متفرق مضامین

قادیان دارالامان میں رمضان المبارک کی رونقیں مسیح پاک علیہ السلام سے لے کر آج تک(قسط دوم۔آخری)

(دلاور خان ، نظارت اصلاح و ارشاد مرکزیہ قادیان)

قرآن و حدیث کا درس، نوافل، نمازوں اور خصوصاً تہجد کا التزام، خشوع و خضوع میں ڈوبی ہوئی دعاؤں کا پروگرام، نفلی روزوں کی برکت اور دن رات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بابرکت گھر اور بیت الدعا اور مسجد مبارک اور مسجد اقصیٰ اور بہشتی مقبرہ میں ذکر الٰہی کے مواقع۔ یہ وہ عظیم الشان نعمتیں ہیں جن سے جماعت کا بیشتر حصہ آج کل محروم ہے اور قادیان کا ماحول ان نعمتوں سے بہترین صورت میں فائدہ اٹھانے کا موقعہ پیش کرتا ہے

قادیان میں وارد ہونے والوں کا روزہ

حضرت مسیح موعودؑ کی بستی ہونے کی وجہ سے صحابہ کرامؓ کثرت سے قادیان دارالامان تشریف لا کر اپنی روحانی پیاس بجھاتے۔ یہ سلسلہ رمضان میں بھی بدستور جاری رہتا۔ تاہم اسلامی شریعت کی پابندی کرواتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ ایسے وارد ہونے والے محبین کو سفر میں روزہ رکھنے سے منع فرماتے۔ چنانچہ حضرت مرز ا بشیر احمد صاحب ؓ تحریر کرتے ہیںکہ ڈاکٹر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لاہور سے کچھ احباب رمضان میں قادیان آئے۔حضرت صاحب کو اطلاع ہوئی تو آپ مع کچھ ناشتہ کے ان سے ملنے کے لئے مسجد میں تشریف لائے۔ان دوستوںنے عرض کیا کہ ہم سب روزے سے ہیں۔

آپ نے فرمایا:سفر میں روزہ ٹھیک نہیں اللہ تعالیٰ کی رخصت پر عمل کرنا چاہئے۔چنانچہ ان کو ناشتہ کروا کے ان کے روزے تڑوا دئے۔(سیرت المہدی جلد اوّل حصہ دوم صفحہ ۳۴۴-۳۴۵روایت۳۸۱)

درویشانِ قادیان کا پہلا رمضان

زمانہ درویشی کے آغاز سے ہی حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی ہدایت کے مطابق تمام درویش سوموار اور جمعرات کے دن نفلی روزے رکھاکرتے تھے اور بعض مخلص ہر روز روزہ رکھا کرتے تھے۔

تقسیم ہند کے بعد پہلا رمضان شریف جولائی ۱۹۴۸ء میں آیا۔ روزہ عموماً پندرہ گھنٹے کا ہوا کرتا تھا۔ جولائی کے ایام میں دن لمبے اور سخت گرم ہوتے ہیں درویش لنگر سے ملنے والے نانِ درویش سے اور پانی سے سحری کاکھانا کھاتے تھے۔ چونکہ ان کو روزہ رکھنے کی عادت تھی لہٰذا روزہ کی سختی برداشت کرلیتے تھے۔

قادیان دارالامان میں سحری کے وقت خدام اور انصار بزرگ خوش الحانی سے صل علیٰ نبینا صل علیٰ محمد اور کچھ اشعار پڑھ کر احباب کرام کو جگاتے تھے ۔ان میں ایک شعر یہ ہوتا:

چل رہی ہے نسیم رحمت کی

جو دعا کیجئے قبول ہے آج

اس کام میںشریف شاہ صاحب درویش،ابراہیم خان صاحب آف جڑچرلہ، عبد الکریم صاحب ملکانہ اور ملک فاروق احمد صاحب پشاوری شامل ہوتے۔یہ نظارے آج بھی قائم ہیں۔

تقسیم ہند کے شروع میں قادیان کی تین چار مساجد آباد تھیں۔ باقی علاقہ غیر مسلموں کے قبضہ میں آگیا تھا۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے قادیان کی سترہ مساجد آباد ہیں۔ اب محلہ احمدیہ کے علاوہ قادیان سے ملحقہ محلہ جات اور تین چار دیہات میں احمدی مسلمان آباد ہیں اور جب مساجد سے خوش نوا مؤذن کی لاؤڈسپیکر پر ترنم ریز اذان فضائے قادیان اور دیگر علاقہ میں گونجتی ہے تو ہر ایک کی روحانی کیفیت میں ازدیاد کا باعث بنتی ہے۔

