حضرت مصلح موعود ؓ

ہر مہینہ رمضان اور ہر رات لیلۃ القدر بن سکتی ہے

(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۲۴؍ اپریل ۱۹۲۵ء)

اگر یہ یقین اور یہ وثوق تمہارے اندر پیدا ہو جائے کہ ہر عشرہ آخری عشرہ اور ہر ماہ رمضان ہو سکتا ہے تو میں کہتا ہوں یقیناً ہر عشرہ رمضان کا آخری عشرہ اور ہر مہینہ رمضان ہو سکتا ہے۔ اور تمہاری دعائیں ہمیشہ اسی طرح سنی جا سکتی ہیں۔ جس طرح رمضان اور اس کے آخری عشرہ میں سنی جاتی ہیں

سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نےاس خطبہ جمعہ میں احباب جماعت کو دعا کرنے کی تلقین فرمائی۔اسی طرح حضور نے لیلۃ القدر کے مضمون کو بھی بیان فرمایا اور رمضان کے بعد بھی نیکیاں جاری رکھنے کی نصیحت فرمائی۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ جمعہ شائع کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)

تشهد، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : کوئی تعجب نہیں کہ آج کا روزہ آخری روزہ اور رمضان المبارک کا آخری دن ہو۔ اور اس لحاظ سے یہ ان خاص برکات کا جو رمضان کے آخری عشرہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں آخری دن ہے۔ اور ہم میں سے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کس کے لئے اس سال کا یہ دن نہ صرف آخری دن ہو بلکہ ہمیشہ کے لئے آخری دن ہو۔ اور اس کے بعد اس کو زندہ رہنا نصیب نہ ہو۔ پس اس کی ہر ساعت کو غنیمت سمجھنا چاہیے اور خدا تعالیٰ کے دروازہ کو کھٹکھٹانے میں کوئی کوتاہی نہ کرنی چاہیے۔ دعائیں جیسا کہ میں نے بتایا ہے اور بارہا پہلے بھی بتا چکا ہوں ایک ایسا مفید اور کار آمد ہتھیار ہے جس کے مقابلہ میں اور کوئی ہتھیار اتنا مفید اور کار آمد نہیں ہو سکتا۔

لیکن جس طرح ہر ہتھیار ہر ہاتھ میں کارآمد نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اسی شخص کے لئے کار آمد ہو سکتا ہے جو اس کو چلانا جانتا ہے۔ اسی طرح دعا ئیں بھی اسی شخص کو فائدہ دے سکتی ہیں جو ان کو صحیح طور پر کرنا جانتا ہے

مثلاً ایک شخص جو بندوق چلانا نہیں جانتا اگر اس کے کندھے پر بندوق رکھ دی جائے اور کارتوسوں کی پیٹی اس کی کمر سے باندھ دی جائے تویہ اس کے لئے سوائے بوجھ کے اور کچھ نہ ہو گا۔ کیونکہ بندوق کو چلانا نہ جاننے کی وجہ سے یہ چیزیں اس کو کچھ کام نہیں دے سکتیں۔ اگر اس کی بجائے اس کو ایک لاٹھی دےدی جاتی جسے وہ چلانا جانتا ہے تو وہ زیادہ عمدگی اور پھرتی کے ساتھ اس سے کام لیتا۔ اسی طرح ایک ایسا شخص جو تلوار چلانا نہ جانتا ہو اگر اس کے ہاتھ میں تلوار دے دی جائے تو وہ اس سے ایک چھڑی سے بھی زیادہ فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اور ایک بچہ تو اس سے خود اپنا ہاتھ زخمی کر لے گا۔ یہی حال دعا کا ہے۔ جو لوگ یہ نہیں جانتے کہ دعا کس طرح کی جاتی ہے اور جو خدا تعالیٰ پر پورا تو کل نہیں رکھتے اور کامل توجہ سے دعا نہیں کرتے ان کی دعا ہرگز مفید نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ وہ دعائیں کرتے تو ہیں لیکن ان کے کرنے کا طریقہ نہیں جانتے۔

