الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

محترم چودھری شبیر احمد صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ربوہ 15؍جولائی 2015ء میں مکرم محمد یٰسین خان صاحب کے قلم سے محترم چودھری شبیر احمد صاحب کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔

مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ خاکسار نے 1987ء میں احمدیت قبول کی تھی۔ ایک سال بعد محترم چودھری شبیر احمد صاحب سے تعارف ہوا جب آپ ہمارے محلّے میں چندہ تحریک جدید کے سلسلے میں پروگرام میں تشریف لائے۔ جب آپ کو میرے نومبائع ہونے کا علم ہوا تو آپ نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور معانقہ کیا۔ حسن اتفاق تھا کہ 1998ء میں خاکسار کا تقرّر محترم چودھری صاحب کے دفتر میں ہوا تو آپ نے میرے سپرد دفتر اوّل کے کھاتے کا کام کیا۔ بعدازاں دفتر انچارج اور پھر انسپکٹر کے طور پر خدمت کی توفیق ملی۔

محترم چودھری صاحب مفوّضہ کام کو بہتر سے بہتر انداز میں کرنا سکھایا کرتے تھے۔ اپنی ہدایات کی تعمیل کا جائزہ بھی لیتے اور اچھا کام کرنے پر حوصلہ افزائی کرتے۔ تحریک جدید کے شاملین کی تعداد بڑھانے پر بہت زور دیتے۔ محنت کرنے، دعا کے لیے خلیفہ وقت کو لکھنے اور صدقہ دے کر کام شروع کرنے کی نصیحت کیا کرتے تھے۔ سندھ میں ایک دورے کے دوران مجھے حادثہ پیش آگیا اور بائیں ٹانگ میں فریکچر ہوگیا۔ جب خاکسار فضل عمر ہسپتال ربوہ پہنچا تو محترم چودھری صاحب ہمارے دفتر کے پہلے فرد تھے جو عیادت کے لیے تشریف لائے اور آکر مجھے گلے لگایا۔ میری آنکھوں میں آنسو آگئے تو آپ کی آواز بھی بھرا گئی۔ بہت حوصلہ دیا اور ہر دوسرے تیسرے دن پہلے ہسپتال اور پھر گھر آکر تسلّی دیتے رہے۔ جب خود نہ آسکتے تو اُس دن کسی کارکن کو بھیجتے۔ کبھی پھل اور کبھی جوس بھجواتے اور بار بار پوچھتے کہ جس چیز کی ضرورت ہو تو بِلا جھجک بتاؤں۔ میرا احساس تھا کہ اگر میرے والد صاحب زندہ ہوتے تو شاید وہ بھی مجھ سے اور میرے بچوں سے اتنا پیار نہ کرپاتے۔

ایک نئے علاقے میں مجھے بھجواتے ہوئے فرمایا کہ آپ لوگ مرکز کی آنکھ ہوتے ہیں۔ ہر احمدی گھرانے تک پہنچیں اور اُن کے ساتھ پیار کا تعلق پیدا کریں۔آپ کا نیک نمونہ اُن کی تربیت پر اثرانداز ہوگا۔ نئے شاملین تلاش کرنے ہیں۔

آپ اکثر مجھ سے میرے بچوں کی تعلیم اور دیگر معاملات کے بارے میں پوچھتے رہتے، کبھی بیٹے کو بلاکر پیار دیتے اور بہت دعائیں دیتے۔ مَیں نے اپنی بیٹی کی شادی پر دعوت دی تو فرمایا کہ دعا کریں میری صحت ٹھیک رہے تو ضرور شامل ہوں گا۔ اُن دنوں آپ بیمار تھے۔ اس کے باوجود اپنے بیٹے کے ساتھ موٹرسائیکل پر بیٹھ کر آئے اور دعاؤں کے ساتھ میری بیٹی کو رخصت کیا۔ یہ آپ کا ناقابل فراموش احسان ہے۔

==================

روزنامہ ’’الفضل‘‘ربوہ 5؍دسمبر2013ء میں مکرم مظفر احمد درّانی صاحب نے محترم چودھری شبیر احمد صاحب کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ جب بھی محترم چودھری صاحب سے ملاقات ہوتی تو آپ اکثر فرمایا کرتے کہ مجھے واقفین زندگی سے بہت محبت ہے کیونکہ مَیں خود ایک واقف زندگی ہوں۔ آپ بہت محبت شفقت اور ہمدردی کرنے والے بزرگ تھے۔ ایک دوست نے مجھے بتایا کہ محترم چودھری صاحب ایک دورے پر تشریف لے گئے تو ایک دوست نے آپ کے انکار کے باوجود ایک بڑی رقم بطور تحفہ آپ کو تھمادی۔ مرکز واپس پہنچنے پر آپ نے وہ ساری رقم چندہ تحریک جدید میں جمع کروادی۔ خاکسار تقویٰ سے متعلق ایک مضمون کی تیاری کے سلسلے میں مذکورہ واقعے کی تصدیق اور اس رقم کی تعیین کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ایسا تو کئی مواقع پر ہوچکا ہے اور ہر دفعہ میرا یہی طرزعمل رہا ہے کہ مَیں تحفے کی رقم چندہ تحریک جدید میں جمع کرادیتا ہوں۔ نیز فرمایا کہ رقم کی تعیین نہ کریں کیونکہ مختلف واقعات میں رقم مختلف ہوتی تھی۔

