بنیادی مسائل کے جوابات

بنیادی مسائل کے جوابات (قسط44)

(ظہیر احمد خان۔ مربی سلسلہ، انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

(امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے پوچھےجانے والے بنیادی مسائل پر مبنی سوالات کے بصیرت افروز جوابات)

٭…کیا بیٹا اپنی والدہ کی میّت کو غسل دے سکتا ہے؟

٭…قرض کے لین دین میں عورت کی گواہی کے متعلق راہنمائی

٭… شیئرز اور سٹاک مارکیٹ وغیرہ کے کاروبار میں سودی عناصر کے پائے جانے کے متعلق راہنمائی

سوال:قادیان سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ میری والدہ نے وفات سے قبل مجھے کہا تھا کہ ان کی وفات کے بعد میں انہیں غسل دوں۔ لیکن میری والدہ کی وفات کورونا سے ہوئی اس لیے انہیں غسل نہیں دیا جا سکا۔ جس کی وجہ سےمجھے بہت تکلیف ہے۔ اس بارے میں راہنمائی فرمائیں کہ کیا میں نے درست کیا ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مورخہ 19؍ستمبر 2021ء میں اس سوال کے بارے میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: اصل بات یہ ہے کہ عام حالات میں عورت کی میت کو عورتیں اور مرد کی میت کو مرد ہی غسل دیتے ہیں۔ سوائے میاں بیوی کے کہ وہ ایک دوسرے کی میت کو غسل دے سکتے ہیں۔

اس لیے آپ نے بہت اچھا کیا کہ اپنی والدہ کی میت کو غسل نہیں دیا۔ اور ویسے بھی جیسا کہ آپ نے لکھا ہے کہ ان کی وفات کورونا وائرس کی وجہ سے ہوئی تھی اس لیے طبی طور پر بھی آپ کو انہیں غسل دینے کی اجازت نہیں ملنی تھی۔اس لیے آپ کو اس وجہ سے کسی قسم کی پریشانی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی والدہ کے ساتھ رحم اور مغفرت کا سلوک فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، آپ سب لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی نیکیوں اور دعاؤں کا وارث بنائے۔ آمین

سوال: جرمنی سے ایک دوست نے، قرض کا لین دین کرتے وقت گواہ ٹھہرانےکے بارہ میں سورۃ البقرہ کی آیت کی روشنی میں عورت کی گواہی کے متعلق حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے راہنمائی چاہی؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مورخہ 21؍ستمبر 2021ء میں اس سوال کے بارے میں درج ذیل ہدایات فرمائیں۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: مخالفین اسلام کی طرف سے اسلامی تعلیم پر جو بڑے بڑے اعتراضات کیے جاتے ہیں، ان میں سے ایک اعتراض یہ ہے کہ اسلام نے مرد کے مقابلہ پر عورت کی گواہی کو آدھا رکھ کر گویا عورت کو کمتر قرار دیا ہے۔لیکن یہ اعتراض بھی دیگر اعتراضات کی طرح اسلامی تعلیمات کی حقیقت اور اس کی روح کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بلا وجہ گھڑا گیاہے۔

حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم نے کسی جگہ یہ نہیں فرمایا کہ مرد کے مقابلہ پر عورت کی گواہی نصف ہے۔ بلکہ اگر قرآن کریم پر غور کیا جائے تو جن امور کا عورت سے براہ راست تعلق ہے، ان میں جس طرح مرد کی گواہی کو قبول کیا گیا ہے اسی طرح عورت کی گواہی کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ چنانچہ سورۃ النور میں میاں بیوی کے درمیان لعان کی صورت میں جو گواہی کا طریق بیان کیا گیا ہے اس میں عورت اور مرد دونوں کی گواہی اور قسم میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا بلکہ دونوں کا بالکل ایک ہی نتیجہ نکالا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَالَّذِیۡنَ یَرۡمُوۡنَ اَزۡوَاجَہُمۡ وَلَمۡ یَکُنۡ لَّہُمۡ شُہَدَآءُ اِلَّاۤ اَنۡفُسُہُمۡ فَشَہَادَۃُ اَحَدِہِمۡ اَرۡبَعُ شَہٰدٰتٍۭ بِاللّٰہِ ۙ اِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیۡنَ۔ وَالۡخَامِسَۃُ اَنَّ لَعۡنَتَ اللّٰہِ عَلَیۡہِ اِنۡ کَانَ مِنَ الۡکٰذِبِیۡنَ۔ وَیَدۡرَؤُا عَنۡہَا الۡعَذَابَ اَنۡ تَشۡہَدَ اَرۡبَعَ شَہٰدٰتٍۭ بِاللّٰہِ ۙ اِنَّہٗ لَمِنَ الۡکٰذِبِیۡنَ۔وَالۡخَامِسَۃَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیۡہَاۤ اِنۡ کَانَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ۔(سورۃ النور:7 تا10)ترجمہ:اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگاتے ہیں اور ان کے پاس سوائے اپنے وجود کے اور کوئی گواہ نہیں ہوتا تو ان میں سے ہر شخص کو ایسی گواہی دینی چاہیے جو اللہ کی قسم کھا کر چار گواہیوں پر مشتمل ہو اور (ہر گواہی میں) وہ یہ کہے کہ وہ راست بازوں میں سے ہے۔ اور پانچویں (گواہی) میں (کہے) کہ اس پر خدا کی لعنت ہو، اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو۔ اور اس بیوی سے (جس پر اس کا خاوند الزام لگائے) اس کا اللہ کی قسم کھا کر چار گواہیاں دینا کہ وہ (خاوند) جھوٹا ہے عذاب دور کر دے گا۔ اور پانچویں (قسم) اس طرح (کھائے) کہ اللہ کا غضب اس (عورت) پر نازل ہو اگر وہ (الزام لگانے والا خاوند) سچا ہے۔

اسی طرح حدیث میں بھی آتا ہے کہ حضورﷺ نے صرف ایک عورت کی گواہی پر کہ اس نے ایک شادی شدہ جوڑے میں سے لڑکے اور لڑکی دونوں کو دودھ پلایا تھا، ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی۔چنانچہ حضرت عقبہ بن حارث ؓسے روایت ہے کہ انہوں نے ابوا ہاب بن عزیز کی لڑکی سے نکاح کیا اس کے بعد ایک عورت نے آکر بیان کیا کہ میں نے عقبہ کو اور اس عورت کو جس سے عقبہ نے نکاح کیا ہے دودھ پلایا ہے (پس یہ دونوں رضائی بہن بھائی ہیں، ان میں نکاح درست نہیں) عقبہ نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ تو نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ تو نے (اس سے) پہلے کبھی اس بات کی اطلاع دی ہے۔پھر عقبہ سواری پر سوار ہو کر رسول اللہ ﷺ کے پاس مدینہ گئے اور آپ سے (یہ مسئلہ) پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ اب جبکہ یہ بات کہہ دی گئی ہے تم کس طرح اسے اپنے نکاح میں رکھ سکتے ہو۔ پس عقبہ نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔ اور اس نے دوسرے شخص سے نکاح کرلیا۔(صحیح بخاری کتاب العلم بَاب الرِّحْلَةِ فِي الْمَسْأَلَةِ النَّازِلَةِ وَتَعْلِيمِ أَهْلِهِ)

جہاں تک قرض کے لین دین میں مرد اور عورت کی گواہی کا تعلق ہے تو عموماً ایسے معاملات کا چونکہ مردوں سے تعلق ہوتا ہے اور عورتوں سے براہ راست تعلق نہیں ہوتا، اس لیے ہدایت فرمائی کہ اگر ان معاملات میں گواہی کے لیے مقررہ مرد میسر نہ ہوں تو ایک مرد کے ساتھ دو عورتوں کو رکھا جائے کہ اگر گواہی دینے والی عورت اپنی گواہی بھول جائے تو دوسری عورت اسے یاد دلا دے۔

