امریکہ (رپورٹس)حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزدورہ امریکہ ستمبر؍اکتوبر 2022ء

سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ امریکہ (14؍اکتوبر 2022ء بروز جمعۃ المبارک)

(رپورٹ:عبدالماجد طاہر۔ایڈیشنل وکیل التبشیر اسلام آباد)

٭…خطبہ جمعہ

٭…نیشنل مجلسِ عاملہ خدام الاحمدیہ امریکہ کی حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز کے ساتھ ملاقات

٭…نیشنل مجلس عاملہ انصار اللہ امریکہ کی حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز کے ساتھ ملاقات

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح چھ بج کر پندرہ منٹ پر ’’مسجد بیت الرحمٰن‘‘ تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔

صبح حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دفتری ڈاک ملاحظہ فرمائی اور مختلف دفتری امور کی انجام دہی میں مصروفیت رہی۔ آج جمعۃ المبارک کا دن تھا۔ حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اقتدا میں نمازِجمعہ کی ادائیگی کے لیے مقامی جماعت میری لینڈ (Mary Land) کے علاوہ امریکہ بھر کی جماعتوں سے احباب اور فیملیز بڑے لمبے اور طویل سفر طے کرکے پہنچے تھے۔

میامی (Miami) سے آنے والے احباب 1078 میل، Tulsa سے آنے والے 1220 میل، ڈیلس (Dallas) سے آنے والے احباب 1342 میل جبکہ ہیوسٹن سے آنے والے 1422 میل کا سفر طے کرکے آئے تھے۔ جماعت Tuscan سے آنے والے احباب 2280 میل اور Los Angeles سے آنے والے احباب اور فیملیز 2653 میل، سیاٹل (Seattle) سے آنے والے 2731 میل جبکہ جماعت Sacramento سے آنے والے 2751 میل اور جماعت San Jose سے آنے والے 2843 میل کے لمبے اور طویل سفر طے کرکے اپنے پیارے آقا کی اقتدا میں نمازِجمعہ کی ادائیگی کے لیے پہنچے تھے۔

علاوہ ازیں ہمسایہ ممالک میکسیکو اور پورٹوریکو سے آنے والے احباب نے بھی اپنے آقا کی اقتدا میں نمازِجمعہ ادا کرنے کی سعادت پائی۔ کینیڈا سے بھی ایک بڑی تعداد نمازِجمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد بیت الرحمٰن پہنچی تھی۔

نمازِجمعہ میں ہزاروں افراد جماعت نے شمولیت اختیار کی۔

پروگرام کے مطابق ایک بجے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد بیت الرحمٰن میں تشریف لا کر خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا:۔

تشہد،تعوذ،تسمیہ اور سورت فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

اللہ تعالیٰ کا آپ پر یہ بڑا احسان ہے جماعت احمدیہ پر بڑا احسان ہے یہاں آنے والے اس ملک میں آنے والے لوگوں پر بڑا احسان ہے کہ اس نے آپ کو اس ترقی یافتہ ملک میںآنے کی توفیق عطا فرمائی اور خاص طور پر گذشتہ چند سالوں میں پاکستان سے بہت سے احمدی یہاں آئے ہیں اور اب بھی آ رہے ہیں۔ جو پاکستان سے اس لیے ہجرت کر کے آئے کہ وہاں احمدیوں کے حالات سخت سے سخت تر ہوتے چلے جا رہے ہیں اور اس وجہ سے وہاں رہنا مشکل ہو گیا تھا اور اس لحاظ سے احمدیوں کو ان حکومتوں کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے بہت سے مظلوم احمدیوں کو یہاں رہنے کی جگہ دی لیکن سب سے بڑا احسان جو اللہ تعالیٰ نے ہم احمدیوں پر کیا ہے وہ یہ ہے کہ اس نے ہمیں زمانے کے امام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ پس اس کے لیے ہم خدا تعالیٰ کا جتنا بھی شکر کریں وہ کم ہے اور اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلیں۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بھی حق ادا کرنے والے بنیں اور اس کی مخلوق کے بھی حق ادا کرنے والے بنیں اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کا حق ادا کرنے والے بنیں گے کیونکہ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی وہ راہنما ہیں جنہوں نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق اسلام کی حقیقی تعلیم پر ہمیں چلایاہے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز نے فرمایا: پس اس بات کو ہر احمدی کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے کہ اب حقیقی اسلام کی تعلیم ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے ذریعہ ہی مل سکتی ہے کیونکہ آپ علیہ السلام ہی وہ شخص ہیں جن کو اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے علوم و معارف عطا فرمائے ہیں اور اسلام کا حقیقی علم عطا فرمایا ہے۔ آپ ہی وہ شخص ہیں جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی عاشق ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور سنت کے مطابق اپنی جماعت کی تربیت کرنا چاہتے ہیں۔ پس ہمیں حقیقی مسلمان بننے کے لیے اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف ہی دیکھنا ہو گا اور آپ علیہ السلام کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنا ہو گا۔ اپنے ایمان کو مضبوط کرنا ہو گا۔ آپ علیہ السلام کی بعثت پر ایمان و یقین کامل کرنا ہو گا آپ کو حَکم و عدل ماننا ہو گا۔ اس یقین پر قائم ہونا ہو گا کہ اب آپ کے بتائے ہوئے طریق پر چل کر ہی انسان اسلام کی حقیقی تعلیم پر چل سکتا ہے۔ چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام اپنے پر کامل یقین اور ایمان پر قائم ہونے کی نصیحت کرتے ہوئے اپنی بیعت کرنے والوں کو فرماتے ہیں:

جو شخص ایمان لاتا ہے اسے اپنے ایمان سے یقین اور عرفان تک ترقی کرنی چاہیے۔ صرف ایمان نہیں لے آئے بلکہ اس پہ یقین بھی پیدا ہونا چاہیے اور اس کا عرفان بھی حاصل ہونا چاہیے کہ کیوں ہم بیعت کر رہے ہیں۔ نہ یہ کہ پھر وہ ظن میں گرفتار ہو۔ پھر یہ نہیں ہے کہ بدظنیاں نہ پیدا ہو جائیں دل میں کہ یہ کیوں ہوا اور یہ کیوں ہوا۔ سوال نہ اٹھنے شروع ہو جائیں۔ فرمایا کہ یاد رکھو ظن مفید نہیں ہو سکتا۔ خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے۔ ان الظن لا یغنی من الحق شیئا۔یقیناً ظن حق سے کچھ بھی بے نیاز نہیں کر سکتا۔ یقین ہی ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو بامراد کر سکتی ہے یقین کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔ اگر انسان ہر بات پر بدظنی کرنے لگے تو شاید ایک دم بھی دنیا میں نہ گزارا کر سکے۔ فرمایا کہ وہ پانی نہ پی سکے کہ شاید اس میں زہر ملا دیا ہو۔ بازار کی چیزیں نہ کھا سکے کہ ان میں ہلاک کرنے والی کوئی شئے ہو۔ پھر کس طرح وہ رہ سکتا ہے۔ زندگی گزارنی مشکل ہو جائے گی۔ یہ ایک موٹی مثال ہے۔ اسی طرح پر انسان روحانی امور میں اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ فرمایا کہ اب تم خود سوچ لو اور اپنے دلوں میں فیصلہ کر لو کہ کیا تم نے میرے ہاتھ پر جو بیعت کی ہے اور مجھے مسیح موعود حَکم اور عدل مانا ہے تو اس ماننے کے بعد میرے کسی فیصلے یا فعل پر اگر دل میں کوئی کدورت یا رنج آتا ہے تو اپنے ایمان کی فکر کرو۔ وہ ایمان جو خدشات اور توہمات سے بھرا ہوا ہے کوئی نیک نتیجہ پیدا کرنے والا نہیں ہو گا لیکن اگر تم نے سچے دل سے تسلیم کر لیا ہے کہ مسیح موعود واقعی حَکم ہے تو پھر اس کے حکم اور فعل کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دو اور اس کے فیصلوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھو تا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک باتوں کی عزت اور عظمت کرنے والے ٹھہرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کافی ہے وہ تسلی دیتے ہیں کہ وہ تمہارا امام ہوگا۔ یعنی آنے والا مسیح موعود تمہارا امام ہو گا تمہارے میں سے۔ وہ حَکم عدل ہو گا۔ اگر اس پر تسلی نہیں ہوئی تو پھر کب ہو گی۔ یہ طریق ہرگز اچھا اور مبارک نہیں ہو سکتا کہ ایمان بھی ہو اور دل کے بعض گوشوں میں بدظنیاں بھی۔ظاہری طور پر یہ اظہار ہو کہ ہم ایمان بھی لے آئے لیکن پھر بدظنیاں بھی پیدا ہو رہی ہوں بعض معاملات میں۔ فرمایا جن لوگوں نے میرا انکار کیا ہے اور جو مجھ پر اعتراض کرتے ہیں انہوں نے مجھے شناخت نہیں کیا اور جس نے مجھے تسلیم کیا ہے اور پھر اعتراض رکھتا ہے وہ اور بھی بدقسمت ہے کہ دیکھ کر اندھا ہوا۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز نے فرمایا: پس یہ ایمان کا معیار ہے جو ہم سب کا ہونا چاہیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہی اپنے بعد خلافت کے جاری رہنے کی اطلاع دی تھی اور صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہی نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مسیح و مہدی کے آنے کے ساتھ خلافت کے تا قیامت جاری رہنے کی خبر دی تھی اور خلافت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طریق کو ہی جاری رکھنے والا نظام ہے۔ اس حَکم اور عدل کے فیصلوں کو ہی جاری رکھنے والا نظام ہے۔ اپنے عہد میں ہر احمدی خلافت سے بھی وابستگی اور اطاعت کا عہد کرتا ہے۔ پس اس لحاظ سے خلافت کے ساتھ وابستگی اور اطاعت کے عہد کو نبھانا بھی ہر احمدی کا فرض ہے ورنہ بیعت ادھوری ہے۔ پس اس لحاظ سے بھی اپنے ایمان اور یقین کو بڑھانے کی ہر احمدی کو ہمیشہ کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ پھر جماعت کو قرآن کریم کو غور سے پڑھنے اور اسے سمجھنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

