متفرق مضامین

عبرت سرائے دہر کی داستان اور اَب بقا کا راستہ

(عرفان احمد خان۔ جرمنی)

سلیم صافی کا شمار اردو میڈیا کے ان صحافیوں میں ہوتا ہے جن کے قلم سے نکلے الفاظ اپنا ایک وزن رکھتے ہیں۔ وہ صحافتی ذمہ داریاں ادا کرتے وقت ترازو کے دونوں پلڑے برابر رکھتے اور جو سمجھتے ہیں اس کو بیان کرنے میں کسی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیتے۔ایسا ہی ان کے ہفتہ وار ٹی وی پروگرام جرگہ میں بھی ہمیں نظر آتا ہے۔اپنے حالیہ کالم میں ملک کی سیاسی صورت حال پر آنسو بہاتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:’’المیہ یہ ہے کہ اب یہ سیاست،صحافت یا عدالت کا معاملہ نہیں رہا بلکہ ریاست کی بقا کا معاملہ بن گیا ہے۔ریاست کو ایک رکھنے والے اداروں کی بنیادیں ہل گئی ہیں۔ سب سے زیادہ معلومات رکھنے والے ادارے کے سربراہ نے بھی پارلیمنٹ کے سامنے بریفنگ اور کئی دیگر مواقع پر ذمہ داران کے سامنے ان خدشات کا اظہار کیا اور سب سے یہ کہا کہ معاملات کو ریاست اور ریاستی اداروں کو درپیش خطرات کے آئینہ میں دیکھیں کیونکہ پاکستانی ریاست کو خطرہ بیرونی دشمنوں سے کم اور اندرونی خلفشار سے زیادہ ہے۔‘‘

یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ جس اندرونی خلفشار کا ذکر ملک کے نامور صحافی و تجزیہ نگار نے آج کیا ہے کیا اس کے لیے اچانک ایسے حالات پیدا ہو گئے یا ملک کو اس خلفشار سے ہمکنار کرنے کے لیے پہلے فصل بوئی گئی اور پھر مختلف ہاتھوں، تنظیموں اور اداروں سے اس کی آبیاری کروائی گئی اور اب جبکہ پانی سر سے گزرتا نظر آ رہا ہے تو ہر کس و ناکس پریشان نظر آنے لگا ہے۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد پے در پے جو حکومتیں قائم ہوئیں وہ مفاد پرستوں کا اجتماع تھا جو سیاسی مفادات میں مذہب کو بروئے کار لائے اور خلفشار کا دروازہ کھولا۔ قرارداد مقاصد پاس کرنے والوں کی اکثریت یہ جانتی تھی کہ اس کی منظوری کا مقصد اسلام کی خدمت نہیں بلکہ اسلام کو اپنے مفاد کا آلۂ کار بنانا ہے۔ اب تو ۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختم نبوت کی تاریخ کا ہر باب کھل کر سامنے آ چکا ہے کہ مرکز اور پنجاب کے سیاست دانوں کی زور آزمائی نے ملک میں منظم خلفشار کی بنیاد رکھی۔ ذوالفقار علی بھٹو آئین میں …ترمیم کرتے وقت کیا یہ جانتے تھے کہ آنے والے وقت کے لیے مَیں ملک میں انتشار و خلفشار کی پنجیری لگا رہا ہوں۔ اگر اس زمانہ کے اخبارات کا مطالعہ کر کے دیکھیں تو اس وقت پورے ملک میں شادیانے بجائے گئے اور ان شادیانوں کا پاکستان کے آج کے حالات سے موازنہ کیا جائے تو عقلِ سلیم صرف سلیم صافی ہی کو نہیں بلکہ پوری قوم کو مجرم گردانتی ہے۔ قومی اتحاد اور نظامِ مصطفےٰ کے نام پر جو فساد اور خلفشار ملک میں پھیلایا گیا اس میں ملاں، صحافی، جج سب ہی تو شامل تھے۔ بھٹو کی پھانسی کو ملک کے لیے نیک فال قرار دینے والے آج ملک میں خلفشار کی دہائی دیں تو وہ قدرت کے اس انتقام سے بے خبر ہیں جس کا ذکر الہامی کتب میں موجود ہے۔ ضیاءالحق نے ملک میں فرقہ واریت اور تفرقہ بازی کی جو فصل لگائی اس نے قوم کو جس طرح تقسیم کیا اس کا لازمی نتیجہ ایک دوسرے سے نفرت اور خلفشار کی صورت میں ظاہر ہوا۔ طالبان کو بنانے،ان کو مدد اور راستہ دینے اور انہیں مستحکم کرنے میں رکاوٹ نہ بننے والے سیاستدان، عدلیہ،میڈیا والے سب برابر کے شریک ہیں۔ آج کا خلفشار ان رویوں اور عوامل کی بدولت ہے جو انتہا پسند رجحان رکھنے والی مذہبی تنظیموں کو کھلی چھٹی دینے اور ان کی طرف سے محکوم طبقات کو دبانے کے لیے اختیار کیا گیا۔ ریاست کے ستون ساتھ مل جائیں تو انتہا پسند عناصر شیر ہو جاتے ہیں۔ سچ، جھوٹ، اچھے برے، منفی مثبت، ظلم، عدل انصاف کی تمیز ختم ہو جائے تو معاشرہ خلفشار کا شکار ہو جاتا ہے اور یہی ہم آج کل پاکستان میں دیکھ رہے ہیں۔