دعا بے شک ایک ایسے ہتھیار کی طرح ہے جس کے ایک وار کے بعد پھر اور وار کی ضرورت نہیں رہتی۔ لیکن وہ اس کے لئے مفید نہیں ہو سکتی جو اس کو کرنا نہیں جانتا۔ بسا اوقات وہ لمبی لمبی دعا ئیں کرے گا لیکن ان دعاؤں کا کچھ اثر نہ ہو گا۔ اور بسا اوقات ایسا بھی ہو گا کہ ایک نادان ایسے طریقہ پر دعائیں کرتا ہے کہ بجائے نفع کے نقصان اٹھاتا ہے۔ اور اس کی دعائیں بجائے اس کو فائدہ پہنچانے کے الٹا نقصان پہنچاتی ہیں۔ پس دعا ئیں جہاں کارگر ہیں وہاں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ غلط طریقہ پر کئے جانے سے وہ نقصان پہنچا دیں۔ اس لئے دعا کرنے والے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ جانتا ہو کہ دعا کس طرح کی جاتی ہے اور اس کے کرنے والے کے لئے کیا کیا ذمہ داریاں ہیں۔ اور کتنے وثوق اور یقین کے ساتھ دعا کرنی چاہیے اگر وہ ان تمام باتوں کو مد نظر رکھ کر دعائیں کرے گا تو اس کی دعائیں اس کو فائدہ دیں گی اور اگر وہ ان باتوں کا خیال نہیں رکھے گا تو وہ بجائے اس کو فائدہ دینے کے مضر ہوں گی۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اس بات سے ڈر کر کہ شاید میری دعائیں مجھےنقصان پہنچائیں ان کو چھوڑ دیا جائے۔

دعا کرنا ضروری اور فرض ہے۔ کیونکہ بغیر دعا کے تکمیل ایمان نہیں ہو سکتی اور بغیر تکمیل ایمان کے انسان ہرگز کوئی فلاح نہیں پاسکتا

چونکہ انسان کی پیدائش کی غرض ہی یہی ہے کہ وہ اپنے ایمان کو کامل کرے۔ اس لئے اگر وہ دعائیں نہیں کرتا تو اپنی پیدائش کی غرض کو پورا نہیں کرتا۔ پس میرے یہ کہنے سے کہ دعائیں اگر صحیح طریقہ پر نہ کی جاویں تو بجائے نفع کے نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اس سے ڈر جاؤ اور دعاؤں کو بالکل چھوڑ دو۔ بلکہ اس سے میرا یہ مطلب ہے کہ اس کے متعلق صحیح طریقہ سیکھا جائے۔ کیونکہ اگر صحیح اور اصل طریقہ جس پر عمل کر کے ہماری دعائیں قابل قبول ہو سکتی ہیں استعمال میں نہ لایا جائے تو ہماری دعاؤں کا قطعاً کوئی فائدہ نہیں۔

ہر کام کرنے کے واسطے یہ لازم ہے کہ اس کے کرنے کا اصل طریق سیکھا جائے۔ کیونکہ اگر ہم صحیح طریقہ پر اس کام کو نہیں کریں گے تو وہ کام بجائے نفع کے ہم کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب نہیں کہ اس کام کو اس اندیشہ سے چھوڑ ہی دیا جائے کہ شاید نقصان پہنچا دے۔ پس جب کہ دعا کے بغیر انسان نجات اور فلاح ہی نہیں حاصل کر سکتا تو کسی شخص کو اس واسطے اوراس بات سے ڈر کر کہ شاید میرے دعا کرنے کا طریق صحیح نہ ہو دعا کرنا چھوڑ نہیں دینا چاہیے۔ کسی مریض کے علاج کو اس بناء پر نہیں چھوڑا جا سکتا کہ ممکن ہے اس کا علاج غلط کیا جا رہا ہو اور ایسا ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے کہ بعض دفعہ علاج غلط ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی علاج کو چھوڑا نہیں جاتا۔ پس جس طرح کہ مریض کے علاج کو چھوڑ نہیں دیا جاتا۔ خواہ یہ علم ہو یا نہ ہو کہ یہ علاج صحیح ہے یا غلط۔ اسی طرح دعا کو بھی ڈر کر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ کیونکہ جو شخص علاج کرتا ہے اس کے لئے تو امکان ہے کہ اس کا علاج صحیح ہو اور وہ اس علاج سے بچ جائے لیکن جو اس ڈر سے علاج ہی کو چھوڑ دیتا ہے کہ شاید یہ صحیح ہے یا نہیں وہ یقینی طور پر ہلاک ہو جاتا ہے۔

پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ

دعائیں کرو اور اپنے اخلاص کو بڑھاؤ۔ اگر پورے یقین اور وثوق کے ساتھ دعائیں کرو گے تو ضرور تمہاری دعائیں قبول ہوں گی۔

خدا تعالیٰ سب کی دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہے۔ خصوصاً ان لوگوں کی جو خدا کی راہ میں سخت سے سخت تکالیف اٹھا رہے ہیں۔

وفا شعاری ایک ایسا جذبہ ہے جس کو سنگ دل سے سنگ دل انسان بھی بھلا نہیں سکتا۔ پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہماری جماعت کو جو خدا کی راہ میں شدید سے شدید مصائب برداشت کر رہی ہے خدا تعالیٰ بغیر مدد کے چھوڑ دے۔ وہ اس کی دعاؤں اور التجاؤں کو دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ سنتا اور قبول کرتا ہے۔ اس لئے ہماری جماعت کے لوگوں کو ضرور دعائیں کرنی چاہئیں۔

پس دعا ئیں ہر شخص کی سنی جاتی ہیں۔ لیکن وہ جو خدا کی راہ میں تکالیف اٹھاتے ہیں۔ ان کی دعائیں زیادہ سنی جاتی ہیں۔ اور اگر کوئی قوم اس وقت ایسی ہے جو خدا کی راہ میں دکھ تکالیف اور مصائب جھیل رہی ہے تو وہ احمدی جماعت ہی ہے۔ لوگ دنیا میں دکھ اٹھاتے اور طرح طرح کے مصائب جھیلتے ہیں۔ لیکن کبھی اپنی امنگوں اور آرزوؤں کے پورا کرنے کی خاطر۔ کبھی اپنی ضرورتوں اور حاجتوں کے لئے اور کبھی ان باتوں کے پورا کرنے کے لئے جو وہ دنیا میں کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ لیکن ہماری تمام تر کوشش اور ہماری تمام تکالیف اور دکھ اس لئے ہیں کہ تا دنیا کے اندر امن قائم ہو۔ خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہو۔ اور اس کا نام بلند ہو۔ ہمارے اندر بہت سی کمزوریاں بھی ہیں۔ لیکن ہماری جماعت جو کچھ خدا تعالیٰ کی راہ میں تکالیف اٹھا رہی ہے وہ اور کوئی قوم دنیا میں نہیں اٹھا رہی۔ گو وہ بتقاضائے بشری غلطیاں بھی کر بیٹھتی ہے۔ لیکن پھر بھی اس کی غلطیاں دوسروں کے مقابلہ میں بہت کم ہوتی ہیں۔ لیکن اس کا کام جو وہ خدا کی راہ میں کر رہی ہے۔ بہت بڑا اور عظیم الشان ہے۔ پس جس طرح آپ لوگوں کی دعائیں قبول ہو سکتی ہیں اور کسی کی نہیں ہو سکتیں۔

