پیغام حضور انور

حضور انور کا خصوصی پیغام برموقع اجتماع لجنہ اماء اللہ بھارت 2022ء

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم و علی عبدہ المسیح الموعود

خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ

ھو النّاصر

اسلام آباد (یوکے)

2022-10-18

پیاری ممبرات لجنہ اماءاللہ بھارت

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ لجنہ اماءاللہ بھارت کو اپنا سالانہ اجتماع منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے اجتماع کو ہرلحاظ سے کامیاب اور بابرکت فرمائے۔آمین

مجھ سے اس موقع پر پیغام بھجوانے کی درخواست کی گئی ہے۔میں اس موقع پر آپ کو چندنصائح کرناچاہتاہوں۔

ایک خاص ماحول میں اور صرف دینی اغراض کے لیے جمع ہونا، اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے جمع ہونا، اُس کی رضا کے حصول کے لیے جمع ہونا یقینا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو کھینچتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بڑا کھول کر بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے منعقدہ مجالس اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بناتی ہیں، اُس کی جنتوں کی طرف لے جاتی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ اے لوگو! جنت کے باغوں میں چرنے کی کوشش کرو۔ جب صحابہ نے اس بارے میں وضاحت چاہی کہ جنت کے باغ کیا ہیں؟ تو آپؐ نے فرمایا: ذکر کی مجالس جنت کے باغ ہیں۔ (سنن الترمذی کتاب الدعوات )

اور جیسا کہ مَیں اکثر کہتا رہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسوں کا انعقاد کر کے ہمارے لیے برکات کے راستے کھولے ہیں، جنت کے باغوں کی سیر کے لیے ایک وسیع اور بہترین انتظام فرما دیا ہے۔ پس خوش قسمت ہوں گے ہم میں سے وہ جو اس مجلس اور اس ماحول سے فائدہ اُٹھا کر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حاصل کرنے والے بن جائیں۔

لجنہ اماء اللہ کا جواجتماع شروع ہو رہا ہے۔ لجنہ کو یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے پروگراموں کا زیادہ حصہ دینی اور علمی مجالس ہونا چاہئے۔ اور شامل ہونے والی عورتیں بھی یاد رکھیں کہ وہ کسی میلے میں شامل ہونے کے لیے نہیں آئیں۔ اپنے اجتماع پر آنے کا مقصد ان کو پورا کرنا چاہئے اور مستقل دینی اور علمی مجلسیں لگائیں۔ باقاعدہ پروگرام نہیں بھی ہو رہا تب بھی اپنی مجالس میں بجائے اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے اور فضول گفتگو کرنے کے تعمیری گفتگو کریں اور لغو باتوں سے ہمیشہ پرہیز کریں اور اپنا وقت اس سے ضائع ہونے سے بچائیں۔اجتماع پر جو نیک باتیں سنیں ان پر عمل بھی کریں تاکہ آپ کو روحانی اورایمانی تقویت نصیب ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

’’مَیں اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تا ایمانوں کو قوی کروں اور خدا تعالیٰ کا وجود لوگوں پر ثابت کرکے دکھلاؤں، کیونکہ ہر ایک قوم کی ایمانی حالتیں نہایت کمزور ہو گئی ہیں اور عالَمِ آخرت صرف ایک افسانہ سمجھا جاتا ہے۔۔۔۔ سو مَیں بھیجا گیا ہوں کہ تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو۔ سو یہی افعال میرے وجود کی علّتِ غائی ہیں۔‘‘ (کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 291 تا 294 حاشیہ)

پس ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کا دعویٰ کرتے ہیں ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارے ایمان مضبوطی کی طرف بڑھ رہے ہیں؟۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں مختلف مواقع پر بڑی شدت اور درد سے نصیحت فرمائی ہے کہ تم جو میری طرف منسوب ہوتے ہو، میری بیعت میں آنے کا اعلان کرتے ہو اگر احمدی کہلانے کے بعد تمہارے اندر نمایاں تبدیلیاں پیدا نہیں ہوتیں تو تم میں اور غیر میں کوئی فرق نہیں ہے۔پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہماری نیکیوں کے معیار اُس سطح تک بلند ہوں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ بیعت کے بعد ایمان میں بھی ترقی ہونی چاہئے، محبت میں بھی ترقی ہونی چاہئے، اللہ تعالیٰ سے محبت سب محبتوں سے زیادہ ہو، یہی خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ سے محبت کی وجہ سے اُس کے سب سے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہو، مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے محبت ہو، خلافت سے محبت ہو اور آپس میں ایک دوسرے سے محبت ہو۔

پس ہمیں خاص طور پر اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے، اپنی حالتوں کو خداتعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

والسلام

خاکسار

(دستخط)مرزا مسرور احمد

خلیفۃ المسیح الخامس

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button