متفرق مضامین

مسئلہ ظل وبروز کی حقیقت (قسط4)

(رحمت اللہ بندیشہ۔ استاد جامعہ احمدیہ جرمنی)
https://youtu.be/cbBx0NupTws

(گذشتہ سے پیوستہ)(16) بخاری شریف میں حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :ما من مولود یولد اِلَّاوالشیطان یمسہ حین یولد، فیستھل صارخًا من مسّ الشیطان اِیَّاہ اِلَّامریم وَابْنَھَا(بخاری کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ آل عمران)یعنی جب بھی کوئی بچہ پیداہوتاہے تو شیطان اسے چھوتا ہے شیطان کے اس مس کی وجہ سے وہ چیخ مار کر روتا ہے سوائے مریم اور ابن مریم کے۔یہ حدیث بظاہر اگر دیکھا جائے تو قرآن مجید کی آیت إِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ:یعنی خدا کے بندوں پر شیطان کو غلبہ نہیں دیا جاتا(الحجر: 43) نیز اس مشہور حدیث کے بھی خلاف چلی جاتی ہے جس میں فرمایا کہ جب میاں بیوی ملتے ہیں اور وہ دعا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی اولاد کو مس شیطان سے پاک کر دیتا ہے۔علماء نے اس کا حل یہ بیان کیاہے کہ یہاں مریم اورابن مریم سے مراد ان کے مثیل و بروز ہیں۔ چنانچہ حضرت علامہ الزمخشري(المتوفى:538ھ)بیان کرتےہیں کہوكذالك كل من كان في صفتهما یعنی اس طرح اس سے مراد ہر وہ وجود ہو گا جو ان دونوں یعنی مریم اور ابن مریم کی صفات کا حامل ہو۔(تفسیر الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل: سورة آل عمران۔زیر الآيات 33تا 37)

(17)امت محمدیہﷺ کا فرعون ابوجہل ہے

’’وعن قتادة رضي اللّٰه عنه أن رسول اللّٰه ﷺ قال ’’إن لكل أمة فرعونًا وإن فرعون هذه الأمة أبو جهل،قتله اللّٰه شر قتله ‘‘(السيرة الحلبية۔باب غزوة بدر الكبرى۔جلد 2صفحہ 239۔ الناشر: دار الكتب العلمية ، بيروت)

حضرت قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ہر امت کا ایک فرعون ہوتا ہے اور اس امت کا فرعون ابوجہل ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بہت بری حالت میں قتل کرایا۔

(18)حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ صحابی رسول کریمﷺ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دربار خلافت میں بیٹھے ہوئے تھے، حضرت عمرؓ نے ان کا ان الفاظ میں تعارف کرایا ’’سیّدالمرسلین ابی بن کعب‘‘یعنی ابی بن کعب سیّدالمرسلین ہیں۔(الأدب المفرد للبخاری۔باب الخرق۔صفحہ 69)اب کیا حضرت عمرؓ اور دیگر اصحاب النبیﷺ کلمہ طیّبہ میں محمد رسول اللہﷺسے حضرت ابی بن کعب کے وجودکو مراد لیتے تھے؟کیونکہ حضرت عمر ؓخلیفہ راشد نے انہیں سیّد المرسلین کہہ کر ظلّی اور بروزی طور پر آنحضرت ﷺ قرار دیاہے۔

(19)اس میں آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوالدرداء کو زہد و قناعت میں عیسیٰ کا بروز و مثیل قرار دیا ہے۔سیرت ابن ہشام میں حضرت سلمان فارسی ؓ کا قبول اسلام کا واقعہ تفصیل سے درج ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ سرزمین شام میں ان کو ایک بزرگ ملا جس نےانہیں جزیرہ عرب میں آنحضرتﷺ کے ظہور کی خبر دی اور آپ یہ خبر سن کر مکہ کی طرف آگئے اور یہاں آباد ہوگئے۔ آنحضرت ﷺ نے یہ واقعہ سن کر فرمایا:لَئِنْ كُنْتَ صَدَّقْتَنِي يَا سَلْمَانُ،لَقَدْ لَقِيت عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ:اے سلمان اگر تم نے مجھ سے سچ کہا ہے تو تم نے عیسیٰ بن مریم سے ملاقات کی۔ (سیرت ابن ہشام جلد اول صفحہ320۔از محمد عبد المالک بن ہشام :مترجم مولوی قطب الدین احمد…. مطبوعہ جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن)

حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ نےاپنی کتاب منصب امامت میں یہ حدیث درج فرمائی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:من أحب ان یری عیسی ابن مریم فی زھدہ فلینظر ابا الدردآء یعنی جو شخص زہد و قناعت میں عیسیٰ ابن مریم کو دیکھنا چاہے تو وہ میرے صحابی ابو الدرداء کو دیکھ لے۔(شاہ اسماعیل شہید منصب امامت)

(20)آخری زمانہ کے مسلمان مثیل یہود و نصاریٰ

اسی طرح رسول کریم ﷺنے اپنے علوم مبارک میں ہم صفت لوگوں کے ظہور،ظل و بروز،افراد کے خروج اور مثیل وجودوں کے ظاہر ہونے کا بار بار ذکر فرمایا ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے اس امت محمدیہ میں بنی اسرائیل کے یہود و نصاریٰ کے بروزوں، ہم صفات، مثیل لوگوں کے ظہور کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:لَتَتْبَعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قبْلَكُمْ،شِبْرًاشِبْرًاوَذِرَاعًابِذِرَاعٍ،حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ قُلْنَا:يَا رَسُولَ اللّٰهِ،اليَهُودُ وَالنَّصَارَى؟ قَالَ: فَمَنْ(بخاری،كِتَابُ الِاعْتِصَامِ بِالكِتَابِ وَالسُّنَّةِ۔بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ۔حدیث نمبر 7320)

ترجمہ:اے مسلمانوں تم پہلی قوموں کے حالات کی پیروری کرو گے،جس طرح ایک بالشت دوسری بالشت کے مشابہ ہوتی ہے اور ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے مشابہ ہوتا ہے اس طرح تم پہلی قوموں کے نقش قدم پر چلو گے۔صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہﷺ کیا ہم یہود و نصاری کے نقش قدم پر چلیں گے،آپﷺ نے فرمایا اور کس کے؟اسی طرح حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ اسلام کے 73فرقے ہوجائیں گے اور ان میں سے صرف ایک فرقہ حق پر ہوگا۔ فرمایا باقی فی النار ہوںگے۔یعنی ان میں اسلام صرف نام کا باقی ہوگا اگرچہ وہ فرقے ملت اسلامیہ ہی کے ہونگے جیسا کہ فرمایا:وَإِنَّ بني إسرائيل تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً،وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَة (سنن الترمذي۔ أَبْوَابُ الْإِيمَانِ۔مَا جَاءَ فِي افْتِرَاقِ هَذِهِ الأُمَّةِ)

ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کے بہتر فرقے ہوگئے تھے اور میری امت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے۔ان تہتر میں سے سوائےایک فرقہ کے باقی سب فرقے آگ میں جائیں گے۔ اس حدیث میں آنحضرت ﷺنے واضح طور پر بنی اسرائیل یعنی یہود و نصاریٰ کے مثیلوں، بروزوں، ظلی وجودوں، ہم صفت لوگوں کے ظہور کی پیشگوئی فرمائی ہے۔

ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال صاحب متذکرہ بالا پیشگوئی کا ظہور بروزی طور پر کیسے قبول کرتے ہیں۔

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود

(کلیات اقبال۔ صفحہ231) (بانگ درا صفحہ215، زیر عنوان جواب شکوہ)

