الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

محترمہ صاحبزادی امۃالنصیر صاحبہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 9؍اکتوبر2013ء میں مکرمہ ر۔ظفر صاحبہ کے قلم سے محترمہ صاحبزادی امۃالنصیر صاحبہ بنت حضرت مصلح موعودؓ کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔

محترمہ صاحبزادی صاحبہ کہا کرتی تھیں کہ حضرت مصلح موعودؓ فرمایا کرتے تھے کہ میرے گھر کے دروازے جماعت کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں، اور مَیں بھی یہی کہتی ہوں۔ چنانچہ کئی بچیوں کو تو وہ یہ بھی کہتی تھیں کہ یہ تمہارا میکہ ہے جب ربوہ آؤ تو ضرور آیا کرو۔ ان ملاقاتوں کے دوران وہ نہایت محبت سے حضرت مصلح موعودؓ اور حضرت امّاں جانؓ کے واقعات بیان کرتیں۔ ایک بار بتایا کہ گرمیوں کی ایک شام حضورؓ باہر بیٹھے تھے، مَیں چائے لے کر آگئی۔ حضورؓ کی کمر پر گرمی کی وجہ سے دانے نکلے ہوئے تھے اور امّی اُن پر تیل لگارہی تھیں۔ حضورؓ اُس وقت حضرت مسیح موعودؑ کے واقعات بیان فرمارہے تھے کہ مَیں نے بےساختہ کہا کہ کاش اُس وقت مَیں بھی ہوتی۔ آپؓ نے فرمایا: شکر کرو کہ تم نے مصلح موعود کا زمانہ دیکھ لیا ہے، لوگ اس کو بھی ترسیں گے۔

آپ نے بتایا کہ شادی کے ساتویں دن حضورؓ مجھے گھر واپس لے جانے کے لیے خود لاہور آئے۔ جب مَیں گھر پہنچی اور ابھی بہنوں سے مل رہی تھی کہ حضورؓ نے میرا بازو پکڑا اور بچوں کی طرح جھلاتے ہوئے حضرت امّاں جانؓ کے پاس لے گئے اور کہا کہ مَیں آپ کی بیٹی کو لے آیا ہوں۔

شادی کے بعد جب ہم ربوہ آئے تو حضورؓ نے گھر بنواکر دیا اور کہا کہ یہ میرا گھر ہے اور تم اس میں رہ سکتی ہو۔ جب سب کے گھر بن گئے تو پھر الگ الگ نام کروا کردیے۔ پہلے اس لیے نام نہیں کروائے تاکہ جسے ضرورت ہو اُسے رہنے کے لیے دے سکیں۔

ایک دفعہ بی بی حکمی کے میاں کا آپریشن تھا تو وہ بھی اسی گھر میں رہیں۔ بیچ میں دیوار ڈال دی گئی۔ جب وہ واپس چلی گئیں تو ہم نے یہ سوچا کہ اب دیوار کی کیا ضرورت ہے چنانچہ ہم نے دیوار گرانی شروع کی۔ جب آدھی گرادی تو خیال آیا کہ حضورؓ سے بھی پوچھ لیتے ہیں۔ تو مَیں نے حضورؓ سے پوچھا کہ یہ دیوار ہم گرادیں۔ آپؓ نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ صبح تو میاں بیوی دونوں دیوار گرا رہے تھے اب مجھ سے پوچھ رہے ہو!حضورؓ مصروفیات کے باوجود تمام بچوں پر نظر رکھتے تھے اور سب کی ضروریات کا خیال رکھتے تھے۔ جب بچوں کی پیدائش کے وقت مَیں نے لاہور میں رہنے کی اجازت مانگی تو حضورؓ نے منع فرمادیا۔ چونکہ ہماری والدہ بچے کی پیدائش پر فوت ہوئی تھیں اس لیے بہت زیادہ فکر کرتے، اپنے پاس بلوالیتے۔ کمرہ تیار کرواتے اور ہر چیز سٹرلائیز کرواتے۔ پھر باہر پھرتے رہتے۔ جب میرے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی تو میری حالت بالکل مُردہ جیسی ہوگئی اور پانچ منٹ تک سانس نہ آئی تو ڈاکٹر فاطمہ حضورؓ کو بلالائیں۔ حضورؓ اندر آئے، دعا کی اور منہ میں دوائی ڈالی اور میری طبیعت سنبھل گئی۔ تو فرمایا: دیکھو لاہور ہوتی تو اب مری پڑی ہوتی۔

