خطاب حضور انور

جلسہ سالانہ برطانیہ 2022ء کے موقع پر دوسرے دن بعد دوپہر کے اجلاس سے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ایمان افروز اور دل نشین خطاب

22-2021ء میں جماعت احمدیہ پر نازل ہونے والے اللہ تعالیٰ کےبے انتہا فضلوں اور تائید و نصرت کے عظیم الشان نشانات میں سے بعض کا ایمان افروز تذکرہ

اس عرصے میں ایک لاکھ 76ہزار 836افرادکی احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں شمولیت

دنیا کے مختلف ممالک میں بسنے والے مختلف رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کے احمدیت یعنی حقیقی اسلام قبول کرنے کے ایمان افروز واقعات

355 نئی جماعتوں کا قیام، 209مساجد کا اضافہ، 123مشن ہاؤسز اور تبلیغی مراکز کا اضافہ

روحانی خزائن کے ہندی ترجمہ کی تکمیل

اب تک 90ممالک میں 606لائبریریز کا قیام ہو چکا ہے، 46زبانوں میں 505سے زائد مختلف کتب، پمفلٹس اور فولڈرز وغیرہ کی سڑسٹھ لاکھ سے زائد تعداد میں طباعت

عربک، رشین، چینی، ٹرکش، انڈونیشین، سپینش و دیگر ڈیسکس کے تحت متعدّد کتب کی تیاری و اشاعت، خطباتِ جمعہ اور ایم ٹی اے کے پروگرامز کے تراجم

دنیا بھر میں اسلام کے پُر امن اور حقیقی پیغام کی ترویج و اشاعت کے لیے ایم ٹی اے کے تمام چینلز کی بے مثال خدمات کا تذکرہ

دورانِ سال چھ ہزار سے زائد کتب کی نمائش اور ساڑھے چار ہزار سے زائد بُک سٹالز کے ذریعہ تینتالیس لاکھ سے زائد افراد تک احمدیت کا پیغام پہنچا

102 ممالک میں چھہتر(۷۶)لاکھ گیارہ(۱۱) ہزار لیف لیٹس کی تقسیم کے ذریعے ایک کروڑ سترہ(۱۷)لاکھ کے قریب افراد تک احمدیت کا پیغام پہنچایا گیا

پریس اینڈ میڈیا آفس کے ذریعہ تین کروڑ سے زائد افراد تک احمدیت کے بارے میں خبریں پہنچیں

الفضل انٹرنیشنل کے ذریعہ ساڑھےتین کروڑ سے زائد افراد تک پیغام حق پہنچا

روزنامہ الفضل آن لائن، ہفت روزہ الحکم، تحریکِ وقفِ نَو، ریویو آف ریلیجنز، مرکزی شعبہ آئی ٹی، احمدیہ آرکائیوز اینڈ ریسرچ سنٹر، الاسلام ویب سائیٹ،

مرکزی شعبہ اے ایم جے، احمدیہ ٹیلیویژن اور ریڈیو پروگرامز کی مختصر رپورٹ

انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف احمدیہ آرکیٹکٹس اور ہیومینٹی فرسٹ کے خدمتِ انسانیت پر مبنی بے لوث کاموں کا تذکرہ

’’خدا تجھے نہیں چھوڑے گا اور نہ تجھ سے علیحدہ ہوگا جب تک کہ وہ پاک اور پلید میں فرق کرکے نہ دکھلائے۔ کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں بھیجا گیا جس کے دشمنوں کو

خدا نے رسوا نہ کیا۔ ہم تجھے دشمنوں کے شر سے نجات دیں گے۔ ہم تجھے غالب کریں گے اور میں عجیب طور پر دنیا میں تیری بزرگی ظاہر کروں گا۔

میں تجھے راحت دوں گا اور تیری بیخ کنی نہیں کروں گا اور تجھ سے ایک بڑی قوم بناؤں گا اور تیرے لیے میں بڑے بڑے نشان دکھاؤں گا…ان کو کہہ دے کہ

میں صادق ہوں پس تم میرے نشانوں کے منتظر رہو۔ حجت قائم ہو جائے گی اور کھلی کھلی فتح ہوگی…‘‘(حضرت مسیح موعودؑکو الٰہی بشارت)

جماعت احمدیہ برطانیہ کے جلسہ سالانہ 2022ء کے موقع پر دوسرے دن بعد دوپہر کے اجلاس سے سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ایمان افروز اور دل نشین خطاب

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾

اس گزرے ہوئے سال میں جواللہ تعالیٰ کے فضل جماعت احمدیہ پر نازل ہوئے ہیں ان کا ذکر

آج کے دن اس وقت کی تقریر میں ہوتا ہے۔ پہلے

ایک مختصر خلاصہ

پیش کر دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال دنیا بھر میں پاکستان کے علاوہ جو نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں ان کی تعداد 355 ہے۔ ان نئی جماعتوں کے علاوہ 855نئے مقامات پر پہلی بار احمدیت کا پودا لگا ہے۔ نئی جماعتوں کے قیام میں کانگو کنشاسا سرفہرست ہے یہاں اس سال چالیس نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر تنزانیہ ہے جہاں 36 نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔ تیسرے نمبر پر سیرالیون ہے جہاں اس سال 31 نئی جماعتیں بنی ہیں۔ اس کے علاوہ نائیجیریا میں 24، نائیجر میں 23، لائبیریا میں 22، بینن میں 15، برکینا فاسو میں 13، سینیگال میں 12، مڈغاسکر میں11 اور مالی، ساؤ تومے، آئیوری کوسٹ اور گنی کناکری میں دس دس نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔ اسی طرح گنی بساؤ میں 9، گھانامیں 8، ٹوگو اور بنگلہ دیش میں سات سات، ہالینڈ میں چھ، سینٹرل افریقہ اور یوکے میں پانچ پانچ نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔ اسی طرح مزید انیس ممالک ہیں جن میں کسی میں ایک، کسی میں دو اور کسی میں تین جماعتوں کا قیام عمل میں آیا ہے۔

اِن نئی جماعتوں کے قیام کے دوران بعض واقعات

بھی ہوئے ہیں ان میں سے ایک آدھ بیان کر دیتا ہوں۔

مبلغ انچارج

گیمبیا

لکھتے ہیں کہ ہماری تبلیغی ٹیم نیامینا میں ویسٹ ڈسٹرکٹ کے عرفات نامی گاؤں میں گئی۔ سب سے پہلے گاؤں کے سربراہ کو احمدیت کا پیغام پہنچایا گیا۔ اس نے بتایا کہ وہ پہلے سے ہی احمدیت کے بارے میں جانتا ہے اور وہ اس بات کا قائل ہے اور یقین رکھتا ہے کہ احمدیت ہی حقیقی اسلام ہے۔ اس نے بیعت فارم کی درخواست کی اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنے خاندان کے ساتھ دستخط کر دیے۔ اس کے بعد کہتے ہیں ہم گاؤں کے امام کے پاس گئے جن کا نام علی ابوئے ہے، جن کی عمر انہتر۶۹سال ہے۔ اس کو احمدیت کا پیغام پہنچایا اور امام مہدی علیہ السلام کے آنے کی نشانیاں بیان کیں۔ بیعت کی دس شرائط پڑھ کر وہ لاجواب رہ گیااور کہا کہ کیا احمدیت کا مطلب یہی ہے؟ ہم نے مثبت جواب دیا۔ امام نے کہا یہ پیغام خالص اسلام ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا۔ مَیں نے آج سے سچا اسلام پایا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں رائج تھا اور تین بار اللہ اکبر اور سات بار الحمدللہ کہہ کر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ اس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے فوراً بیعت پر دستخط کر دیے۔ اس کے بعد کہتے ہیں ہم امام کے ساتھ مسجد میں گئے۔ نمازِ ظہر کا وقت ہو رہا تھا۔ جب مسجد پہنچے تو اس نے مائیکروفون پر اعلان کیا کہ گاؤں کے سبھی لوگ مسجد میں آئیں کیونکہ ہمارے پاس بہت اہم مہمان ہیں۔ چنانچہ نماز کے بعد تبلیغی پروگرام شروع ہوا۔ تبلیغی پروگرام کے آخر پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسی دن پانچ سو چھیاسٹھ افراد بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہوئے اور اس طرح یہاں نئی جماعت کا قیام عمل میں آیا۔

واقعات تو بےشمار ہیں۔ امیر صاحب

کانگوکنشاسا

لکھتے ہیں کہ لوکل مشنری عرفان صاحب بتاتے ہیں کہ خاکسار سِیْتُوکا (Setuka) گاؤں میں تبلیغ کے لیے گیا جہاں ایک بھی مسلمان نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی مدد فرمائی کہ اس گاؤں کے چیف نے تمام لوگوں کو بلوایا اور میرا پیغام سننے کو کہا۔ کہتے ہیں خاکسار نے احمدیت کا تعارف کروایا اور اسلام کی خوبصورت تعلیم ان کے سامنے پیش کی۔ اس کے بعد چیف صاحب نے برملا کہا کہ جب سے میں پیدا ہوا ہوں اس جیسی خوبصورت تعلیم نہیں سنی اور نہ دیکھی۔ اور بہت متاثر ہوا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس گاؤں میں پچاس سے زائد افراد نے احمدیت قبول کی اور اس طرح یہاں نئی جماعت کا قیام عمل میں آیا۔

امیر صاحب

لائبیریا

کی یہ رپورٹ ہے کہ یہاں بھی ایک جگہ گئے جہاں ایک شخص تھامسن بینولا (Thompson Beanullah) صاحب نے اس بات کا اظہار کیا کہ میں ایک لامذہب قسم کا انسان ہوں لیکن ہمیشہ سچے مذہب کی تلاش میں رہا ہوں۔ ہمارے گاؤں میں بھی صرف عیسائیت اور روایتی افریقن مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی رہتے ہیں لیکن میں کبھی ان کی طرف مائل نہیں ہوا۔ آج پہلی دفعہ ہمارے گاؤں میں کوئی اسلام کا پیغام لے کر آیا ہے آپ لوگوں کی باتیں سن کر میں سمجھتاہوں کہ آپ لوگوں کایہاں آنا میری دعاؤں کی قبولیت کا پھل ہے اور میرا دل اسلام کے پیغام سے مطمئن ہے۔ آپ مجھے بتائیں کہ اب مجھے خدا تعالیٰ سے کون سی دعا کرنی چاہیے۔ معلم صاحب نے پھر بتایا کہ آپ اس وقت خدا کا شکر ادا کریں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ثابت قدمی عطا فرمائے اور آپ کا یہ جوش وقتی جوش نہ ہو۔ بعد میں وہ معلم صاحب کو اپنی دکان پر لے گئے جہاں وہ دوسری اشیائے خورونوش کے ساتھ شراب بھی بیچتے تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر میں اسلام میں داخل ہوتا ہوں تو کیا شراب کا کاروبار کرنا ٹھیک ہے؟ انہیں بتایا گیا کہ یہ تو ٹھیک نہیں ہے اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ ان شاء اللہ اس کاروبار کو چھوڑ کر اسلام احمدیت میں داخل ہوں گا۔ چنانچہ معلم صاحب کے اگلے وزٹ پر موصوف نے اپنی فیملی سمیت اسلام احمدیت میں داخل ہونے کا اعلان کیا بلکہ بعد میں ان کے رابطوں اور معلم صاحب کی تبلیغی مساعی کے نتیجہ میں آہستہ آہستہ تیس کے قریب افراد اسلام میں احمدیت میں شامل ہوئے۔ اس طرح یہاں بھی نئی جماعت کا قیام عمل میں آیا۔ اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں ان کو مَیں چھوڑتا ہوں۔

