امریکہ (رپورٹس)دورہ امریکہ ستمبر؍اکتوبر 2022ء

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ امریکہ (۲۹؍ستمبر۲۰۲۲ء بروز جمعرات)

(رپورٹ: عبدالماجد طاہر (ایڈیشنل وکیل التبشیر اسلام آباد حال مقیم زائن امریکہ))

٭…امریکہ کے دور دراز علاقوں سے آنے والے احبابِ جماعت کی امام وقت سے فیملی و اجتماعی ملاقات، ایمان افروز تجربات پر مبنی تاثرات

٭…احمدیہ مسلم سائنٹسٹس ایسوسی ایشن کی حضرت خلیفۃ المسیح ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ملاقات، محققین کی جانب سے تحقیقی مقالہ جات کی پیشکش

٭… حضورِ انور کی جانب سے تحقیقی مقالہ جات پیش کرنے والے محققین سے ا ن کے کام کے نتائج اور معاشرے پر اس کے اثرات کے بارے میں استفسار

٭… حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرمایا اگلے چند سالوں میں کم از کم ایک یا دو عبدالسلام ہونے چاہئیں

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح پانچ بج کر پچاس منٹ پر مسجد فتح عظیم تشریف لاکر نماز فجر پڑھائی۔ نماز کے ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

صبح حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دنیا کے مختلف ممالک سے بذریعہ فیکس اور ای میل کے ذریعہ آنے والے خطوط اور رپورٹس ملاحظہ فرمائیں اور ہدایات سے نوازا۔ نیز حضورِانور کی مختلف دفتری امور کی ادائیگی میں مصروفیت رہی۔

ایک بج کر تیس منٹ پر حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسجد فتح عظیم تشریف لا کر نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائش گاہ تشریف لے گئے۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جب بھی نمازیں پڑھانے کے لیے رہائش گاہ سے مسجد تشریف لاتے ہیں اور پھر واپس جاتے ہیں تو راستہ کے دونوں اطراف مختلف جگہوں پر احبابِ جماعت اور خواتین کھڑے ہوتے اور پیارے آقا سے اپنے عشق و محبت اور اپنی فدائیت کے جذبات کا اظہار پرجوش و والہانہ نعروں سے کررہے ہوتے ہیں۔ ہر طرف سے’’ السلام علیکم حضور‘‘ اور ’’انی معک یا مسرور‘‘ کی آوازیں آرہی ہوتیں ہیں۔ اور مسلسل نعرے بلند ہورہے ہوتے ہیں۔ بچیاں اپنی محبت کا اظہار اپنی دعائیہ نظموں سے کر تی ہیں۔ مسجد کے بیرونی احاطہ میں مختلف جگہوں پر بڑی تعداد میں مارکیز لگائی گئی ہیں۔ تین مارکیز میں احباب اور خواتین کے لیے نماز پڑھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ دو بڑی مارکیز میں مردوں اور خواتین کے لیے علیحدہ علیحدہ کووِڈ ٹیسٹ کے لیے بھی مارکیز لگائی گئی ہیں۔ کھانا کھانے کے لیے بھی علیحدہ انتظام کیا گیا ہے۔

امریکہ کے مختلف خطوں، دو دو ہزار میل سے زائد فاصلوں سے احباب مردوخواتین یہاں آکر بیٹھے ہوئے ہیں اور سارا سارا دن ان مارکیز میں گزار دیتے ہیں۔اپنے پیارے آقا کا دیدار کا کوئی لمحہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہ بڑے مبارک اور برکتوں اور اللہ کے فضلوں کے حصول کے دن ہیں۔یہاں آنے والا ہر ایک ان برکتوں سے فیض پا رہا ہے۔

پروگرام کے مطابق چھ بج کر دس منٹ پر حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنے دفتر تشریف لائےاور فیملیز ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

آج شام کے اس سیشن میں فیملی ملاقاتوں کے علاوہ مردوں اور عورتوں کے علیحدہ علیحدہ گروپس کی صورت میں ملاقاتیں بھی شامل تھیں۔ فیملی ملاقاتوں میں چھ خاندانوں کے ستائیس افراد نے حضورِانور سے ملاقات کی سعادت پائی۔ ان سبھی نے اپنے پیارے آقا کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔ حضورِانور نے طلباء اور طالبات کو ازراہ شفقت قلم عطا فرمائے اور چھوٹی عمر کے بچوں اور بچیوں کو چاکلیٹ عطا فرمائے۔

