اداریہ

دورۂ امریکہ کے دوران الٰہی افضال کا مختصر تذکرہ

امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دورۂ امریکہ 2022ء کے بعد اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 21؍ اکتوبر 22ء میں اس دورے کے دوران نازل ہونے والے الٰہی افضال و برکات کا مختصر تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’گذشتہ دنوں جیساکہ آپ جانتے ہیں مَیں امریکہ کی بعض جماعتوں کے دورہ پر تھا۔ ایم ٹی اے کے ذریعہ سے بھی اور جماعتی الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ سے بھی خبریں پہنچتی رہی ہیں۔ یہ دورہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے خیر و خوبی سے ہوا۔ بہرحال اس کے علاوہ دوسرے دنیاوی چینل بھی اس کی کافی کوریج دیتے رہے ہیں۔
ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نظارے دیکھنے میںآئے ہیں۔ اپنوں پر بھی اس دورے کا نیک اثر قائم ہوا اور غیروں پر بھی۔ ایک خادم نے اپنے ایک دوست کو کہا کہ میرے ذہن میں جماعت اور خلافت کے متعلق کچھ باتیں پیدا ہو رہی تھیں، کچھ تحفظات تھے جو اب اس دورہ کی وجہ سے بالکل ختم ہو گئے ہیں۔ اس طرح کے بہت سے مثبت تاثرات ہیں۔ پھر لوگوں کے، بچوں ، عورتوں، مردوں کے ملاقات کے بعد جو جذباتی تاثرات ہوتے تھے ان کی اپنی ایک لمبی فہرست ہے۔ وہ رپورٹوں میں آپ پڑھتے رہے ہوں گے۔ پھر زائن میں بھی، ڈیلس میں بھی اور بیت الرحمٰن میری لینڈ میں بھی نمازوں پر عورتوں، بچوں اور مردوں کی جو حاضری ہوتی تھی وہ کافی تعداد میں ہوتی تھی اور جس طرح وہ میرے آتے جاتے وقت اپنے جذبات کا اظہار کرتے تھے اس سے صاف نظر آ رہا ہوتا تھا کہ ان کے دلوں میں خلافت سے محبت کا تعلق ہے اور اخلاص و وفا ہے۔ پڑھے لکھے لوگ بھی، امیر لوگ بھی، دنیاوی لحاظ سے مصروف لوگ بھی نماز کے لیے کئی کئی گھنٹے لائن میں آ کر لگ جاتے تھے تاکہ مسجد میں جگہ مل جائے۔ یہ نہیں کہ فارغ لوگ ہیں جو آ گئے۔ ان میں بھی یہ تبدیلی اس بات کا اظہار ہے یا یہ رویہ، یہ اظہار اس بات کا اظہار ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دین اور جماعت کی محبت ان کے دلوں میں ہے۔ خلافت سے تعلق ان کے دلوں میں ہے۔ گیارہ بارہ سال کی عمر کے بچے پانچ چھ گھنٹے لائن میں لگ جاتے تھے کیونکہ چیکنگ اور کووڈ ٹیسٹ کی وجہ سے دیر لگ جاتی تھی لیکن کبھی کسی نے بھی ، نہ مہمانوں نے ، نہ اپنوں نے ،کوئی اعتراض نہیں کیا۔ بلکہ اپنوں نے بھی نظام کی مکمل اطاعت اور اخلاص و وفا کے نمونے دکھائے۔ اور زائن میں بلکہ ایک مہمان نے بھی اس بات کو دیکھا اور کہا کہ مَیں نے دیکھا کہ کتنا smooth نظام چل رہا تھا کہ باقاعدہ چیکنگ ہو رہی تھی، دیر لگ رہی تھی لیکن اس کے باوجود کوئی اعتراض نہیں تھا ۔ ایک گیارہ بارہ سال کے لڑکے کے ماں باپ مجھے کہنے لگے کہ ہمارا بیٹا جب سے آپ آئے ہیں مسجد میں آنے کے لیے پانچ چھ گھنٹے پہلے آ کر لائن میں لگ جاتا ہے اور کسی چیز کی پروا نہیں ہے حالانکہ پہلے یہ اس فکر سے نمازوں میں کبھی نہیں آیا۔ بہرحال بچوں میں، لڑکوں میں، لڑکیوںمیں، سب میں مَیں نے خوشی اور اظہار کا تعلق دیکھا۔ یہ جماعت پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ حاضری جو ہر جگہ نمازوں پر ہوتی تھی وہ انتظامیہ کی توقعات سے بہت بڑھ کر ہوتی تھی۔
اللہ تعالیٰ کرے کہ مسجدوں سے یہ تعلق اور عبادتوں کی فکر ان میں دائمی ہو جائے اور ہمیشہ رہنے والی ہو اور مسجدیں ہمیشہ آباد رہیں۔ جس طرح اخلاص و وفا کے نظارے افراد جماعت نے دکھائے ہیں وہ ہمیشہ ان میں قائم رہیں۔
امریکہ جیسے ملک میں لوگوں کا خیال ہے کہ لوگ دین کو بھول جاتے ہیں لیکن مجھے تو اکثریت میں اس طرف توجہ اور فکر نظر آئی ۔ جو مالی قربانیوں میں کمزور ہیں وہ بھی اپنے لیے اور اپنے بچوں ،نسلوں کے لیے دین سے اور خلافت سے جڑے رہنے کے لیے خاص طور پر دعا کی درخواست کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ افرادِ جماعت اور امریکہ کے اخلاص و وفا کو ہمیشہ بڑھاتا رہے۔
اسی طرح لجنہ، خدام، انصار بلکہ بچوں نے بھی اس عرصہ میں بہت محنت سے اپنی ڈیوٹیاں دی ہیں۔ عورتوں، مردوں نے کئی کئی دن جاگ کر تیاریاں کی ہیں۔ حاضری بھی ہر جگہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جیسے مَیں نے کہا کافی زیادہ تھی، ہزاروں میں ہوتی تھی اور ان کی حاضری بیت الرحمٰن میں تو جلسہ کی حاضری سے بڑھ کر تھی لیکن بڑے منظّم طریقے سے انہوں نے اپنے کام کو سنبھالا ہے۔ اللہ کرے کہ افراد جماعت امریکہ کے اخلاص و وفا کا یہ معیار ہمیشہ بڑھتا رہے اور اللہ تعالیٰ کرے کہ یہ تبدیلی عارضی نہ ہو بلکہ ہمیشہ کے لیے ہو۔
…اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجموعی لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے اس دورے کو ہر لحاظ سے اپنے فضلوں سے نوازا ہے۔ اللہ تعالیٰ آئندہ بھی ہمیشہ نوازتا رہے۔‘‘ آمین
(الفضل انٹرنیشنل 11؍نومبر2022ءصفحہ5تا10)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button