سلف وخلف علماء کے نزدیک ظل وبروز کی حقیقت

قرآن و حدیث میں انسانوں کےایک دوسرے کے مثیل ہونے یعنی ایک دوسرے جیسی صفات کے حامل ہونے کا عقیدہ آپ نے ملاحظہ فرمالیا۔اب دیکھیں کہ بزرگان دین اور اولیائے کرام بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں۔ان کی تحریرات میں صراحتاً یہ بات موجود ہے کہ اولیائےمقربین اور مجددین کرام آنحضرتﷺ کے مثیل ہوتے ہیں۔

امت کے افراد کی صورت میں آنحضرتﷺ کا ظہور

(۱)حضرت عارف محبوب سجانی سیّد عبدالکریم جیلانی رحمۃ اللہ علیہ :مولانا موصوف آٹھویں صدی ہجری کے معروف مشاہیر میں شمار کیے جاتے ہیں۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے ساتھ والدہ کی طرف سے نسبی تعلق کی وجہ سے الجیلی\ جیلانی کہلاتے تھے۔ طریقت میں سلسلۂ قادریہ سے منسلک تھے۔ اُن کی تصانیف میں سے بیس کے قریب معلوم و موجود ہیں جب کہ بیس کے قریب معدوم ہو چکی ہیں۔تصوف میں آپ کی معروف تالیف ’’الانسان الکامل‘‘ہے۔ انسان کامل کے مباحث عالم اسلام میں سب سے پہلے شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نے مرتب صورت میں پیش کیے اور ان کے بعد ہی انسان کامل کے مباحث نے اسلامی تصوف میں راہ پائی۔ ابن عربی کے شاگرد اور مریدو مفسر صدرالدین قونوی نے اپنی معروف تالیف’’مفتاح الغیب‘‘میں انسان کامل کے موضوع پر ایک الگ فصل کے تحت سیر حاصل بحث کی ہے۔(اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ دانش گاہ پنجاب، لاہور، جلد12 صفحہ943،1393ھ،1973ء)

آپ اپنی کتاب ’’انسان کامل ‘‘میں آنحضرتﷺ کا مختلف صورتوں میں ظہور کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’اور اس امر کا بھید یہ ہے کہ آنحضرتﷺ ہر صورت میں متصور ہو سکتے ہیں۔پس ادیب جب اُس کو اُس صورت محمدیہ میں دیکھے کہ جس پر وہ اپنی زندگی میں تھا تو اس کا وہی نام رکھے گا اور جب اس کو کسی اَور صورت میں دیکھے اور یہ جان لے کہ وہ محمدﷺ ہیں تو اس کا نام وہی رکھے گا جو اس صورت کا نام ہے پھر یہ نام حقیقت محمدیہ کے واسطے ہوگا۔دیکھو رسول اللہﷺ جب شبلی رضی اللہ عنہ کی صورت میں ظاہر ہوئے تو شبلی نے اپنے شاگرد سے کہا کہ میں شہادت دیتا ہوں اس بات کی میں اللہ کا رسول ہوں اور شاگرد بھی صاحب کشف تھا۔پس اس نے ان کو پہچان لیا اور کہا کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ تُو بے شک اللہ کا رسول ہے اور یہ امر غیر معروف ہے۔اور ایسا ہے جیسے کوئی شخص خواب میں دیکھے کہ فلاں شخص فلاں شخص کی صورت ہے اور کشف کا ادنیٰ مرتبہ یہ ہے کہ بیداری میں بھی وہی ہو جو خواب ہوتا ہے۔اور خواب اور کشف میں یہ فرق ہے کہ وہ صورت جس میں محمدﷺخواب میں دکھائی دیتے ہیں اس صورت کا نام بیداری میں حقیقت محمدیہ پر واقع نہیں ہوسکتا کیونکہ عالم مثال میں تعبیر واقع ہوتی ہے۔پس حقیقت محمدیہ سے اس صورت کی حقیقت کی طرف بیداری میں تعبیر ہوسکتی ہے برخلاف کشف کے کہ جب تجھ کو حقیقت محمدیہؐ کا کشف ہوجائے اور یہ بات معلوم ہو جائے کہ وہ کسی آدمی کی صورت میں متجلی ہے تب تجھ کو اس صورت کا نام حقیقت محمدیہؐ پر واقع کرنا لازم ہے اور تجھ کو یہ بھی واجب ہے کہ اس صورت والے کا ایسا ادب کرے جیسے کہ محمدﷺ کا ادب چاہیے کیونکہ تجھ کو کشف نے یہ بات عطا کی کہ اس صورت میں محمدﷺ متصور ہیں پھر اس امر کے ظہور کے بعد اب تیرے واسطے یہ جائز نہیں ہے کہ تو اس کے ساتھ ایسا معاملہ کرے جیسا کہ پہلے کرتا تھا۔اب شاید تجھ کو میرے اس قول سے مذہب تناسخ کا وہم گذرے حاشاء اللہ وحاشا رسول اللہﷺ۔میری مراد ہرگز اس سے یہ نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کو ہر صورت میں متصور ہونے کی قوت ہے۔یہاں تک کہ وہ اس صورت میں تجلی کرتی ہیں او ر آپ کی عادت ہمیشہ سے یہ جاری ہے کہ ان میں سے کسی اکمل کی صورت میں متصور ہوتے ہیں تاکہ ان کی شان بلند ہو جائے اور ان کی خواہش قائم ہوجائے پس وہ لوگ ظاہر میں آنحضرتﷺ کے خلفاء ہیں اور باطن میں آپ ان کی حقیقت ہیں۔‘‘(الانسان الکامل مصنفہ سیّد عبدالکریم بن ابراہیم جیلانی۔ ترجمہ مولوی ظہیر احمد السہوانی،حصہ دوم،باب 60،صفحہ104،مطبوعہ فیض بخش سٹیم پریس فیروز پور شہر 1908ء)