ان فیملی ملاقاتوں کے بعد مختلف گروپس کی ملاقاتوں کا پروگرام شروع ہوا۔ لجنہ کے گروپس کی تعداد چار تھی۔ مجموعی طور پر ۲۸ خواتین نے شرفِ ملاقات پایا۔ یہ سبھی وہ خواتین تھیں جو زندگی میں پہلی بار حضورِانور سے ملاقات کی سعادت پارہی تھیں اور دس مختلف جماعتوں سے آئی تھیں۔ پاکستان سے آنے والی بعض خواتین نے بھی شرف ملاقات پایا۔بعد ازاں مرد احباب نے بھی چار گروپس کی صورت میں ملاقات کی سعادت پائی۔ احباب کی مجموعی تعداد ۴۳ تھی۔ یہ احباب زائن کے علاوہ، دیگر چودہ مختلف جماعتوں اور علاقوں سے بڑے لمبے سفر طے کر کے آئے تھے۔ کینٹکی سے آنے والے ۴۵۲ میل کا سفر طے کر کے آئے تھے۔اور BINGHAMTONسے آنے والے ۷۵۰ میل جب کہ سیاٹل سے آنے والے ۲۰۱۴ میل اور لاس اینجلیز سے آنے والے ۲۰۴۶ میل طویل سفر طے کر کے اپنے پیارے آقا سے ملاقات کے لیے پہنچے تھے۔ علاوہ ازیں پاکستان سے آنے والے بعض احباب نے بھی ملاقات کی سعادت پائی۔ یہ سبھی وہ لوگ تھے جو اپنی زندگی میں پہلی بار حضورِانور سے شرف ملاقات پا رہے تھے۔ ان سبھی نے اپنے آقا کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔ ان کی خوشی ناقابلِ بیان تھی۔

زائن جماعت کے ایک دوست USMAN MBOWE صاحب نے بیان کیا کہ دو دن قبل جب ہم مسجد کے باہر کھڑے تھے تو حضورِانور نے گزرتے ہوئے میری طرف اور میرے بیٹے کی طرف محض ایک لمحہ کے لیے دیکھا تھا اور پھر آج ہماری فیملی ملاقات ہوئی تھی۔ حضورِانور نے فرمایا میں نے آپ کو دو دن پہلے مسجد کے باہر دیکھا تھا۔ میں حیران رہ گیا کہ حضورِانور کو یہ چھوٹی سی بات کیسے یاد ہے۔

ایک خاتون خالدہ بکر صاحبہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت عرصہ پہلے میں نے حضورِانور کو خط لکھا تھا کہ میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں۔ میری آپ سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ میں چاہتی ہوں کہ حضور یہاں زائن تشریف لے آئیں۔ آج مجھے اس بات کا یقین نہیں ہو رہا۔ ہمارے وہم و گمان میں نہ تھا کہ حضور زائن بھی آئیں گے۔ میں کتنی خوش نصیب ہوں کہ حضور سے میری ملاقات ہوگئی ہے۔

ایک خاتون جو کہ جماعت کولمبس سے آئی تھیں کہنے لگیں کہ آج کی ملاقات میرے لیے ایک خاص الٰہی لمحہ تھا۔ ہمیں کل تک معلوم نہیں تھا کہ آج ہماری ملاقات ہے ہماری ملاقات تو ایک معجزانہ ملاقات ہوئی ہے یہ کہتے ہوئے موصوفہ رونے لگ گئیں۔

ایک دوست ریان احمد صاحب جو پاکستان سے آئے تھے کہنے لگے کہ میں اس تجربے کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ جیسے ہی میں نے حضورِانور کی طرف دیکھا تو اس دنیامیں نہ رہا۔ بات کرنے کے لیے جو سوچا تھا سب کچھ بھول گیا۔

شکاگو کے ایک دوست نعمان احمد صاحب نے کہا کہ ملاقات سے قبل میری یہ حالت تھی کہ مجھ سے سانس نہیں لیا جا رہا تھا۔ بڑی گھبراہٹ اور بے چینی تھی۔ جونہی میں کمرے میں داخل ہوا حضورِانور کا پرنور چہرہ دیکھا تو میں سانس لینے کے قابل ہوگیا۔