نئی مساجد کی تعمیر اور جماعت کو عطا ہونے والی مساجد

جماعت کو دوران سال اللہ تعالیٰ کے حضور جو مساجد پیش کرنے کی توفیق ملی، ان کی مجموعی تعداد 209ہےجن میں سے 147نئی مساجد تعمیر ہوئی ہیں اور 62بنی بنائی عطا ہوئی ہیں۔ دوران سال مختلف ممالک میں تعمیر ہونے والی مساجد کی تفصیل اس طرح ہے۔ افریقہ میں گھانا میں اس سال 20مساجد تعمیر ہوئیں اور اس طرح مساجد کی کل تعداد 762ہو چکی ہے۔ سیرالیون میں 8مساجد کی تعمیر ہوئی، سات بنی بنائی ملیں اس طرح وہاں ہماری مساجد کی تعداد 1556ہے۔ نائیجیریا میں چار نئی مساجد تعمیر ہوئی ہیں۔ وہاں مساجد کی تعداد 1400ہے۔ بینن میں 15نئی مساجد بنی ہیں، 3بنی بنائی عطا ہوئی ہیں، چھوٹا سا ملک ہے وہاں 255مساجد ہیں۔ تنزانیہ میں اس سال 12 نئی مساجد تعمیر ہوئی ہیں، کل تعداد 232ہے۔ برکینا فاسو میں اس سال 7 مساجد تعمیر ہوئی ہیں، 2بنی بنائی عطا ہوئی ہیں۔ یہاں مساجد کی تعداد 495ہے۔ کانگو کنشاسا میں اس سال 5مساجد تعمیر ہوئی ہیں، یہاں مساجد کی کُل تعداد 191 ہے۔آئیوری کوسٹ میں اس سال پانچ مساجد تعمیر ہوئی ہیں، ایک بنی بنائی ملی۔ کل تعداد کو میں چھوڑتا ہوں، مختصر بتا دیتا ہوں۔ اسی طرح مالی میں دورانِ سال پانچ مساجدتعمیر ہوئیں۔ لائبیریا میں اس سال دو مساجد تعمیر ہوئیں۔ سولہ بنی بنائی عطا ہوئیں۔ گیمبیا میں دورانِ سال چار نئی مساجد تعمیر ہوئی ہیں۔ پانچ بنی بنائی عطا ہوئیں۔گنی بساؤ میں اس سال آٹھ مساجد کی تعمیر ہوئی ہے اور آٹھ مساجد بنی بنائی عطا ہوئی ہیں۔ نائیجر میں اس سال چار مساجد بنی ہیں۔یہ اس لحاظ سے نیا ملک ہے کہ یہاںگذشتہ قریباً بیس پچیس سال سے باقاعدہ جماعت کا نظام قائم ہے۔ اس طرح یہاں کُل مساجد 198 ہوچکی ہیں۔ کیمرون میں اس سال دو مساجد کا اضافہ ہوا ہے۔ یوگنڈا میں اس سال چار مساجد تعمیر ہوئی ہیں۔ سینیگال میں اس سال دو مساجد تعمیر ہوئی ہیں، ان کا اضافہ ہوا ہے اور دو مساجد بنی بنائی ملی ہیں۔ گنی کناکری میں پانچ بنی بنائی مساجد عطا ہوئی ہیں۔ چاڈ میں دوران سال ایک نئی مسجد تعمیرہوئی ہے۔ برونڈی میں ایک نئی مسجد تعمیر ہوئی ہے۔ سینٹرل افریقہ میں ایک نئی مسجد بنی ہے۔ کینیا میں ایک نئی مسجد کا اضافہ ہوا ہے۔ ٹوگو میں دو مساجد تعمیر ہوئی ہیں۔ کانگو برازاویل میںایک مسجد کا اضافہ ہوا ہے۔ ایکواٹوریل گنی میں ایک مسجد تعمیر ہوئی ہے۔ مڈغاسکر میں بھی ایک نئی مسجد تعمیر ہوئی ہے۔ ہندوستان میں اس سال 9مساجد کا اضافہ ہوا ہے۔ انڈونیشیا میں اس سال چھ مساجد کا اضافہ ہو اہے۔ بنگلہ دیش میں دو مساجد کا اضافہ ہوا ہے۔ برما، نیپال اور فلپائن میں بھی ایک ایک مسجد تعمیر ہوئی ہے۔ جرمنی میں سو مساجد کے منصوبہ کے تحت دوران سال پانچ مساجد کی تعمیر مکمل ہوئی ہے اس طرح ان کی مساجد کی تعداد 64ہو چکی ہے۔ فرانس میں بھی دورانِ سال دو مساجد کا اضافہ ہو اہے۔ امریکہ میں ایک مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی ہے۔

بیلیز میں تعمیر ہونے والی پہلی احمدیہ مسجد مسجد نور کا افتتاح اس سال فروری میں ہوا۔ اس موقع پر بعض ممالک سے بعض سرکردہ شخصیات بھی شامل ہوئیں۔ وہاں اورنج واک ٹاؤن کے میئر نے کہا کہ لوگ محض احمدیت کے لائحہ عمل کا تصویری تصور نہیں دیکھتے بلکہ آپ لوگ تو نوجوانوں کو تاریک گڑھوں سے نکال کر روشنی میں لا رہے ہیں۔ آپ ان کے وہ پہلو روشن کر رہے ہیں جو پہلے کبھی روشن نہیں کیے گئے۔ آپ انہیں مواقع مہیا کر رہے ہیں تا کہ وہ اپنی صلاحیتیں دکھا سکیں۔ یہ ہے جو احمدیت کر رہی ہے۔ ملک کے وزیر اعظم جان بریسینو (John Briceno) بھی شامل ہوئے، انہوں نے کہا میرے لیے باعث افتخار ہے کہ مجھے احمدیہ مسجد آنے کا موقع ملا ہے۔ جو شاندارخدمات آپ بیلیز میں بجا لا رہے ہیں ہم ان کے لیے آپ کے شکرگزار ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ ہمارا خالق آپ پر اور آپ کے خاندانوں پر اور آپ کے کاموں پر رحمت فرماتا رہے۔ بیلیز شہر کے میئر برنارڈ واگنر (Bernard Wagner) صاحب نے کہا ہمارا شہر جماعت احمدیہ کا شکر گزار ہے کہ وہ ہمارے کاموں میں شراکت کر رہی ہے۔ یہ شراکت بہت باثمر ہے۔ ہم کھیل، تعلیم، سماجی خدمات اور ہمسائیگی کی تعمیر و ترقی میں آپ کی غیر معمولی شراکت کا اعتراف کرتے ہیں۔

چیسٹر ولیمز (Chester Williams) کمشنر پولیس نے بھی تاثرات پیش کیے کہ میں بطور پولیس کمشنر جماعت احمدیہ کی بیلیز میں مساعی پر شکر گزار ہوں۔ آپ اکثر اوقات گلیوں میں نوجوانوں کو بھٹکتا دیکھتے ہیں اور ان کے پاس کرنے کے لیے کوئی مفید کام نہیں ہوتا، نہ کوئی ایسے پروگرام ہوتے ہیں جن میں وہ نہ صرف مصروف رہیں بلکہ ان پر نگاہ بھی رکھی جائے۔ ایک طرف تو معاشرے کا وہ طبقہ ہے جو بیٹھ کر صرف باتیں بناتا ہے، شکایتیں کرتا ہے اور جماعت احمدیہ حقیقت میں بہت سی ایسی مساعی میں متحرک ہے جو نوجوانوں میں بہتر تبدیلی لانے کا باعث بن رہی ہے۔ ان مساجد سے بھی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ جہاں اسلام کو کوئی نہ جانتا ہو وہاں مسجد بنا دو تو تعارف شروع ہو جائے گا۔(ماخوذ از ملفوظات جلد7صفحہ119) اس طرح

اسلام کا پیغام پہنچ رہا ہے اور تعارف ہو رہا ہے۔

امیر صاحب

نائیجر

واقعات میں سے ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ ہماری ایک جماعت صحرا میں تَاوَہ (Tahoua) شہر سے 65کلو میٹر پر واقع ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ صرف ایک کچی سڑک تَاوَہ شہر کو تاسوموت (Tassoumot) شہر سے ملاتی ہے۔ پھر اس کے بعد آگے بیابان اور صحرا ہے جو چالیس کلو میٹر طویل ہے اور اس جماعت تک پہنچنے کے لیے پچیس کلو میٹر کا صحرا ہے اور دھنسا دینے والی مٹی ہے، ریت ہے۔ صحرامیں قائم اس جماعت میں مسجد کی تعمیر کا کام شروع ہونے سے پہلے بہت سے چیلنجز درپیش تھے جن میں سے ایک بڑا چیلنج کنسٹرکشن کا سامان سیمنٹ وغیرہ پہنچانا تھا۔ کوئی ٹرک یا گاڑی سامان لے جانے کو تیار نہیں تھے۔ جو راضی ہوئے انہوں نے منہ مانگی رقم کا مطالبہ کیا۔ پھر کہتے ہیں ہم نے یہاں مجھے بھی دعا کے لیے لکھا۔ اور کام کا آغاز کر دیا۔ چالیس کلو میٹر سڑک تک سامان لے جانے والے ٹرک دستیاب تھے لیکن اصل مسئلہ آگے پچیس کلو میٹر کا سفر طے کرنے کا تھا۔ گاؤں تک سامان کس طرح پہنچایا جائے۔ بہرحال اس پریشانی کے عالم میں انہوں نے پھر دعا کے لیے کہا تو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فضل کیا کہ جماعتی ممبران جن کے پاس بیل گاڑی تھی وہ آگئے اور انہوں نے کہا کہ اگر ٹرک چالیس کلو میٹر تک سامان لے آئے تو آگے پچیس کلو میٹر وہ اپنی بیل گاڑی پر سامان لے آئیں گے چاہے کتنے ہی چکر لگانے پڑیں یا کتنا ہی وقت صرف ہو۔ اس طرح بیل گاڑیوں کے ذریعہ لمبا سفر کر کے تعمیر کا سامان منتقل ہوتا رہا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس گاؤں میں بھی جماعت احمدیہ کی مسجد تعمیر ہوئی اور اس کا افتتاح بھی ہوا۔

اسی طرح تنزانیہ سے لوگوں نے واقعات لکھے ہیں۔ اور فجی سے وہاں کے مبلغ بھی لکھتے ہیں۔

کانگو کنشاسا

کے معلم صاحب لکھتے ہیں کہ ایک سنی امام کی اہلیہ ہماری مسجد میں نماز ادا کرتی ہے اور وہ اپنے شوہر کی مسجد میں نماز ادا نہیں کرتی۔ اس کی وجہ یہ بیان کرتی ہے کہ یہاں دل اطمینان اور سکون پاتا ہے نیز جماعت کا باہمی بھائی چارہ اور محبت بھی اس کی وجہ ہے۔