اس عبارت میں واضح طور پر لکھا ہے کہ آنحضرتﷺ کی حقیقت کے حوالے سے جب انکشاف ہوجائے کہ وہ فلاں شخص کی صورت ظاہر ہوئی ہے تو اس شخص کا اسی طرح ادب کرنا چاہیےجس طرح رسول کریمﷺ کا کیا جاتا ہے۔ غیر احمدی علماء کو ان بزرگان کی عبارات میں تو کوئی قابل اعتراض چیز نظر نہیں آتی۔’’الانسان الکامل‘‘کے اس حوالے میں شبلی رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے مرید کو اپنے نام کا کلمہ پڑھنے کا کہا۔’’اَلَا تَرَاہُ ﷺ لَمَّا ظَہَرَ فِیْ صُوْرَۃِ الشِّبْلِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ قَالَ الشِّبْلِیُّ لِتَلْمِیْذِہٖ اشْہَدْ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَکَانَ التَّلْمِیْذُ صَاحِبَ کَشْفٍ فَعَرَفَہٗ فَقَالَ اَشْہَدُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ‘‘یعنی کیا تم نے اس پر غور نہیں کیا کہ جب آنحضرتﷺنے شبلی ؒکی صورت میں ظہورفرمایا تو آپ نے ایک شاگرد سے جوصاحب کشف تھافرمایاگواہی دو کہ میں(شبلی)اللہ کا رسول ہوں۔سو اس نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناًتو اللہ کا رسول ہے۔ (الانسان الکامل جلد نمبر2باب60صفحہ 103.اردو مولوی محمد ظہیر صاحب ظہیری السہوانی مطبوعہ فیض بخش سٹیم پریس فیروزپور شہر1908ء)نیز لکھا ہے کہ’’ایک مرتبہ کوئی شخص شیخ شبلی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں بیعت کی نیت سے آیا ہوں اگر آپ قبول فرمائیں۔فرمایا :مجھے منظور ہے۔لیکن جو کچھ میں کہوں گا۔اس پر عمل کرنا ہوگا۔عرض کی بسروچشم۔پوچھا :کلمہ کس طرح پڑھتے ہو؟عرض کی :لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہ۔خواجہ شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا :نہیں۔اس طرح کہو:لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ شِبلی رَسُولُ اللّٰہِ۔مرید درست اعتقاد تھا اس نے فوراً اسی طرح کہہ دیا۔‘‘(مفتاح العاشقین صفحہ نمبر 6ملفوظات حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلوی، ہشت بہشت صفحہ 636شبیر برادرز اردو بازار لاہور )