میں بار بار اس امر کی طرف ان لوگوں کو جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کو کشف حقائق کے لیے قائم کیا ہے کیونکہ بدوں اس کے عملی زندگی میں کوئی روشنی اور نور پیدا نہیں ہو سکتا فرمایا اور میں چاہتا ہوں کہ عملی سچائی کے ذریعہ اسلام کی خوبی دنیا پر ظاہر ہو جیسا کہ خدا نے مجھے اس کام کے لیے مامور کیا ہے۔ اس لیے قرآن کریم کو کثرت سے پڑھو مگر نرا قصہ سمجھ کر نہیں بلکہ ایک فلسفہ سمجھ کر پڑھو۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز نے فرمایا:پس ہر ایک کو اپنے جائزے لینے چاہئیں۔ اس دنیا کی مصروفیات میں ڈوب کر کہیں ہم اپنے بیعت کے مقصد کو بھول تو نہیں گئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام تو فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کے علوم و معارف اور احکامات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کے لیے خدا تعالیٰ نے مجھے سمجھانے اور ان پر عمل کروانے کے لیے مامور کیا ہے اور جو میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہیں اس اہمیت کو سمجھیں اور قرآن کریم کے علوم و معارف پر غور کریں۔ اس کے معانی اور تفسیر کو سمجھنے کی کوشش کریں اور یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے روحانی خزانے کو بھی ہم سمجھنے اور پڑھنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ آپ کے دیے لٹریچر کو بھی ہم سمجھنے اور پڑھنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ آپ نے فرمایا کہ قرآن کریم کوئی قصہ کہانیاں نہیں ہیں بلکہ ضابطہ حیات ہے ایک لائحہ عمل ہے جس پر عمل کرنا ہر احمدی مسلمان کا فرض ہے۔ اگر ہم یہاں آ کر ان ملکوں میںآ کر اپنے اس مقصد کو بھول گئے اور دنیا کی مصروفیات میں ہی غرق ہو گئے اپنے گھروں کے ماحول کو قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش نہ کی تو ہماری اولادیں اور نسلیں دین سے دور ہوتی جائیں گی اور یہ شکرگزاری کے بجائے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی نفی کرنے والی بات ہو گی۔ پس بہت غور اور سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہر احمدی کے لیے چاہے وہ پرانے احمدی ہیں نئے احمدی ہیں یہاں پیدا ہوئے ہوئے احمدی ہیں یا ہجرت کر کے آنے والے احمدی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی عبادت کا حق ادا کرنے اور اس کی کتاب کو پڑھنا سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہمارا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔ تبھی ہم حق بیعت ادا کر سکتے ہیں۔ جو ہجرت کر کے آئے ہیں وہ دنیا کی مخالفت سے تو یہاں آ کر بچ گئے ہیں لیکن اگر دین پر چلنے والے اور قرآن کریم کو سمجھنے والے نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث نہیں بن سکتے۔ اسی طرح جو نئے ہونے والے احمدی ہیں یا یہاں رہنے والے احمدی ہیں پرانے احمدی وہ بھی یاد رکھیں کہ صرف بیعت کرنے سے مقصد پورا نہیں ہوتا۔ مقصد تبھی پورا ہو گا جب ہم اپنے آپ کو اسلامی تعلیم کا حامل بنائیں گے اور وہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک ہم اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پڑھیں اور سمجھیں گے نہیں۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں؛میں سچ کہتا ہوں کہ یہ ایک تقریب ہے جو اللہ تعالیٰ نے سعادت مندوں کے لیے پیدا کر دی ہے۔ مبارک وہی ہیں جو اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تم لوگ جنہوں نے میرے ساتھ تعلق پیدا کیا ہے اس بات پر ہرگز ہرگز مغرور نہ ہو جاؤ کہ جو کچھ تم نے پانا تھا پا چکے۔ یہ سچ ہے کہ تم ان منکروں کی نسبت قریب تر باسعادت ہو جنہوں نے اپنے شدید انکار اور توہین سے خدا کو ناراض کیا اور یہ بھی سچ ہے کہ تم نے حسن ظن سے کام لے کر خدا تعالیٰ کے غضب سے اپنے آپ کو بچانے کی فکر کی لیکن سچی بات یہی ہے کہ تم اس چشمے کے قریب آ پہنچے ہو جو اس وقت خدا تعالیٰ نے ابدی زندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ ہاں پانی پینا ابھی باقی ہے۔ پس خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے توفیق چاہو کہ وہ تمہیں سیراب کرے کیونکہ خدا تعالیٰ کے بدوں کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو اس کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا اس لیے خدا تعالیٰ کا فضل ہمیشہ چاہو۔ فرمایا یہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ جو اس چشمے سے پئے گا وہ ہلاک نہ ہو گا کیونکہ یہ پانی زندگی بخشتا ہے اور ہلاکت سے بچاتا ہے اور شیطان کے حملوں سے محفوظ کرتا ہے۔ اس چشمے سے سیراب ہونے کا کیا طریق ہے۔ یہی کہ خدا تعالیٰ نے جو دو حق تم پر قائم کیے ہیں ان کو بحال کرو اور پورے طور پر ادا کرو۔ ان میں سے ایک خدا کا حق ہے دوسرا مخلوق کا۔ اپنے خدا کو وحدہ لا شریک سمجھو جیسا کہ اس شہادت کے ذریعہ تم اقرار کرتے ہو کہ اشہد ان لا الہ الا اللّٰہ۔ یعنی میں شہادت دیتا ہوں کہ کوئی معبود مطلوب اور مطاع اللہ کے سوا نہیں ہے۔یہ ایک ایسا پیارا جملہ ہے کہ اگر یہ یہودیوں عیسائیوں یا دوسرے مشرک بت پرستوں کو سکھایا جاتا اور وہ اس کو سمجھ لیتے تو ہرگز تباہ اور ہلاک نہ ہوتے۔ اس ایک کلمہ کے نہ ہونے کی وجہ سے ان پر تباہی اور مصیبت آئی اور ان کی روح مجذوم ہو کر ہلاک ہو گئی۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز نے فرمایا: پس دیکھیں کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تسلی دلائی اور ضمانت دی ہے کہ تم جس چشمے کے قریب پہنچے ہو بیعت کر کے جس بات کا اقرار کیا ہے اگر اس سے پانی پیو گے فیض اٹھاؤ گے نہ صرف باتوں تک ہی رہو گے بلکہ عمل بھی کرو گے تو پھر تمہیں یہ ضمانت دی جاتی ہے کہ کبھی تمہاری روحانی ہلاکت نہیں ہو گی کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ہی قرآن کریم کے پیغام کو اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کو جاری کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔ فرمایا کہ پس اس بات کو سمجھ لو کہ صرف بیعت کافی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ عمل کو چاہتا ہے اور جو عمل کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے خالی نہیں رہتا۔ کبھی ہلاک نہیں ہوتا اور یہ عملی حالت اس وقت پیدا ہو گی جب اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ کا کلمہ تمہارے ظاہر و باطن کی آواز بن جائے گا۔ اللہ تعالیٰ سے زیادہ تمہیں کوئی محبوب نہ ہو اللہ تعالیٰ کی رضا کے علاوہ کسی چیز کی طلب نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے حکموں کی کامل اطاعت ہو۔ اب ہر ایک اس بات سے اپنے جائزے لے سکتا ہے کہ کیا جب ہم کلمہ پڑھتے ہیں تو کیا واقعی اللہ تعالیٰ ہمیں سب چیزوں سے زیادہ محبوب ہے اس کی رضا حاصل کرنا ہمارا مقصود ہے۔ واقعی ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں کی کامل اطاعت کر رہے ہیں۔ اگر نمازوں کے وقت ہمیں نمازیں پڑھنے کی طرف فوری توجہ نہیں ہوتی اگر ہم اپنا دنیوی کام چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی آواز پر فوری لبیک کہتے ہوئے نماز کے لیے حاضر نہیں ہوتے تو منہ سے تو کلمہ پڑھ رہے ہیں لیکن ایک مخفی شرک ہمارے دل میں ہے۔ ہمارے دنیاوی کاروبار خدا تعالیٰ کے مقابلے پر کھڑے ہیں۔ ایک مومن تو اس یقین پر قائم ہوتا ہے اور ہونا چاہیے کہ میرے کاروبار میں برکت میرے کام میں برکت اللہ تعالیٰ کے فضل سے پڑتی ہے اور پڑنی ہے اور پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میرے دنیوی کام اللہ تعالیٰ کی آواز کے مقابلے پر آ کر کھڑے ہو جائیں۔ اگر ایسا ہے تو ہم نے کلمہ کی روح کو سمجھا ہی نہیں۔ ہم منہ سے تو اقرار کر رہے ہیں لیکن ہمارے عمل ہمارے اقرار کا ساتھ نہیں دے رہے۔ ہم پانی کے چشمہ کے نزدیک تو آ گئے ہیں لیکن پانی پینے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھا رہے۔ پس آپ نے فرمایا اگر یہ صورتحال ہے تو پھر تو حق بیعت ادا نہیں ہوا۔ یہ کلمہ شہادت اس بات کی ہی تلقین نہیں کرتا اس بات کی ہی طرف توجہ نہیں پھیرتا کہ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو حقوق العباد کے ادا کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور حکم دیا ہے اس پر عمل کرنے کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے اور جب انسان یہ دو حقوق ادا کرتا ہے تو تب ہی حقیقی مومن بنتا ہے اور تبھی ایک حقیقی احمدی مسلمان بیعت کا حق ادا کرتا ہے۔ پھر آپ اپنی بیعت میں آنے والوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اگر دنیاداروں کی طرح رہو گے تو اس سے کچھ فائدہ نہیں کہ تم نے میرے ہاتھ پر توبہ کی۔ میرے ہاتھ پر توبہ کرنا ایک موت کو چاہتا ہے تا کہ تم نئی زندگی میں ایک اور پیدائش حاصل کرو۔ یعنی بیعت کرنے کے بعد تمہیں ایک نئی روحانی زندگی ملنی چاہیے۔ اگر وہ روحانی زندگی نہیں ملتی اور وہی مادی زندگی کی خواہشات اور ترجیحات ہیں تو پھر ایسی بیعت کچھ فائدہ نہیں دے گی۔ فرمایا بیعت اگر دل سے نہیں تو کوئی نتیجہ اس کا نہیں میری بیعت سے خدا دل کا اقرار چاہتا ہے پس جو سچے دل سے مجھے قبول کرتا ہے اور اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرتا ہے غفور الرحیم خدا اس کے گناہوں کو ضرور بخش دیتا ہے اور وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے نکلا ہے تب فرشتے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ بالکل معصوم ہو جاتا ہے۔ فرمایا کہ ایک گاؤں میں اگر ایک نیک آدمی ہو تو اللہ تعالیٰ اس نیک کی رعایت اور خاطر سے اس گاؤں کو تباہی سے محفوظ کر لیتا ہے لیکن جب تباہی آتی ہے تو پھر سب پر پڑتی ہے مگر پھر بھی وہ اپنے بندوں کو کسی نہ کسی نہج سے بچا لیتا ہے۔ سنت اللہ یہی ہے کہ اگر ایک بھی نیک ہو تو اس کے لیے دوسرے بھی بچائے جاتے ہیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز نے فرمایا: ابھی آتے ہوئے مجھے امیر صاحب نے یہ بھی بتایا کہ آج سے اٹھائیس سال پہلے آج کے دن ہی 14؍اکتوبر کو اس مسجد کا افتتاح بھی ہوا تھا اور یہ کھولی گئی تھی۔ یہ مسجد کو اب اٹھائیس سال ہو گئے ہیں۔ یہاں رہنے والے اس علاقے میں رہنے والے پرانے احمدی بھی نئے آنے والے بھی جائزہ لیں کہ ان اٹھائیس سالوں میں انہوں نے اپنی روحانیت میں کس حد تک ترقی ہے۔ کس حد تک اس مسجد کے حق کو ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ تعالیٰ آئندہ بھی کئی دہائیاں اور کئی صدیاں اس مسجد میں آنے والوں کو مہیا فرماتا رہے اور یہ ہر قسم کی دنیاوی آفات سے بھی بچی رہے لیکن اصل حق تبھی ادا ہو گا جب ہم مسجدوں کے حق ادا کرتے ہوئے انہیں آباد کرنے کی کوشش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ اس کی بھی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے اس خطبہ جمعہ کا مکمل متن حسب طریق علیحدہ شائع ہوگا۔ حضورِانور کا یہ خطبہ جمعہ MTA انٹرنیشنل کے ذریعہ براہِ راست ساری دنیا میں Live نشر ہوا۔ حضورِانور کا یہ خطبہ جمعہ دو بجے تک جاری رہا۔ بعدازاں حضورِانور نے نمازِجمعہ کے ساتھ نمازِعصر جمع کرکے پڑھائی۔

نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔

پروگرام کے مطابق 6 بجے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ ِ العزیز میٹنگ روم میں تشریف لائے جہاں نیشنل مجلسِ عاملہ خدام الاحمدیہ امریکہ کی حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز کے ساتھ میٹنگ شروع ہوئی۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دعا کے ساتھ میٹنگ کا آغاز فرمایا۔

سب سے پہلے نائب صدرمجلس نے اپنا تعارف کروایا۔ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار فرمانے پر نائب صدرصاحب نے عرض کیاکہ ان کے سپرد ریجنل قائدین، تعلیم، اطفال اور مال کے شعبہ جات کی نگرانی کرنا ہے۔ حضورانور کے استفسار پر نائب صدرصاحب نے عرض کیاکہ مختلف شعبہ جات کی رپورٹس پر متعلقہ مہتمم ہی تبصرے کرتاہے۔

اس کے بعد نائب صدر و مہتمم خدمت خلق نے اپنے شعبہ کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے عرض کیاکہ ہم بھوکوں کو کھاناکھلانے کے پراجیکٹ پر کام کررہے ہیں۔ اسی طرح فنڈریزنگ اور blood drives پر بھی کام کررہے ہیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دریافت فرمانے پر مہتمم خدمت خلق نے عرض کیاکہ ہم نے دورانِ سال دو لاکھ دس ہزار ڈالرز تنزانیہ میں ایک ہسپتال کے لیے اکٹھے کیے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی تیس ہزار ڈالرز اکٹھے کئے ہیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایاکہ پاکستان میں سیلاب زدگان کی امداد کے لیے بھی آپ نے پیسے دیے تھے؟ اس پر مہتمم صاحب نے عرض کیاکہ ہم نے پچیس ہزار ڈالرز یہاں پاکستانی ایمبیسی کو دیے تھے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسارپر کہ کیا آپ یہاں کسی چیریٹی کے لیے یا افریقہ کے کسی پراجیکٹ کے لیے بھی رقم اکٹھی کررہے ہیں ؟

اس پر مہتمم خدمت خلق نے عرض کیاکہ افریقہ کے کسی پراجیکٹ کے لیے تو سرِ دست رقم جمع نہیں کررہے تاہم ہم نے یہاں امریکہ کے لیے دس ہزار ڈالرز جمع کیے تھے اور ہمارے نیشنل اجتماع کے موقع پر پچاس ہزار افراد کو کھاناتقسیم کیاتھا۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے استفسارفرمایاکہ کیا آپ افریقہ میں کسی ماڈل ولیج کو سپانسر نہیں کرتے؟ اس پر مہتمم صاحب نے عرض کیاکہ سرِدست ہم کسی ماڈل ولیج کو سپانسر نہیں کررہے لیکن آئندہ کریں گے۔ اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایاکہ ایک ماڈل ولیج پر اندازاً 75 ہزار ڈالرز لگتے ہیں۔ آپ کو ماڈل ولیجز کی بھی فنڈنگ کرنی چاہیے۔

بعد ازاں مہتمم مال نے اپنے شعبہ کی رپورٹ پیش کی۔ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دریافت فرمانے پر مہتمم صاحب مال نے عرض کیاکہ اس سال خدام الاحمدیہ کا کل بجٹ 8 لاکھ 25 ہزار ڈالرز ہے۔ 2 ہزار 130 کمانے والے خدام ہیں جو کہ کل تجنید کا 52 فیصد بنتے ہیں۔ تاہم ہمارے بجٹ کا 48 فیصد سے زائد 805 خدام کی طرف سے دیے گئے چندہ پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ ایک ہزار 952 طالبعلم ہیں۔ طلبہ پانچ ڈالرز فی مہینہ کے حساب سے چندہ اداکرتے ہیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایاکہ اگر تمام خدام اپنی آمد کے بجٹ کے حساب سے چندہ اداکریں تو آپ کا کل بجٹ ڈیڑھ ملین تک جاسکتاہے۔

اس پر مہتمم مال نے عرض کیاکہ ہم اس ٹارگٹ کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔ انشاء اللہ۔

بعدازاں مہتمم صاحب تربیت نومبائعین نے اپنے شعبہ کی رپورٹ پیش کی کہ گزشتہ تین سال کے اندر بیعت کرنے والوں کے حساب سے خدام نومبائعین کی کل تعداد 92 ہے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دریافت فرمانے پر کہ یہ شادیوں کی وجہ سے احمدی ہوئے ہیں یا باقاعدہ لٹریچر پڑھ کر احمدی ہوئے ہیں۔ مہتمم صاحب نے عرض کیا کہ ان میں سے چند ایک ایسے بھی ہیں جو شادی کی وجہ سے احمدی ہوئے ہیں۔ لیکن ہم انہیں نو مبائعین میں ہی شامل کرتے ہیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دریافت فرمانے پر مہتمم صاحب نے عرض کیاکہ ہم نومبائعین کے لیے سالانہ اجتماع کا انعقاد کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ہفتہ وار سیشن بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: سال میں ایک مرتبہ یا دو مرتبہ اجتماع کرلینا کافی نہیں ہے۔ صرف ایک دو اجتماعات سے ان کی تربیت ممکن نہیں ہوسکتی یا تربیت کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ ان کے لیے باقاعدگی کے ساتھ پروگرامز منعقد ہونے چاہئیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:جن نومبائعین کا مسلم بیک گراؤنڈ نہیں ہے، انہیں سورہ فاتحہ مع ترجمہ آنی چاہیے۔

اس کے بعد حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مہتمم صاحب وقارِ عمل سے دریافت فرمایاکہ آپ سال میں کتنے وقارِ عمل کرلیتے ہیں۔ اس پر مہتمم صاحب نے عرض کیاکہ نیشنل لیول پر جلسہ سالانہ اور نیشنل اجتماع کے موقع پر وقارِ عمل کیے جاتے ہیں جبکہ لوکل لیول پر کافی تعداد میں وقارِ عمل کیے جاتے ہیں۔

مہتمم صاحب نے مزید عرض کیاکہ اس سال چونکہ Covid ختم ہورہاہے، اس لیے ہم نے مساجد کو deep clean کیاہے۔ مساجد کی اندر سے بھی صفائی کی ہے اور باہر سے بھی مساجد کو دھویاہے۔

بعد ازاں مہتمم صاحب صحت جسمانی نے اپنا تعارف کروایا۔ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر انہوں نے بتایاکہ یہاں نیشنل لیول پر باسکٹ بال کافی کھیلا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ والی بال بھی کھیلا جاتا ہے۔

بعدازاں مہتمم صاحب صنعت و تجارت نے اپنے شعبہ کی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نےکہاکہ اس وقت ہم دو چیزوں پر کام کررہے ہیں۔ ایک تو یہ کہ کالج کے طلبہ کو internshipکے ذریعہ ملازمت تلاش کرنے میں معاونت کر رہے ہیں۔ دوسری چیز ہم نے یہ شروع کی ہے کہ ایسے خدام جن کو ملازمت سے کم تنخواہیں مل رہی ہیں، ان کو ذاتی کاروبار شروع کروانے میں مدد کررہے ہیں۔

اس کے بعد مہتمم صاحب اشاعت نے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار فرمانے پر عرض کیا کہ مجلس خدام الاحمدیہ کا سہ ماہی رسالہ ’مجاہد‘ باقاعدگی سے شائع ہورہاہے۔اس کے علاوہ دورانِ سال ایک کتاب ’Understanding Salat‘ کے عنوان سےمکمل ہوئی ہے۔ اس کے 267 صفحات ہیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے استفسار فرمایاکہ آپ کے میگزین میں باقاعدہ کتنے لکھنے والے ہیں۔ اس پر مہتمم اشاعت نے عرض کیاکہ لکھنے والوں کی تعداد دس سے کم ہے۔

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: چار ہزار کی تجنید میں سے صرف دس لکھنے والے ہیں؟ آپ کو مزید رائٹرز تلاش کرنے چاہئیں۔ میرے نزدیک آپ کے پاس potential موجود ہے۔

بعدازاں مہتمم صاحب تجنید نے اپنا تعارف کروایا اور حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار فرمانے پر عرض کیاکہ امریکہ میں کل تجنید 5 ہزار 448 ہے جس میں سے 4082 خدام ہیں اور اطفال کی تعداد 1366 ہے۔ 11 ریجن ہیں اور 57 مجالس ہیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر موصوف نے عرض کیاکہ لوکل مجالس اپنی تجنیدکے متعلق ہمیں رپورٹس بھجواتی ہیں اور ہم اس کے مطابق تجنید کو اپ ڈیٹ کرتے ہیں۔ ہمارے پاس اپنا ڈیٹا بیس ہے۔ ہم جماعت کے ساتھ بھی اس کو چیک کرتے ہیں۔

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آپ کو جماعت کے ڈیٹا بیس پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ آپ کا اپنا ایک ڈیٹابیس ہونا چاہیے۔آپ کو چاہیے کہ آپ جماعت کو معلومات فراہم کریں۔

بعدازاں مہتمم امورِ طلباء نےحضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار فرمانے پر عرض کیاکہ ان کے ریکارڈ میں طلبہ کی کُل تعداد 1952 ہے اور اس میں سے 607 یونیورسٹی کے طالبعلم ہیں۔ ہائی سکول کے طلبہ 912 ہیں۔ گریجوایٹس کی تعداد 370 ہے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دریافت فرمانے پر مہتمم امورِ طلبہ نے بتایاکہ دورانِ سال انہوں نے 8 سیمینارز کا انعقاد کیاہے۔ یہ سیمینارز مختلف عناوین پر ہوتے رہے ہیں، جیسے کس طرح بہترین میڈیکل سکول یا لاء سکول وغیرہ تلاش کیاجاسکتاہے۔ اسی طرح S.A.T اور A.C.T کے امتحانات کے حوالہ سے بھی سیمینارز کیے گئے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایاکہ آپ اسلام کی تاریخ یا اسلام کی تعلیمات کے تعارف جیسے عناوین کا بھی انتخاب کرسکتے ہیں۔ اسی طرح سوشل سائنسز اور سائنس کے دیگر شعبہ جات کے موضوعات کا انتخاب کرکے سیمینار رکھ سکتے ہیں جس میں احمدیوں کے علاوہ دیگر طلبہ کو بھی مدعو کیاجاسکتاہے۔ اس میں غیر احمدی سکالرز اور پروفیسرزکو بھی مدعوکیاجاسکتاہے کہ وہ ان سیمینارز میں اپنا لیکچر پیش کریں۔

اس کے بعد مہتمم صاحب مقامی نے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر عرض کیاکہ مقامی ریجن میں 344 خدام ہیں اور یہ ریجن 35 میل radius پر مشتمل ہے۔

بعدازاں مہتمم عمومی نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ نمازِ جمعہ پر مساجد میں خدام کی سیکیورٹی موجود ہوتی ہے۔ آجکل بھی خدام سیکیورٹی کی ڈیوٹیاں دے رہے ہیں۔