گویا اس میں بھی گواہی ایک عورت کی ہی ہے، صرف اس کے ان معاملات سے عموماً تعلق نہ ہونے کی وجہ سے اس کے بھول جانے کے اندیشہ کے پیش نظر احتیاطاً دوسری عورت اس کی مدد کے لیے اور اسے بات یاد کرانے کے لیے رکھ دی گئی ہے۔قرآن کریم کا منطوق بھی اسی مفہوم کی تائید فرما رہا ہے۔ چنانچہ فرمایا: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا تَدَایَنۡتُمۡ بِدَیۡنٍ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی …وَاسۡتَشۡہِدُوۡا شَہِیۡدَیۡنِ مِنۡ رِّجَالِکُمۡ ۚ فَاِنۡ لَّمۡ یَکُوۡنَا رَجُلَیۡنِ فَرَجُلٌ وَّامۡرَاَتٰنِ مِمَّنۡ تَرۡضَوۡنَ مِنَ الشُّہَدَآءِ اَنۡ تَضِلَّ اِحۡدٰٮہُمَا فَتُذَکِّرَ اِحۡدٰٮہُمَا الۡاُخۡرٰی۔(سورۃ البقرہ:283)یعنی اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم ایک معیّن مدت تک کے لیے قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو… اور اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ ٹھہرا لیا کرو۔ اور اگر دو مرد میسر نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں (ایسے) گواہوں میں سے جن پر تم راضی ہو۔ (یہ) اس لیے (ہے) کہ ان دو عورتوں میں سے اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد کروا دے۔

پس قرض کے لین دین کے معاملات میں بھی عورت ہو یا مرد، ددنوں کی گواہی کی حیثیت اور اہمیت برابر ہی ہے لیکن چونکہ مالی لین دین کے معاملات کا تعلق عموماً عورتوں سے نہیں ہوتا اس لیے گواہی دینے والی عورت کی مدد کے لیے کہ اگر وہ اس لین دین کی تفصیل بھول جائے تو اسے یہ معاملہ یاد کروانے کے لیے ایک دوسری عورت کو بھی ساتھ رکھنے کی تاکید فرما دی تاکہ کسی گواہ کے بھول جانے سے لین دین کرنے والے فریقین میں سے کسی کی حق تلفی نہ ہو سکے۔

سوال: سیریا کے ایک دوست نے شیئرز اور اسٹاک مارکیٹ وغیرہ کے کاروبار میں سودی عناصر کے پائے جانے اور اس بارہ میں اپنی ریسرچ پیش کرنے کے متعلق حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں تحریر کیا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مورخہ 28؍ستمبر 2021ء میں اس مسئلہ کے بارے میں درج ذیل ہدایات فرمائیں۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: علمی تحقیق کرنا تو بہت اچھی بات ہے، آپ ضرور اس بارے میں تحقیق کرکے اپنی رپورٹ مجھے بھجوائیں۔ باقی جہاں تک موجودہ زمانہ میں مختلف قسم کے کاروباروں میں سودی عناصر کے پائے جانے کا تعلق ہے تو اس بات کو سمجھنے کے لیے اس زمانہ کے حکم و عدل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حسب ذیل ارشاد بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:’’اب اس ملک میں اکثر مسائل زیروزبر ہو گئے ہیں۔کل تجارتوں میں ایک نہ ایک حصہ سود کا موجود ہے۔اس لئے اس وقت نئے اجتہاد کی ضرورت ہے۔‘‘(البدرنمبر 41 و 42، جلد؍3مورخہ یکم و 8؍نومبر1904ء صفحہ8)

پھر ایک جگہ سود کی تعریف بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’شرع میں سُود کی یہ تعریف ہے کہ ایک شخص اپنے فائدے کے لیے دوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے یہ تعریف جہاں صادق آوے گی وہ سود کہلاوے گا۔ لیکن جس نے روپیہ لیا ہے اگر وہ وعدہ وعید تو کچھ نہیں کرتا اور اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے تو وہ سود سے باہر ہے۔ چنانچہ انبیاء ہمیشہ شرائط کی رعایت رکھتے آئے ہیں۔ اگر بادشاہ کچھ روپیہ لیتا ہے اور وہ اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے اور دینے والا اس نیت سے نہیں دیتا کہ سود ہے تو وہ بھی سود میں داخل نہیں ہے وہ بادشاہ کی طرف سے احسان ہے۔ پیغمبر خدا نے کسی سے ایسا قرضہ نہیں لیا کہ ادائیگیٔ وقت اُسے کچھ نہ کچھ ضرور زیادہ (نہ)دیدیا ہو۔یہ خیال رہنا چاہیےکہ اپنی خواہش نہ ہو۔خواہش کے بر خلاف جو زیادہ ملتا ہے وہ سُود میں داخل نہیں ہے۔ ‘‘(البدرنمبر 10، جلد 2؍مورخہ 27؍مارچ 1903ء صفحہ75)