………٭………٭………٭………

ایک شہید کی بیوہ کی قربانیاں

روزنامہ ’’الفضل‘‘ربوہ 14؍دسمبر 2013ء میں مکرمہ الف۔رفیع صاحبہ کے قلم سے محترمہ مریم سلطانہ صاحبہ کی عزم و ہمّت کی غیرمعمولی داستان پیش کی گئی ہے۔

محترمہ مریم سلطانہ صاحبہ بنت محترم عنایت اللہ افغان صاحب کی شادی محترم ڈاکٹر محمد احمد صاحب ابن محترم خان میرخان صاحب (عملہ حفاظتِ خاص حضرت مصلح موعودؓ) کے ساتھ جنوری 1949ء میں لاہور میں ہوئی۔ محترم ڈاکٹر صاحب ضلع کوہاٹ کے قصبے ٹل میں چند سال سے پریکٹس کررہے تھے۔ آپ کے مریض جسمانی طور پر بھی صحت یاب ہوتے اور آپ اُن کو دعوت الی اللہ بھی کرتے۔ مالی آسودگی اور عزت خداتعالیٰ نے عطا کی ہوئی تھی کہ اچانک قریبی گاؤں المارہ میں مخالفت شروع ہوگئی۔ ایک روز ایک بدبخت تانگے پر آیا اور مریض دکھانے کے بہانے ڈاکٹر صاحب کو ہمراہ لے گیا۔ سہ پہر تک یہ خبر گاؤں میں ڈھنڈورچی نے دینی شروع کردی کہ ڈاکٹر صاحب کو المارہ گاؤں کے علاقے وزیری میں سڑک سے اتار کر گولی ماردی گئی ہے۔ پھر ظلم یہ کیا گیا کہ تین چار لوگوں کا پہرہ لگادیا گیا کہ کوئی اُن کی مدد کو نہ پہنچے۔ بعد میں لاش بھی دینے کا اُن کا ارادہ نہیں تھا لیکن شہر کے سرکردہ لوگوں نے تعاون کیا اور میت گھر میں پہنچادی۔ چار معصوم بچے بلک رہے تھے اور خاوند کی لاش خون میں لت پت رکھی تھی۔ کوئی غمگسار، مشورہ دینے والا نہیں تھا۔

محترمہ مریم سلطانہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ آخر کو مَیں نے فیصلہ کرلیا کہ چاہے جان چلی جائے مگر مَیں جان قربان کرنے والے موصی کو اس گندی زمین پر دفن نہیں کروں گی اور اُس کے مقام تک پہنچاؤں گی۔ گاؤں والوں نے جرأت کا یہ بےباک مظاہرہ دیکھا تو لاش لے جانے کی نہ صرف اجازت دے دی بلکہ انتظامات میں مدد بھی کی۔ غم کی ماری ہوئی خوفزدہ عورت اور چار ڈرے سہمے بچے اور سارا علاقہ غیروں کا، خدا کا فضل اور دعائیں مانگتے ہوئے وہاں سے بذریعہ ٹرک روانہ ہوئے۔ علاقہ غیر میں یہی خوف رہا کہ اب گولی آئی کہ اب گولی آئی۔ جب کوہاٹ پہنچے تو کچھ تسلّی ہوئی۔ پھر وہاں سے نخلہ (جابہ) پہنچے جہاں اُن دنوں حضرت مصلح موعودؓ مقیم تھے۔ حضورؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور مرحوم کو خراج تحسین پیش کیا۔ پھر جنازہ ربوہ لائے اور بہشتی مقبرہ میں سپرد خاک کیا گیا۔

پھر مَیں اپنے خسر کے ساتھ ٹل میں قاتل کا کھوج لگانے گئی تو وہاں ہر چیز لُوٹ لی گئی تھی۔ قاتل کی تلاش میں کسی نے مدد نہ کی۔ علاقہ غیر تھا اس لیے حکومت بھی کچھ نہ کرسکی۔ معاملہ جرگے میں پیش کیا تو اُن کا فیصلہ آیا کہ وہ ایک کافر اور قادیانی تھا اس لیے واجب القتل تھا۔ اگرچہ جرگے نے قاتل چھوڑ دیے لیکن خداتعالیٰ کی گرفت سے وہ نہ بچ سکے۔ قاتل اور اس کا ایک ساتھی پاگل ہوگئے اور نیم برہنہ حالت میں گلیوں میں گھوما کرتے۔ اُن کے تیسرے ساتھی پر اپنی بیوی اور بھتیجے کے قتل کا مقدمہ ہوا۔ اور وہ شخص جو ڈاکٹر صاحب کو دھوکے سے بلاکر لے گیا تھا، وہ اپنے بھائی کے ہاتھوں بیوی بچوں سمیت قتل ہوگیا۔ ساری بستی میں سرسامی بخار کی وبا پھیل گئی اور اس طرح مجرم کیفرکردار کو پہنچے۔