مساجد کی تعمیر میں مخالفت

کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے فضل بھی نظر آتے ہیں۔ ان کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ امیر صاحب برکینا فاسو لکھتے ہیں کہ بوبوجلاسو کی ایک جماعت سُوْرَوکَوڈِنگا (Souroukoudinga) میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسجد کی تعمیر کی توفیق ملی۔ یہ گاؤں مشرک تھا۔ صرف دو تین گھر احمدی ہوئے تھے۔ غیر احمدیوں نے بہت کوشش کی اور مسجد کی تعمیر کے لیے سامان بھی لے کر آئے اور نومبائعین سے کہاکہ جماعت چھوڑ دیں، ہم مسجد بنا کر دیں گے لیکن ان مخلصین نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ یہاں جب بھی مسجد بنے گی وہ جماعت احمدیہ کی ہی بنے گی اور ان نومبائعین نے پتھروں سے حد بندی کر کے وہاں نماز پڑھنا شروع کر دی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو اب یہاں امسال خوبصورت مسجد بنانے کی توفیق ملی ہے۔

اس سلسلہ میں جو لمبے واقعات ہیں وہ میں چھوڑ رہا ہوں۔مختصر سے بیان کر دیتا ہوں۔ مبلغ انچارج

کٹک اڑیشہ

سے کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کُوْٹْپَلہ کی ایک ہندو عورت کے پاس جماعتی وفد مسجد کے لیے زمین خریدنے گیا تو اس نے صاف انکار کر دیا۔ اگلے روز جماعتی وفد دوبارہ اس خاتون کے پاس گیا تو کہنے لگی کہ جو بھی اور جتنی بھی زمین آپ لوگوں کو چاہیے لے لیں۔ کہتے ہیں اس پر ہم بڑے حیران ہوئے اور وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ چند دن قبل خواب میں دیکھا تھا کہ میرے پاس چار آدمی آئے ہیں اور مجھ سے کہتے ہیں کہ مسجد چلو تو میں نے یہ کہتے ہوئے منع کیا کہ میں مسجد کیوں چلوں میرا وہاں کیا کام ہے تب اذان ہوئی اور اچانک میری آنکھ کھل گئی۔ اس لیے میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ اب مسجد کے لیے بغیر پیسے کے زمین دوں گی۔ چنانچہ انہوں نے پانچ گونٹی زمین جماعت کو تحفةً دی جہاں ایک خوبصورت مسجد بنی ہے اور اس میں پنجوقتہ باجماعت نماز بھی شروع ہو گئی ہے۔ پانچ گونٹی کا مطلب یہ ہے کہ ایکڑ کا آٹھواں حصہ، تقریباً ایک کنال۔

پھر مسجد گرانے والوں نے مسجد کی دوبارہ تعمیر میں مدد کی۔

اس بارے میں صوبہ وسطی جاوا کے ایک علاقے کے بارے میں امیر صاحب لکھتے ہیں۔ مخالفین نے تقریباً بیس سال قبل ہماری مسجد پر حملہ کر کے جلا دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب جماعت کو وہاں مسجد دوبارہ تعمیر کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ وہ لوگ جو بیس سال پہلے جماعت کے مخالفین میں سے تھے وہ اب جماعت کے دوست بن گئے ہیں۔ جب مسجد کی چھت ڈالنے لگے تو پتہ چلا کہ اس میں دو سے تین دن لگ جائیں گے لیکن اس وقت قریباً سو غیر احمدی افراد جن میں سے کئی افراد جو بیس سال پہلے کے ہونے والے حملے میں شامل تھے، ہماری مدد کی غرض سے مل کر کام کرنے کے لیے آئے اور اس طرح لنٹل(lintel) ڈالنے کا کام صرف آدھے دن میں مکمل ہو گیا۔

انڈونیشیا کا ہی ایک واقعہ اَور ہے۔ امیر صاحب لکھتے ہیں کہ مغربی کالیمنتان میں جماعت احمدیہ کی مسجد کو نقصان پہنچانے پر رد عمل دیتے ہوئے انڈونیشین لیگل ایڈ فاؤنڈیشن کے چیئرمین نے کہا کہ اس مسجد کا انہدام مغربی کالیمنتان کے گورنر اور سینتانگ (Sintang) کے ایجنٹ کی عدم برداشت کی پالیسی کی پیروی ہے۔ موصوف نے کہا کہ ان دونوں نے مسجد کے انہدام کے لیے ایک حکم نامہ جاری کیا اور سول سروس پولیس یونٹ کے سربراہ کو عمل درآمد پر مقرر کیا۔ پھر کہتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ ’’ریاست ہر شہری کو اپنے مذہب اور عقائد کے مطابق عبادت کرنے کی آزادی کی ضمانت دیتی ہے۔‘‘ تو محمد اسنور صاحب نے کہا کہ وہ صدرِ مملکت اور وزیر داخلہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سینتانگ (Sintang) ریجن اور مغربی کالیمنتان کے گورنر کو سخت سرزنش کریں اور پابندیاں لگائیں اور گورنر کو ہر قسم کی آئینی خلاف ورزیوں کو روکنے کا حکم دیں۔ تو بہرحال انہوں نے کہا اس سے آگے پھر ان کے مطابق عمل بھی ہوا۔

مسجد کی تعمیر کے ساتھ بیعتیں

بھی وابستہ ہیں۔ مبلغ انچارج ساؤ تومے لکھتے ہیں کہ ایک سکول ٹیچر اودری (Aodry) صاحب جو مذہباً عیسائی تھے ہماری مسجد کے بالکل ساتھ ان کا گھر ہے، مسجد کی تعمیر کے دوران ایک دن میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ مسلمان غیر آئینی کام کیوں کرتے ہیں؟ میرے گھرکے بالکل پاس آپ کی مسجد بن رہی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ آپ لوگ یہاں فساد پھیلائیں گے۔ اس پر ان کو اسلام کی امن پسند اور سلامتی کی تعلیم بتائی گئی اور بتایا گیا کہ بعض نادان مسلمانوں کے غلط رویے کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں۔ ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد اور جماعت کاتفصیلی تعارف کروایا تو ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا۔ پھر کچھ عرصہ مزید تحقیق کرنے کے بعد وہ اسلام احمدیت میں شامل ہو گئے اور اب باقاعدہ نماز میں شریک ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیونکہ میرا گھر مسجد کے بالکل قریب ہے اس لیے مسجد کی صفائی مَیں اور میری بیوی کیا کریں گے۔

مشن ہاؤسز اور تبلیغی مراکز میں اضافہ

اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوران سال مشن ہاؤسز میں 123 کا اضافہ ہوا ہے اور اس سال مشن ہاؤسز اور تبلیغی سینٹرز کے قیام کے حوالے سے پہلے نمبر پر سیرالیون اور تنزانیہ ہیں جہاں چودہ، چودہ مشن ہاؤسز کا اضافہ ہوا۔ دوسرے نمبر پر بینن ہے جہاں دس مشن ہاؤسز کا اضافہ ہوا۔ تیسرے نمبر پر گھانا ہے جہاں نو مشن ہاؤسز کا اضافہ ہوا۔ اس سال برکینا فاسو اور مالی میں سات سات، نائیجیریا اور انڈونیشیا میں پانچ پانچ، ہندوستان اور کینیڈا میں چار چار، کانگو کنشاسا، گنی کناکری، سینیگال، ماریشس، آسٹریلیا میں تین تین اور گنی بساؤ، لائبیریا، مڈغاسکر، روانڈا، یوگنڈا اور بنگلہ دیش میں دو دو مشن ہاؤسز کا اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ سینٹرل افریقہ، کونگو برازاویل، گیمبیا، آئیوری کوسٹ، کینیا، بھوٹان، نیپال، ترکی، آسٹریا، فن لینڈ، لتھوینیا، سربیا، ہیٹی، ہونڈورس، جمائیکا، قرغیزستان اور پیراگوئے میں ایک ایک مشن ہاؤس کا اضافہ ہوا۔

پھر وَسِّعْ مَکَانَکَ کے تحت جائیدادوں کی خرید اور عمارات کی تعمیر کا ذکر

ہے۔ آسٹریلیا میں اس سال چار مختلف مقامات پر کل سات ملین ڈالر کی باموقع جائیدادیں خریدی گئیں۔ برزبن (Brisbane)میں ایک اعشاریہ ایک (1.1) ایکڑ رقبہ پہ چار بیڈ روم کا ایک گھربھی خریدا گیا۔ اسی طرح کیلی ول (Kellyville)میں یہ جگہ ہے یا جو بھی اس کا نام و تلفظ ہے زمین لی گئی۔ پھر پینرتھ (Penrith)میں بھی زمین خریدی گئی جس میں بنابنایا گھر بھی ہے۔ بیت الہدیٰ سڈنی سے چھ کلو میٹر کے فاصلے پر ریورسٹون (Riverstone) میں اڑھائی ایکڑ کا ایک رقبہ خریدا گیا۔ خدام الاحمدیہ آسٹریلیا نے اپنے طور پر پراپرٹی خریدی۔ سڈنی گیسٹ ہاؤس کی تعمیر ایک بڑا پراجیکٹ ہے اس پہ خرچ ہو رہا ہے۔ کینیڈا میں انٹرنیشنل جامعہ احمدیہ کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ایک بڑی جگہ کی تلاش تھی۔ اس سال ایک سو چار ایکڑ کی پراپرٹی گیارہ اعشاریہ آٹھ ملین ڈالر میں خریدی گئی۔ بیلجیم کے شہر لیج (Liège) میں ایک چار منزلہ عمارت خریدی گئی۔ فرانس میں بھی اس سال لیون (Lyon)کے شہر میں ایک عمارت خریدی۔ اٹلی میں موجودہ مشن ہاؤس کے قریب ایک نئی ہال نما عمارت اور قطعہ زمین خریدا گیا۔ بارسلوناسپین میں بھی جگہ خریدی گئی۔ یہ ایک تین منزلہ عمارت ہے۔ یوکے میں مرکزی طور پر اسلام آباد کے قریب ایک ووڈلینڈ (Woodland) جس کا رقبہ تقریباً تین ایکڑ ہے خریدا گیا۔ بورڈن (Bordon)کے علاقے میں چار نئے تعمیر شدہ مکان خریدے گئے۔ لجنہ اماء اللہ نے ٹلفورڈ میں اپنی جگہ خریدی، گیسٹ ہاؤس خریدا اور فارنہم میں تین کمرشل یونٹ خریدے گئے۔ مرکزی گیسٹ ہاؤسز اور دیگر عمارات اور اسلام آباد میں بھی اللہ کے فضل سے ترقیات ہو رہی ہیں۔ انصار اللہ نے بھی اپنا ایک گیسٹ ہاؤس خریدا۔ یوکے جماعت کی بھی کافی پراپرٹیاں ہیں جو اس دفعہ انہوں نے خریدی ہیں اور اس کے علاوہ گھانا میں جامعة المبشرین میں مزید عمارتوں کی تعمیر ہوئی ہے۔ جاپان میں بیت الاحد کا ترقیاتی منصوبہ ہے۔ وہاں بھی مربی ہاؤس وغیرہ کے لحاظ سے تعمیر ہوئی ہے۔ سپین پیدروآباد میں تعمیر ہوئی۔ چاڈ میں مرکزی مشن ہاؤس اور مبلغ کی رہائش بنی۔ اسی طرح نائیجر وغیرہ میں بھی ایک پراجیکٹ پر کام ہوا۔ اس طرح بہت ساری جائیدادیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال اللہ تعالیٰ نے دنیا کے ہر ملک میں ہمیں عطا فرمائی ہیں۔