اس کے بعد ایڈیشنل مہتمم تربیت (برائے رشتہ ناطہ) نے اپنا تعارف پیش کیا۔ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایاکہ یہ شعبہ نیا قائم ہواہے؟ اس پر صدرصاحب مجلس خدام الاحمدیہ نے عرض کیاکہ یہ شعبہ گذشتہ سال قائم کیاگیاتھا۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسارفرمانے پر موصوف نے بتایاکہ ہم نے امسال اجتماع کے موقع پر رشتہ ناطہ کے حوالہ سے ایک Talk رکھی تھی۔ باقی کونسلنگ وغیرہ تو جماعت کے لیول پر ہوتی ہے۔ تاہم ہم کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ خدام رشتہ ناطہ کے ڈیٹابیس میں اپنے آپ کو رجسٹرڈ کریں۔

بعدازاں محاسب نے اپنا تعارف پیش کیا۔ اس کے بعد ریجنل قائد ین نے اپنے اپنے ریجن کا تعارف کروایا۔اس کے بعد معاون صدر صاحب نے اپناتعارف کرواتے ہوئے عرض کیاکہ مجھے صدرصاحب مجلس خدام الاحمدیہ نے اجتماع وغیرہ کے لیے زمین خریدنے کا کام سپرد کیاہواہے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار فرمانے پر انہوں نے عرض کیاکہ اس وقت ایک 88 ؍ایکڑ زمین کا رقبہ خریدنے کی بات چل رہی ہے جس کی قیمت ساڑھے سات لاکھ ڈالرز کے قریب ہے۔ اس میں سے 12؍ایکڑ زمین کمرشل ہے جبکہ 68 ایکڑ residential ہے۔ وہاں پر اجتماعات منعقد کرنے کی اجازت ہوگی۔

اس کے بعد ایک اور معاون صدرنے اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے کہاکہ ان کے سپرد event management کا کام ہے۔ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار فرمانے پر انہوں نے عرض کیاکہ جو eventsنیشنل لیول پر منعقد ہوتے ہیں جس میں اجتماع اور شوریٰ وغیرہ شامل ہیں، ان کو آرگنائز کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سرائے خدمت کی دیکھ بھال کرنا بھی میری ذمہ داری ہے۔

بعدازاں مہتمم صاحب تبلیغ نے اپنا تعارف پیش کیا اور حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار فرمانے پر عرض کیاکہ اس وقت ہم دو چیزوں پر کام کررہے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ان خدام کو تبلیغی کاموں میں لگایاجائے جنہیں تبلیغ کرنے کی عادت نہیں ہے۔ انہیں فلائرز وغیرہ تقسیم کرنے میں شامل کیاجائے۔ دوسری چیز یہ ہے کہ داعیان الی اللہ کو کہاجائے وہ اپنے حلقہ احباب کو مسجد میں لےکرآئیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار فرمانے پر مہتمم تبلیغ نے عرض کیاکہ گذشتہ سال ہم نے 13 ہزار 629 فلائرز تقسیم کیے ہیں۔

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایاکہ سارے سال میں صرف 13 ہزار فلائرز تقسیم ہوئے ہیں۔ آپ کی کل تجنید 4 ہزار ہے۔ اس حساب سے تین فلائرز فی خادم بنتے ہیں۔ کم از کم 10 فلائرز فی خادم ہونے چاہئیں۔ اس سے کم از کم چالیس ہزار فلائرز تقسیم ہوجائیں گے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دریافت فرمانے پر مہتمم تبلیغ نے عرض کیاکہ گذشتہ سال براہِ راست خدام الاحمدیہ کے ذریعہ ہونے والی بیعتوں کی کل تعداد 22 تھی۔ بیعت کرنے والوں کی عمریں مختلف ہیں، تاہم ان کو تبلیغ کرنے والے خدام ہی ہیں۔

بعدازاں مہتمم تربیت نے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار فرمانے پر عرض کیاکہ Covid کی پابندیاں کم ہورہی ہیں۔ اس لیے ہم باجماعت نماز کی ادائیگی کی طرف خاص توجہ دے رہے ہیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:آپ کی نیشنل عاملہ کے 37 ممبران ہیں۔ اسی طرح ریجنل عاملہ ہے، پھر لوکل عاملہ ہیں۔ اگر ہر لیول پر عاملہ کے تمام ممبران باقاعدگی سے باجماعت نماز اداکرنےلگ جائیں تو حاضری میں کافی اضافہ ہوجائے گا۔ اس لیے سب سے پہلے آپ کو عاملہ ممبرز پر خاص توجہ دینی ہو گی۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دریافت فرمایا کہ گزشتہ سال آپ نے کیا achieve کیاہے؟

اس پر مہتمم صاحب نے عرض کیاکہ سروے کے مطابق پنجوقتہ نماز اداکرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہواہے۔ اس کے علاوہ ہم نے خلافت کی حفاظت اور خلافت کی برکات کے حوالہ سے webinars کا بھی انعقاد کیا ہے۔

حضورانور اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:سب سے بنیادی چیز نماز ہے۔ اس پر خاص توجہ دیں۔ اگر خدام کاموں کی وجہ سے ظہر اور عصر پر نہیں آسکتے، تو فجر، مغرب اور عشاء کی باجماعت ادائیگی کی طرف خاص توجہ دیں۔ اس کے بعد قرآن کریم ہے۔ روزانہ قرآن کریم کی تلاوت ہونی چاہیے۔ عاملہ کے تمام ممبران کو باقاعدگی کے ساتھ روزانہ تلاوت قرآن کریم کرنی چاہیے اور پھر اس کا ترجمہ بھی پڑھیں اور سیکھیں۔ باقی چیزیں اس کے بعد آتی ہیں۔

اس کے بعد مہتمم صاحب تعلیم نے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسارفرمانے پر عرض کیاکہ گذشتہ سال مطالعہ کے لیے جو کتب رکھی گئی تھیں ان میں ایک کتاب ’برکات الدعاء‘ تھی۔ الحمدللہ تمام عاملہ نے اس کتاب کا مطالعہ کیا۔ اس کےعلاوہ 214 دیگر خدام نے اس کا مطالعہ کیا۔ اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایاکہ 4 ہزار میں سے صرف 214 خدام نےاس کتاب کامطالعہ کیاہے۔ یہ تو آدھافیصد بنتاہے۔ کم از کم 20 فیصد ہونے چاہئیں۔

بعدازاں مہتمم صاحب اطفال نے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دریافت فرمانے پر عرض کیاکہ اس وقت ہمارا main focus یہی ہے کہ دوبارہ باقاعدگی کے ساتھ اطفال کلاسز کا اجرا ہو۔ کوشش ہے کہ ہرمجلس میں کم ازکم ہفتہ وار کلاس کا اجرا ہوجائے یا ہفتہ میں دومرتبہ کلاسز ہوں۔ ان کلاسز میں 78 فیصد اطفال شامل ہورہے ہیں۔ اسی طرح ہم نے ریجنل اور لوکل سطح پر اطفال کے اجتماعات منعقد کیے ہیں۔

بعدازاں معتمد صاحب نے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کےاستفسار فرمانے پر عرض کیا کہ اوسطاً 57 مجالس میں سے 51 مجالس باقاعدگی سے اپنی رپورٹس بھجواتی ہیں۔ اعتماد کے شعبہ کی طرف سے صرف معتمدین کی رپورٹس پر feedback بھجوائی جاتی ہے۔ باقی بعض مہتممین اپنے اپنے شعبہ کی رپورٹس پر فیڈ بیک دیتے ہیں اور بعض نہیں دیتے۔

اس کے بعد معاون صدر برائے وصیت نے اپنی رپورٹ پیش کی کہ دورانِ سال 119 وصیتیں ہوئی ہیں۔ اور کل موصیان کی تعداد 865 ہے۔ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:کوشش کریں کہ جو کمانے والے خدام ہیں وہ بھی وصیتیں کریں۔

بعدازاں معاون صدربرائے I.T نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ خدام الاحمدیہ کا ITسسٹم ان کی ذمہ داری ہے۔

اس کے بعد مجلس انصار سلطان القلم کے چیئرمین نے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر عرض کیاکہ گذشتہ سال کے دوران ہمارے پاس 24 لکھنے والے تھے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:مزید لکھنے والے تلاش کریں۔ اپنے لکھنے والوں سے کہیں کہ وہ خدام الاحمدیہ کے رسالہ میں بھی مضامین لکھاکریں۔

اس کے بعد معاون صدر برائے سوشل میڈیا و پریس نے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسارفرمانے پر عرض کیاکہ وہ براہِ راست صدرمجلس سے guidance لیتے ہیں۔ ہم خدام الاحمدیہ کی مختلف مجالس کی activities وغیرہ کو سوشل میڈیا پر ڈالتے ہیں۔ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے ملنے والی ہدایات کو بھی سوشل میڈیا پر ڈالا جاتاہے۔ اسی طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کو بھی سوشل میڈیا پر ڈالاجاتاہے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دریافت فرمایاکہ مخالفین بھی سوشل میڈیا پر جماعت کے خلاف اعتراضات کرتے رہتے ہیں۔ کیا آپ ان کا بھی جواب دیتے ہیں؟

اس پر معاون صدر نے عرض کیاکہ ہم براہِ راست ان کا جواب تو نہیں دیتے لیکن ہم نے اس قسم کا مواد ڈالاہے جس میں بتایاگیاہے کہ اسلام احمدیت کیا چیز ہے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:یہ جو جماعت کے خلاف اعتراضات کرتے ہیں، ان کے جوابات دینے کے لیے آپ مجلس انصارسلطان القلم سے بھی معاونت لے سکتے ہیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آئندہ سال کی مجوزہ مجلس عاملہ کے بارہ میںاستفسار فرمایا۔ اس پر صدر صاحب نے عرض کیاکہ کل ہی مجوزہ مجلس عاملہ بغرضِ منظوری بھجوائی ہے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:جو بھی نئے مہتممین مقرر ہوئے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنے اپنے شعبہ جات میں محنت سے کام کریں اور جو دوبارہ منتخب نہیں ہوئے انہیں بھی چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو معاونت کے لیے پیش کریں اور جو بھی آپ کو تجربہ ہواہے وہ ان کے ساتھ شیئر کریں تاکہ نئے مہتممین اپنی کارکردگی میں بہتری پیداکرنے والے ہوں۔

اس کے بعد مہتمم وقارِ عمل نے عرض کیاکہ ہم نے ’شجرکاری‘ کی مہم شروع کی ہے لیکن کچھ عرصہ سے خدام اس میں بھرپور طریق پر حصہ نہیں لے رہے۔بعض کہتے ہیں کہ ان کے پاس گھر میں درخت لگانے کی کوئی جگہ نہیں ہے یا ان کے قریب شجرکاری کا پروگرام نہیں ہوتا۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:ایسے خدام کو climate change کے اثرات کا صحیح طرح ادراک نہیں ہے۔ یہاں امریکہ میں تو وسیع و عریض زمین ہے۔ کہیں بھی باہر جاکر درخت لگاسکتے ہیں۔ ہرخادم کو چاہیے کہ وہ سال میں تین سے دس درخت لگائے۔ اس طرح آپ لوگ 12 ہزار سے لےکر 40 ہزار تک درخت ایک سال میں لگاسکتے ہیں اورشجر کاری میں یہ آپ کی طرف سے اچھا خاصہ حصہ ہوگا۔ حکومت بھی اس کو سراہے گی۔ آپ Forest Department سے بھی اس حوالہ سے معلومات لے سکتے ہیں۔ اسی طرح مشن ہاؤسز کے قریب بھی جہاں جہاں جگہیں ہیں، وہاں درخت لگانے چاہئیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:خدام کو شجرکاری کی اہمیت کا احساس دلائیں۔ انہیں بتائیں کہ دنیا climate change کی وجہ سے مصائب کا شکار ہے۔میرا خیال ہے اگر انہیں اس بات کا احساس ہوجائے تو وہ ضرور آپ کی مدد کریں گے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اگرلوکل سطح پر ناظمین متحرک ہوں تو آپ اس میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ آپ کو پیچھے پڑنا پڑے گا۔ خاص توجہ دینی پڑے گی۔ ایسے فعال خدام کی ٹیم بنائیں جو کہ شجرکاری یا اس فیلڈ میں دلچسپی رکھتے ہوں۔