پس اسلام نے جس سود سے منع فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کسی کو اس نیت کے ساتھ قرض دے کہ اسے اس قرض میں دی جانے والی رقم پر زائد رقم ملے۔ لیکن اگر قرض لینے والا اپنی طرف سے کچھ زائد دے تو وہ سود میں شامل نہیں ہے۔

علاوہ ازیں موجودہ زمانہ میں بینکنگ سسٹم تقریباً ہر دنیاوی کاروبار کا لازمی جزو ہے اور دنیا کے اکثر بینکوں کے نظام میں کسی نہ کسی طرح سود کا عنصر موجود ہوتا ہے، جو ان کاروباروں کا بھی حصہ بنتا ہے۔ اسی لیے حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ کل تجارتوں میں ایک نہ ایک حصہ سود کا موجود ہے۔ اس لیے اس وقت نئے اجتہاد کی ضرورت ہے۔

ان حالات میں اگر انسان بہت زیادہ وہم میں پڑا رہے تو اس کا زندگی گزارنا ہی دوبھر ہو جائے گا۔ کیونکہ عام زندگی میں جو لباس ہم پہنتے ہیں، ان کپڑوں کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں میں بھی کہیں نہ کہیں سودی پیسہ لگا ہو گا۔ جو بریڈ ہم کھاتے ہیں، اس کے کاروبار میں بھی کہیں نہ کہیں سودی پیسہ کی آمیزش ہو گی۔ اگرانسان ان تمام دنیاوی ضرورتوں کو چھوڑ چھاڑ کر اپنے گھر میں ہی بیٹھنا چاہے جو بظاہر ناممکن ہے پھر بھی وہ مکان جس اینٹ، ریت اور سیمنٹ سے بنا ہے، ان چیزوں کو بنانے والی کمپنیوں کے کاروبار میں بھی کہیں نہ کہیں سودی کاروبار یا سود کے پیسہ کی ملونی ہو گی۔

پس بہت زیادہ مین میکھ نکال کر اور وہم میں پڑ کر اپنے لیے بلا وجہ مشکلات پیدا نہیں کرنی چاہئیں۔ حدیث میں بھی آتا ہے،حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں۔ أَنَّ قَوْمًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَنَا بِاللَّحْمِ لَا نَدْرِي أَذَكَرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ أَمْ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمُّوا اللّٰهَ عَلَيْهِ وَكُلُوهُ۔(صحیح بخاری کتاب البیوع)یعنی کچھ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ایک جماعت ہمارے پاس گوشت لے کر آتی ہے، ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے (اسے ذبح کرتے وقت) اس پر اللہ کا نام لیا ہوتا ہے یا نہیں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا تم اس گوشت پر اللہ کا نام (بسم اللہ )پڑھ لیاکرو اور اسےکھالیا کرو۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیاکہ کیا ہندوؤں کے ہاتھ کا کھانا درست ہے؟فرمایا: ’’شریعت نے اس کو مباح رکھا ہے۔ ایسی پابندیوں پر شریعت نے زور نہیں دیا بلکہ شریعت نے تو قَدْاَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَاپر زور دیا ہے۔ آنحضرتﷺ آرمینیوں کے ہاتھ کی بنی ہوئی چیزیں کھا لیتے تھے اور بغیر اس کے گذارہ بھی تو نہیں ہوتا۔‘‘(الحکم نمبر 19، جلد 8؍ مورخہ 10؍جون1904ءصفحہ3)

