بنیادی مسائل کے جوابات

بنیادی مسائل کے جوابات(قسط۵۴)

(مرتبہ:ظہیر احمد خان۔انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

٭… جماعت احمدیہ شرعی طور پر کتنے کلموں پر یقین رکھتی ہے؟

٭… مومن عورتوں کے لیے جنت میں کیا ہے؟نیز کیا عورت صرف مرد کے لیے ہی پید اکی گئی ہے؟

٭… امانتاً دفن کیے گئے شخص کی میت کو جب بہشتی مقبرہ منتقل کیا جاتا ہے تو اس کی دوبارہ نماز جنازہ کیوں پڑھی جاتی ہے؟

سوال: ربوہ سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں استفسار بھجوایا کہ جماعت احمدیہ شرعی طور پر کتنے کلموں پر یقین رکھتی ہے، جو کسی حدیث یا قرآن سے ثابت شدہ ہیں؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۱؍مارچ ۲۰۲۲ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا:

جواب: کلمہ تو ایک ہی ہے جسے کلمہ طیبہ یا کلمہ شہادت کہتے ہیں۔ کلمہ طیبہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور آنحضور ﷺ کی رسالت کا سادہ الفاظ میں اقرار کیا جاتا ہے اور کلمہ شہادت میں ان دونوں باتوں(اللہ تعالیٰ کی توحید اور آنحضورﷺکی رسالت) کا شہادت یعنی گواہی کے ساتھ اقرار کیا جاتا ہے۔

اسلام کا پہلا بنیادی رکن بھی یہی کلمہ یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضورﷺ کی رسالت کا اقرار ہے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَ إِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالْحَجِّ وَصَوْمِ رَمَضَانَ۔(صحیح بخاری کتاب الایمان)یعنی اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں،نماز قائم کرنا،زکوٰۃ ادا کرنا،بیت اللہ کا حج کرنا،اور رمضان کے روزے رکھنا۔

یہی وہ کلمہ ہے جس کا اسلام میں داخل ہونے والے ہر شخص سے آنحضور ﷺ اقرار لینے کا ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ حضورﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو جب یمن بھجوایا تو انہیں یہی نصیحت فرمائی۔ إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوْا أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ۔ (صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ)یعنی تم ایسی قوم کے پاس جار ہے ہوجو اہل کتاب ہیں جب ان کے پاس پہنچو تو انہیں دعوت دو کہ وہ اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں۔

اپنے آقا و مطاع سیدنا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺکے نقش پا پر چلتے ہوئے آپ کے غلام صادق حضرت مسیح موعودو مہدی معہود علیہ السلام بھی بیعت لیتے وقت پہلے یہی کلمہ شہادت پڑھایا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکیؓ اپنی بیعت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’’حضرت اقدس علیہ السلام نے بیعت لیتے وقت مجھے کلمہ شہادت پڑھایا۔‘‘(حیات قدسی مؤلفہ ۔۔صفحہ ۴۹۴)

آنحضور ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اسی سنت کی اتباع میں خلفائے احمدیت بھی بیعت لیتے وقت پہلے اسی کلمہ شہادت کا اقرار کرواتے ہیں۔ پس جماعت احمدیہ کے ہر فرد کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کلمہ پر کامل ایمان ہے اور ہم اسے اسلام کے بنیادی ارکان میں سے پہلا رکن یقین کرتے ہیں۔

باقی جہاں تک مسلمانوں میں رائج مختلف ناموں کے ساتھ چھ کلموں کا تصور پایا جاتا ہے تو وہ چھ کلمے، ان کے نام اور ان کی یہ ترتیب قرآن کریم یا احادیث نبوی ﷺ سے کہیں ثابت نہیں۔بلکہ احادیث میں مذکور مختلف دعاؤں اور تسبیحات کو آنحضور ﷺ اور خلافت راشدہ کے مبارک دور کے بہت بعد کے زمانہ میں جوڑ کر یہ کلمات بنائے گئے اور انہیں یہ نام دیے گئے۔ پس ان کلمات کی اس ترتیب اور اس اہمیت و فرضیت(جو عام مسلمانوں میں رائج ہے) کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔

سوال: یوکے سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے دریافت کیا کہ قرآن کریم میں جنتیوں کو نظریں جھکائے رکھنے والی اور نیک خصال دوشیزائیں ملنے کا وعدہ دیا گیا ہے۔ ہماری زبان میں دوشیزہ کا مطلب عورت ہوتا ہے۔اگر یہ عورتیں ہیں تو یہ انعام تو صرف مرد کو ہی ملا، مومن عورتوں کے لیے جنت میں کیا ہے؟نیز کیا عورت صرف مرد کے لیے ہی پید اکی گئی ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مورخہ ۹؍اپریل ۲۰۲۲ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: جنت کی نعماء کے بارے میں قرآن کریم اور احادیث نبویہ ﷺ میں جو امور بیان ہوئے ہیں وہ سب تمثیلی کلام پر مبنی ہیں اورصرف ہمیں سمجھانے کے لیے ان چیزوں کی دنیاوی اشیاءکے ساتھ مماثلت بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔ مَثَلُ الۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ۔(الرعد:۳۶)یعنی اس جنت کی مثال جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے (یہ ہے)۔

پھر اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعۡیُنٍۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ۔ (السجدہ:۱۸)یعنی کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے ان کے اعمال کے بدلہ کے طور پر کیا کیا آنکھیں ٹھنڈی کرنے والی چیزیں چھپا کر رکھی گئی ہیں۔

اسی طرح حضورﷺنے فرمایا۔ يَقُولُ اللّٰهُ تَعَالَى أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيْ الصَّالِحِيْنَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ذُخْرًامِنْ بَلْهِ مَا أُطْلِعْتُمْ عَلَيْهِ۔(صحیح بخاری کتاب التفسیر) یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزراہے۔ وہ نعمتیں ایسا ذخیرہ ہیں کہ ان کے مقابل پر جو نعمتیں تمہیں معلوم ہیں ان کا کیا ذکر۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں:خدا نے بہشت کی خوبیاں اس پیرایہ میں بیان کی ہیں جو عرب کے لوگوں کو چیزیں دل پسند تھیں وہی بیان کردی ہیں تا اس طرح پر ان کے دل اس طرف مائل ہو جائیں۔ اور دراصل وہ چیزیں اور ہیں یہی چیزیں نہیں۔ مگر ضرور تھا کہ ایسا بیان کیا جاتا تا کہ دل مائل کئے جائیں۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ۴۲۴)

سورۃ السجدۃ کی مذکورہ بالا آیت کی وضاحت کرتے ہوئے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:کوئی نفس نیکی کرنے والا نہیں جانتا کہ وہ کیا کیا نعمتیں ہیں جو اس کے لیے مخفی ہیں۔ سو خدا نے ان تمام نعمتوں کو مخفی قرار دیا جن کا دنیا کی نعمتوں میں نمونہ نہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ دنیا کی نعمتیں ہم پر مخفی نہیں ہیں اور دودھ اور انار اور انگور وغیرہ کو ہم جانتے ہیں اور ہمیشہ یہ چیزیں کھاتے ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ وہ چیزیں اور ہیں اور ان کو ان چیزوں سے صرف نام کا اشتراک ہے۔ پس جس نے بہشت کو دنیا کی چیزوں کا مجموعہ سمجھا اس نے قرآن شریف کا ایک حرف بھی نہیں سمجھا۔(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۳۹۸،۳۹۷)ان نعمتوں کے مخفی رکھنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:خدا کے چھپانے میں بھی ایک عظمت ہوتی ہے اور خدا کا چھپانا ایسا ہے جیسے کہ جنت کی نسبت فرمایا فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعۡیُنٍ(کہ کوئی جی نہیں جانتا کہ کیسی کیسی قُرَّۃِ اَعۡیُنٍ ان کے لیے پوشیدہ رکھی گئی ہے) در اصل چھپانے میں بھی ایک قسم کی عزت ہوتی ہے جیسے کھانا لایا جاتا ہے تو اس پر دسترخوان وغیرہ ہوتا ہے تو یہ ایک عزت کی علامت ہوتی ہے۔(البدر نمبر۱۱، جلد۱، مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۸۶)