انصاف کے اداروں کے قیام کی غرض شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔ ان اداروں میں آئینِ پاکستان میں موجود انسانی بنیادی حقوق کا تذکرہ تو بہت سنا جاتا ہے لیکن عبادت کرنے کے جرم میں پابندِ سلاسل برسوں اپنے فیصلے کا انتظار کرتے رہ جاتے ہیں جبکہ عبادت گا ہیں مسمار کرنے والے اور قبروں کی بے حرمتی کرنے والے آزاد پھر کر مزید انتشار و خلفشار کا باعث بن رہے ہیں۔ مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ریاست نے جو رویہ اختیار کر رکھا ہے اس میں انسانی بنیادی حقوق کی کوئی وقعت ہے اور نہ قائداعظم کی گیارہ اگست کی تقریر کی کوئی اہمیت۔اس نا انصافی نے پاکستان کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ اب ہر طرف سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ موجودہ آئین پاکستان کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ ابھی چند روز قبل ملک کے دو نامور صحافیوں حامد میر اور عامر متین کے درمیان جو مکالمہ ہوا اس میں اقرار کیا گیا کہ پاکستان میں آئین غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ کوئٹہ میں ہونے والے پاکستان بار کونسل کے اجلاس میں پورے پاکستان سے چوٹی کے وکلاء اور بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران شامل ہوئےاس میں پاس کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ۱۹۷۳ء کے آئین کو پچاس سال مکمل ہو گئے۔اس دستاویز سے تو ہمارے مسائل حل نہیں ہوئے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ جو سپریم کورٹ بار کے صدر بھی رہ چکے ہیں فرماتے ہیں کہ آئین کا حلف لینے والوں نے ہمیشہ اس ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ ہے اس آئین کی قدر۔ ڈاکٹر مجاہد منصوری ملک کے ممتاز دانشور ہیں۔آپ کا ایک فکر انگیز مضمون ۲؍مئی کے جنگ میں شائع ہوا جس میں موصوف اقرار کرتے ہیں کہ ایک بار پھر پاکستان عملاًسرزمینِ بے آئین کی اذیت ناک تصویر بنا ہوا ہے۔ ایک اور دانشور نے اتوار کے روز اسی فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا:’’پاکستان میں ایک بار پھر سرزمین بے آئین اور دل ہلا دینے والے نتائج روزانہ کی بنیاد پر نکل رہے ہیں۔اللہ خیر۔‘‘

ملک کا دانشور طبقہ آج جن خطرات کی دہائی دے رہا ہے یہ شاخسانہ ہے ان بنیادی حقوق سے رو گردانی کا جو پاکستان کے ہر شہری کا بلا امتیاز حق ہے۔ جب ان حقوق سے روگردانی کی جاتی ہے تو نہ صحافی بولتے ہیں نہ وکلاء برادری اس کو زیادتی تصور کرتی ہے اور انصاف کی کرسیوں پر بیٹھی شخصیات کے ریمارکس ماحول کو اور بھی زیادہ تکلیف دہ بنا دیتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں سید احمد طارق وکیل کو محض نام کے ساتھ ’’سید‘‘ لکھنے پر جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔ ایک سال میں ایسے سینکڑوں واقعات ہیں جن کا بالآخر انجام اندرونی خلفشار میں اضافہ کی صورت میں ظاہر ہوا کرتا ہے جس سے ملک کی بقا اور سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ۱۹۹۰ء کی دہائی میں مسجد فضل لندن کے منبر سے بار بار اہل وطن کو مخاطب کر کے ان خطرات سے آگاہی دی جاتی رہی جو آج ملک پاکستان کو درپیش ہیں۔ اس آواز پر کان نہیں دھرے تو محب وطن درویش کی جو آواز آج مسجد مبارک ٹلفورڈ سے آپ سے مخاطب ہے اس پر توجہ دو، سالمیت اور بقا کے متلاشی ہو تو اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button