بعد ازاں نائب صدر صاحب نے عرض کیاکہ لوکل سطح پر قائدین کو کیسے متحرک کیاجاسکتاہے۔ ہم سال کے شروع میں قائدین کانفرنس تورکھتے ہیں۔ لیکن اس کو مزید کیسے بہتر کیاجاسکتاہے؟ اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:سال میں ایک مرتبہ تو کافی نہیں ہے۔ سہ ماہی بنیادوں پرمختلف ریجنز میں مستقل طور پرقائدین کی ٹریننگ کے لیے میٹنگز یا سیمینارز ہونے چاہئیں۔ ہر ریجن میں علیحدہ کانفرنس ہونی چاہیے۔ اگر سال میں ایک کانفرنس بھی رکھنی ہے تو ہر ریجن سے سارے قائدین تو اس میں شامل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے ہر ریجن کے قائدین کے لیے علیحدہ کانفرنس ہونی چاہیے۔ اسی طرح اجتماع پر یا جب بھی آپ چاہیں ایک نیشنل لیول پر بھی کانفرنس رکھی جاسکتی ہے۔ اس طرح آپ ان کی تربیت کرسکتے ہیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: نیز ان کی باقاعدگی کے ساتھ راہنمائی کریں۔ جب ان کی رپورٹس آتی ہیں تو ان پر ان کو باقاعدہ guidance جانی چاہیے۔ اس طرح جب وہ اپنی رپورٹس میں کمزور ی یا کمی دیکھیں گے تو انہیں علم ہوگاکہ ہم نے اس کو کس طرح بہتر کرناہے۔ پس ان کی رپورٹس پر مستقل بنیادوں پر باقاعدہ تبصرے جانے چاہئیں۔ وہ ان تبصروں کو دیکھیں گے، اس سے ان کو مدد ملے گی۔

مہتمم اطفال نے عرض کیاکہ خدام الاحمدیہ کے دستورِ اساسی میں ہر شعبہ کا لائحہ عمل موجود ہے جبکہ اطفال الاحمدیہ کے شعبہ جات کا لائحہ عمل نہیں ہے۔

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اس طرح شاید واضح طور پر تو نہیں لکھاہوا۔ لیکن آپ حالات کے مطابق متعلقہ سیکرٹریان کو ڈیوٹیز دے سکتے ہیں۔ ان کے بھی وہی شعبہ جات ہیں جو خدام الاحمدیہ کے ہیں۔ آپ خدام الاحمدیہ کے دستورِ اساسی سے مدد لے سکتے ہیں اور متعلقہ سیکرٹریان کو بتاسکتے ہیں کہ یہ آپ کی ذمہ داریاں ہیں یا یہ آپ کے کام ہیں اور اس طرح آپ نے کام کرنے ہیں۔ اور پھر باقاعدہ ان کی رپورٹس پر تبصرے کریں۔ عملاً تو تقریباً وہی شعبہ جات ہیں جو خدام الاحمدیہ کی عاملہ کے پاس ہوتے ہیں۔ اس لیے اس کی outline تو پہلے سے موجود ہے۔ آپ اس کو فالو کرسکتے ہیں۔

میٹنگ کے آخر پر صدرصاحب خدام الاحمدیہ نے مجلس عاملہ کے ممبران کی حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ تصویر بنوانے کی درخواست کی تھی۔ چنانچہ میٹنگ کے اختتام پر نیشنل مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ امریکہ کو حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ گروپ فوٹو بنوانے کاشرف حاصل ہوا۔

یہ میٹنگ چھ بج کر 55 منٹ پر ختم ہوئی۔

بعد ازاں سات بجے نیشنل مجلس عاملہ انصار اللہ امریکہ کی حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز کے ساتھ میٹنگ شروع ہوئی۔ حضور ِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے دعا کے ساتھ میٹنگ کا آغاز فرمایا۔

میٹنگ کے آغاز میں انصار اللہ نے ایک موبائل ایپ کا تعارف پیش کیا جس کے ذریعہ انصار ممبران اپنی رفتار کے مطابق قرآنِ کریم اور ترجمہ سیکھ سکتے ہیں۔ انصار اللہ کے ساتھ دیگر فیملی ممبران بھی اس سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ مختلف سوال و جواب بھی دیے گئے ہیں، جن کے ذریعہ لوگ قرآنِ کریم کے بارے میں اپنا فہم بڑھا سکتے ہیں۔

صدر صاحب انصار اللہ نے عرض کیا کہ ہمارا ٹارگٹ ہے کہ اس میں ایک ہزار سوالات شامل کر لیے جائیں۔ اب تک اس میں ساڑھے سات سو سوالات ہیں۔ ان سوالات کے تحت دیگر تفاسیر کے مختلف ریفرنسز بھی دیے گئے ہیں۔ ہماری ریسرچ ٹیم اس حوالہ سے کام کررہی ہے۔

اس موبائل ایپ کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ انصار ممبران اپنے بچوں کو قرآنِ کریم کی طرف توجہ دلائیں۔ مقابلہ کی روح قائم کرنے کے لیے ایک leader board بھی قائم کیا گیا ہے، جس میں مختلف فیملی ممبران اور دوست وغیرہ شامل کیے جاسکتے ہیں۔ جس قدر کوئی سوالات کے جواب دے گا، اس کا نام leader boardپر اتنا ہی اوپر جائیگا۔ اسی طرح جس کے نمبر زیادہ ہوں گے اسے Badges بھی ملیں گے۔ یہ موبائل ایپ الاسلام پر موجود قرآنِ کریم کے سرچ انجن سے منسلک ہے۔ بعد ازاں اس موبائل ایپ کا demo پیش کیا گیا۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا کہ؛بچے تو بہت ذہین ہوتے ہیں، ذہن میں بہت سے سوالات پیدا ہوتے رہتے ہیں، اگر ان کے ذہن میں پیدا ہونے والا سوال اس پر موجود نہ ہوا تو انہوں نے کہنا ہے کہ اس کا جواب ہی نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس پر فیڈ بیک حاصل کریں اور مزید موصول ہونے والے سوالات کو شامل کرتے رہیں۔

اس حوالہ سے عرض کیا گیا کہ آئندہ اس موبائل ایپ میں یہ بھی ایک سہولت ڈال دی جائے گی کہ اس پر سوال پوچھے جاسکیں۔ انشاء اللہ

اس کے بعد انصار اللہ کی طرف سے ایک موبائل گیم ایپ کا تعارف پیش کیاگیا۔ اس موبائل ایپ کا نام ’Tobaa۔Game‘ رکھا گیا ہے۔ اس میں فیملی اور بچوں کے لیے دلچسپ انداز میں اسلامی اصطلاحات استعمال کرکے انہیں عام کیا جائیگا۔ یہ ایک ’لفظ تلاش کرنے والی گیم‘ ہے۔ ایک ٹیم اس پر کوئی لفظ ذہن میں لا کر پیش کرے گی اور دوسری ٹیم اس لفظ کو تلاش کریں گے۔ اس حوالہ سے بعض اشارے بھی دیں گے۔ مثلاً صلوٰۃ، زکوٰۃ، نبوت، کسی مذہب کا نام، کسی نبیؑ کا نام، وغیرہ۔ کوئی بھی نام سوچا جاسکتا ہے اور اس لفظ کو دیکھے بغیر اس تک پہنچنا ہے۔ اس میں timer بھی ہے۔ اس موبائل گیم کا اصل مقصد یہ ہے کہ انصار اپنے گھروں میں دیگر فیملی ممبران سے مل کر یہ گیم کھیلیں تاکہ اچھے اور دلچسپ انداز میں بچوں کو اسلامی اصطلاحات سمجھ آجائیں۔

بعد ازاں حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز کو اس موبائل گیم کا demo پیش کیا گیا۔ اس demo میں پہلی ٹیم نے لفظ ’اسلام‘ سلیکٹ کیا تھا۔ دوسری ٹیم نے مختلف سوالات کرکے اس تک پہنچنا ہے۔

اس کے بعد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز کی خدمت میں مجلس انصار اللہ کے رسالہ ’النحل‘ کا سالانہ شمارہ پیش کیا گیا۔ جس میں تمام سال کی مساعی کو تصویری شکل میں پیش کیا گیا تھا۔

اس پریزنٹیشن کے بعد نائب صدر صفِ اوّل نے اپنا تعارف پیش کیا۔ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا کہ آپ کسی خاص شعبہ کی نگرانی کرتے ہیں۔

اس پر نائب صدر صفِ اوّل نے عرض کیاکہ میرے سپرد تمام ناظمینِ اعلیٰ کی نگرانی ہے۔ اس کے علاوہ ناظمینِ اعلیٰ اور زعماء کی جانب سے موصول ہونی والی رپورٹس کو چیک کرنا اور ان پر تبصرے بھجوانا بھی خاکسار کے ذمہ ہے۔

اس کے بعد نائب صدر صفِ دوم سے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے دریافت فرمایا کہ آپ کے صفِ دوم کے انصار کتنے ہیں۔

اس پر موصوف نے عرض کیا کہ 2ہزار 294 انصار ہیں، جو کہ کل انصار کا 55فیصد بنتے ہیں۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا ؛اس کا مطلب ہے کہ نوجوان انصار زیادہ ہیں۔ پھر آپ کی مجلس بہت فعال ہو گی۔اس پر نائب صدر نے عرض کیاکہ اس کے باوجود تمام مقابلہ جات میں ہمارے صفِ اوّل کے انصار آگے ہیں۔

جب حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نےاس کی وجہ دریافت فرمائی تو اس پر نائب صدر نے عرض کیا کہ ان کے پاس وقت زیادہ ہوتا ہے۔

حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے فرمایا؛یہ تو بہانے ہیں۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا ؛آپ کا صفِ دوم کے انصار کے لیے کیا پلان ہے؟نائب صدر برائے صفِ دوم نے عرض کیا کہ جو ہماری آخری ورچوئل میٹنگ ہوئی تھی، اس میں حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مختلف کھیلوں کے پروگرام رکھنے کا ارشاد فرمایا تھا۔ اس حوالہ سے ہم نے مختلف پروگرام رکھے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک پروگرام 40+ Fit کے نام سے رکھا گیا ہے۔ ہر ماہ اس حوالہ سے باقاعدہ پلان دیا جاتا ہے۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا ؛آپ میں سے کتنے انصار سائیکلنگ کرتے ہیں۔ اس پر عرض کیا گیا کہ باقاعدہ سائیکلنگ کرنے والے 15سے 20 فیصد سے کم ہوں گے۔ لیکن باقاعدگی سے ورزش کرنے والوں کی تعداد 30فیصد تک ہے۔ اس پرحضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا؛ آپ کو سائیکلنگ کی طرف بھی توجہ دلانی چاہیے اور کراس کنٹری سائیکل ریس کے پروگرام رکھیں یا کم از کم سائیکل ٹور رکھیں، مثلاً یہاں سے ڈیلس تک کا سفر رکھ لیں۔ دو ہزار کلو میٹر ہو گا، کتنا سفر ہے؟اس پر عرض کیاگیا کہ قریباً 13 سو کلومیٹر ہے۔ اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛ کوئی بات نہیں۔ ہوسکتا ہے۔ حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ یہاں سے Pittsburgh کتنا سفر ہو گا۔عرض کیا گیا کہ Pittsburgh کا فاصلہ 300 میل سے کم ہوگا۔