میں نہیں جانتا کہ ہماری جماعت کے دوستوں نے رمضان میں دعاؤں سے کیا فائدہ اٹھایا۔ لیکن جنہوں نے خاص توجہ اور پورے وثوق اور یقین کے ساتھ دعائیں کی ہیں وہ دیکھیں گے کہ ان کے اقرباء کے لئے ان کے دوستوں کے لئے اور ان کے اپنے لئے ان کا کیسا اثر ہوا ہے۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جیسا کہ میں پچھلے جمعہ کے خطبہ میں بتا چکا ہوں۔ اس سال رمضان میں پہلے سالوں کی نسبت دعاؤں کی زیادہ توفیق اور موقع دیا ہے۔ اور چند دنوں سے دعاؤں کے نتائج بھی نکلنے شروع ہو گئے ہیں۔ چنانچہ بہت سے غم اور فکر جو مجھے دامن گیر تھے انہیں دور کر کے خدا تعالیٰ خوشی کے سامان پیدا کر رہا ہے۔ ہر انسان کے لئے فکر ہوتے ہیں اور میں بھی فکروں سے خالی نہیں۔ لیکن میرے اصل غم وہ ہیں جو جماعت کے متعلق ہیں۔ اس لئے میں نے جو اپنے غموں کا ذکر کیا ہے اس سے میری مراد جماعت کی بہبودی اور ترقی کے لئے غم ہیں۔…اور اگر سب دوست دعاؤں کے ساتھ میری مدد کریں تو وہ نیک مقاصد جن کو رسول کریمﷺ، حضرت مسیح موعودؑ اور تمام انبیاء دنیا میں پھیلانا چا ہتے تھے۔ ان کے پورا ہونے میں کوئی شک اور کسی شبہ کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔

گو رمضان ختم ہوتا ہے۔ لیکن میں اپنے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ

مومن کے لئے ہمیشہ رمضان ہے۔ وہ جس وقت بھی دعائیں کرتا ہے اس کی دعائیں سنی جاتی ہیں۔ کیونکہ دعاؤں کی قبولیت رمضان کے مہینہ تک ہی محدود نہیں بلکہ مومن کے لئے تمام سال رمضان ہے اور ہر وقت رمضان کی طرح اس کی دعائیں خدا سنتا ہے۔

ہمارا خدا دنوں، مہینوں، سالوں، صدیوں اور زمانوں میں محدود نہیں ہے۔ زمانہ اس پر کوئی اثر نہیں کرتا۔ کیونکہ زمانہ اس کی مخلوق اور وہ اس کا خالق ہے۔ اس لئے یہ نہیں کہنا چاہیے کہ فلاں سال فلاں مہینہ یا فلاں دن وہ دعائیں سنتا ہے ایسا کہنا اس کے اقتدار اور طاقت کی حد بندی کرنا ہے۔ حالانکہ خدا تعالیٰ کی ذات ہر قسم کی حد بندیوں سے آزاد اور پاک ہے۔ جس طرح وہ رمضان میں دعائیں سنتا ہے اسی طرح ہر روز سنتا ہے۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ ہر دن اس کے لئے رمضان کا دن ہو۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ رمضان کی کوئی خاص برکت نہیں۔ بے شک اس کا بھی بہت بڑا فائدہ ہے۔ اگر رمضان کے دنوں کی دعاؤں میں تم کوئی لذت محسوس کرو تو سمجھ لو کہ ہر روز تمہارے لئے رمضان ہو سکتا ہے۔ اور اگر رمضان کے آخری عشرہ میں کوئی لذت محسوس کرو تو جان لو کہ ہر ایک دن تمہارے لئے آخری عشرہ بن سکتا ہے۔ یہ دن بطور نمونہ کے ہوتے ہیں تاکہ اس نمونہ سے لذت حاصل کر کے باقی تمام دنوں میں لذت کو محسوس کیا جائے۔ جس طرح حلوائی نمونہ کے طور پر ایک مٹھائی دکھاتا ہے۔ اس کے ایسا کرنے سے یہ مطلب نہیں ہو تا کہ صرف وہی ایک مٹھائی اس کے پاس اعلیٰ اور لذیذ ہے۔ بلکہ اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس کی دکان کی تمام مٹھائیاں اسی طرح کی ہیں۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کا ایسے دنوں کو خصوصیت دینے سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو بتائے کہ میرے پاس ایسے بابرکت عشرے اور مہینے ہیں جن میں دعائیں خاص طور پر قبول ہوتی ہیں۔ اور انسان دعاؤں میں خاص لذت محسوس کرتا ہے۔ پس جو شخص ان برکات کو حاصل کرنا چاہتا ہے وہ نہ صرف انہی دنوں میں بلکہ تمام دنوں میں وہی برکات اور ویسی لذت حاصل کر سکتا ہے۔ پس یہ نمونہ ہے جو تمہیں دیا گیا ہے۔ آگے آپ لوگ کوشش کر کے ایسے عشرے ہمیشہ کے لئے خرید سکتے ہیں۔ پس دعائیں کرو اور بہت کرو۔