جنت کی حوروں کا معاملہ بھی تمثیلی کلام پر مبنی ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے چار جگہوں پر حوروں کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلی دو جگہ(سورۃ الدخان اور سورۃ الطور) میں فرمایا وَزَوَّجۡنٰہُمۡ بِحُوۡرٍ عِیۡنٍکہ ہم جنتیوں کو بڑی بڑی سیاہ آنکھوں والی حوروں کے ساتھ ازدواجی رشتہ میں باندھ دیں گےاور باقی دو جگہ (سورۃ الرحمٰن اور سورۃ الواقعہ) میں ان حوروں کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ خیموں میں محفوظ یاقوت ومرجان موتیوں کی طرح ہوں گی۔ یعنی شرم و حیا سے معمور، نیک، پاکباز، خوبصورت اور خوب سیرت ہوں گی۔

لفظ ’’زوج ‘‘کے معانی جوڑے کے ہوتے ہیں۔ اس سے صرف مرد یا خاوند مراد لینا درست نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب نیک و پاک ساتھی اور جوڑا ہے۔ اس اعتبار سے ان آیات کا مطلب ہو گا کہ ہم جنت میں نیک عورتوں کو پاک مردوں اور نیک مردوں کو پاک عورتوں کا ساتھی بنا دیں گے۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سورۃ البقرہ کی آیت وَ لَہُمۡ فِیۡہَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:وَ لَہُمۡ فِیۡہَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ۔انہیں وہاں پاک ساتھی یا پاک بیویاں یا پاک خاوند ملیں گے۔ پاک ساتھی کے معنوں کی صورت میں تو کسی کے لیے اعتراض کرنے کی گنجائش ہی نہیں کیونکہ اِس صورت میں اِس کے یہ معنی ہوںگے کہ جنت میں جس طرح غذا ایک دوسرے کی ممد ہو گی اس طرح اِس کے سب مکین ایک دوسرے کی رُوحانی ترقی میں مدد کرنے والے ہونگے گویا اندرونی اور بیرونی ہر طرح کا امن اور تعاون حاصل ہو گا۔

اور اگر خاوند یا بیوی کے معنی کیے جائیں کیونکہ ازواج مرد اور عورت دونوں کے لیے بولا جاتا ہے عورت کا زوج اس کا خاوند ہے اورمرد کا زوج اس کی بیوی تو اس صورت میں اس کے ایک معنی یہ ہوںگے کہ ہر جنتی کے پاس اس کا وہ جوڑا رکھا جائے گا جو نیک ہو گا۔ اس صورت میں بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا بلکہ یہ تو تحریک ہے کہ مرد کو اپنی نیکی کے ساتھ اپنی بیوی کی نیکی کا بھی خیال رکھنا چاہیےاور عورت کو اپنی نیکی کے ساتھ اپنے خاوند کی نیکی کا بھی خیال رکھنا چاہیےکیونکہ اگر وہ دنیوی زندگی کی طرح اگلے جہان میں بھی اکٹھا رہنا چاہتے ہیں تو چاہیےکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کو بھی نیک بنانے کی کوشش کرے تا ایسا نہ ہو کہ میاں جنت میں ہو اور بیوی دوزخ میں ہو یا بیوی جنت میں اور میاں دوزخ میں ہو۔ ان معنوں کے رُو سے یہ روحانی پاکیزگی کی ایک اعلیٰ تعلیم ہے جس پر اعتراض کرنے کی بجائے اس کی خوبی کی داد دینی چاہیے۔