آپ بیان کرتی ہیں کہ بیوہ ہوجانے اور سامان لُوٹ لیے جانے کے بعد باری باری تین جوان بھائیوں کی موت کا صدمہ بھی میرے مقدّر میں تھا۔ کوئی وسیلہ نہ رہا، رشتہ داروں کی مالی حالت ایسی نہ تھی کہ وہ میری مدد کرسکتے۔ تب مَیں نے چھوٹی آپا کے ذریعے فضل عمر سکول میں ملازمت حاصل کرلی۔ لیکن تین سال وہاں کام کیا تو بیماری کی وجہ سے کام چھوڑنا پڑا۔ پھر گھر میں منیاری کا سامان اور کپڑے فروخت کرنے کے لیے رکھے، سلائی کا کام شروع کیا۔ اس طرح بچوں کی روزی کا سامان کرتی رہی۔ ماں باپ کی بھیگی ہوئی آنکھوں میں التجائیں دیکھیں تو مَیں نے دوسری شادی کے لیے حامی بھرلی۔ بیوگی کے چار سال بعد شادی ہوئی۔ کچھ عرصے بعد شوہر کی ملازمت ختم ہوگئی۔ پھر مَیں نے چنیوٹ سے مڈوائف کاکورس کیا اور رزق حلال کماکر اپنے بچوں کو پالنے لگی۔ خدا کا فضل اتنا ہوا کہ کبھی مجھے یہ احساس نہ ہوا کہ یہ بچے یتیم ہیں۔ الحمدللہ کہ دینی اور دنیاوی لحاظ سے خوش و خرم ہیں۔

………٭………٭………٭………

مغل بادشاہ شاہجہان (شہزادہ خرّم)

عظیم الشان عمارتیں تعمیر کرنے پر شہرت پانے والے مغل بادشاہ شاہجہان کا تذکرہ روزنامہ ’’الفضل‘‘ربوہ 5؍دسمبر 2013ء میں کتاب ’’سو بڑے لوگ‘‘ سے منقول ہے جسے مکرم ندیم احمد فرخ صاحب نے برائے اشاعت ارسال کیا ہے۔

شہنشاہ جہانگیر کا تیسرا اور راجپوت رانی جگت گوسائیں کا بیٹا شاہجہان اپنے تدبّر اور اسلام کی محبت کے علاوہ عالی شان عمارتیں بنانے کے لیے مشہور ہے۔ شہزادگی کے زمانے میں اس کا نام شہاب الدین محمد خرّم تھا۔5؍جنوری 1592ء کو پیدا ہوا۔ شہنشاہ جلال الدین اکبرؔ اپنے پوتے خرّم کو دوسرے شہزادوں سے زیادہ پسند کرتا تھا۔

شاہجہان نے مغل شہزادوں کی طرح معروف علوم اور فنون سپہ گری کی تعلیم پائی۔ اپنے باپ جہانگیر کی زندگی میں خدمت اور صلاحیت کی بنیاد پر بڑے مناصب پر فائز رہا۔ اپریل 1612ء میں امیرالامراء آصف خان کی بیٹی ارجمند بانو بیگم (ممتازمحل)سے شادی ہوئی۔

تخت نشین ہوتے ہی شاہجہان نے بہت سی بدعات کا سدّباب کیا۔ نظم و نسق کی طرف دن رات متوجہ رہتا اور بہت کم آرام کرتا۔ بندھیلوں کی سرکشی اور خان جہاں لودھی کی بغاوت کو فرو کیا۔ دکن اور گجرات میں قحط پڑا تو لاکھوں روپے لوگوں کی امداد پر صرف کردیے۔ دکن اور قندھار کو فتح کیا۔

شاہجہان حسن کا دلدادہ تھا۔ ایک کروڑ روپے کی لاگت سے تخت طاؤس بنوایا جس میں گرانقدر لعل و جواہر اور بےاندازہ سونا استعمال کیا۔ قلعہ آگرہ میں مثمن بُرج اور موتی مسجد تعمیر کرائی۔ دہلی کا لال قلعہ، نئی شہر پناہ اور جامع مسجد تعمیر کروائی۔ حضرت نظام الدین اولیاءؒ اور حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے مزاروں پر شاندار گنبد بنوائے۔ ممتاز محل کا مقبرہ ’تاج محل‘ آگرہ میں تعمیر کروایا جو تین کروڑ روپے کی لاگت سے بائیس سال میں مکمل ہوا۔ اپنے باپ دادا کی علم دوستی کی روایات کو زندہ رکھا اور عالموں، شاعروں اور مصوّروں کی خوب سرپرستی کی۔ آخری عمر میں بیمار رہا اور 22؍جنوری 1666ء کو 74سال کی عمر میں وفات پائی ۔ اس کا جانشین اس کا قابل ترین لڑکا اورنگ زیب عالمگیر تھا۔

………٭………٭………٭………

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button