ایک دن مَیں نے اپنے گھر سے بھائی کے گھر جاتے ہوئے نیچے کا برقع پہنا اور اوپر نقاب کی بجائے صرف دوپٹہ اچھی طرح لے لیا۔ باہر نکلی تو حضورؓ سامنے جارہے تھے۔ اگلے دن ناشتے کے وقت گئی تو آپؓ نے صرف اتنا فرمایا کہ تم ایک قدم اٹھاؤگی تو لوگ دس قدم اٹھائیں گے۔

مضمون نگار بیان کرتی ہیںکہ بی بی بہت شفیق تھیں۔ ایک روز مَیں بی بی کے ہاں گئی تو وہ ایک خوبصورت شال اوڑھے ہوئے تھیں۔ مَیں نے تعریف کی تو بتایا کہ کسی نے دی ہے اور پہلی بار پہنی ہے۔ اگلی بار جب مَیں گئی تو آپ نے مجھے وہی شال لاکردی کہ مَیں نے چند دن پہن کر تمہارے لیے رکھ لی تھی۔ اسی طرح اگر کسی معمولی سی چیز کے لیےبھی مَیں نے پسندیدگی کا اظہار اُن کے سامنے کیا تو اگلی ملاقات پر وہ چیز موجود ہوتی۔ ایک دن مَیں نے کہا کہ مجھے آلوبخارے کی چٹنی بہت پسند ہے۔ آپ نے مجھے ترکیب بتائی کہ گھر پر بنالیا کرو۔ اگلی بار مَیں گئی تو آپ نے مجھے خود کی بنائی ہوئی چٹنی کھانے کو دی اور گھر لے جانے کے لیے بھی دی۔ اسی طرح ایک بار موسم سرما میں بہت خوبصورت جرابیں پہنی ہوئی تھیں۔ مَیں نے کہا یہ بہت خوبصورت ہیں۔ اگلی بار ملنے گئی تو اُس جیسی جرابیں میرے لیے منگواکر رکھی ہوئی تھیں۔

جب دل چاہتا مَیں اُن سے ملنے چلی جاتی اور انہوں نے کبھی بُرا نہیں مانا۔ اگر کبھی زیادہ دیر تک جانا نہ ہوتا تو فون کرکے پوچھتیں کہ کیا بات ہے کیوں نہیں آئے تم لوگ؟

آپ کہا کرتی تھیں کہ عورت کے سلیقے اور صفائی کا پتہ اُس کے کچن سے چلتا ہے۔ جب پہلی بار ہمارے گھر آئیں تو سب سے پہلے کچن دیکھا۔ پرانے کپڑوں کو پھینکنے سے منع کرتیں اور اُن کے کُشن کے کور بنالینے کو کہتیں۔ بتاتیں کہ ہم تو پرانے کپڑوں کو بھی دوبارہ رنگ کر پہن لیتے ہیں اور وہ بالکل نئے لگنے لگتے ہیں۔

کئی بار اپنی بعض دینی خدمات کو خوشی سے بیان کرتیں۔ اگر مَیں کہتی کہ یہ لکھوادیں تو کہا کہ مجھے اس کی خواہش نہیں۔ آخری ملاقات اُن سے ایسے ہوئی کہ اُن کو چکّر آرہے تھے اور اپنے کمرے میں لیٹی ہوئی تھیں۔ ہم نے اطلاع کی تو وہیں بلالیا اور کافی دیر باتیں کرتی رہیں۔ ناسازیٔ طبع کا کہہ کر ہمیں منع بھی کرسکتی تھیں لیکن ایسا نہیں کیا۔ اکثر ملاقاتوں میں کہا کرتیں کہ دعا کرو کہ خدا مجھے چلتا پھرتا ہی اپنے پاس بلالے۔ اور پھر وہ واقعی بغیر کسی معذوری کے اچانک ہی چلی گئیں۔

