۹۸۵ء کو جرمنی کے شہر کولون (Köln) میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے بیت النصر کا افتتاح فرمایا۔۲۲ مئی ۱۹۸۶ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے گلاسگو میں اسکاٹ لینڈ کے نئے احمدیہ مشن بیت الرحمٰن کا افتتاح فرمایا۔۱۹۹۲ء میں حضور نے جرمنی کے شہر گروس گیراؤ (Gross-Gerau) میں مسجد بیت الشکور کا افتتاح فرمایا۔ (ماخوذالفضل انٹر نیشنل۲۱تا۳۱ مئی ۲۰۲۱،صفحہ۷۰تا۷۳)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۲۰۱۱ءمیں ناروے کی مسجد کے افتتاح کےبارے میں اپنے ایک خطبہ میں بیان فرمایا:’’ جیسا کہ آپ لوگوں نے خطبے میں سن لیا ہے کہ ناروے میں مسجدنصر کا افتتاح ہوا۔ ماشاء اللہ بہت خوبصورت مسجد ہے۔ یہاں سے بھی بعض لوگ گئے ہوئے تھے انہوں نے دیکھی ہے۔ بہت بڑی ہے اور صرف شمالی یورپ کی بہت بڑی مسجدنہیں ہے بلکہ میرا خیال ہے کہ مسجد بیت الفتوح کے بعد (خیال نہیں بلکہ یقین ہے) یقیناً یہ مسجد یورپ کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ وہاں کی جماعت تو بہت چھوٹی ہے لیکن اس مسجد کو دیکھ کر لگتا ہے کہ بہت بڑی جماعت ہے یا یہ بہت امراء کی جماعت ہے لیکن دونوں باتیں غلط ہیں۔ نہ یہ بڑی جماعت ہے نہ وہاں امیر لوگ زیادہ ہیں۔ صرف خیال آنے اور احساس پیدا ہونے کی ضرورت تھی۔ وہ جب آیا تو توجہ پیدا ہوئی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے زمانے میں اس مسجد کی یہ زمین خریدی گئی تھی اور اُس پر ایک ہال تقریباً بیسمنٹ کی طرز پر بنایا گیا تھا۔ شاید اُس وقت مسجد کی بیسمنٹ (Basement) بنوانا چاہتے تھے۔ بہر حال بعد میں کچھ نقشہ بھی تبدیل ہوا۔ مرکز نے اُس وقت تین چار ملین کرونر یا تقریباً چار پانچ لاکھ پاؤنڈ اُن کی مدد کی تھی۔ پھر اُن کو کہا گیا کہ اپنے وسائل سے یہ مسجد بنائیں۔ ۲۰۰۳ء میں مَیں نے بھی اِن کو توجہ دلائی۔ اُس وقت سے توجہ دلانی شروع کی لیکن ناروے کی جماعت اپنی جگہ سے ہلتی نہیں تھی۔ کبھی یہ مسئلہ آ جاتا تھا، کبھی دوسرا مسئلہ آجاتا تھا۔ مجھے بھی انہوں نے اتنا تنگ کیا کہ مَیں نے ان کو کہہ دیا کہ آپ جو کرنا چاہتے ہیں اس سے کریں۔ اگر بڑی مسجدنہیں بن سکتی تو ایک چھوٹی سی مسجد کہیں اور جا کے، چھوٹی جگہ لے کے، بنا لیں۔ پھر جماعت خود بھی ایک وقت میں سوچنے لگ گئی کہ اس پلاٹ کو بیچ دیا جائے۔ کچھ نے رائے دی کہ نہیں بیچنا چاہئے۔ بہر حال پھر آخر فیصلہ ہوا کہ بڑا باموقع پلاٹ ہے، شہر سے جو سڑک ایئر پورٹ کو جاتی ہے اُس پر واقعہ ہے، اونچی جگہ ہے، اس لئے اس کو بیچنا نہیں چاہئے…بہر حال جب ناروے جماعت نے ارادہ کیا اور اس توجہ دلانے پر اُن کی آنکھیں کھلیں تو اُنہوں نے قربانیوں کی مثالیں بھی قائم کیں جن کا اپنا ایک لمبا ذکر ہے…تقریباً سو ملین کرونر سے زیادہ کی قربانی دے کر اس مسجد کی تکمیل ہوئی ہے۔ کرونر میں بعض دفعہ بعضوں کے علم میں حوالے یا ریفرنس نہیں ہوتے تو یہ تقریباً بارہ ملین پاؤنڈ بنتا ہے۔ بارہ لاکھ نہیں، بارہ ملین پاؤنڈ بلکہ اس سے اوپر رقم بنتی ہے‘‘۔( خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۱؍ اکتوبر ۲۰۱۱ء،الفضل انٹر نیشنل ۱۱؍ نومبر ۲۰۱۱ء،صفحہ۶تا۷)