باقی رہا یہ کہ اِس کے معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ہر شخص کو ایک پاک جوڑا دیا جائے گا تو ان معنوں کے رو سے بھی کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر یہی معنی ہوں کہ ہر مرد کو ایک پاک بیوی دی جائے گی اور ہر عورت کو ایک پاک مرد دیا جائے گا تو اس پر کیا اعتراض ہے؟ اعتراض تو اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب کسی ناپاک فعل کی طرف اشارہ کیا جائے جب قرآن شریف پاک کا لفظ استعمال کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ جنت میں وہی کچھ ہو گا جو جنت کے لحاظ سے پاک ہے پھر اِس پر اعتراض کیسا۔(تفسیر کبیر جلد اوّل صفحہ ۲۵۳،۲۵۲)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ سورۃ الدخان کی آیت وَ زَوَّجۡنٰہُمۡ بِحُوۡرٍ عِیۡن ٍکی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم ان کی ازواج کو حور بنا دیں گے اور انہیں ازدواجی رشتہ میں باندھیں گے۔ پھر اس سے اگلی آیت میں فرمایا کہ ہم ان کے ساتھ جنت میں ان کی اولاد کو بھی جمع کر دیں گے۔ اس جگہ بیوی کا ذکر اس لئے چھوڑ دیا کہ زَوَّجۡنٰہُمۡ بِحُوۡرٍ عِیۡنٍ پہلی آیت میں آ چکا ہے۔

حضرت نبی کریم ﷺ نے ایک بڑھیا سے کہا کہ جنت میں کوئی بوڑھی نہیں جائے گی۔ تو اس نے رونا شروع کر دیا کہ یا رسول اللہ میں کہاں مروں کھپوں گی؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں نے یہ تو نہیں کہا کہ تم نہیں جاؤ گی۔ میں نے یہ کہا ہے کہ جنت میں کوئی بوڑھی نہیں جائے گی۔ تم جوان ہونے کی حیثیت میں وہاں جاؤ گی۔ تو جب بوڑھی وہاں جوان ہونے کی حیثیت میں جائے گی تو بدصورت وہاں خوبصورت حیثیت میں جائے گی۔ جو لنگڑی لولی یہاں سے گئی ہے وہاں صحت مند اعضا، بھرپور نشوونما کے ساتھ جائے گی۔تو زَوَّجۡنٰہُمۡ بِحُوۡرٍ عِیۡنٍ کہ ان کے ساتھ ازدواجی رشتہ میں باندھا جائے گا بڑھیا سے نہیں، جس حالت میں اس نے اس دنیا میں اپنی بیوی چھوڑی بلکہ حُوۡرٍ عِیۡنٍ کے ساتھ جو جوان بھی ہو گی، خوبصورت بھی ہو گی، نیک بھی ہو گی۔ بہرحال یہاں حور کا لفظ زوج کی حیثیت سے آیا ہے۔(ملخص از خطبہ جمعہ مورخہ ۱۹؍فروری ۱۹۸۲، خطبات ناصر جلد نہم صفحہ ۳۸۷،۳۸۶)

پس مذکورہ بالا حوالہ جات سے ثابت ہوتا ہے کہ حوروں سے مراد نیک اور پاک جوڑے ہیں جو جنت میں مومن مردوں اور مومن عورتوں کے ساتھ ازدواجی رشتہ میں بندھے ہوں گے اورانہیں بطور انعام ملیں گے۔ان جوڑوں کی کیفیت کیا ہو گی؟ اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ انسان کو اس کا علم اسی وقت ہو گا جب وہ جنت میں جائے گا۔