اس پر حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا؛ ٹھیک ہے۔ آغاز میں آپ یہاں سے Pittsburgh تک کا سفر رکھ لیں۔ اسی طرح مختلف ریجنز میں رکھیں، مثلاً Seattle سے دو سو میل کا کوئی مقام دیکھ لیں۔ اسی طرح لاس اینجلس سے۔ مختلف ریجنز میں پروگرام رکھے جاسکتے ہیں۔ آجکل یوکے انصار کا ایک گروپ یوکے سے ہالینڈ گیا ہوا ہے۔ وہ پانچ سو میل کا سفر کررہے ہیں۔ تویہ کوئی مشکل کام نہیں ہے، جو میں آپ کو دے رہا ہوں۔ گزشتہ ماہ یہ فرانس گئے تھے اور قریباً 350 میل کیے تھے۔ نائب صدر صفِ دوم کو فعال ہونا پڑے گا، فعال ہیں تو ایسے پروگرام آرگنائز کریں۔

بعد ازاں ایک دوسرے نائب صدر صفِ اوّل نے اپنا تعارف پیش کیا۔ اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛ کہ آپ کے سپرد کوئی خاص ذمہ داری کی گئی ہے؟اس پر موصوف نے عرض کیا کہ خاکسار قائد ایثار کا ’انصار سکالرشپ پروگرام‘ جوگذشتہ 13سال سے جاری ہے، اس میں معاونت کررہا ہے۔ اسی طرح صدر مجلس نے خاکسار کو ڈاکٹر یوسف لطیف سکالر شپ کا چیئر مین مقرر کیا ہے، جو کہ ہم نے اس سال ہی شروع کی ہے۔ حضورِ انور کے دریافت فرمانے پر کہ یہ سکالر شپ کس کو دیا جاتا ہے؟ موصوف نے عرض کیا کہ یہ کالج کے طلبہ کے لیے ہے۔ یہاں لوکل امریکن (مقامی احمدی) طلبہ کو دیا جاتا ہے۔

بعد ازاں معاون صدر برائے آئی ٹی نے اپنا تعارف پیش کیا۔ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ کیا آپ انصار اللہ کے تمام آئی ٹی پروگرام چلاتے ہیں۔ موصوف نے عرض کیا کہ وہ اکثر پروگرام چلانے میں معاونت کرتے ہیں۔ Tobaa Game شعبہ تعلیم کے تحت شروع کی گئی ہے۔

اس کے بعد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے قائد تبلیغ سے اُن کے پلان کے حوالہ سے استفسار فرمایا۔ اس پر قائد تبلیغ نے عرض کیا کہ ہماری توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ انصار باہر نکلیں اور گروپ تبلیغی پروگرام کریں۔

حضورِ انور نے فرمایا؛کتنے آرگنائزڈ تبلیغ گروپ ہیں؟ اور کتنا لٹریچر تقسیم کیا ہے؟ موصوف نے عرض کیا کہ مجالس سے ماہانہ رپورٹس حاصل کرتے ہیں۔ لٹریچر کے لیے کوئی معین تعداد کا علم نہیں ہے۔ لیکن ہم آئندہ سے یہ سوال بھی رپورٹ میں شامل کرلیں گے۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا کہ ٹھیک ہے، لٹریچر، لیف لیٹس وغیرہ کی مختلف ریجنز میں تقسیم آرگنائز ہونی چاہیے۔ اگر آپ کے منتظمینِ تبلیغ فعال ہوں تو وہ اپنے اپنے ریجنز میں آرگنائز کرسکتے ہیں۔

بعد ازاں قائد مال سےحضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سالانہ بجٹ کے حوالہ سے استفسار فرمایا۔ قائد مال نے بتایا کہ سالانہ بجٹ 1.3 ملین یوایس ڈالرز ہے۔ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے استفسار پر قائد مال نے عرض کیا کہ ہمارے اکثر ممبران کمانے والے ہیں، لیکن اس حوالہ سے معین تعداد علم میں نہیں ہے۔ انصار اللہ کی کل تعداد 4ہزار 185 ہے۔ اس پر حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا؛صفِ دوم افراد 55فیصد ہیں۔ اور صفِ اوّل میں بھی 80 فیصد کمانے والے انصار ہوں گے۔ تو کُل کمانے والے ساڑھے تین ہزار انصار ہونے چاہئیں۔ حضورِ انور نے قائد مال سے دریافت فرمایا کہ کیا وہ چندہ وصولی سے مطمئن ہیں؟ اس پر قائد مال نے عرض کیا کہ اس میں بہتری کی گنجائش ہے۔ گذشتہ سال چندہ ادا کرنے والوں کی تعداد اڑھائی ہزار کے قریب تھی۔

حضور ِ انور نے فرمایا؛کیا آپ کو یہ تسلی ہے کہ آپ کے چندہ دہندگان، باقاعدہ شرح کے ساتھ چندہ ادا کررہے ہیں؟

قائد مال نے عرض کیا کہ کچھ تعداد ایسی ہے، جو باشرح چندہ ادا نہیں کرتے۔ اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛یہ تعداد پچاس فیصد ہو گی؟قائد مال کے عرض کرنے پر کہ اس کا تعین بہت مشکل ہے۔ حضورِ انور نے فرمایا کہ کیوں مشکل ہے۔ اس پر موصوف نے عرض کیاکہ چونکہ ہمیں ان کی اصل انکم کا اندازہ نہیں ہے، اس لیے اس کا تعین مشکل ہے۔اس پر حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا؛جو انہوں نے اپنی انکم لکھوائی ہوئی ہے، اس کے مطابق پوچھ رہا ہوں۔ جس طرح وہ سٹیٹمنٹ میں اپنی انکم بتاتے ہیں، تو اس کے مطابق ان پر اعتبار کریں۔

بعد ازاں قائد تجنید سے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے تجنید کے حوالہ سے رپورٹ طلب فرمائی۔ موصوف نے عرض کیا انصار کی کل تعداد 4ہزار 185 ہے۔ یہ جماعت کا آن لائن سسٹم ہے، جو ہم شیئر کرتے ہیں۔اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛جماعت کے AIMS ڈیٹا پر انحصار نہ کیا کریں۔ اپنا ڈیٹا اکٹھا کریں۔ قائد تجنید نے عرض کیا کہ مجلس انصار اللہ کا اپنا ڈیٹا بیس ہے اور ہم اسے الگ سے maintain کرتے ہیں۔ اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛اس ڈیٹا میں آپ کی اپنی الگ انفارمیشن ہے، جو آپ نے مجالس سے اکٹھی کی ہوئی ہے؟اس پر قائد تجنید نے عرض کیا کہ تمام مجالس کو ہمارے سسٹم تک رسائی ہے اور وہ اس میں متعلقہ ڈیٹا ڈالتے رہتے ہیں۔ اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛ کیا آپ کا منتظم یہ انفارمیشن اکٹھی کرنے کے لیے گھر گھر وزٹ کرتا ہے؟اس پر قائد تجنید نے عرض کیا کہ ہم سال میں دو مرتبہ تجنید ڈیٹا اَپ ڈیٹ کرتے ہیں اور ہمارا ٹارگٹ یہ ہوتا ہے کہ ہم ہر ناصر تک پہنچیں۔

بعد ازاں ناظم اعلیٰ شکاگو ریجن نے اپنا تعارف کروایا۔ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ اس ریجن میں کتنے انصار ہیں۔موصوف نے عرض کیاکہ تمام ریجن میں 345 انصار ہیں۔

بعد ازں ناظمِ اعلیٰ مِڈ ویسٹ ریجن سے حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ آپ کے ریجن میں کتنے انصار ہیں؟ اس پر موصوف نے عرض کیا کہ 173 انصار ہیں۔ اس پر فرمایا؛بہت کم تعداد ہے۔ کیا یہ کسی خاص علاقہ میں اکٹھے ہیں یا پھر مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہیں؟اس پر موصوف نے عرض کیا کہ یہاں انصار مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہیں اور یہاں کل پانچ مجالس ہیں۔

بعد ازاں قائد تربیت نو مبائعین سے حضورِ انور نے دریافت فرمایا؛ آپ صدر جماعت زائن ہیں اور قائد نومبائعین ہیں۔ سب کچھ آپ نے ہی سنبھالا ہوا ہے۔ کیا آپ نومبائع ہیں؟اس پر قائد تربیت نومبائعین نے عرض کیا کہ میں نومبائع نہیں ہوں۔ اس پر حضورِ انور نے صدر صاحب مجلس سے دریافت فرمایا کہ؛آپ کو کوئی نومبائع نہیں ملا؟

اس پر صدر صاحب مجلس انصار اللہ نے عرض کیا کہ گذشتہ مرتبہ حضور کی جانب سے دی گئی ہدایات کے مطابق ہم نے ایک نائب قائد نومبائعین مقرر کیا تھا جو کہ نومبائع ہے۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز کے دریافت فرمانے پر قائد تربیت نومبائعین نے عرض کیا کہ ہمارے پاس 48 نومبائع ہیں اور جو بیعتیں ہوئی ہیں اس میں مجلس انصار اللہ کے ذریعہ اور بعض دیگر ذرائع سے حاصل ہوئی بیعتیں شامل ہیں۔ اسی طرح لجنہ اماءِ اللہ کے ذریعہ بھی حاصل کردہ بیعتیں شامل ہیں۔

بعد ازاں ناظمِ اعلیٰ ورجینیا کو حضورِ انور نے فرمایا ماشاء اللہ۔ آپ کی مجلس تو بہت بڑی ہے۔ اس پر ناظمِ اعلیٰ نے عرض کیا کہ ہماری چار مجالس میں کل 525 ممبران ہیں۔ اس پر فرمایا؛ ان سب سے رابطہ کیسے کرتے ہیں؟توناظمِ اعلیٰ نے عرض کیا کہ ان میں سے اکثر مختصر ڈرائیو پر رہائش پذیر ہیں۔ تو خاکسار ان کے اجلاساتِ عام میں شرکت کرتا ہے اور ان سے انفرادی رابطہ کرتا ہے۔ اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛کیا آپ ان مجالس سے جا کر خود میٹنگ کرتے ہیں؟ ناظمِ اعلیٰ نے عرض کیا کہ ان کے اجلاساتِ عام میں شرکت کرتا ہوں تا کہ ان سے رابطہ قائم رہے۔

بعد ازاں ناظمِ اعلیٰ ساؤتھ ایسٹ ریجن نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جغرافیہ کے لحاظ سے ان کا ریجن بہت بڑا علاقہ ہے۔ میں اٹلانٹا میں رہتا ہوں اور میامی بھی ہمارے ریجن میں ہے، جو کہ 12گھنٹہ کی مسافت پر ہے۔ اس ریجن میں پانچ مجالس ہیں۔ اسی طرح Orlando سات گھنٹہ کی مسافت پر ہے۔

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛تو پھر کس طرح رابطہ کرتے ہیں؟ کیا آپ ان تمام مجالس میں گئے ہوئے ہیں؟

اس پر ناظمِ اعلیٰ نے عرض کیا کہ تمام مجالس میں نہیں گیا ہوا۔ خاص کر کووِڈ کی وجہ سے کافی جمود کی سی کیفیت ہے، جسے ٹوٹنے کی ضرورت ہے۔