جرمنی میں سو مساجد کی سکیم کا ایک خاکہ

جلسہ سالانہ جرمنی ۱۹۸۹ء کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ جرمنی کو صد سالہ جشنِ تشکّر کے حوالے سے ملک بھر میں ایک سو مساجد تعمیر کرنے کا منصوبہ عطا فرمایا۔ چنانچہ سو مساجد سکیم کے تحت پہلی باقاعدہ تعمیر ہونے والی مسجد جرمنی کے شہر Wittlich میں بنائی گئی۔جس کانام بیت الحمد ہے۔ اس کا سنگِ بنیاد نومبر ۱۹۹۸ء میں رکھا گیا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے ۲۰۰۰ء میں اس کاافتتاح کیا۔رات یہاں قیام فرمایا اور اگلے روز تبلیغی نشست سے خطاب فرمایا۔علاوہ ازیں مسجدنورالدین (ڈارمشٹڈٹ)، مسجد ناصر(بریمن) اور مسجد طاہر (کوبلنز) کا سنگِ بنیاد خلافتِ رابعہ کے دور میں رکھ دیا گیا تھا۔ مسجد نور الدین (ڈارمشٹڈٹ) کا سنگِ بنیاد ۱۱؍مئی ۲۰۰۲ء کو رکھا گیا۔ مسجد ناصر(بریمن) کا سنگِ بنیاد نومبر۲۰۰۱ء میں رکھا گیا۔ اسی طرح کیل شہر میں مسجد حبیب کی تعمیر کے لیے ۳؍ستمبر ۱۹۹۹ء کو پلاٹ خرید لیا گیا تھا۔ خلافت رابعہ کے زمانے میں جو مزید پلاٹ خریدے گئے،ان میں Riedstadt میں مسجد بیت العزیز کے لیے پلاٹ ۵؍اپریل ۲۰۰۰ءکو،جامع مسجد (اوفن باخ) کے لیے پلاٹ۷؍اگست ۲۰۰۰ء، مسجد سمیع (ہنوور) کے لیے پلاٹ ۲۰؍اپریل ۲۰۰۱ء کو، بیت العلیم (ورزبرگ) کے لیے پلاٹ ۱۴؍ستمبر ۲۰۰۱ء، مسجد الہدیٰ (Usingen) کے لیے پلاٹ ۱۲؍فروری ۲۰۰۲ء اور مسجد بشیر (Bensheim) کے لیے پلاٹ ۹؍دسمبر ۲۰۰۲ءکو خریدے گئے۔ ان پلاٹوں کی منظوری حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ سے حاصل کی گئی تاہم ان کی تعمیر عہدِ خلافت خامسہ کے ابتدائی سالوں میں ہوئی۔ (ماخوذازروزنامہ الفضل لندن آن لائن،۴؍ جون ۲۰۲۰ء صفحہ۶تا۷)

اب تک اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ۷۵ سے زائد مساجد جرمنی کی سرزمین میں بن چکی ہیں یا بننے کے آخری مراحل میں ہیں۔ جرمنی جماعت ارادہ رکھتی ہے کہ وہ ۱۰۰ مساجد کے ٹارگٹ کو جلد پورا کرلے۔ان شاء اللہ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جماعت احمدیہ جرمنی کو خوشخبری سناتے ہوئے فرمایا:’’انشاء اللہ تعالیٰ جرمنی یورپ کا پہلا ملک ہوگا جہاں کے سو شہروں یا قصبوں میں ہماری مساجد کے روشن مینار نظر آئیں گے اور جس کے ذریعہ سے اللہ کا نام اس علاقے کی فضاؤں میں گونجے گا جو بندے کو اپنے رب کے قریب لانے والا بنے گا۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ۱۶؍ جون۲۰۰۶ الفضل انٹرنیشنل ۷تا ۱۳ جولائی ۲۰۰۶ ء صفحہ۶)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مبارک الفاظ سے میں اپنا مضمون ختم کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں:’ان شاء اللہ تعالیٰ یہ ترقیات تو ہونی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ ثابت قدم رکھے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ سلسلہ کی پوری ترقی کے نظارے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عہدوں کو پورا کرنے والا بنائے تاکہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے پورا ہونے کا نظارہ ہم اپنی زندگیوں میں دیکھ سکیں۔ ہماری عبادتیں، ہماری نمازیں، ہمارے عمل اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں۔ ہم خلافت کا صحیح ادراک حاصل کرنے والے ہوں اور اس بارے میں اپنی نسلوں کو بتانے والے ہوں تاکہ قیامت تک ہماری نسلیں اس نعمت سے فیضیاب ہوتی چلی جائیں…اور جو احمدی ہیں ان سب کو توفیق دے کہ وہ حقیقی رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں اور حقیقی احمدی بنیں اور وہ مسلمان جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ابھی تک پہچان نہیں رہے اللہ تعالیٰ انہیں پہچاننے اور بیعت میں آنے کی توفیق عطا فرمائے اور تمام دنیا میں ہم جلد از جلد اسلام کا جھنڈا اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا لہراتے ہوئے دیکھیں اور تمام دنیا میں ہم توحید کو قائم ہوتا ہوا دیکھیں۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ۲۸ مئی ۲۰۲۱ء الفضل انٹرنیشنل ۱۸؍ جون ۲۰۲۱ء صفحہ۹)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button