پیغام حضور انور

حضور انور کا خصوصی پیغام برموقع اجتماع مجلس انصار اللہ بھارت 2022ء

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم و علی عبدہ المسیح الموعود

خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ

ھو النّاصر

اسلام آباد (یوکے)

2022-10-18

پیارے ممبران مجلس انصاراللہ بھارت

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ مجلس انصاراللہ بھارت کو اپنا سالانہ اجتماع منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔اللہ تعالیٰ اسے ہرلحاظ سے بابرکت فرمائےاوراس کے نیک نتائج پیدا فرمائے۔آمین

مجھ سے اس موقع پر پیغام بھجوانے کی درخواست کی گئی ہے۔میراپیغام یہ ہےکہ اپنے بچوں کی تربیت کی طرف خاص توجہ دیں۔ اُن کو وقت دیں۔ اُن کی پڑھائی کی طرف توجہ دیں۔ اُن کو جماعت کے ساتھ جوڑنے کی طرف توجہ دیں۔ اپنے گھروں میں ایسے ماحول پیدا کریں کہ بچوں کی نیک تربیت ہو رہی ہو۔ بچے معاشرے کا ایک اچھا حصہ بن کر ملک و قوم کی ترقی میں حصہ لینے والے بن سکیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بچوں کی تربیت کوئی آسان کام نہیں اور خاص طور پر اس زمانے میں جب قدم قدم پر شیطان کی پیدا کی ہوئی دلچسپیاں مختلف رنگ میں ہر روز ہمارے سامنے آ رہی ہوں تو یہ بہت مشکل کام ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے جب دعائیں اور طریق بتائے ہیں تو اس لیے کہ اگر ہم چاہیں تو خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی شیطان کے حملوں سے بچا سکتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جس انقلاب کے پیدا کرنے کے لیے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے اس کا حصہ بننے کے لیے ہم نے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کو استعمال کرنا ہے اور اپنی نسل میں بھی اس روح کو پھونکنا ہے۔ جو ہمارے مقاصد ہیں ان کے لیے دعائیں بھی کرنی ہیں۔ ان کی تربیت بھی کرنی ہے کہ معاشرے کے ان سب گندوں اور غلاظتوں کے باوجود ہم نے شیطان کو کامیاب نہیں ہونے دینا۔ اور دنیا میں خدا تعالیٰ کی حکومت قائم کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔

قرآن کریم میں حضرت زکریا کے حوالے سے سورۃ الانبیاء میں اس دعا کا بھی ذکر ملتا ہے کہ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًاوَّاَ نْتَ خَیْرُ الْوَارِثِیْنَ(الانبیاء:90) کہ اے میرے رب مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تُو سب وارثوں سے بہتر ہے۔ اس دعا میں بھی جب اللہ تعالیٰ کو خَیْرُ الْوَارِثِیْنَ کہا ہے تو واضح ہے کہ اولاد کی دعا صرف اس لیے نہیں کہ اولاد ہو جائے اور وارث پیدا ہو جائیں جو دنیاوی معاملات کے وارث ہوں بلکہ ایسے وارث اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوں جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے ہوں اور ظاہر ہے ایسی دعا وہی لوگ مانگ سکتے ہیں جو خود بھی دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے ہیں۔ اگر دنیا داری میں انسان ڈوبا ہوا ہے تو نیک وارث کس طرح مانگے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ

’’پس خودنیک بنو اور اور اپنی اولاد کے لیے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہو جاؤ اور اس کو متقی اور دیندار بنانے کے لیے سعی اور دعا کرو۔ جس قدر کوشش تم ان کے لیے مال جمع کرنے کی کرتے ہو اسی قدر کوشش اس امر میں کرو‘‘۔

(ملفوظات جلد8 صفحہ109۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس اولاد کے لیے دعا اور خواہش اس سوچ کے ساتھ اور اس دعا کے ساتھ ہونی چاہئے کہ ایسی اولاد ہو جو دین کو دنیا پر مقدم کرنے والی ہو۔ جو ہماری یعنی ماں باپ کی اور خاندان کی عزت قائم کرنے والی ہو۔ اپنے دادا پڑدادا کے نام کی عزت قائم کرنے والی ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:

’’خدا تعالیٰ کی نصرت انہی کے شامل حال ہوتی ہے جو ہمیشہ نیکی میں آگے ہی آگے قدم رکھتے ہیں۔‘‘ فرمایا’’ایک جگہ ٹھہر نہیں جاتے اور وہی ہیں جن کا انجام بخیر ہوتا ہے۔‘‘ اور انجام بخیر کے لیے آپ نے فرمایا کہ ’’اپنے لیے اور اپنے بیوی بچوں کے لیے مستقل دعا کرتے رہنا چاہئے۔‘‘

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم میں سے ہر ایک اولاد کے لیے بہترین نمونہ بننے والے ہوں۔ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد کو پورا کرنے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہماری اولاد کو بھی ہمیشہ ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے رکھے اور پھر یہ سلسلہ آگے بھی چلتا چلا جائے۔آمین

والسلام

خاکسار

(دستخط)مرزا مسرور احمد

خلیفۃ المسیح الخامس

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button