اسی طرح تذکرہ غوثیہ میں لکھا ہے کہ ’’حضرت ابوبکر شبلیؒ نے ایک مرید سے کہا تھا کہ لاالہ اللّٰہ شبلی رسول اللّٰہ کہو،اس نے انکار کردیا۔ آپ نے اس کی محبت توڑ ڈالی‘‘۔

(تذکرہ غوثیہ صفحہ 320۔ملفوظات وحالات سیّد غوث علی شاہ قلندر پانی پتیؒ۔مؤلفہ مولانا شاہ گل حسن صاحب (خلیفہ خاص)ناشر دارالاشاعت بالمقابل مولوی مسافر خانہ کراچی)

اسی طرح سید عبد الکریم جیلانی رحمۃ اللہ علیہ مزید بیان کرتے ہیں:’’اس( یعنی امام مہدی)سے مراد وہ شخص ہے جو صاحب مقام محمدی ہے‘‘۔ (انفاس کامل اردو۔ باب نمبر1، نمبر61علامات قیامت کے بیان میں، صفحہ270،مطبوعہ اسلامیہ سٹیم پریس لاہور باراول)

(۲)حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ (پیدائش 1703ء انتقال 1762ء) مسلمانان ہند و پاک کے دورِ زوال کی اہم ترین شخصیت ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں جب مسلمانوں کا زوال شروع ہوا تو بہت سے لوگوں نے سنجیدگی کے ساتھ زوال کے اسباب پر غور کرنا شروع کیا۔ ان لوگوں میں عہد مغلیہ کے مشہور عالم اور مصنف کے طور پر آپ کا نام نمایاں ہے۔آپ کو بارھویں صدی ہجری کا مجدد قرار دیا جاتا ہے آپ بروز حقیقی کی اقسام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’اَمَّا الْحَقِیْقِیُّ فَعَلٰی ضُرُوْبٍ…وَتَارَۃً اُخْرٰی بِاَنْ تَشْتَبِکَ بِحَقِیْقَۃِ رَجُلٍ مِنْ اٰلِہِ اَوِالْمُتَوَسِّلِیْنَ اِلَیْہِ کَمَا وَقَعَ لِنَبِیِّنَا بِالنِسْبَۃِ اِلٰی ظُہُوْرِ الْمَہْدِیِّ‘‘ (تفہیمات الٰہیہ جزو ثانی تفہیم نمبر ۲۲۸ صفحہ ۱۹۸، مطبوعہ مدینہ برقی پریس۔بجنور ۱۹۳۶ء)یعنی حقیقی بروز کی کئی اقسام ہیں…کبھی یوں ہوتا ہے کہ ایک شخص کی حقیقت میں اس کی آل یا اس کے متوسلین داخل ہوجاتے ہیں جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ کی مہدی سے تعلق میں اس طرح کی بروزی حقیقت وقوع پذیر ہوگی۔یعنی مہدی آنحضرت ﷺ کا حقیقی بروز ہے۔