جیساکہ ہم جانتے ہیں

جماعت احمدیہ کا ایک خصوصی امتیاز ’وقار عمل

ہے۔ افریقہ کے ممالک میں جماعتیں مساجد اور مشن ہاؤسز کی تعمیر میں وقار عمل کے ذریعہ سے حصہ لیتی ہیں۔ اسی طرح دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی جماعتیں اب مساجد اور سینٹرز اور تبلیغی مراکز کی تعمیر میں بہت سارے کام وقار عمل کے ذریعہ سے کر رہی ہیں چنانچہ اس سال 108ممالک سے موصولہ رپورٹ کے مطابق اڑسٹھ ہزار ایک سو چھیاسی (68186) وقار عمل کیے گئے جن کے ذریعہ سے انتیس لاکھ انسٹھ ہزار یوایس ڈالرز کی بچت ہوئی اور اس میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے واقعات ہیں۔

پھر

وکالت تصنیف

کی رپورٹ ہے۔ اس سال

قرآنِ کریم کا سپینش ترجمہ

پرنٹ کروایا گیا ہے۔ اسی طرح نئےفونٹ ’خطِ منظور‘ کے ساتھ انگریزی ترجمہ حضرت مولوی شیر علی صاحب کی طباعت کی گئی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں سے پانچ تصانیف کا بھی انگریزی ترجمہ اس سال طبع کیا گیا ہے جس میں فتح اسلام، سرالخلافہ، لجة النور، نور القرآن نمبر ایک، دو۔ تحفہ بغداد اور درج بالا کتب کے علاوہ ملفوظات جلد دہم کا انگریزی ترجمہ بھی ہوگیا ہے۔ یہ اور Selected poems of Promised Messiah a.s شائع کی گئی ہے۔ حضرت خلیفة المسیح الاول ؓکی کتاب ردِ تناسخ کا انگریزی ترجمہ کیا گیا ہے اور اسی طرح اَور بہت سارا لٹریچر ہے جو شائع کیا گیا ہے۔ بچوں کی بہت ساری کتابیں بھی شائع کی گئی ہیں۔ یہاں انہوں نے displayبھی لگایا ہوا ہے۔ بک سٹال سے بھی میسر ہیں۔ اس سال ملفوظات کی نئی دس جلدوں پر مشتمل کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن کی انگلستان سے طباعت کی کارروائی کی گئی ہے اور پریس میں ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ یہ جلدی دستیاب ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ مختلف ممالک میںکتابوں کے مسودات تیار ہو رہے ہیں۔ فولڈرز وغیرہ تیار ہوئے ہیں۔

روحانی خزائن کے عربی ترجمہ کی تکمیل اور اشاعت

کے بارے میں رپورٹ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دورانِ سال مرکزی عربک ڈیسک کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بارہ کتب کا اردو ترجمہ فائنل کر کے پرنٹنگ کے لیے بھجوانے کی توفیق ملی۔ اس طرح بارہ کتب کی پرنٹنگ کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی جملہ اردو کتب کا عربی ترجمہ مکمل طور پر شائع ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ۔ اگلے مرحلہ میں سب ترجمہ شدہ کتب کو روحانی خزائن کی طرز پر تیئس جلدوں میںشائع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ عربوں کے لیے بھی ایک بڑا مواد اور لٹریچر مہیا ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ۔ جو اعتراض کرتے ہیں کہ یہ ترجمہ نہیں کرتے۔ (وہ سن لیں کہ) انگریزی میں، عربی میں باقی زبانوں میں بھی ان شاء اللہ ترجمے ہو رہے ہیں۔

روحانی خزائن کے ہندی ترجمہ کی تکمیل

نظارت نشر و اشاعت قادیان کی رپورٹ کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضل سے روحانی خزائن کا ہندی ترجمہ مکمل ہو چکا ہے اور یہ بھی ان شاء اللہ جلدی شائع ہو جائے گا۔ اس میں یہ کہتے ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی اٹھاسی۸۸ کتب میں سے اٹھہتر۷۸ کتب کا ہندی ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ باقی بھی ان شاء اللہ تعالیٰ جلد شائع ہو جائے گا۔ جرمن زبان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا جو ترجمہ ہے اس میں بہتر۷۲کتب جرمن زبان میں شائع ہو چکی ہیں۔ اس سال درج ذیل آٹھ۸ کتب شائع ہوئی ہیں۔ خطبہ الہامیہ، نجم الہدیٰ، سراج منیر، سر الخلافہ، کرامات الصادقین، اعجاز المسیح، ازالہ اوہام حصہ اول دوم اور تحفہ غزنویہ۔

وکالتِ اشاعت طباعت

کی رپورٹ ہے کہ پچانوے ممالک سے موصولہ رپورٹ کے مطابق دورانِ سال پانچ سو پانچ مختلف کتب، پمفلٹس اور فولڈرز وغیرہ چھیالیس زبانوں میں سڑسٹھ۶۷ لاکھ انیس۱۹ ہزار تین سو بہتر ۳۷۲کی تعداد میں طبع ہوئے۔

جن چھیالیس۴۶ زبانوں میں لٹریچر شائع ہوا ان کی تفصیل

درج ذیل ہے:عربی، اسامیز (Assamese)، ہنگیرین، انڈونیشین، بلگیرین (Bulgarian)، آذربائیجانی، بنگلہ، بمبا (Bemba)، بوزنین، کریئول (Creole)، کروئیشین، ڈَچ، انگلش، جیپنیز (Japanese)، کناڈا (Kannada)، لیٹوین (Latuian)، لنگالا (Lingala)، لگونڈا (Luganda)، مالے (Malay)، مالٹیز (Maltese)، ملیالم،مراٹھی، پورچوگیز، پنجابی، شون (Shon)، سلووینین، سپینش، سنڈانیز (Sundanese)، سواحیلی، تامل، ٹوساں(Tausug)، فرنچ، جرمن، ہیبریو (Hebrew)، ہندی، نیپالی، نارویجین، نیانجا (Nyanja)، اوریا (Oriya)، تیلیگو، تھائی، ٹانگ (Tong)، ٹرکش۔

وہ دس ممالک جن میں زیادہ تعداد میں لٹریچر شائع کیا گیا

ان میں سے نمبر ایک جرمنی ہے جہاں چھتیس لاکھ تہتر ہزار سے اوپر تعداد میں لٹریچر شائع ہوا، کتب شائع ہوئیں۔ ہالینڈ پانچ لاکھ چھ ہزار، یوکے چار لاکھ تیئس ہزار، تنزانیہ ایک لاکھ اڑتالیس ہزار، انڈیا ایک لاکھ اکتیس ہزار، کیمرون ایک لاکھ بائیس ہزار، آسٹریا اور پرتگال ایک لاکھ، سوئٹزرلینڈ نوے ہزار، بنگلہ دیش اٹھہتر ہزار، زیمبیاپچپن ہزار۔

نظارت نشر و اشاعت قادیان

کی رپورٹ کے مطابق دوران سال اردو انگریزی کے علاوہ گیارہ زبانوں میں ایک سو دو ٹائٹل پر مشتمل نوے ہزار آٹھ سو دو کی تعداد میں کئی کتب کی اشاعت ہوئی۔ اسی طرح گیارہ زبانوں میں تینتیس ٹائٹل پر مشتمل پینتیس ہزار سات سو پچاسی کی تعداد میں کتب ری پرنٹ ہوئیں۔

وکالت اشاعت ترسیل

کی رپورٹ کے مطابق بائیس مختلف ممالک کو سینتالیس زبانوں میں ایک لاکھ پچیس ہزار ایک سو دس سے زائد تعداد میں کتب بھجوائی گئیں۔ ان کتب کی کل مالیت چار لاکھ تیس ہزار پاؤنڈ ہے۔

جماعت کے ذریعہ فری لٹریچر

پانچ ہزار اکہتر مختلف عناوین کی کتب فولڈرز سینتالیس لاکھ اکاون ہزار کی تعدادمیں مفت تقسیم کیے گئے۔ اس کے ذریعہ دنیا بھر میں بیاسی لاکھ بانوے ہزار سے زیادہ افراد تک پیغام پہنچا۔

جماعتوں میں لٹریچر اور لائبریریز

دنیا کے ایک سو ایک ممالک میں اب تک چھ سو چھ سے زائد ریجنل اور مرکزی لائبریریوں کا قیام ہو چکا ہے جہاں قادیان سے بھی کتب بھجوائی جاتی ہیں اور لندن سے بھی بھجوائی جاتی ہیں۔

وکالت تعمیل و تنفیذ انڈیا

کی رپورٹ کے مطابق دورانِ سال بیرون ممالک کی جماعتوں سے موصولہ جماعتی کتب کے مطالبات پر بروقت کتب کی ترسیل کی گئی۔ نظارت نشر و اشاعت سے آمدہ رپورٹ کے مطابق اٹھائیس ہزار سے اوپر کی تعداد میں کتب بھجوائی گئیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا ہندی ترجمہ کروانے کا انتظام کیا گیا۔ قادیان میں مختلف تعمیراتی پراجیکٹس مکمل کیے گئے۔ بعض پہ کام جاری ہے۔ نئی تعمیرات بھی ہوئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ نظر بھی آتی ہیں۔ قادیان کی جو تصویریں ہم دیکھتے ہیں تووہ نظر بھی آجاتی ہیں۔

رقیم پریس اور افریقن ممالک کے احمدیہ پرنٹنگ پریس

اللہ تعالیٰ کے فضل سے رقیم پریس فارنہم کو اس سال بڑی تعدادمیں جماعتی کتب اور لٹریچر طبع کرنے کی توفیق ملی۔ اس سال رقیم پریس فارنہم کے ذریعہ چھپنے والی کتب کی تعداد دو لاکھ انتیس ہزار سے اوپر ہے۔ اس طرح رسالہ موازنہ مذاہب، انصار الدین اور النصرت، وقف نو کے رسالہ جات مریم اور اسماعیل، چھوٹے پمفلٹس، لیف لیٹس اور جماعتی دفاتر کی سٹیشنری وغیرہ کو شائع کرنے کی یا چھاپنے کی توفیق ملی۔ خطِ منظور کے ساتھ قرآن کریم کا انگلش ترجمہ نہایت دلکش اور دیدہ زیب جلد کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔

کہتے ہیں کہ گذشتہ ماہ لندن میں ہونے والے عالمی کتب میلے میں جماعت کے سٹال پر اس قرآن کریم کو بہت پرکشش انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ غیر از جماعت مسلمانوں کی بڑی تعداد نے قرآن کریم کی اس طرز پر طباعت کی تعریف کی ہے۔ ایک عرب ملک کی مذہبی ثقافتی نمائش کے انچارج صاحب نے ہمارے سٹال کا دورہ کیا اور قرآن کریم انگلش کے ترجمہ کی اس خوبصورت انداز میں طباعت کی بہت تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ لوگوں نے اس کا ہدیہ بہت کم رکھا ہے کیونکہ وہ صرف دس پاؤنڈ ہے جبکہ ہم نے انگلش ترجمہ کا ہدیہ تیس پاؤنڈ رکھا ہوا ہے۔ رقیم پریس میں جدید دو کلر مشین کی تنصیب کی گئی ہے۔