………٭………٭………٭………

محترم حکیم مبشر احمد ریحان صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 9؍اکتوبر2013ء میں مکرم حکیم محمد قدرت اللہ محمود چیمہ صاحب کے قلم سے مکرم حکیم مبشر احمد ریحان صاحب کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔

محترم ملک مبشر احمد ریحان صاحب دسمبر 1940ء میں محترم جلال الدین صاحب کے چٹھہ گاؤں نزد قادیان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے پردادا میاں نصر دین صاحب اپنے علاقہ کے پیر تھے۔ انہوں نے حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کے ہاتھ پر بیعت کرکے احمدیت قبول کی۔ آپ کے دادا کا نام محمد صاحب تھا جبکہ نانا حضرت میاں قادر بخش صاحبؓ تھے جو قادیان سے بیس کوس دُور رہتے تھے اور وہاں سے اکثر پیدل چل کر قادیان آتے اور اذان دینے کی توفیق پاتے۔

محترم ملک مبشر احمد ریحان صاحب کا گھرانہ قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کرکے سیالکوٹ کے گاؤں ملہوکے میں رہائش پذیر ہوگیا۔ 1959ء میں میٹرک پاس کرکے آپ نے پاک فوج کے مکینیکل شعبہ میں بطور انسٹرکٹر ملازمت کرلی۔ 1965ء کی جنگ میں حصہ لیا۔ جون 1971ء میں ایک حادثہ پیش آنے پر فوج کی ملازمت چھوڑ دی۔کچھ عرصہ زمیندارہ کیا اور 1976ء میں مستقل طور پر ربوہ منتقل ہوگئے جہاں تحریک جدید کے دفاتر میں بطور ڈرائیور ملازمت کرلی۔ آپ کو حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ اور حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی خدمت کی بھی توفیق ملی۔ تیس سال کی سروس کے بعد 2005ء میں ریٹائر ہوئے۔

آپ کی شادی اپریل 1963ء میں آپ کی کزن محترمہ سلیمہ اختر صاحبہ سے ہوئی اور یکے بعد دیگرے آپ کے سات بچے پیدا ہوکر فوت ہوجاتے رہے۔ پھر حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی خصوصی دعا سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو صحت مند اولاد سے نوازا۔ مرحوم کے پسماندگان میں دو بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کی اہلیہ آٹھ سال تک صاحب فراش رہنے کے بعد 18؍اکتوبر 2007ء کو وفات پاگئیں۔ یہ لمبا عرصہ آپ نے نہایت صبرورضا کے ساتھ اپنی اہلیہ کی تیمارداری میں گزارا۔

آپ ایک اچھے سپورٹس مین تھے۔ ہاکی، فٹ بال اور کبڈی کے ماہر کھلاڑی تھے۔ کرکٹ کا بھی شوق رکھتے تھے۔ دورانِ ملازمت آپ کو طب اور ہومیوپیتھک طریق علاج کے ساتھ گہری دلچسپی پیدا ہوگئی تھی جس سے ضرورت مند فائدہ بھی اٹھاتے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ نے باقاعدہ حکمت کا آغاز کیا اور دارالفتوح شرقی میں اپنے مکان میں ہربل کلینک شروع کیا۔ آپ ایک ہمدرد معالج تھے۔ آپ کے معلوماتی مضامین اخبارات میں شائع ہوتے رہے۔ آپ نے ہومیوپیتھک نسخہ جات پر مشتمل ایک مفید ’’ہومیوگائیڈ ٹُو فیملی‘‘ بھی مرتّب کی۔ آپ ایک اچھے شاعر بھی تھے اور آپ کا منظوم کلام کئی اخبارات و رسائل کی زینت بھی بنتا رہا۔