اسی طرح حضرت منشی محمد حسین صاحب کلرک دفتر سرکاری وکیل لاہور کے نام اپنے ایک مکتوب مورخہ25؍نومبر 1903ء میں حضور علیہ السلام نے تحریر فرمایا:’’آپ اپنے گھر میں سمجھا دیں کہ اس طرح شک و شبہ میں پڑنا بہت منع ہے۔ شیطان کا کام ہے،جو ایسے وسوسے ڈالتا ہے۔ ہر گز وسوسہ میں نہیں پڑنا چاہیے۔ گناہ ہے اور یاد رہے کہ شک کے ساتھ غسل واجب نہیں ہوتا۔ اور نہ صرف شک سے کوئی چیز پلید ہو سکتی ہے۔ ایسی حالت میں بیشک نماز پڑھنا چاہیے۔ اور میں انشاء اللہ دعا بھی کروں گا۔ آنحضرت ﷺ اور آپ کے اصحاب وہمیوں کی طرح ہر وقت کپڑہ صاف نہیں کرتے تھے۔ حضرت عائشہ ؓکہتی ہیں کہ اگر کپڑہ پر منی گرتی تھی تو ہم اس منی خشک شدہ کو صرف جھاڑ دیتے تھے۔ کپڑہ نہیں دھوتے تھے۔ اور ایسے کنواں سے پانی پیتے تھے جس میں حیض کے لتّے پڑتے تھے۔ ظاہری پاکیزگی سے معمولی حالت پر کفایت کرتے تھے۔ عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے حالانکہ مشہور تھا کہ سؤر کی چربی اس میں پڑتی ہے۔ اصول یہ تھا کہ جب تک یقین نہ ہو ہر یک چیز پاک ہے۔ محض شک سے کوئی چیز پلید نہیں ہوتی۔‘‘(اخبار الفضل قادیان دارالامان نمبر66، جلد 11؍مورخہ 22؍فروری 1924ء صفحہ 9)

پس انسان کو وہموں اور شک و شبہ میں مبتلا ہوئے بغیر تقویٰ سے کام لیتے ہوئے اپنے معاملات اور دنیاوی امور کو بجا لانے کی کوشش کرنی چاہیےاورجہاں براہ راست کسی ممنوع کام میں پڑنے کا امکان ہو یا کسی چیز کی حرمت واضح طور پر نظر آتی ہواس سےبہر صورت اجتناب کرنا چاہیے۔چنانچہ اس بارے میں حضور ﷺ کی ایک اورحدیث ہماری بہترین راہنمائی کرتی ہے۔ حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں:مَا خُيِّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَأْثَمْ فَإِذَا كَانَ الْإِثْمُ كَانَ أَبْعَدَهُمَا مِنْهُ وَاللّٰهِ مَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ فِي شَيْءٍ يُؤْتَى إِلَيْهِ قَطُّ حَتَّى تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللّٰهِ فَيَنْتَقِمُ لِلّٰهِ۔(صحیح بخاری کتاب الحدود)یعنی نبی کریم ﷺ کو جب بھی دو چیزوں کے درمیان اختیار دیا گیا تو آپ نے ان میں سے آسان صورت کو اختیار کیا جب تک کہ وہ گناہ کی بات نہ ہو۔ اگر وہ گناہ کی بات ہوتی تو آپ اس سے بہت زیادہ دور رہتے۔ اللہ کی قسم آپ نے کبھی اپنے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا، جب تک محرمات الہٰیہ کی خلاف ورزی نہ ہو اور جب اس کی خلاف ورزی کی ہو تو آپ اللہ کے لیے انتقام لیتے۔

اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں بھی آتا ہے کہ ایک موقع پرامریکہ اور یورپ کی حیرت انگیز ایجادات کا ذکر ہوا۔اسی میں یہ ذکر بھی آیا کہ دودھ اور شوربا وغیرہ جو کہ ٹینوں میں بند ہو کر ولایت سے آتا ہے بہت ہی نفیس اور ستھرا ہوتا ہے اور ایک خوبی ان میں یہ ہوتی ہے کہ ان کو بالکل ہاتھ سے نہیں چھوا جاتا۔دودھ تک بھی بذریعہ مشین دوہا جاتا ہے۔اس پر حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا:’’چونکہ نصاریٰ اس وقت ایک ایسی قوم ہو گئی ہے جس نے دین کی حدود اور اس کے حلال وحرام کی کوئی پروا نہیں رکھی اور کثرت سے سؤر کا گوشت اُن میں استعمال ہوتا ہے اور جو ذبح کرتے ہیں اس پر بھی خدا کا نام ہرگز نہیں لیتے بلکہ جھٹکے کی طرح جانوروں کے سر جیساکہ سنا گیا ہے علیحدہ کر دیئے جاتے ہیں۔ اس لئےشبہ پڑ سکتا ہے کہ بسکٹ اور دودھ وغیرہ جو اُن کے کارخانوں کے بنے ہوئے ہوں اُن میں سؤر کی چربی اور سؤر کے دودھ کی آمیزش ہو۔اس لئےہمارے نزدیک ولایتی بسکٹ اور اس قسم کے دودھ اور شوربے وغیرہ استعمال کرنے بالکل خلاف تقویٰ اور ناجائز ہیں۔جس حالت میں کہ سؤر کے پالنے اور کھانے کا عام رواج ان لوگوں میں ولایت میں ہے تو ہم کیسے سمجھ سکتے ہیں کہ دوسری اشیائے خوردنی جو کہ یہ لوگ طیار کرکے ارسال کرتے ہیں ان میں کوئی نہ کوئی حصہ اس کانہ ہوتا ہو۔