احمدیہ پرنٹنگ پریس افریقہ میں

سات ممالک میں ہیں۔ گھانا، نائیجیریا، تنزانیہ، سیرالیون، آئیوری کوسٹ، گیمبیا اور برکینا فاسو۔ انہوں نے بھی پانچ لاکھ اکہتر ہزار سے اوپر لٹریچر شائع کیا ہے، کتب شائع کیں۔ گیمبیا میں پہلی جدید فائیو کلر مشین کی تنصیب ہوئی اور یہ وہاں بڑا ماڈرن پریس بن گیا ہے۔

لیف لیٹس فلائرز کی تقسیم کا منصوبہ

اس سال ایک سو دو ممالک میں مجموعی طور پر چھہتر لاکھ گیارہ ہزار سے اوپر لیف لیٹس تقسیم ہوئے اور اس کے ذریعہ سے ایک کروڑ سولہ لاکھ نوے ہزار سے زائد افرادتک پیغام پہنچا۔ ان میں جرمنی نمبر ایک ہے۔ پھر یوکے ہے۔ پھر آسٹریا، ہالینڈ، سویڈن، ڈنمارک، سوئٹزرلینڈ، پرتگال، فرانس، بیلجیم، سپین، مالٹا، ناروے، یونان اور پولینڈ، آئرلینڈ، کینیڈا، ٹرینی ڈاڈ،امریکہ، ہیٹی، بیلیز، ارجنٹائن،میکسیکو، ہونڈوروس، برازیل، گیانا، جمیکا، یوراگوئے، پیراگوئے، آسٹریلیا،فجی، نیوزی لینڈ ہیں۔ اور

افریقہ میں لیف لٹ کے لحاظ سے جو نمایاں ملک ہیں

ان میں برکینا فاسو ہے، پھر بینن ہے، پھر تنزانیہ ہے۔ کیمرون، کانگو کنشاسا، پھر چاڈ، پھر سیرالیون، پھر نائیجیریا، پھر کینیا، پھر زیمبیا، پھر آئیوری کوسٹ، پھر ٹوگو، پھر گھانا، پھر گیمبیا، مڈغاسکر، پھر نائیجیریا، پھر مالی اور برونڈی۔ جاپان میں بھی اس سال سینتالیس ہزار لیف لیٹس تقسیم کیے گئے۔

امیر صاحب سپین کہتے ہیں کہ ایک سپینش احمدی سپین کے شمال کے ایک چھوٹے سے گاؤں جس کی آبادی بارہ سو کے قریب ہے اس میں کافی پینے کے لیے رکے تو وہاں ریسٹورنٹ میں جماعت کے لیف لیٹس پڑے ہوئے تھے۔ اس پر وہ بہت حیران ہوئے۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ جامعہ یوکے کے فارغ التحصیل 2019ء کا جو گروپ سپین کے شمالی علاقے میں لیف لیٹس کے لیے بھیجا گیا تھا انہوں نے یہ لیف لیٹس ریسٹورنٹ کے مالک کی اجازت سے وہاں رکھے ہوئے تھے جو کہ دو سال کے بعد بھی وہاں موجود تھے اور یہاں آنے والے ان کو دیکھتے اور ان سے استفادہ کرتے۔ اسی طرح بہت سارے ممالک ہیں جہاں لیف لیٹس کے بارے میں مختلف قسم کے واقعات ہیں۔

پھر نمائش اور بُک سٹالز اور بُک فیئرز کی رپورٹ

ہے۔ موصولہ رپورٹس کے مطابق چھ ہزار اکتالیس نمائشوں کے ذریعہ سے نولاکھ انتیس ہزار سے اوپر افراد تک اسلام احمدیت کا پیغام پہنچایا گیا۔ بارہ سو چونتیس سے زائد تراجم قرآن کریم تحفةً مہمانوں کو دیے گئے۔ چار ہزار آٹھ سو بیس بک سٹالز اور بک فیئرز کے ذریعہ گیارہ لاکھ چونتیس ہزار سے زائد افراد تک پیغام پہنچانے کی توفیق ملی۔

نمائشوں کے حوالے سے بھی انہوں نے واقعات لکھے ہوئے ہیں۔

ساؤتھ آسٹریلیا

کے ایک ٹاؤن ملیسنٹ (Millicent) میں قرآن کریم کی نمائش کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ایک مقامی خاتون نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک زبردست کاوش ہے۔ کاش! میں نے اس طرح کی نمائش پہلے دیکھی ہوتی۔ یہ ایک ایسی چیز ہے کہ جسے بار بار دہرایا جانا چاہیے کیونکہ ہم میں سے اکثر یا تو اسلام کے بارے میں بالکل تھوڑا جانتے ہیں یا بالکل نہیں جانتے اور میڈیا میں اسلام کے بارے میں منفی پیغام پیش کیا جاتا ہے۔ اگر لوگ خود نہیں پڑھ سکتے تو یہ نمائش ان کے لیے اسلام کی اصل تصویر کو دیکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ کاش! میں نے اسلام کے بارے میں پہلے سنا یا پڑھا ہوتا۔

ایڈیلیڈ کے قریبی ٹاؤن میلر (Mylor) میں قرآن کریم کی نمائش اور بک سٹال لگایا گیا۔ ایک مقامی سکول ٹیچر نے کہا: مجھے اس بات کا علم ہے کہ مسلمانوں کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ لوگ یہاں شدت پسند جنونیت اور عام لوگوں میں فرق بتانے کے لیے آئے ہیں۔ تمام مذاہب میں شدت پسند پائے جاتے ہیں اور اکثر شدت پسند کچھ غلط کام کر بیٹھتے ہیں۔ اس لیے آپ سب لوگوں کو ایک ہی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتے۔ آپ بہت اچھا پیغام پھیلا رہے ہیں کہ مسلمان عمومی طور پر پُرامن لوگ ہیں اور اچھے آسٹریلین ہیں۔ پھر

بک فیئرز اور سٹالز میں شامل ہونے والوں کے تاثرات

کے بارے میں بھی رپورٹ ہے۔ دیکھتا ہوں اگر وہ مختصر ہوئی تو بیان کر دوں گا۔انڈیا کی ایک رپورٹ دیبروگڑھ (Dibrugarh) آسام کی ہے۔ بک فیئر کے موقع پر ڈاکٹر سدارتھ شرما جو کہ مشہور ڈاکٹر ہیں اور آر ایس ایس کے ضلع کے صدر بھی ہیں جماعتی سٹال پر آئے۔ موصوف اسلام کے بارے میں بہت تعصّب رکھنے والے شخص تھے مگر جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے پھیلائے جانے والے اسلام کی امن پسند تعلیم کو دیکھ کر موصوف نے کہا کہ میری اسلام کے بارے میں جو بھی منفی سوچ تھی وہ ختم ہو گئی ہے۔ اب میں قرآن کا مطالعہ کر رہا ہوں جو کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے مجھے ملا ہے۔

امیر صاحب آسٹریلیا لکھتے ہیں کہ ساؤتھ آسٹریلیا میں سنڈے مارکیٹ میں سٹال لگانا بہت مشکل ہے۔ کہتے ہیں کیونکہ اکثر مارکیٹوں میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو سٹال لگانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ جو مارکیٹیں اجازت دیتی بھی ہیں وہ بھی مسلمانوں کا نام سن کر انکار کر دیتی ہیں۔ ہم نے ایک لوکل چرچ وزٹ کیا۔ وزٹ کے دوران ان کو جماعت احمدیہ کا تعارف کروایا۔ آخر پر چرچ کی منسٹر سے پوچھا کہ کیا ہم پورٹ براڈن (Port Broughton) کی کمیونٹی مارکیٹ میں سٹال لگانے کے لیے ان کا نام بطور ریفرنس کے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس پر انہوں نے نہ صرف اس بات کی اجازت دی بلکہ خود ہمیں اجازت لے کر دی اور تین اکتوبر کا سٹال بُک کروا دیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں تبلیغ کا ایک اَور موقع اللہ تعالیٰ نے عطا فرما دیا۔

جرمنی کی جماعت سوئے زوسٹ (Soest) کے صدر لکھتے ہیں کہ ہماری جماعت تبلیغی سٹال لگانے کے لیے ایک گاؤں میں گئی۔ جب ٹینٹ لگایا تو وہاں پولیس آ گئی۔ ان کو ہم نے اپنا تعارف کروایا تو کہنے لگے ہمیں علم ہے کہ آج آپ لوگوں نے یہاں سٹال لگانا ہے۔ ہم لوگ آپ کے لیے ہی آئے ہیں۔ آپ کو کسی قسم کی تکلیف تو نہیں ہوئی یا کسی نے آپ کو تنگ تو نہیں کیا؟ کہنے لگے کہ ہم آپ کی حفاظت کے لیے آئے ہیں تا کہ آپ کو کوئی پریشان نہ کرے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو اس نے جماعت احمدیہ سے روا رکھا ہوا ہے کہ مقامی پولیس اپنی نگرانی اور حفاظت میں ہمیں تبلیغ اسلام کرنے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔

مختلف ممالک میں مقامی طور پر جماعتی رسالوں کی اشاعت

کے بارے میں رپورٹ ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں جماعت اور ذیلی تنظیموں کے تحت چوبیس زبانوں میں 120تعلیمی، تربیتی اور معلوماتی مضامین پر اخبارات اور رسائل شائع ہو رہے ہیں۔

الفضل انٹرنیشنل کی رپورٹ

ہے کہ الفضل انٹرنیشنل جس کا اجرا 1994ء میں ہفت روزہ اخبار کی شکل میں ہوا تھا اور ستائیس مئی 2019ء سے ہفتہ میں دو روز باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے۔ دورانِ سال الفضل انٹرنیشنل کو پانچ خصوصی نمبروں سمیت ایک سو ایک شمارے شائع کرنے کی توفیق ملی۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ دیکھا جاتا ہے۔ الفضل کو فیس بک پر اپنا پیج شروع کرنے کی توفیق ملی۔ اس سال الفضل انٹرنیشنل کی ویب سائٹ، ٹوئٹر اور فیس بک وغیرہ کے ذریعہ تین کروڑ اکہتر لاکھ سے زائد لوگوں تک پیغامِ حق پہنچا۔ ایسے احباب جو اردو پڑھنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں لیکن اردو سمجھتے ہیں یا کاموں میں مصروف رہنے کی وجہ سے اردو مضامین سننا پسند کرتے ہیں ان کے لیے

آڈیو الفضل کا سلسلہ

شروع کیا گیا ہے۔ موبائل فون ایپ پر آڈیو مہیا کر دی جاتی ہے۔ اب تک ایک لاکھ چوبیس ہزارسے اوپر لوگ ان آڈیوز سے استفادہ کر رہے ہیں۔

روزنامہ الفضل آن لائن

شائع ہو رہا ہے اور یہاں سے انسٹا گرام اور ٹوئٹر اور فیس بک کے ذریعہ سے اس کے قارئین کی تعداد بھی فیس بک سٹیٹس اور پی ڈی ایف کے ذریعہ چار لاکھ سے زائد تک پہنچ چکی ہے۔