گو میں اپیلیں کرتا ہوں کہ چندے دو لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر دوست دعا سے میری مدد کریں تو چندوں کی کوئی ضرورت ہی نہ رہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ خود ہمارے لئے ایسے سامان پیدا کر سکتا ہے جن کے ذریعے بغیر چندوں کے کام چل سکے۔ مگر جس طرح اصل چیز میسر نہ آئے تو دوسری چھوٹی چھوٹی چیزیں لے کرگزارہ کر لیا جاتا ہے۔ اسی طرح چندے ہیں۔ ورنہ دعائیں دراصل سب سے بڑا ذریعہ ترقیات کا ہیں۔

پس جس شخص نے یہ محسوس کر لیا کہ رمضان ہی نہیں بلکہ ہر مہینہ بابرکت ہے اور لیلة القدر ہی خاص برکات والی رات نہیں بلکہ ہر رات اپنے اندر برکتیں رکھتی ہے۔ اور جس نے رمضان اور لیلۃ القدر سے نمونہ لے لیا۔ ایسے شخص نے زیادہ فائدہ حاصل کیا بہ نسبت اس کے جس نے روزے رکھے۔ اعتکاف بیٹھا اور آخری عشرہ کے دنوں میں لیلۃ القدر کو پانے کے لئے اٹھتا رہا۔ اور اس نے رمضان سے پورا پورا فائدہ اٹھایا لیکن اس حقیقت کو نہ سمجھا کہ ہر مہینہ اس کے لئے رمضان اور ہر رات لیلۃ القدر بن سکتی ہے۔ رمضان اور لیلۃ القدر بطور نمونہ کے ہیں۔ جن سے اس کو فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔ حقیقی فائدہ رمضان سے اس نے اٹھایا۔ جس نے گو بے تابی کے ساتھ رسم و رواج کے مطابق لیلۃ القدر کی جستجو نہ کی۔ اور اتنے روزے نہ رکھے جتنے پہلے نے رکھے۔ اور اتنی دعائیں نہ کیں جتنی پہلے نے کیں۔ گو بظاہر اس نے رمضان کا فائدہ پہلے سے کم اٹھایا۔ لیکن اگر اس نے یہ خیال کر لیا کہ ہر عشرہ ہی بابرکت ہو سکتا ہے۔ اور اس بات کا مصمم ارادہ کر لیا کہ کوئی عشرہ اور رات ایسی نہ جانے دوں گا جسے رمضان اور لیلۃ القدر کی طرح سمجھ کر اس سے فائدہ نہ اٹھاؤں تو اس نے پہلے کی نسبت بہت زیادہ فائدہ اٹھایا۔ پس اگر یہ یقین اور یہ وثوق تمہارے اندر پیدا ہو جائے کہ ہر عشرہ آخری عشرہ اور ہر ماہ رمضان ہو سکتا ہے تو میں کہتا ہوں یقیناً ہر عشرہ رمضان کا آخری عشرہ اور ہر مہینہ رمضان ہو سکتا ہے۔ اور تمہاری دعائیں ہمیشہ اسی طرح سنی جا سکتی ہیں۔ جس طرح رمضان اور اس کے آخری عشرہ میں سنی جاتی ہیں۔ تم یہ یقین اور وثوق اپنے اندر پیدا کرو۔ اور دعائیں کرو۔ اگر دعاؤں کے ساتھ مجھے مدد دو گے تو اس کام کے ہونے میں جس کے لئے حضرت مسیح موعودؑ آئے۔ جس کے لئے رسول کریمﷺ مبعوث ہوئے اور جس کے لئے تمام دوسرے انبیاء دنیا میں آئے۔ کوئی شک نہیں رہ جاتا اور اس شیطان کو جو پورے زور کے ساتھ اسلام پر حملہ کر رہا ہے۔ کچل دینے میں کوئی کمی نہیں رہ سکتی۔….

(الفضل ۷؍مئی ۱۹۲۵ء)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button