ہمیں وہ وقت بھی یاد ہے جب مساجد میں اذان کے لیےلاؤڈسپیکر نہیں تھا۔اس وقت منارۃ المسیح پر مؤذن اذان کی ندا بلند کرتا تھا۔فجر کی اذان کی آواز تو دور دور تک سنائی دیتی تھی۔اب تمام مساجد میں لاؤڈ سپیکر کا انتظام ہوچکا ہے۔

اس مبارک بستی میں نماز تہجد اور نماز تراویح کا انتظام ہے۔مستورات کے لیے ہر مسجد میں پردہ کا انتظام ہے۔ خواتین بھی ذوق وشوق سے آتی ہیں۔ نماز فجر کے بعد تمام مساجد میں درس کا انتظام ہوتا ہے۔اس کے علاوہ بعد نماز عصر مسجد مبارک اور مسجد اقصیٰ میں قرآن مجید کا درس علمائے کرام دیتے ہیں۔پہلے تلاوت کلام پاک ہوتی ہے پھر اس کا ترجمہ اور مختصر تفسیر بیان کی جاتی ہے۔جب خلیفہ وقت رمضان کےآخری دن درس ارشاد فرماتے ہیں تو MTA کے توسط سے یہ قادیان میں بھی سنا جاتا ہے اور اجتماعی دعا میں شامل ہو کر ہر ایک پُر لطف روحانی لذت پارہا ہوتا ہے۔ قادیان میں ہندوستان کے دوسرے شہروں سے بھی کچھ احباب تشریف لے آتے اور اعتکاف بیٹھتے ہیں۔

اعتکاف اور آخری عشرہ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی میں قادیان میں درویشان کرام رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کا اہتمام کرتے۔ہر ایک کی خواہش ہوتی کہ مسجد مبارک میں جگہ ملے اور پُرانے حصہ میں بیت الدعا اور بیت الفکر کے قریب ہو لیکن جہاںبھی انتظامیہ جس کے نام کی پرچی چسپاں کر دے تو ہر ایک وہاں اپنا حجرہ بنا کر عبادت میں مشغول ہو جاتا تھا۔آخری عشرہ میں طاق راتوںمیں ذکر الٰہی میں تیزی آجاتی تھی۔

نماز تہجد اور فرض نمازوں میں رمضان المبارک کے علاوہ بھی درویش بزرگان کے رونے اور گڑگڑانے کی آواز سنائی دیتی تھی۔ مسجد میں چھوٹے اور بڑے اللہ کے حضور گریہ و زاری کرتے تھے۔ جب ہنگامی حالات آتے تو اس گریہ و زاری میں اضافہ ہوجاتا اور آسمان سے اللہ تعالیٰ رجوع برحمت ہوجاتا۔

خلیفہ وقت کے لیے اورفرزندان احمدیت کے لیے قادیان میں پر سوز دعاؤں کو درجہ قبولیت بخشنے والا ہمارا زندہ خدا آج بھی زندہ ہے۔پس یہ ہے وہ بستی جہاں روحانی انقلاب پیدا ہونے کے سامان ہیںکیونکہ اللہ کے پیارکی نظر اس مقدس بستی میں ہمیشہ کے لیے رکھ دی گئی ہے۔

نماز فجر اور درس کے بعد احباب کرام بہشتی مقبرہ میں مزار مبارک پر دعا کرنے جاتے ہیں۔ جب کبھی بھی کوئی مشکل کسی بھی جگہ یا کسی ملک میں احمدیوں پر آتی ہے یا جب خلیفۂ وقت کی صحت اور فعال عمر کے لیے دعا کی تحریک ہوتی ہے تو درویشان کرام مزار مبارک پر اجتماعی دعا کرتے ہیں اور آج بھی یہ طریق قائم ہے۔

جب رمضان کا آخری جمعہ ہوتا تواس میں ہر ایک کوشش کرتا کہ وہ سجدہ گاہ کو آنسو ؤں سے تر کرتے ہوئے اپنی گریہ و زاری خدا کے حضور پیش کرے۔اس کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ فرماتے ہیں: ’’اللہ کی تقدیر کا تو کسی کو علم نہیں کہ کون کس زمین پر کس وقت اُٹھایا جائے،سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا اس لئے ہر وہ شخص جو نیکی کا طالب ہے جو اللہ کے حضور گریہ و زاری کے ساتھ حاضر ہونے کی تمنا رکھتا ہے اس کے لئے جمعہ ایک درد ناک وداع کا جمعہ ہے۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۸؍جولائی ۱۹۸۳ء مطبوعہ خطبات طاہر جلد ۲صفحہ ۳۶۸)