نیز حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں: ’’کاتب الحروف نے حضرت والد ماجد کی روح کو آنحضرت ﷺ کی روح مبارک کے سائے (ضمن) میں لینے کی کیفیت کے بارے میں دریافت کیا تو فرمانے لگے یوں محسوس ہوتا تھا گویا میرا وجود آنحضرت ﷺ کے وجود سے مل کر ایک ہوگیا ہے خارج میں میرے وجود کی کوئی الگ حیثیت نہ تھی۔‘‘( انفاس العارفین، اردو صفحہ103۔ حضرت شاہ ولی اللہ ترجمہ سید محمد فاروق القادری ایم اے۔مطبوعہ مکتبہ جدید پریس لاہور 1394ھ۔ ناشر المعارف گنج بخش روڈ لاہور) ضمناً بتاتا چلوں کہ سائے کوہی عربی زبان میں ظلّ کہتے ہیں۔

پھر فرماتے ہیں کہ میرے چچا حضرت شیخ ابو الرضا محمد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ’’حضرت پیغمبر ﷺ کو میں نے خواب میں دیکھا جیسے مجھے اپنی ذات مبارک کے ساتھ اس انداز سے قرب و اتصال بخشا کہ جیسے ہم متحد الوجود ہوگئے ہیں اور اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کا عین پایا۔‘‘( انفاس العارفین صفحہ196حصہ دوم در حالات شیخ ابو الرضا محمد )حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے کئی کتب تصنیف فرمائیں۔ ایک مشہور کتاب ’’فیوض الحرمین ‘‘ہے۔ اس کا اردو ترجمہ پروفیسر محمد سرور نے کیا ہے۔ اس کے پیش لفظ میں جمیل نقوی حنفی لکھتے ہیں کہ’’شاہ صاحب نے حجاز کا سفرفر مایا دو سال کے قریب آپ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں قیام پذیر رہے۔ ’’فیوض الحرمین ‘‘اسی سفر کی یادگار ہے۔ اس میں شاہ صاحب کے روحانی مکاشفات ہیں۔ تصوف وسلوک کے اسرار ہیں۔ وحدت الوجود اور تخلیق کائنات کے مباحث ہیں۔ حکمت و فلسفہ کے رموز نکات ہیں اور ساتھ ہی اس وقت کے رائج دینی مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ حنفی فقہ کی چند نادر خصوصیات کا ذکر ہے۔ ‘‘

حضرت شاہ صاحبؒ ’’فیوض الحرمین ‘‘میں لکھتے ہیں کہ ’’یہی وہ تدلّی ہے جسے صوفیاء نے ’’حقیقتِ محمدیہ ‘‘کا نام دیا ہے اور اس کو وہ’’قطب الاقطاب ‘‘اور ’’نبی الانبیاء‘‘کا بھی نام دیتے ہیں۔ غرضیکہ یہ ’’حقیقت محمدیہ ‘‘عبارت ہے اللہ تعالیٰ کی اس تدلّی کے مظہر بشری میں ظہور سے۔ چنانچہ جب کبھی عالم مثال میں اس تدلّی کی حقیقت متمثل ہوتی ہے تا کہ وہ عالم مثال سے بنی نوع انسان کے لئے عالم اجسام میں ظاہر ہو تو ’’حقیقت محمدیہ ‘‘ سے اس بروز کو قطب یا نبی کا نام دیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں ہوتا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب کوئی شخص لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوتا ہے تو ’’حقیقت محمدیہ ‘‘ کا اس شخص کی ذات کے ساتھ اتصال ہوجاتا ہے اور جب وہ اس زندگی میں اپنا فرض پورا کر لیتا ہے اور لوگوں سے منہ موڑ کر اس دنیا سے اپنے رب کی رحمت کی طرف لوٹتا ہے تو یہ ’’حقیقت محمدیہ ‘‘اس کی ذات سے الگ ہوجاتی ہے‘‘۔(فیوض الحرمین (اردو )از شاہ ولی اللہ ترجمہ محمد سرور صفحہ 120تا121)

’’اور جو بھی قطب، محدث یا نبی ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے کلام کرتا ہے تو اس کو اسی ’’حقیقت محمدیہ‘‘سے حصہ ملتا ہے۔‘‘(فیوض الحرمین (اردو )از شاہ ولی اللہ ترجمہ محمد سرور صفحہ 162)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button