الحکم

جو انگریزی دان طبقہ کے لیے انگریزی میں شائع ہوتا ہے، اس کی بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے تعداد بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے پوڈکاسٹ بھی بنایا ہے آڈیو پوڈ کاسٹ اور غیر احمدی احباب خصوصاً متعلقہ فیلڈز سے تعلق رکھنے والے ماہرین بھی یہ پوڈکاسٹ دلچسپی سے سنتے ہیں اور سوشل میڈیا پر تبصرے بھی کرتے ہیں۔ اس کی تعداد یہاں مجھے لکھی ہوئی نظر نہیں آئی کہ یہ پڑھنے والے اس وقت کتنے ہیں۔ بہرحال یہ تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔

ریویو آف ریلیجنز

جس کا اجرا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا تھا۔ جو 1902ء میں پہلی دفعہ شائع ہوا تھا۔ اس کو ایک سو بیس 120سال ہو چکے ہیں۔ یہ رسالہ انگریزی میں ماہوار اور جرمن میں ہر دوسرے ماہ جبکہ فرنچ اور سپینش میں سہ ماہی شائع ہو رہا ہے۔ دورانِ سال یہ رسالہ انگریزی، فرنچ، سپینش اور جرمن زبانوں میں دو لاکھ سے زائد تعداد میں پرنٹ ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ریویو آف ریلیجنز اب ایک میڈیا آرگنائزیشن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جس میں بیک وقت مختلف پراجیکٹس پر کام ہو رہا ہے۔

پھر پریس اینڈ میڈیا آفس

ہے۔ دورانِ سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے پریس اینڈ میڈیا کو دو سو اکانوے خبریں اور مضامین شائع کروانے کی توفیق ملی۔ اس کے ذریعہ سے ایک محتاط اندازے کے مطابق تین کروڑ سے زائد افراد تک جماعت کا پیغام پہنچا اور بڑے بڑے اچھے ادارے ٹی وی کے بھی اور ریڈیو کے بھی انہوں نے خبریں دیں۔

پھر الاسلام ویب سائٹ

ہے۔ قرآن کریم کے سرچ کی نئی ویب سائٹ openquran.comکو مزید بہتر بنایا گیاہے۔ الاسلام پر قرآن کریم پڑھنے اور سننے کے لیے جدید دیدہ زیب

readquran.app کے پہلے موبائل ورشن کا اجرا

ہوا ہے۔ انگریزی زبان میں تین سو تیس اور اردو زبان میں ایک ہزار کتب ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ انگریزی زبان میں بیس نئی کتب ایپل،گوگل اور ایمازون (amazon)پر شائع کی گئی ہیں۔ اب تک اکانوے کتب اس پلیٹ فارم پر شائع ہو چکی ہیں۔ اردو اور انگریزی میں سترہ نئی آڈیو کتب تیار کی گئی ہیں۔ اس طرح اب تک اردو میں بیاسی۸۲ اور انگریزی میں اکاون۵۱ کتب کی آڈیو فائلز تیار ہو چکی ہیں۔ میرے خطبات بیس زبانوں میں آڈیو اور ویڈیوز میں دستیاب ہیں۔ مختلف تقاریر اور کتب، پریس ریلیز وغیرہ بھی دستیاب ہیں۔

عربی ڈیسک

عربی ڈیسک کے تحت گذشتہ سال جو کتب اور پمفلٹس عربی زبان میں تیار ہو کر شائع ہوئے ہیں ان کی تعداد تقریباً 166ہے۔اس سال چھوٹی بڑی بارہ کتب پرنٹنگ کے لیے بھجوائی گئیں اس طرح یہ تعداد اب 178ہو چکی ہے اور تفصیل کچھ پہلے بھی میں بتا چکا ہوں۔ عربی ڈیسک بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھا کام کر رہا ہے۔ عربوں کے واقعات میں دیکھ لیتا ہوں کوئی مختصر ہوا تو بیان کر دوں گا۔

یمن

سے انفال صاحبہ کہتی ہیں میں نے پانچ سال قبل بیعت کی ہے۔ میں ہمیشہ دعا کرتی تھی کہ خدایا مجھے صحیح راستے کی طرف ہدایت دے۔ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت ہے اور نماز میں دعا کرتی تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ایسا پانی پیوں کہ پھر کبھی پیاس نہ لگے۔ میرے میاں احمدی تھے اور مجھ سے احمدیت کے بارے میں بات کرتے تھے۔ ہم مل کر ایم ٹی اے دیکھتے تھے۔ مجھے جماعتی افکار اچھے لگتے تھے اور میں نے بیعت کر لی۔ بیعت سے قبل میں نے کئی مبارک خوابیں دیکھیں۔ ایک خواب میں مَیں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علیؓ سے فرماتے ہیں کہ جماعتِ احمدیہ کی اتباع کرو کہ اصل جماعت احمدیت ہی ہے اس کے بعد آواز کٹ گئی۔ بیدار ہوئی تو یقین تھا کہ یہ آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی تھی۔ پھر

مصر

سے ایک خاتون راندہ صاحبہ لکھتی ہیں کہ میں کورونا ویکسین سے ڈرتی تھی۔ ایک دن مروہ شبوطی صاحبہ نے مجھ سے پوچھا کہ ویکسین لگوا لی ہے؟ میں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تو انہوں نے میرا حوالہ دیاکہ میں نے کہا ہوا ہے کہ ساروں کو ویکسین لگوانی چاہیے۔ یہ سن کر وہ کہتی ہیں کہ میں نے خوف کے باوجود ویکسین لگوا لی اور دوسری ڈوز پر بھی خوف تھا لیکن میں نے خدا تعالیٰ سے عرض کی کہ میں خلیفة المسیح کی اطاعت میں لگوا رہی ہوں تُو سب آسان کر دے۔ خدا کی قَسم! اس کے بعد مجھے کچھ نہ محسوس ہوا نہ کوئی درد ہوئی۔ عربوں کے بھی کافی واقعات ہیں۔

رشین ڈیسک

اللہ تعالیٰ کے فضل سے رشین ڈیسک کو گذشتہ تیرہ سال سے توفیق مل رہی ہے کہ دورانِ سال میرے خطبات کا اور خطابات کا ترجمہ کر رہے ہیں۔ جلسہ سالانہ کی تقاریر کا ترجمہ کر رہے ہیں اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ کام بہت وسیع ہو گیا ہے اور رشین جو مجھے خط لکھتے ہیں اس سے بھی پتہ لگتا ہے کہ خطبات کو باقاعدہ سن کے ان کو بہت فائدہ پہنچ رہا ہے اور بڑا شکر گزاری کا اظہار کرتے ہیں۔

پھر فرنچ ڈیسک

ہے۔ اس ڈیسک کے ذمہ درج ذیل کام ہیں۔ ایم ٹی اے پر نشر ہونے والے خطبات کا ترجمہ۔ جماعت کے لٹریچر کا ترجمہ۔ خط و کتابت جو مرکزی ہے۔ سوشل میڈیا، فرنچ ویب سائٹ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس پہ انہوں نے کافی کام کیا ہے۔

چینی ڈیسک

ہے۔ حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓکی کتاب سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چینی ترجمہ اس سال طبع ہوا ہے۔ اس وقت چودھری ظفر اللہ خان صاحب کی کتاب Women in Islamکا ترجمہ تیار ہو چکا ہے اور کہتے ہیں ٹائٹل کی تیاری کا کام جاری ہے۔ ’’مسیح ہندوستان میں‘‘ اس کے بھی چینی ترجمہ کی آخری چیکنگ ہو رہی ہے۔ اسی طرح اَور لٹریچر چھپ رہا ہے۔

ٹرکش ڈیسک

دورانِ سال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی درج ذیل کتب کا ترکی ترجمہ بغرض اشاعت ترکی بھجوایا گیا ہے۔ تحفة الندوة، راز حقیقت، حقیقة المہدی، توضیح مرام، لیکچر لدھیانہ، استفتاء، تجلیات الٰہیہ، حجة الاسلام، سچائی کا اظہار، قادیان کے آریہ اور ہم۔ اس کے علاوہ اَور کتابیں بھی ترجمہ ہو رہی ہیں۔

سواحیلی ڈیسک

ہے۔ ایم ٹی اے افریقہ پر نشر ہونے والے تمام پروگراموں کا سواحیلی زبان میں ترجمہ کیا جا رہا ہے۔ ایم ٹی اے افریقہ کے لیے قرآن کریم کا مکمل سواحیلی ترجمہ ریکارڈ کروایا جا چکا ہے جو کہ دوران سال رمضان المبارک کے علاوہ دیگر ایا م میں بھی تلاوت کے ساتھ نشر ہوتا رہا۔

انڈونیشین ڈیسک

ہے۔ انڈونیشیا سے مجھے انڈونیشین لوگوں کے جو خطوط آتے ہیں وہ اب بہت زیادہ تعداد میں آنے لگ گئے ہیں اس ڈیسک کے تحت ان خطوط کا ترجمہ اور خلاصہ تیار کر کے وہ پیش کیا جاتا ہے۔ اسی طرح تراجم کتب میں ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جلد اول کے نصف حصہ کے ترجمہ پر اس سال کام جاری ہے۔ رازِ حقیقت کا انڈونیشین ترجمہ پرنٹنگ کے مراحل میں ہے۔ اسی طرح ایم ٹی اے کے پروگراموں کی طرف بھی ان کی توجہ ہے۔

سپینش ڈیسک

مرکزی سپینش ڈیسک کا قیام سپین میں ہے۔ دورانِ سال بعض سپینش ممالک کی مدد سے اس ڈیسک کے تحت درج ذیل کام ہوئے: خطبات اور خطابات کا انہوں نے ترجمہ کیا اور باقی ٹی وی پروگراموں کا بھی ترجمہ کر رہے ہیں۔ اسی طرح مرکزی پریس میڈیا کے ساتھ تعاون کر کے ان کی پریس ریلیز شائع کر رہے ہیں اور کتب جو نظرِ ثانی ہو چکی ہیں اس سال ابھی چھپی نہیں لیکن نظر ثانی ہوئی ہے اس سال ، لیکچر لاہور،لیکچر سیالکوٹ، رازحقیقت، چشمہ مسیحی، آسمانی فیصلہ اور منہاج الطالبین حضرت مصلح موعودؑ کی کتاب ہے۔ سوشل ویب سائٹ پہ بھی کام کر رہے ہیں۔

انٹرنیشنل ٹرانسلیشن اینڈ ریسرچ آفس

پہلے اس کا نام ’’عربک انگلش ٹرانسلیشن اینڈ ریسرچ آفس‘‘ تھا۔ اب یہ عربی سے انگلش میں اور انگلش سے عربی میں ترجمہ کا کام کر رہے ہیں۔ ترجمہ صحیح بخاری کی شرح جو حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحبؓ نے کی تھی اس کا انگریزی ترجمہ جاری ہے۔ پہلی جلد کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ فقہ المسیح اور مجموعۂ اشتہارات جلد اول کا انگریزی ترجمہ جاری ہے اور اسی طرح میرے خطابات ہیں۔ حضرت خلیفة المسیح کے دروس اور کچھ خطابات وغیرہ ہیں۔ حضرت مصلح موعود ؓکی بعض چھوٹی کتب ہیں۔ ان کے ترجمے یہ اس میں کر رہے ہیں۔