اس پر حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسکراتے ہوئے فرمایا؛بہرحال کووِڈ نے آپ کو ایک اچھا بہانہ دے دیا ہے۔ اب مزید کوئی بہانہ نہیں ہونا چاہیے۔ اب تو آپ کے مقامی قوانین کے مطابق کووِڈ ٹیسٹ پازیٹو آنے کے تین دن بعد چاہے کووِڈ نیگیٹو آیا ہو یا نہ آیا ہو، آپ نے ہر صورت کام پر جانا ہے۔ اسی طرح آپ کا انصار اللہ کے کاموں میں رویہ ہونا چاہیے۔

اس کے بعد ناظمِ اعلیٰ نیویارک ریجن سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان کے ریجن کے انصار کی تعداد کے حوالہ سے استفسار فرمایا۔ اس پر ناظمِ اعلیٰ نے عرض کیا کہ 359 انصار ہیں او رہماری تین مجالس دو میٹرو نیویارک اور ایک لانگ آئی لینڈ ہے۔

بعد ازاں ناظمِ اعلیٰ نارتھ ایسٹ ریجن سے مخاطب ہوتے ہوئے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ گیمبیا سے ہیں۔ آپ کے ریجن میں کتنے انصار ہیں۔ اس پر موصوف ناظمِ اعلیٰ نے عرض کیا کہ 262 انصار ہیں اور 8 مجالس ہیں۔

اس پر حضورِ انور نے فرمایا ؛کیا یہ مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی ہیں اور آپ ان سے رابطہ کیسے کرتے ہیں؟اس پر ناظمِ اعلیٰ نے عرض کیا کہ یہ تمام مجالس دور دور ہیں۔ریجن کے ایک کنارے سے دوسری طرف کل 9 گھنٹہ کی مسافت ہے۔ اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛کیا آپ تمام مجالس میں خود گئے ہوئے ہیں؟اس پر ناظمِ اعلیٰ نے عرض کیا کہ گذشتہ سال کے دوران تمام مجالس میں نہیں گیا۔ اس سے پہلے تمام مجالس میں گیا ہوا ہوں۔

بعد ازاں قائد صحتِ جسمانی سے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دریافت فرمایا کہ کیا آپ انصار اللہ کی صحت سے مطمئن ہیں؟اس پر قائد صحتِ جسمانی نے عرض کیا کہ 30 فیصد انصار صحت مند ہیں اور باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں۔ ہم نے نائب صدر دوم کے ساتھ سائیکل سفر کے پروگرام رکھے ہیں۔ اس سال ہم نے مقابلہ کا انعقاد کیا ہے۔ حضورِ انور نے فرمایا؛آپ کو پچاس فیصد انصار کو سائیکلنک کی طرف لگانا چاہیے۔

اس کے بعد قائد اشاعت سے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے استفسار فرمایا کہ یہ میگزین جو دکھایا گیا ہے، کیا یہ آپ نے تیار کروایا ہے۔ اس کا ایڈیٹر کون ہے؟اس پر قائد اشاعت نے عرض کیا کہ خاکسار ایڈیٹر بھی ہے۔ قائد اشاعت نے بتایا کہ ہم نے پندرہ روزہ ایک الیکٹرانک نیوز لیٹر بھی جاری کیا ہوا ہے، جو بذریعہ ای میل تمام انصار کو جاتا ہے۔ اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛کتنے انصار ہیں جو اس کو کھولتے ہیں اور پڑھتے ہیں؟قائد اشاعت نے عرض کیا کہ 900 کے لگ بھگ انصار پڑھتے ہیں۔ تقریباً 25فیصد بنتے ہیں۔

بعد ازاں قائد ایثار سےحضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اِن کے تحت جاری پروگرام کے حوالہ سے دریافت فرمایا۔موصوف نے عرض کیا کہ تین پروگرام ہیں، ایک خدمتِ خلق کے پروگرام ہیں، دوسرا وقارِ عمل سے متعلقہ ہے اور بعض مالی معاونت کے پروگرام ہیں۔ اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛ کیاا ٓپ افریقہ میں کوئی ماڈل ولیج بھی فنڈ کرتے ہیں؟قائد ایثار نے عرض کیاکہ اس سال نہیں ہے۔

اس پر حضورِ انور نے فرمایا؛آپ آسانی سے ہر سال ایک ولیج فنڈ کرسکتے ہیں۔ آپ کے انصار اتنے غریب تو نہیں ہیں۔ انصار کی کافی بڑی تعداد نفع بخش جاب اور بزنس وغیرہ کرر ہے ہیں۔ اس پر 75ہزار ڈالرز خرچ ہوں گے۔ آپ یہ آسانی سے اکٹھے کرسکتے ہیں۔

اس کے بعد قائد تعلیم القرآن نے اپنی رپورٹ پیش کی۔حضور انور نے فرمایا ؛ آپ کے شعبہ کامکمل نام تعلیم القرآن و وقفِ عارضی ہے۔ کیا آپ نے کبھی وقفِ عارضی کی ہے۔ اس پرقائد تعلیم القرآن و وقفِ عارضی نے عرض کیا کہ ماضی قریب میں تو وقفِ عارضی نہیں کی۔

اس پرحضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا ؛ آپ کی عاملہ کے تمام افراد کو ہر سال ایک سے دو ہفتہ کے لیے وقفِ عارضی کرنی چاہیے۔ آسانی سے کرسکتے ہیں۔ جب نیشنل، ریجنل اور لوکل سطح پر تمام عاملہ ممبران وقفِ عارضی کررہے ہوں گے تو آپ دیگر انصار کے سامنے اپنا نمونہ پیش کرنے والے ہوں گے اور پھر ان کو بھی کہہ سکیں گے۔

قائد تعلیم القرآن و وقفِ عارضی نے عرض کیا کہ اس حوالہ سے جو مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ دیگر جگہوں پر جاتے ہیں، مثلاً ہیومینٹی فرسٹ کے تحت اور دیگر پروگراموں کے تحت جاتے ہیں۔ لیکن یہ وقفِ عارضی کے طور پر رجسٹر نہیں کرتے۔ یہ ہیومینٹی فرسٹ کے تحت جاتے ہیں۔اس پرحضورِ انور نے فرمایا :’وہ ہیومینٹی فرسٹ کا کام ہے، وقفِ عارضی نہیں ہے۔‘

قائد تعلیم القرآن و وقفِ عارضی نے عرض کیا کہ اگر وہ وقفِ عارضی کا وعدہ کرکے ہیومینٹی فرسٹ کے کام سے جائیں، کیا تب بھی وہ وقفِ عارضی نہیں ہوگی؟اس پرحضورِ انور نے فرمایا :۔نہیں۔ یہ کام بالکل الگ ہونا چاہیے۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس مزید وقت نہیں ہے اور وہ HF یا میڈیکل ایسو سی ایشن کے تحت جاتے ہیں تو وہ الگ چیز ہے۔ لیکن اگر آپ کا ان سے رابطہ ہے تو اس دوران وہ وقفِ عارضی بھی کرسکتے ہیں۔

اس پرحضورِ انور نے فرمایا ؛کم از کم آپ تو سال میں دو ہفتہ کے لیے وقفِ عارضی کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیم القرآن کا کیا کام کیا ہے؟ اس پر قائد تعلیم القرآن نے عرض کیا کہ ہم انصار اللہ کو شعبہ اتقاء کے تحت قرآن سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ یہ شعبہ نیشنل جماعت کے شعبہ تعلیم القرآن و وقفِ عارضی کے تحت چل رہا ہے۔ پھر ہم انہیں ترغیب دیتے ہیں کہ یہاں سے سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے بعد طاہر اکیڈمی اور دیگر پروگراموں کے تحت پڑھائیں۔

بعد ازاں قائد وقفِ جدید سےحضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےدریافت فرمایا ؛ مجلس انصار اللہ کا چندہ وقفِ جدید میں کتنا حصہ ہے؟اس پر قائد وقفِ جدید نے عرض کیا کہ1.2 ملین ہے اور جماعت کا وقفِ جدید بجٹ 2.2 ملین تھا۔ اس پرفرمایا؛نصف سے زائد بنتا ہے، یہ تمام انصار اللہ کا حصہ تھا، کمال ہے۔ پھر لجنہ اماءِ اللہ اور خدام الاحمدیہ کا تو بہت کم حصہ ہوا۔

اس کے بعدقائد تحریکِ جدید نے بتایا کہ کل تجنید کے 44فیصد انصارتحریکِ جدید میں شامل تھے۔ اس پرحضورِ انور نے فرمایا ؛100فیصد کیوں نہیں تھے؟قائد تحریکِ جدید نے عرض کیا کہ اس کے لیے دعا کی درخواست ہے، کیونکہ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ اس پرحضورِ انور نے فرمایا ؛ صرف دعا نہیں۔ آپ کو قائل کرنے کی بھی صلاحیت چاہیے۔ باقاعدہ پلان بنائیں اور پھر فالو اَپ کرتے رہیں۔ اپنے متعلقہ منتظمین تحریکِ جدید سے رابطے کریں۔

حضورِ انور نے دریافت فرمایا ؛گذشتہ سال کتنی رقم تحریکِ جدید میں اکٹھی ہوئی تھی اور کل جماعت کے بجٹ کا کتنا حصہ مجلس انصار اللہ نے اکٹھا کیا؟اس پر قائد تحریکِ جدید نے عرض کیا کہ 1.2 ملین تھی۔ تاہم مجھے چونکہ جماعت کے تحریکِ جدید کے بجٹ کا علم نہیں، اس لیے معلوم نہیں کہ انصار اللہ کا کتنا شیئر تھا۔اس پر حضور انور نے ہدایت دیتے ہوئےفرمایا؛یہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے۔

بعد ازاں ناظمِ اعلیٰ ہیڈ کوارٹرز نے اپنا تعارف کروایااور بتایا کہ خاکسار کے ذمہ میری لینڈ، پٹس برگ، یارک اور بالٹی مور کی مجالس ہیں۔ ناظمِ اعلیٰ سنٹرل ایسٹ ریجن نے بتایا کہ ان کے ذمہ فلاڈلفیا، نارتھ جرسی، سنٹرل جرسی، Willingboro کی مجالس ہیں۔ ہمارے انصار کی کل تعداد 409 ہے۔

اس کے بعد آڈیٹر نے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر عرض کیا کہ تمام رسیدوں اور بلز کی کلیئرنس خاکسار کرتا ہے۔ ہر ایک رسید پر دستخط نہیں کرتا لیکن جائزہ لیتا ہوں اور اگر کوئی وضاحت چاہیے ہو تو معلوم کرتا ہوں۔ حضور کے دریافت فرمانے پر موصوف نے بتایا کہ وہ بجٹ کمیٹی کے ممبر نہیں ہیں۔ اس پرحضورِ انور نے فرمایا: آپ کو اس کا حصہ ہونا چاہیے۔

بعد ازاں قائد تربیت سے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تربیت پلان کے حوالہ سے استفسار فرمایا۔ قائد تربیت نے عرض کیا کہ ہم اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سو فیصد انصار پنجوقتہ نمازیں اد اکررہے ہوں اور روزانہ تلاوتِ قرآنِ کریم کرتے ہوں اور اسی طرح تمام انصار حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز کا خطبہ جمعہ باقاعدگی سے سنتے ہوں۔ یہ ہمارا ٹارگٹ ہے۔ لیکن رپورٹس کے مطابق ہمارے 60فیصد انصار پنجوقتہ نمازیں ادا کررہے ہیں۔