اعتکاف

۱۹۴۸ء میںماہ رمضان جولائی کے مہینہ میں آیا۔ درویشوں میں سے اسّی۸۰ درویش اعتکاف میں بیٹھے۔ دوسرے درویش ان معتکفین کے لیے سحری کا کھانا لاتے اور دن رات پہرے دیا کرتے تھے۔ مولانا محمد ابراہیم صاحب فاضل ہیڈ ماسٹر جامعۃ المبشرین امیر معتکفین تھے۔ سحری کا کھانا کھانے سے پہلے آدھا گھنٹہ اجتماعی دعا کیا کرتے تھے۔ دعا میں خشوع وخضوع اور گریہ وزاری کا یہ عالم ہوا کرتا تھا کہ ساری مسجد اقصیٰ دردناک آہوں کے باعث گونج اٹھتی تھی۔ مسجد کے قریب ارد گرد کے غیر مسلم لوگ خوف کی حالت میں اپنے اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ جاتے تھے۔ ان کاگمان تھا کہ حملہ ہوگیا ہے اور فوجی ٹرین کا انجن دھک دھک کرتا ہوا قادیان کی طرف بڑھتا ہوا آرہا ہے۔ اس ماجرے سے مجھے میرے بعد کے پڑوسی جناب پرتاپ سنگھ کی اہلیہ نے آگاہ کیا تھا۔

معتکفین حضرات ہلال عید دیکھنے کے باوجود حضرت امیر صاحب کی اجازت کے بعد مسجد سے باہر نکلا کرتے تھے اور سیدھے بہشتی مقبرہ جاکر مزار مبارک حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر دُعا کرتے اور پھر اپنی قیام گاہ پرآیا کرتے تھے۔

درویشوں کی پہلی عید

قادیان میں عیدیں پوری شان کے ساتھ بھر پورجشن کے ماحول میں منائی جاتیں تھیں۔ نماز عید، عید گاہ کے کھلے ماحول میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی امامت میں ادا کی جاتی تھی مگر تقسیم ملک کے بعد درویشوں نے ایک نئے ماحول میں عید منائی۔ عید کی نماز ماہ اگست ۱۹۴۸ء کے آغاز میں مسجد اقصیٰ میں ادا کی۔ تمام درویش دھلے ہوئے لباس پہنے مسجد اقصیٰ میں جمع ہوئے نماز اور دُعا میں خوب روئے اوردعا واستغفار کرتے ہوئے اپنی اپنی قیام گاہ میں لوٹ آئے۔ نہ تحفے تحائف نہ جشن چراغاں۔ عید کی خوشی ضرور تھی لیکن پیارے آقا خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی بے پناہ محبت اور جدائی کی یاد اس خوشی پر غالب تھی۔

حضرت مرزابشیر احمد صاحب ایم اےؓ قادیان میں درویشان کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں:’’آج کل قادیان کی زندگی کتنی روحانی فیوض سے معمور ہے گویا کہ اس کے لیل و نہار مجسم روحانی بن چکے ہیں۔ کیونکہ قادیان میں رہنے والے دوستوں کو دنیا کے دھندوں سے کوئی سروکار نہیں اور ان کی زندگی ہر لمحہ روحانی مشاغل کے لیے وقف ہے۔ قرآن و حدیث کا درس، نوافل، نمازوں اور خصوصاً تہجد کا التزام، خشوع و خضوع میں ڈوبی ہوئی دعاوٴں کا پروگرام، نفلی روزوں کی برکت اور دن رات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بابرکت گھر اور بیت الدعا اور مسجد مبارک اور مسجد اقصیٰ اور بہشتی مقبرہ میں ذکر الٰہی کے مواقع۔ یہ وہ عظیم الشان نعمتیں ہیں جن سے جماعت کا بیشتر حصہ آج کل محروم ہے اور قادیان کا ماحول ان نعمتوں سے بہترین صورت میں فائدہ اٹھانے کا موقعہ پیش کرتا ہے۔‘‘(الفرقان، درویشان قادیان نمبرصفحہ ۱۳، بحوالہ تاریخ احمدیت جلد دہم صفحہ ۳۹۳)(ماخوذ از ہفت روزہ بدر قادیان۲۹؍دسمبر۲۰۱۱ءصفحہ۴۲)

