غزل

(’م م محمود‘)

وقت بدلا ہے فقط، ہیں سبھی حالات وہی

گرچہ انساں ہیں نئے مُو بمُو عادات وہی

گو در و بام پہ فانوس سجائے پُرنور

پر دروں خانہ رہی ظلمت و ظلمات وہی

محض اک دستِ گدائی ہے جو تبدیل ہوا

فیض و فیّاض وہی کاسہ و خیرات وہی

قاضئ شہر نے پھر اذنِ رہائی نہ دیا

اُس کی پرسش بھی وہی میرے جوابات وہی

ہم سے اگلے بھی یہیں بسملِ معصوم ہوئے

گو ہے صیاد الگ، دام جدا، گھات وہی

جس تکبّر نے کئی شاہوں کو نابود کیا

ہے عجب خودسری دہراتے ہو پھر بات وہی

سازشِ قتل میں میری جو مددگار تھے کل

سینہ زن نوحہ سرا آج ہیں حضرات وہی

حاذق الملک جنہیں سمجھے تھے تم، وہ تو خود

بسترِ مرگ پہ ہیں نیز ہے اوقات وہی

ہم نے چاہت سے بڑی شہر بسائے تھے یہاں

تم نے نفرت سے بنا ڈالے خرابات وہی

اک فقط ذات و نسب وجہِ تعلّی تو نہیں

نقشِ پا پر جو چلے سیّد و سادات وہی

تم نے محمودؔ کے افکار سبھی سن بھی لیے

حیف صد حیف کہ جاری رہیں حرکات وہی

(م م محمود ؔ)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button