حضورِ انور نے فرمایا ؛آپ کے کتنے فیصد انصار روزانہ تین نمازیں باجماعت ادا کررہے ہیں۔ اس پر قائد تربیت نے عرض کیا کہ اس کی تعداد اور بھی کم ہے۔

اس پرحضورِ انور نے فرمایا ؛کیاا نہیں اس عمر میں بھی یہ احساس نہیں ہورہا ہے کہ اب ان کی زندگی ختم ہونے والی ہے۔

قائد تربیت نے عرض کیا کہ ہم اس حوالہ سے کوشش کررہے ہیں۔ یکم اکتوبر تا ۱۰؍ اکتوبر بھی اس حوالہ سے عشرہ منایا گیا ہے۔ مکمل کوشش ہے کہ مسجد یا نماز سنٹرز میں آ کر نماز ادا کی جائے۔ نماز سنٹرز کو بھی فعال کیا جارہا ہے۔ انشاء اللہ امید ہے کہ یہ تعداد بڑھاسکیں گے۔

اس کے بعد نائب صدر انصار اللہ نےبتایا کہ صدر مجلس نے ان کے ذمہ شعبہ اشاعت کیا ہے اور مجلس انصار اللہ کے سوشل میڈیا کی نگرانی کی ہے۔

سوشل میڈیا کے حوالہ سے حضور انور کے استفسار پر موصوف نے عرض کیاکہ انصار اللہ کو سوشل میڈیا کی ٹریننگ دینے کے لیے اور جوابات دینے کے لیے طریقہ کار سمجھایا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا کی سمجھ بوجھ بڑھانے کے لیے کلاسز وغیرہ لی جارہی ہیں۔ انصار کی طرف سے ابھی سوشل میڈیا میں شرکت کافی کم ہے۔ انصار کو توجہ دلا رہے ہیں لیکن ٹریننگ کلاسز میں رجسٹر کرنے والے انصار کی تعداد کم ہے۔

بعد ازاں معاون صدر برائے سپیشل پروجیکٹس نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ امسال family day پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔ اسی ضمن میں یہ Tobaa Game بھی تیار کی گئی ہے، جو کہ میٹنگ کے آغاز میں دکھائی گئی تھی۔اس کے علاوہ مختلف ورکشاپس کا انعقاد کرنا، نیشنل اور ریجنل اجلاسات، انصار اللہ کانفرنسز اور ریجنل اجتماعات خاکسار کے ذمہ ہیں۔

بعد ازاں نائب صدر نے بتایا کہ ان کے ذمہ شعبہ مال اورشعبہ تربیت ہے۔ حضورِ انور نے فرمایا ؛کیا صرف 44فیصد انصار چندہ میں باقاعدہ ہیں۔ اس پر عرض کیا گیا کہ حضور 60فیصد ہیں۔اس پرحضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے نائب صدر سےمخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ پھر آپ کیا نگرانی کررہے ہیں۔ نائب صدر نے عرض کیا کہ گذشتہ سال سے خاکسار قائد مال کے طور پر خدمت بجا لارہا ہے اور اس حوالہ سے بہتری آرہی ہے۔ لیکن بہت محنت کی ضرورت ہے۔ ہم گھر گھر وزٹ کررہے ہیں اور اس سے کافی فائدہ ہوا ہے اور ہر سال 5سے8فیصد بجٹ کا اضافہ ہور ہا ہے۔

اس کے بعد قائد عمومی سے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے دریافت فرمایا کہ ہر ماہ کتنی رپورٹس موصول ہوتی ہیں؟اس پر موصوف نے عرض کیا کہ 95سے 100فیصد تک موصول ہو جاتی ہیں۔ اس پرحضورِ انور نے فرمایا ؛کمال ہے۔ اور کیا ان رپورٹس پر تبصرے بھی بھجواتے ہیں؟ قائد عمومی نے عرض کیا کہ تمام مجالس کو ہر ماہ تو نہیں لیکن بعض جماعتوں کو ہر ماہ تبصرے جاتے ہیں۔حضور انور نے دریافت فرمایا؛آپ تبصرہ بھجواتے ہیں یا پھر صدر مجلس یا پھر متعلقہ قائد اپنے شعبہ کے حوالہ سے تبصرے بھجواتے ہیں۔اس پرقائد عمومی نے عرض کیا کہ تمام مجالس صدر مجلس کو رپورٹس بھجواتی ہیں اور قائدین کو بھی اس کی نقل جاتی ہے۔ ہر ایک شعبہ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ زعماء کو تبصرے بھجوائیں۔

حضور انور نے دریافت فرمایا؛کیا قائدین کا اپنے متعلقہ منتظمین سے ذاتی رابطہ ہے۔اس پرقائد عمومی نے عرض کیا کہ ان کو تمام لوکل عاملہ کے رابطہ نمبرز وغیرہ فراہم کیے جاتے ہیں۔ ان کے پاس اپنے متعلقہ منتظم کے رابطہ نمبرز وغیرہ ہوتے ہیں۔

بعد ازاں ناظمِ اعلیٰ نارتھ ویسٹ ریجن اور ناظمِ اعلیٰ سنٹرل ویسٹ ریجن اور ناظم اعلیٰ ساؤتھ ویسٹ ریجن نے اپنے اپنے ریجن کی مجالس کے حوالہ سے بتایا۔

بعد ازاں قائد تعلیم سے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نےدریافت فرمایا کہ آپ کا اس سال کا کیا پروگرام ہے؟

قائد تعلیم نے عرض کیا کہ ہم نے حضرت اقدس مسیحِ موعود علیہ السلام کی دو کتب منتخب کی ہیں۔ ضرورۃ الامام اور لیکچر لاہور۔

حضورِ انور نےدریافت فرمایا ؛کتنے انصار نے گزشتہ سال کتب مکمل کی تھیں۔ اس پرقائد تعلیم نے عرض کیا کہ گزشتہ سال 33فیصد انصار نے اپنا تعلیم کا پرچہ دیا تھا۔ اس سال امتحان جاری ہے، ابھی تک ہمارے پاس ڈیٹا نہیں ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا ؛کیا یہ کتب کا بھی مطالعہ کرتے ہیں یا پھر صرف ٹیسٹ کے لیے دیکھ کر امتحان دے دیتے ہیں؟اس پر قائد تعلیم نے عرض کیا کہ ہم انصار کو توجہ دلاتے ہیں کہ کتب کا مطالعہ کریں۔ ہر مجلس میں book club قائم کیے جارہے ہیں، جہاں وہ کتب کا مطالعہ کرسکتے ہیں، ان کے حوالہ سے بات چیت کرسکتے ہیں۔ اس طرح کتب کا مطالعہ کرنے والوں کی تعداد بڑھی ہے۔ اس طرح مختلف طریق پر کوشش کی جاتی ہے۔ انہیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مطالعہ کے دوران اگر انہیں کوئی اقتباس زیادہ پسند آتا ہے، یا وہ اپنا پسندیدہ اقتباس سلیکٹ کرکے گروپ میں پوسٹ کریں اور اسے discussکر سکتے ہیں۔

اس کے بعد صدر مجلس نے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے بعض سوالات کرنے کی اجازت حاصل کی۔

نائب صدر صاحب نے سوال کیا کہ حضور نے گذشتہ روز خطبہ جمعہ کے آخر پر فرمایا تھا کہ یہاں مسجد 28سال سے قائم ہے، تو ہم نے اپنے اندر کیا تبدیلی کی ہے۔ حضور یہ جملہ میرے لیے بہت چونکا دینے والا تھا۔ حضور ہم کیسے اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہم کس معیار پر ہیں؟ میں یہاں بطور خادم رہا ہوں اور اب میں ناصر ہوں۔

اس پرحضورِ انور نے فرمایا ؛آپ اپنا جائزہ لے سکتے ہیں۔ یہاں کافی عرصہ سے مسجد ہے اور آپ کس طرح اس سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ پھر آپ تجزیہ کرسکتے ہیں کہ آپ کی روحانیت میں اس دوران کیا بہتری ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنے کے لیے کیا کوششیں کی ہیں۔ تو یہ تو آپ کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے۔

بعد ازاں صدر مجلس انصار اللہ نے انصار ہاؤسنگ پراجیکٹ کمیونٹی سنٹر کے حوالہ سے دعا کی درخواست کی اور کہا کہ یہ پراجیکٹ تکمیل کے قریب ہے۔ہماری خواہش ہے کہ حضور اس کا وزٹ کریں۔

اس پر حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسکراتے ہوئے فرمایا؛میں نے اس کی تصاویر دیکھی ہیں۔ بہرحال اب وزٹ کا وقت تونہیں ہے۔ میں دیکھوں گا اگر وقت نکل سکا۔

صدر مجلس نے عرض کیا کہ حضور دعا کریں کہ یہ کمیونٹی ایک ماڈل کمیونٹی بن جائے اور یہاں زیادہ احمدی فیملیز آباد ہو جائیں۔ اس پرحضورِ انور نے فرمایا ؛اس کا افتتاح نہیں ہوا؟ وہاں نمازیں شروع کی ہیں؟

صدر مجلس انصار اللہ نے عرض کیا کہ باقاعدہ آفیشل طور پر ابھی ہمیں یہاں Occupancy Permit نہیں ملا۔ لیکن اگر حضور کے پاس وقت ہو تو اس کے باقاعدہ افتتاح کے لیے سپیشل انتظامات کیے جاسکتے ہیں۔ اس پرحضورِ انور نے فرمایا؛ اب تو میرے پاس صرف دو دن ہیں۔ یہ کس طرح ہو گا۔ دیکھیں گے۔

اس کے بعد معاون صدر صاحب نے سوال کیا کہ میں لوکل صدر جماعت بھی ہوں۔ کس طرح زعیم انصار اللہ لوکل سطح پر بہترانداز میں جماعت کی خدمت کرسکتا ہے۔ اس پرحضورِ انور نے فرمایا ؛لوکل جماعت کا جو بھی پلان ہو، آپ اپنے لوکل انصار کو کہیں کہ اس میں معاونت کریں۔ کوشش کریں کہ انصار اللہ کی ان پروگراموں میں شمولیت سب سے زیادہ ہو۔ دیگر تنظیموں سے بڑھ کر پروگراموں میں اپنا حصہ ڈالیں۔ آپ سمجھ دار بڑی عمر کے لوگ ہیں۔ آپ کانام انصار اللہ ہے۔ آپ ان کی راہنمائی بھی کریں۔ اگر ان کے پاس پلان نہ ہو تو ان کی راہنمائی کریں۔

حضورِ انور نے فرمایا ؛بطور احمدی آپ ممبر جماعت ہیں۔ آپ کے دو رولز ہیں۔ ایک یہ کہ آپ ممبر جماعت ہیں دوسرا آپ ممبر مجلس انصار اللہ ہیں۔ دونوں جگہ آپ کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ خدمت کرنے کے نئے ذرائع تلاش کریں۔ مجھے پتا ہے کہ آپ لوگوں کے بہت ذہین دماغ ہیں۔ آپ کرسکتے ہیں۔

میٹنگ کے آخر پر مجلس عاملہ انصار اللہ کے ممبران نے حضور انور کے ساتھ تصویر بنانے کی سعادت پائی۔

مجلس انصار اللہ کی یہ میٹنگ آٹھ بجے اپنے اختتام کو پہنچی۔

بعدازاں حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لے آئے۔ ساڑھے آٹھ بجے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد بیت الرحمٰن میں تشریف لا کر نمازِمغرب وعشاء پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button