دور درویشی میں درویشان قادیان کا پہلا رمضان اور عید منائے جانے کی ایک چھوٹی سی جھلک پیش کی گئی ہے۔ اب ذیل میں درویشان کرام اور اہالیان قادیان کے رمضان کا روح پرور نظارہ اختصار سے پیش ہے۔

ابتدا میں درویش بزرگان کی کل تعداد ۳۱۳ تھی جن میں ۲۴؍صحابہ کرام ؓ تھے۔ پھر ہنگامی حالات دور ہونے کے بعد ہندوستان سے کچھ احباب کرام اپنی فیملی کے ساتھ قادیان کی آبادی کے لیے خلیفہ وقت کے ارشادات کے مطابق آتے رہے اور ابھی بھی آرہے ہیں۔

اس وقت ۳۱۳؍درویشان کرام میں سے صرف دو بزرگ درویش حیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی عمر وصحت میں برکت دے۔آمین

قادیان دارالامان میں عید کے نظارے

درویشی کےدور میں باوجود غربت کے سب احبابِ قادیان نہایت جوش و خروش سے لیکن سادگی کے ساتھ عید کی خوشی مناتے تھے۔ابتدائی دور میں عید کی نماز حضرت مولوی عبد الرحمٰن صاحب جٹ ؓامیر مقامی و ناظر اعلیٰ قادیان اور بعد میں محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب امیر مقامی و ناظر اعلیٰ قادیان پڑھایا کرتے تھے۔عید کی نماز بالعموم مسجد اقصیٰ قادیان میں ہی ہوتی تھی۔بہشتی مقبرہ قادیان میں اور احمدیہ گراؤنڈ قادیا ن میں بھی عید کی نمازیں ہوئیں۔

درویشان قادیان اور اہالیان قادیان کا گلے مل کر ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دینے کا پر کیف منظر دلوں کے اندر ایک عجیب قسم کا سرور اور روحانی تازگی پیدا کرتا تھا۔

عید کی خوشیوں کو دوبالا کرنے والا ایک واقعہ جو ہر سال رونما ہوتا ہے وہ خلیفۃ المسیح کا عید کے موقع پر مبارکبادی کا پیغام ہےجو کہ محترم امیر صاحب مقامی قادیان عید کی نماز کے بعد پڑھ کر سناتے ہیں۔یہ پیغام احباب قادیان کی خوشیوں کو دوبالا کرنے والا ہوتا ہے۔اسی طرح عید کے موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر سال قادیان کے بعض خوش نصیبوں میںعیدی بھی تقسیم کی جاتی ہے جس سے ان کی عیدکی خوشیوںکو چار چاند لگ جاتے ہیں۔

آج ہمارا فرض ہے کہ ہم سب مل کر حضور پر نور کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے رمضان المبارک میں گریہ وزاری سے دُعائیں کریں۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:’’اے مسیح محمدی کے غلامو! آپ کے درخت وجود کی سرسبز شاخو! اے وہ لوگو! جن کو اللہ تعالیٰ نے رشد و ہدایت کے راستے دکھائے ہیں۔ اے وہ لوگو! جو اس وقت دنیا کے کئی ممالک میں قوم کے ظلم کی وجہ سے مظلومیت کے دن گزار رہے ہو، اور مظلوم کی دعائیں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں بہت سنتا ہوں، تمہیں خداتعالیٰ نے موقع دیا ہے کہ اس رمضان کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہوتے ہوئے اور ان تمام باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے حضور دُعائوں میں گزار دو …خدا تعالیٰ کے حضور اپنے سجدوں اور دُعائوں سے نئے راستے متعین کرنے والا رمضان بنادو۔ اپنی زندگیوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنے والا رمضان بنادو۔اپنی آنکھ کے پانی سے وہ طغیانیاں پیدا کردو جو دشمن کو اپنے تمام حربوں سمیت خس وخاشاک کی طرح بہاکرلے جائیں۔ اپنی دُعائوں میں وہ ارتعاش پیدا کرو جو خدا تعالیٰ کی محبت کو جذب کرتی چلی جائے کیونکہ مسیح محمدی کی کامیابی کاراز صرف اور صرف دُعائوں میں ہے۔

خداتعالیٰ جو ان دنوں میں ساتویں آسمان سے نیچے اترا ہوتا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو اپنی آغوش میں لے لے اور اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کئے گئے وعدے ہم اپنی زندگیوں میں پورے ہوتے ہوئے دیکھ لیں۔اے اللہ تو ایسا ہی کر۔آمین‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۵؍ستمبر ۲۰۰۸ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲۶؍ستمبر ۲۰۰۸ء صفحہ ۷)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button