تحریک وقف نو

اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت دنیا بھر میں واقفین نو کی تعداد 78ہزار ہے جس میں سے پینتالیس ہزار آٹھ سو بتیس لڑکے اور بتیس ہزار ایک سو اڑسٹھ لڑکیاں ہیں۔ اس سال نئی درخواستیں جن پر والدین کو ابتدائی منظوری بھجوائی گئی ان کی تعداد تین ہزار پانچ سو انیس ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ تعداد بھی ہر سال بڑھ رہی ہے اور مرکزی شعبہ کے دفتر نے اچھا کام سنبھال لیا ہے۔

مرکزی شعبہ آئی ٹی

یہ شعبہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا فعال ہو چکا ہے اور اچھا کام کر رہا ہے اور مرکزی دفاتر کی آئی ٹی میں مدد کرنے میں یہ کافی کام کر رہا ہے۔

پریس اینڈ میڈیا آفس

اس کے تحت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھاکام ہو رہا ہے۔

ایم ٹی اے انٹرنیشنل

اس کے سولہ۱۶ ڈیپارٹمنٹس ہیں اور اللہ کے فضل سے پانچ سو تین۵۰۳ کارکنان ہیں۔ 279 مرد اور 144 خواتین۔ ان میں سے اسّی تنخواہ دار ہیں۔ تنخواہ کیا، ان کو الاؤنس ملتا ہے۔

ایم ٹی اے افریقہ

کے ذریعہ افریقہ کے مختلف ممالک میں بارہ سٹوڈیوز اور بیوروز قائم ہیں۔ 150کارکنان ان میں کام کررہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے اکتیس جنوری کوایم ٹی اے کا آغاز ہوئے تیس سال مکمل ہوگئے ہیں۔ اللہ کے فضل سے دنیا کے مختلف ممالک کے لیے ایم ٹی اے کے آٹھ چینل چوبیس گھنٹے کی نشریات پیش کر رہے ہیں۔ اس میں تئیس مختلف زبانوں میں رواں ترجمہ کیا جاتا ہے اور اس لحاظ سے ایم ٹی اے اپنا بڑا فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ ایم ٹی اے افریقہ کے ذریعہ سے بھی اب بڑا کام ہو رہا ہے اور وہاں کینیا میں بھی اور روانڈا میں بھی اور گھانا میں بھی اور مایوٹ آئی لینڈ میں بھی ان کے سٹوڈیوز ہیں۔ یہ تین تو اس سال نئے بنے ہیں۔ گھانا وغیرہ کے پہلے کام کر رہے تھے۔ کیمرون میں ایم ٹی اے کیبل سسٹم پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

کانگو کنشاسا

سے معلم باندونو لکھتے ہیں کہ باندونو شہر میں ایک عیسائی بوڑھی خاتون جو ہمارا پروگرام ٹیلیویژن پر دیکھتی ہے اس نے معلم صاحب سے کہا کہ احمدیت کی یہ تعلیمات اگر پہلے آ جاتیںتو مجھے یقین ہے کہ آج تمام چرچ خالی ہوتے کیونکہ وہ ان تعلیمات کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایم ٹی اے کے ذریعہ سے لوگوں پر اچھا اثر بھی ہو رہا ہے جیسا کہ اس خاتون کا بھی میں نے پڑھا۔

اسی طرح

خطبات

جو ایم ٹی اے پہ سنتے ہیں اس کے ذریعہ سے بیعتیں بھی ہو رہی ہیں اور کافی لوگ اس طریقے سے بھی خطبات سن کے بیعتیںکر رہے ہیں۔

جماعت احمدیہ کے ریڈیو سٹیشنز

بھی ہیں۔ اس وقت جماعت احمدیہ کے اپنے پچیس ریڈیو سٹیشنز ہیں۔ مالی میں پندرہ، برکینا فاسو میں چار، سیرالیون میں تین۔ اس کے علاوہ تنزانیہ، گیمبیا، کانگو کنشاسا میں ایک ایک ریڈیو سٹیشن کام کر رہا ہے۔ ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا اچھا کام ہو رہا ہے۔

یہاں Voice of Islamریڈیو

ہے۔ اس ریڈیو کی توسیع ہو گئی ہے۔ پہلے یہ صرف لندن کے لیے تھا اب بریڈ فورڈ، ایڈنبرا اور کارڈف اورلنڈن ڈیری اور گلاسگو بھی اس میں شامل ہو گئے ہیں۔

اسی طرح ریڈیو سٹیشنز کے ذریعہ سے بھی بیعتیں ہو رہی ہیں

اور لوگوں کوقبولیتِ احمدیت کی توفیق مل رہی ہے۔ دیگر ٹی وی پروگرامز پر چوبیس گھنٹے کی نشریات کے علاوہ چوہتر ممالک میں ریڈیو چینل جماعت کا پیغام دے رہے ہیں۔

اس سال دو ہزار چھ سو چھیاسی ٹی وی پروگراموں کے ذریعہ دو ہزار پانچ سو انیس گھنٹے وقت ملا اور ریڈیو سٹیشن کے ذریعہ سے چوبیس ہزار سات سو باسٹھ گھنٹے پر مشتمل سترہ ہزار دو سو چار پروگرام نشر ہوئے۔ ٹی وی اور ریڈیو کے ان پروگراموں کے ذریعہ مختلف اندازے کے مطابق چونتیس کروڑ سے زائد افراد تک پیغام پہنچا۔

اخبارات میں جماعتی خبروں کے علاوہ مضامین

بھی شائع ہوئے۔ اس ذریعہ سے بھی اللہ کے فضل سے بہت کام ہو رہا ہے اور اخباروں میں بھی، پریس میں بھی جماعت کا تعارف شائع ہوتا ہے۔

پھر مخزن تصاویر

ہے۔ یہ شعبہ بھی بڑا کام کر رہا ہے۔ ایک تصویری زبان میں جماعت احمدیہ کی تاریخ انہوں نے محفوظ کر لی ہے۔

احمدیہ آرکیٹکٹس ایسوسی ایشن

ہے۔ یہ بھی واٹر فار لائف کے لیے اور سولر سسٹم کے ذریعہ افریقہ کے غریب ممالک میں ماڈل ویلیجز کے کام سرانجام دے رہے ہیں اور اس کے ذریعہ سے خدمت کر رہے ہیں۔

مرکزی شعبہ اے ایم جے

بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے دفتری فرائض احسن رنگ میں انجام دے رہا ہے۔

احمدیہ آرکائیو اینڈ ریسرچ سنٹر

میں بھی اللہ کے فضل سے جماعت کی بعض نایاب تاریخ جو ہے وہ انہوں نے کھوج لگا کر تلاش کر کے جمع کی ہے اور جمع کر بھی رہے ہیں۔

مجلس نصرت جہاں

کے تحت افریقہ کے بارہ ممالک میں سینتیس ہسپتال اور کلینک کام کر رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں اڑتالیس مرکزی ڈاکٹرز ہیں اور چونتیس مقامی ڈاکٹر خدمت انجام دے رہے ہیں۔ لائبیریا میں ایک ڈینٹل کلینک کا بھی اجرا ہوا ہے۔ افریقہ کے گیارہ ممالک میں چھ سو پندرہ پرائمری اور مڈل سکول ہیں جبکہ دس ممالک میں اسّی ۸۰سیکنڈری سکول کام کر رہے ہیں۔

نائیجر میں پہلے احمدیہ مسلم کلینک کا اجرا

ہوا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس علاقے میں اچھا کام کر رہا ہے۔

ہیومینٹی فرسٹ

ہے، اس کے تحت بھی بڑا اچھا کام ہو رہا ہے۔ خون کے عطیات دیے جا رہے ہیں۔ آپریشن لاکھوں کے ہوتے ہیں۔ فری میڈیکل کیمپ لگتے ہیں اور پھر disasterمختلف قسم کے جو طوفان وغیرہ آتے ہیں یا جو ہنگامی صورتحال ہوتی ہے اس میں یہ لوگ بڑی مدد کر رہے ہیں۔

قیدیوں سے رابطے اور ان کی خبرگیری

کے سلسلہ میں نائیجر میں بہت اچھا کام ہوا ہے۔ کانگوکنشاسا میں، برکینا فاسو میں، گھانا میں، سینٹرل افریقہ میں، گیمبیا میں، کینیا، آئیوری کوسٹ، مالی، تنزانیہ،گنی بساؤ،گنی کناکری، سیرالیون، انڈیا، ہالینڈ میں بھی قیدیوں سے اچھے رابطے ہوئے ہیں اور ان کو اسلام کی تبلیغ کی گئی۔ اس کا اچھا اثر ہو رہا ہے۔

نومبائعین کے لیے تربیتی کلاسز اور ریفریشر کورس کا انعقاد

ہوا۔ نومبائعین کے لیے چار ہزار آٹھ سو ستاسی جماعتوں میں اکاون ہزار سات سو پینتالیس تربیتی کلاسز، تعلیمی کلاسز اور ریفریشر کورسز کا انعقاد ہوا۔ نومبائعین سے بحالی رابطے کے مطابق نائیجر میں پندرہ ہزار کے قریب رابطے ہوئے۔ کیمرون میں دس ہزار تین سو پچپن، سینیگال میں تین ہزار سے اوپر، سیرالیون میں تین ہزار تین سو اکسٹھ، بینن میں دو ہزار سے اوپر، آئیوری کوسٹ میں دو ہزار سے اوپر، تنزانیہ میں دورانِ سال تقریباً دو ہزار، نائیجیریا، برکینا فاسو، گھانا، گنی کناکری، گنی بساؤ، کینیا، لائبیریا، گیمبیا، کانگو کنشاسا، بنگلہ دیش، ہندوستان، انڈونیشیا، ملائیشیا، ٹوگو، یوگنڈا، یوکے ان سب ممالک میں نئے رابطے ہو رہے ہیں اور جو پرانی بیعتیں تھیں ان کے ساتھ اللہ کے فضل سے رابطے بحال ہو رہے ہیں۔

اس سال ہونے والی بیعتیں

اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال بیعتوں کی تعداد ایک لاکھ چھہتر ہزار آٹھ سو چھتیس (۱۷۶،۸۳۶)ہے۔ گذشتہ سال کی نسبت اللہ کے فضل سے اکاون ہزار چھ سو پندرہ کا اضافہ ہے۔ ایک سو نو ممالک سے ایک سو ساٹھ سے زائداقوام احمدیت میں داخل ہوئیں۔ دورانِ سال نائیجیریا میں پینتیس ہزار چھ سو ستائیس بیعتیں ہوئیں، سینیگال میں بائیس ہزار، گنی کناکری میں اٹھارہ ہزار پانچ سو بیالیس، سیرالیون پندرہ ہزار سات سو سترہ، کیمرون میں بیعتوں کی تعداد چودہ ہزار، کانگو برازاویل میں بارہ ہزار اور پھر دس ہزار کے قریب قریب جو ہیں گنی بساؤ میں ہیں، تنزانیہ میں اور کانگو کنشاسا میں ہیں، پھر برکینافاسو میں، لائبیریا میں، گیمبیا میں، مالی میں، آئیوری کوسٹ، چاڈ، مڈغاسکر، سینٹرل افریقن ریپبلک، کینیا، یوگنڈا، ساؤ تومے، زمبابوے، روانڈا، گھانا اور اس طرح بہت سارے ممالک ہیں۔ ایتھوپیا، ماریشس، مصر، گابون، موریطانیہ، جنوبی افریقہ، کوموروز آئی لینڈ، مایوٹ آئی لینڈ، کیپ وردے آئی لینڈمیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعتیں ہوئی ہیں۔اس کے علاوہ ایشیا اور بعض عرب ممالک اور یورپ میں بھی بیعتیں ہوئی ہیں۔