مذکورہ بالا تشریح سے آپ کے دوسرے سوال کا بھی جواب مل جاتا ہے کہ کیا عورت صرف مرد کے لیے پیدا کی گئی ہے؟ کیونکہ اسلام کے نزدیک مرد و عورت دونوں ایک دوسرے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ اور عقلمند میاں بیوی اس حقیقت کو سمجھ کر اس دنیا کو بھی اپنے لیے جنت بنا لیتے ہیں اور جنت میں بھی ایک دوسرے کی روحانی ترقی میں ممد و معاون ثابت ہوں گے۔

سوال: امریکہ سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار بھجوایا کہ امانتاً دفن کیے گئے شخص کی میت کو جب بہشتی مقبرہ منتقل کیا جاتا ہے تو اس کی دوبارہ نماز جنازہ کیوں پڑھی جاتی ہے، جبکہ اسے فوت ہوئے کئی سال کا عرصہ گزر چکا ہوتا ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۲؍اپریل ۲۰۲۲ء میں اس سوال کے بارے میں درج ذیل ارشادات فرمائے۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: نماز جنازہ ایک دعا ہے جو مرحوم کی مغفرت اور بلندی ٔدرجات کے لیے پڑھی جاتی ہے۔ اور جنت میں تو لا متناہی مقامات ہیں۔ اسی لیے نماز جنازہ کے بعد بھی لوگ مرحومین کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں اورجب ان کی قبروں پر جاتے ہیں تو وہاں بھی ان مرحومین کی بلندیٔ درجات کے لیے دعا کرتے ہیں۔ اور یہ سارے امور آنحضور ﷺ کی سنت سے ثابت ہوتے ہیں۔ چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ ایک شخص جو مسجد کی صفائی ستھرائی کا کام کیا کرتا تھاایک رات فوت ہو گیا اور لوگوں نے اسے دفن کر دیا۔ اگلے دن حضور ﷺ نے اس شخص کی بابت دریا فت کیاتو آپؐ کو بتایا گیا کہ وہ فوت ہو گیا ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم نے مجھے اطلاع کیوں نہیں کی۔ پھر حضور اس شخص کی قبر پر تشریف لے گئے اور وہاں اس کی نماز جنازہ ادا کی۔ (صحیح بخاری کتاب الصلاۃ)اسی طرح حضرت عقبہ بن عامرؓ کی روایت ہے کہ ایک روز نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے اور شہدائے اُحد کے لیے اس طرح دعا کی جس طرح میت کے لیے دعا کی جاتی ہے۔ (صحیح بخاری کتاب الجنائز)

باقی کسی امانتاً دفن ہونے والے شخص کی میت کی منتقلی پر دوبارہ نماز جنازہ پڑھنا ضروری نہیں ہے، لیکن اگر پڑھ لیا جائے تو اس میں کوئی ہرج کی بات بھی نہیں۔ چنانچہ حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی رضی اللہ عنہ کی وفات پر انہیں۱۱؍اکتوبر ۱۹۰۵ء کو امانتاً دفن کیا گیا تھا، کیونکہ حضور علیہ السلام کی منشا تھی کہ بہشتی مقبرہ کے قیام پر ان کی میت کو بہشتی مقبرہ منتقل کیا جائے۔ لہٰذا ۲۶؍دسمبر ۱۹۰۵ء کو حضرت مولوی صاحب کی میت کو بہشتی مقبرہ منتقل کرتے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی دوبارہ نماز جنازہ ادا کی۔ (الحکم نمبر ۳۶، جلد۹، مورخہ ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۔ اور الحکم نمبر ۱، جلد ۱۰، مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۶)

پس یہی ہمارا طریق ہے کہ میت کی منتقلی پر بعض اوقات ہم دوبارہ نماز جنازہ پڑھ لیتے ہیں۔ اور بعض اوقات نئی قبر تیار ہونے پرصرف دعا کر لی جاتی ہے۔ دونوں طریق ہی درست ہیں۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button