اس پر ابو سعید صاحب المعروف عرب صاحب تاجر برنج رنگون نے ایک واقعہ حضرت اقدس کی خدمت میں یوں عرض کیا کہ رنگون میں بسکٹ اور ڈبل روٹی بنانے کا ایک کارخانہ انگریزوں کا تھا۔وہ ایک مسلمان تاجر نے قریب ڈیڑھ لاکھ روپے کے خرید لیا۔جب اس نے حساب و کتاب کی کتابوں کو پڑتال کر کے دیکھا تو معلوم ہوا کہ سؤر کی چربی بھی اس کا رخانہ میں خریدی جاتی رہی ہے۔دریافت پر کارخانہ والوں نے بتایا کہ ہم اُسے بسکٹ وغیرہ میں استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر یہ چیزیں لذیذ نہیں ہوتیں اور ولایت میں بھی یہ چربی ان چیزوں میں ڈالی جاتی ہے۔

اس واقعہ کے سننے سے ناظرین کو معلوم ہو سکتاہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کا خیال کس قدر تقویٰ اور باریک بینی پر تھا۔ لیکن چونکہ ہم میں سے بعض ایسے بھی تھے جن کو اکثر سفر کا اتفاق ہوا ہے اور بعض بھائی افریقہ وغیرہ دور درازا مصاروبلاد میں ابتک موجود ہیں جن کو اس قسم کے دودھ اور بسکٹ وغیرہ کی ضرورت پیش آسکتی ہے اس لئے اُن کو بھی مد نظر رکھ کر دوبارے اس مسئلہ کی نسبت دریافت کیا گیا۔ اور نیز اہل ہنود کے کھانے کی نسبت عرض کیا گیا کہ یہ لوگ بھی اشیاء کو بہت غلیظ رکھتے ہیں اور ان کی کڑاہیوں کو اکثر کتے چاٹ جاتے ہیں۔اس پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ’’ہمارے نزدیک نصاریٰ کا وہ طعام حلال ہے جس میں شبہ نہ ہو اور ازروئے قرآن مجید کے وہ حرام نہ ہو۔ورنہ اس کے یہی معنی ہوں گے کہ بعض اشیاء کو حرام جان کر گھر میں تو نہ کھایا مگر باہر نصاریٰ کے ہاتھ سے کھا لیااور نصاریٰ پر ہی کیا منحصر ہے اگر ایک مسلمان بھی مشکوک الحال ہو تو اس کا کھانا بھی نہیں کھا سکتےمثلاً ایک مسلمان دیوانہ ہے اور اسے حرام و حلال کی خبر نہیں ہے تو ایسی صورت میں اس کے طعام یا طیار کردہ چیزوں پر کیا اعتبار ہو سکتاہے۔اسی لئے ہم گھر میں ولایتی بسکٹ استعمال نہیں کرنے دیتے بلکہ ہندوستان کی ہندو کمپنی کے منگوایا کرتے ہیں۔

عیسائیوں کی نسبت ہندوؤں کی حالت اضطراری ہے کیونکہ یہ کثرت سے ہم لوگوں میں مل جل گئے ہیں اور ہر جگہ انہیں کی دوکانیں ہوتی ہیں۔اگر مسلمانوں کی دوکانیں موجود ہوں۔اور سب شئے وہاں ہی سے مل جاوے تو پھر البتّہ ان سے خوردنی اشیاء نہ خریدنی چاہئیں۔ ‘‘(البدر نمبر27، جلد 3؍ مورخہ 16؍جولائی 1904ء صفحہ3)

پس خلاصہ کلام یہ کہ انسان کو نہ تو بہت زیادہ وہموں میں پڑ کر جائز اشیاء کے استعمال سے بلا وجہ کنارہ کشی کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی غیر محتاط انداز اختیار کر کے ہر جائز و ناجائز چیز کو استعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہیےبلکہ ایک مناسب اور محتاط حد تک معاملات کی تحقیق کر کے اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button