قرغیزستان سے ضمیروو اِلْزَار (Zamirov Ilzar) صاحب کہتے ہیں کہ اس سال موسمِ بہار میں مَیں نے اللہ تعالیٰ کی رضا سے سچے راستے یعنی احمدیت کو قبول کیا۔ میرے ایک دوست نے مجھے ایک سال تک تبلیغ کی۔ اس طرح مجھے اپنے سوالوں کے جوابات مل گئے جیسے دجال کے بارے میں مجھے پہلے یہ بات سمجھ نہ آئی تھی کہ اس کی پیشانی پر چھ سو چھیاسٹھ یا جھوٹا لکھا ہوا ہو گا وغیرہ۔ اس طرح میرا دل پُرسکون ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ کی رضا سے میرا دل کھل گیا۔ اس پر میں بہت خوش ہوں۔

پیراگوئے کی ایک نومبائع خاتون کہتی ہیں میں پہلے عیسائی تھی اور چھ ماہ قبل احمدی مسلمان ہوئی ہوں۔ مَیں نے مذہب کا کبھی بھی سنجیدگی سے مطالعہ نہیں کیا تھا۔ میرے عیسائیت کے بارے میں بعض سوالات تھے جن کا مجھے تسلی بخش جواب نہیں ملتا تھا۔ پھر مَیں نے مختلف مذاہب کے بارے میں تحقیق شروع کر دی اور مجھے لگا کہ اسلام کی بنیاد بہت مضبوط ہے اور اسلام کے عقائد سمجھ میں آتے ہیں۔ پھر میرا رابطہ جماعت احمدیہ کے مبلغ سے ہوا تو انہوں نے اسلام کی بہت سی خوبیاں بیان کیں جوکہ میرے لیے بالکل ایک نئی دنیا تھی۔ مجھے اسلام کی حقیقت سمجھ آ گئی اور میں نے اسلام قبول کر لیا۔

اسی طرح ازبکستان ہے، افریقن ممالک ہیں، یورپ کے ممالک ہیں، رشین ممالک ہیں، بہت سارے ملکوں کے واقعات ہیں جو اس وقت تفصیل سے بتائے نہیں جا سکتے۔

خوابوں کے ذریعہ سے بہت سارے لوگوں نے احمدیت قبول کی اور اس کے بھی کافی واقعات ہیں۔ آئندہ کسی وقت ان شاء اللہ بیان ہو جائیں گے۔

پھر نشانات دیکھ کر لوگوں نے بیعتیں کیں۔

فلپائن

کے مبلغ انچارج کہتے ہیں ایک نو مبائع دوست سلیم حسن البانی صاحب ہیں جن کا تعلق تَاؤُسَگْ (Tausug) قبیلہ سے ہے۔ ایک چھوٹے سے جزیرہ سِگَانگنگ (Sigangang) کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں ایک سنی مسلمان تھا اور مجھے لوکل صدر جماعت نے ایک جماعتی پروگرام میں مدعو کیا۔ مبلغ کا ایڈریس انگریزی میں تھا مَیں سمجھ نہ سکا۔ بعد میں لوکل صدر صاحب نے ترجمہ کرکے بتایا۔ چنانچہ میں پروگرام میں شامل ہوتا رہا اور لوکل معلم سے بھی سوال و جواب ہوتے رہے۔ پانچ نومبر 2021ء کو ہمارے ہی علاقے میں جمعہ کی نماز کا انتظام تھا اور تبلیغی نشست بھی تھی۔ مَیں اُس دن صبح سے دعا کرتا رہا کہ اے اللہ! اگر احمدیت سچی ہے تو مجھے اس کا کوئی نشان دکھا۔ اگر جماعت سچی ہے تو مجھے بارش کا نشان دکھا کیونکہ بارش تیری رحمت کا نشان ہے اور سورج دوزخ کی گرمی کا۔ ابھی میں دعا کر ہی رہا تھا کہ شدید بارش شروع ہو گئی اور اس قدر شدید بارش شروع ہوئی کہ مجھے لگا کہ میں نماز پڑھنے کے لیے نہیں جا سکوں گا۔ جب ایسا ہوا تو میں نے دعا کرنا شروع کر دی کہ اے اللہ اب اس بارش کو روک دے تا کہ میں جمعہ کی نماز پڑھنے جا سکوں اور اس دعا کے ساتھ ہی بارش تھم گئی اور میں جمعہ کی نماز پڑھنے چلاگیا۔کیونکہ ہمارے علاقے میں باقاعدہ مسجدنہیں تھی اس لیے ہم جنگل میں ہی ایک چھوٹا سا شامیانہ لگا کر نماز پڑھ رہے تھے جو ہمیں بارش سے بمشکل بچا سکتا تھا۔ جب میں وہاں پہنچ گیا تو دوبارہ بارش شروع ہو گئی اور خطبہ کے دوران معلم صاحب کی قمیص بھی پیچھے سے بھیگ گئی اور ہم نے بھی اپنی جائے نمازوں پر ناریل کے پتے رکھ کر گیلا ہونے سے بچایا۔ ہم جتنی دیر نماز پڑھتے رہے بارش ہوتی رہی۔ نماز کے بعد تبلیغی نشست تھی جس میں بتایا گیا کہ کس طرح امام مہدی علیہ السلام کے آنے سے دنیا میں امن قائم ہواہے۔ بارش کا نشان دیکھ کر میں نے اسی دن بیعت کر لی۔

مخالفین کی مخالفت کے نتیجہ میں بھی بیعتیں ہوتی ہیں۔

بیعتوں کے بعد نومبائعین میں غیر معمولی تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ یہ تو علیحدہ اتنا وسیع مواد اکٹھا ہو چکا ہے کہ علیحدہ علیحدہ کسی وقت بیان ہوتا رہے گا۔ نومبائعین کو مخالفین کی طرف سے احمدیت چھوڑنے کے لیے دھمکیاں ملتی رہیں۔ مال اور مدد کا لالچ ملتا رہا لیکن نومبائعین ثابت قدم رہے۔

پھر نشان بھی لوگوں نے دیکھے کہ کس طرح

اللہ تعالیٰ مخالفین کے بدانجام

ان کو دکھا رہا ہے۔ قبولیتِ دعا کے بہت سارے لوگوں نے واقعات لکھے ہیں اور جماعتی جلسوں میں شامل ہو کر جو اُن میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے اس کے انہوں نے واقعات لکھے ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰةو السلام اپنے مخالفین کو مخاطب ہوتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’باز آ جاؤ اور اس کے قہر سے ڈرواور یقینا ًسمجھو کہ تم اپنی مفسدانہ حرکات پر مہر لگا چکے۔ اگر خدا تمہارے ساتھ ہوتا تو اس قدر فریبوں کی تمہیں کچھ بھی حاجت نہ ہوتی۔ تم میں سے صرف ایک شخص کی دعا ہی مجھے نابود کر دیتی۔مگر تم میں سے کسی کی دعا بھی آسمان پر نہ چڑھ سکی۔ بلکہ دعاؤں کا اثر یہ ہوا کہ دن بدن تمہارا ہی خاتمہ ہوتا جاتا ہے… کیا تم دیکھتے نہیں کہ تم گھٹتے جاتے اور ہم بڑھتے جاتے ہیں۔ اگر تمہارا قدم کسی سچائی پر ہوتا تو کیا اس مقابلہ میں تمہارا انجام ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔‘‘

(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد18صفحہ409)

پھر آپؑ نے فرمایا۔ ’’یہ لوگ تو چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو بجھا دیں مگر خدا اپنے گروہ کو غالب کرے گا۔ تُو کچھ بھی خوف نہ کر میں تجھے غلبہ دوں گا۔ ہم آسمان سے کئی بھید نازل کریں گے اور تیرے مخالفوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔ اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر کو ہم وہ باتیں دکھلائیں گے جن سے وہ ڈرتے تھے۔ پس تُو غم نہ کر۔ خدا ان کی تاک میں ہے۔ خدا تجھے نہیں چھوڑے گا اور نہ تجھ سے علیحدہ ہوگا جب تک کہ وہ پاک اور پلید میں فرق کرکے نہ دکھلائے۔ کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں بھیجا گیا جس کے دشمنوں کو خدا نے رسوا نہ کیا۔ ہم تجھے دشمنوں کے شر سے نجات دیں گے۔ ہم تجھے غالب کریں گے۔ اور میں عجیب طور پر دنیا میں تیری بزرگی ظاہر کروں گا۔ میں تجھے راحت دوں گا اور تیری بیخ کنی نہیں کروں گا اور تجھ سے ایک بڑی قوم بناؤں گا۔ اور تیرے لیے میں بڑے بڑے نشان دکھاؤں گا…ان کو کہہ دے کہ میں صادق ہوں پس تم میرے نشانوں کے منتظر رہو۔ حجت قائم ہو جائے گی اور کھلی کھلی فتح ہوگی…وہ چاہتے ہیں کہ تیرا کام نا تمام رہے لیکن خدا نہیں چاہتا مگر یہی کہ تیرا کام پورا کر کے چھوڑے۔ خدا تیرے آگے آگے چلے گا اور اس کو اپنا دشمن قرار دے گا جو تیرا دشمن ہے۔ جس پر تیرا غضب ہوگا میرا بھی اسی پر غضب ہوگا اور جس سے تو پیار کرے گا میں بھی اسی سے پیار کروں گا۔ خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور انجام کار ان کی تعظیم ملوک اور ذوی الجبروت کرتے ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں … میری فتح ہوگی اور میرا غلبہ ہو گا مگر جو وجود لوگوں کے لیے مفید ہے میں اس کو دیر تک رکھوں گا۔ تجھے ایسا غلبہ دیا جائے گا جس کی تعریف ہو گی اور کاذب کا خدا دشمن ہے اس کو جہنم میں پہنچائے گا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22صفحہ588تا590)

اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی بھی توفیق دے اور تبلیغ کرنے کی بھی توفیق دے۔ اپنی حالتوں کو بدلنے کی بھی توفیق دے اس طرح اپنی حالتیں کرنے والے ہوں جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ہم سے چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جو کامیابیاں عطا فرما رہا ہے یہ تو محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ ہمیں بھی لہو لگا کر اس میں شامل ہونے کی کچھ نہ کچھ کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہماری ذرا سی کوشش میں برکت ڈالے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام سے یہ وعدہ ہے۔ پس ہم میں سے وہ خوش قسمت ہیں جو اپنے عملوں کے ذریعہ سے، اپنی تبلیغ کے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے اس مشن کو پورا کرنے کی کوشش کریں اور دنیا میں پھر اسلام غالب ہو گا۔ اسلام کا بول بالا ہو گا اور آج جو دنیا اسلام کو تحقیر کی نظر سے دیکھتی ہے وہ دوبارہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نغمے گائے گی۔ آپؐ کی مدح کرے گی اور آپؐ کے پیچھے چلنے میں اپنا فخر محسوس کرے گی۔ اللہ کرے کہ ہم اپنی زندگیوں میں یہ سب دیکھنے والے ہوں۔

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button