آپ نہایت خوش اخلاق، ہمدرد اور متوکّل علی اللہ تھے۔ یہی وجہ تھی کہ حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔خدمت سلسلہ میں ہمیشہ پیش پیش رہتے۔ اپنے محلّے کی مسجد میں سیکیورٹی ڈیوٹی بھی دیتے رہے۔

………٭………٭………٭………

صحرائے تھر کا تاریخی شہر ’’مٹھی‘‘

روزنامہ ’’الفضل‘‘ربوہ 29؍نومبر 2013ء میں مکرم عامر شہزاد صاحب کے قلم سے صحرائے تھر کے قدیم شہر مٹھی کے بارے میں ایک مضمون شائع ہوا ہے ۔

مٹھیؔ کو صحرائے تھر کا دل کہا جاتا ہے جو اس وقت ایک قابل ذکر تجارتی مرکز بن چکا ہے۔ لیکن قریباً آٹھ سو سال پہلے یہ ایک گاؤں تھا جو ریگزار میں گھرے ایک دیوہیکل خشتی ٹیلے پر آباد تھا۔ اس ٹیلے کے آثار آج بھی موجود ہیں جو موجودہ شہر سے ذرا فاصلے پر ہیں۔ ایک روایت کے مطابق یہ گاؤں ایک نیک خاتون ’’مٹھاں‘‘ کے نام سے منسوب ہے جو غریب مگر ذہین، حسن اخلاق میں بےمثال اور مہمان نواز تھی۔ اُس نے اپنے وسائل سے ٹیلے پر کنواں کھدوایا تھا تو لوگ اس کنویں کے قریب آباد ہونا شروع ہوئے۔

مٹھی ایک قدیم قصبہ ہے جس کے تاریخی آثار بھی محفوظ ہیں۔ کئی فاتحین یہاں سے گزرتے رہے۔ میر فتح علی خان تالپور نے سندھ فتح کرنے کے بعد اپنا اقتدار مستحکم کرنے کے لیے تھر کی طرف قدم بڑھائے تو مٹھی پر قبضہ کرکے اس کا نام فتح گڑھ رکھ دیا۔ 1780ء میں اُس نے یہاں ایک مضبوط قلعہ تعمیر کروایا۔ 1789ء میں ایک اَور چھوٹا قلعہ تعمیر کروایا جو 1844ء کے زلزلے میں تباہ ہوگیا۔ بہرحال مٹھی والوں نے نئے نام کو قبول نہ کیا اور ’فتح گڑھ‘ تاریخ کا حصہ بن گیا۔ 1990ء سے مٹھی کو ضلع تھرپارکر کے صدرمقام کی حیثیت حاصل ہے۔ یہاں احمدیہ مرکز اور احمدیہ مہمان خانہ بھی موجود ہے۔ نیز المہدی ہسپتال اور محمدصدیق بانی آئی یونٹ صحرائے تھر کے سینکڑوں غریب اور نادار افراد کو طبّی سہولیات فراہم کررہا ہے۔ مٹھی کو 1960ء میں حضرت مرزا طاہر احمد صاحبؒ کی قدم بوسی کا شرف بھی حاصل ہوا تھا۔

………٭………٭………٭………

روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ 9؍دسمبر 2013ء میں مکرم طاہر احمد محمود صاحب کی ایک نظم شائع ہوئی ہے جس میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

قرآن تیرا رہبر چاہت کا یہ نشاں ہو

چمکے حسین تارا روشن ترا جہاں ہو

ہر دم یہی صحیفہ تم حرز جاں بنانا

اس ورد سے معطّر اور تر تیری زباں ہو

رحمت کا اِک نشاں ہے یہ سایۂ خلافت

سر پر ترے ہمیشہ یہ مثلِ سائباں ہو

سایہ فگن فرشتے رحمت لیے ہوئے ہوں

اور سایۂ خلافت ہر دم ہی پُرفشاں ہو

پیارے ہوں جان و دل سے دونوں انعام تجھ کو

لازم ہو یہ خلافت ملزوم یہ قرآں ہو

جس سے ہے ساری برکت نام اس کا ہے محمدؐ

لاکھوں درود اس پر قربان اس پہ جاں ہو

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button