حافظ عمران احمد جو میامی سے آئے تھے کہنے لگے کہ میں نے حضورِانور کو بتایا کہ میں اس شعبے کا اسسٹنٹ پروفیسر ہوں جس میں حضورِانور نے خود تعلیم حاصل کی ہے۔ یعنی زراعت، تواس پر حضورِانور نے فرمایا کہ زراعت تو ایک وسیع میدان ہے۔ آپ خاص طور پر کیا سکھاتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ فوڈ سائنس پڑھاتا ہوں۔

ایک دوست MICHAEL CARPENTER نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بیعت محض تین ماہ قبل کی تھی۔ نَواحمدی ہوں۔ مجھے بالکل پتہ نہیں تھا کہ ملاقات میں کیا ہوتا ہے۔ملاقات کیسے ہوگی۔ حضورِانور سے مل کر اب مجھے یقین ہے کہ خلیفہ خداتعالیٰ نے خود چُنا ہوا ہے۔

شکاگو جماعت سے سیّد ثاقب صاحب بیان کرتے ہیں کہ میری اہلیہ ملاقات میں رونے لگ گئیں تھیں۔ اہلیہ نے سولہ سال قبل بیعت کی تھی اور یہ افغانستان سے ہے۔ اس کو اس بات کا فکر تھا کہ وہ اردو صحیح طرح نہیں بول سکتی تو حضور کو اس کی بات کی سمجھ نہیں آئے گی۔ حضورِانور نے اسے فرمایا کہ آپ کی اردو ٹھیک ہے۔ حضورِانور نے یہ بھی فرمایاکہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ آپ نومبائعہ ہیں۔ اب آپ یہ سمجھیں کہ آپ پیدائشی احمدی ہیں۔ اور جو ایک پیدائشی احمدی سے توقعات ہوتی ہیں وہی آپ سے ہیں۔ آپ ان توقعات کے مطابق عمل کریں۔

ایک دوست عمران چودھری صاحب کہنے لگے کہ میری خوشی کی تو انتہا نہیں ہے۔ حضورِانور نے شفقت فرماتے ہوئے میری بیٹی کے لیے ایک رومال اور چاکلیٹ دی۔

ایک دوست الطاف منیب صاحب BINGHAMTONجماعت سے آئے تھے کہنے لگے کہ آج میں نے حضورِانور سے بات کی، حضورا نور نے میری بات کو غور سے سنا اور مجھے اپنے مشورہ سے نوازا۔ مجھے اَور کیا چاہیے مجھے تو سب کچھ مل گیا۔

جماعت اوشکوش سے آنے والے دوست حافظ انعام الحق صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور بتایا کہ میں اپنے بارہ میں فکرمند تھا۔ لیکن حضورِانور سے مل کر میری تمام پریشانیاں ختم ہو گئیں ہیں۔ حضورِانور کی دعائیں میرے ساتھ ہیں۔

ملاقاتو ں کا یہ پروگرام سات بجکر تیس منٹ تک جاری رہا۔

ملاقاتوں کے پروگراموں کے بعد

احمدیہ مسلم سائنٹسٹس ایسوسی ایشن کی حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات

تھی۔ اس ملاقات کا انتظام ایک ہال میں کیا گیا تھا۔ حضورِانور اس ہال میں تشریف لے گئے۔ پروگرام کا آغازتلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم منیب شریف صاحب نے کی۔ اس کے بعد ایسوسی ایشن آف احمدیہ مسلم سائنٹسٹس کے صدر ڈاکٹر سہیل حسین صاحب آف سیلیکون ویلی نے اپنا تعارفی ایڈریس پیش کیا۔ ڈاکٹر صاحب موصوف اسٹینفورڈ یونیورسٹی کیلیفورنیا میں پروفیسر ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ دسمبر ۲۰۱۹ء میں احمدیہ مسلم ریسرچ کانفرنس برطانیہ میں حضورِانور ایدکم اللہ تعالیٰ نے خطاب فرمایا تھا تو حضورِانور کے خطاب سے ہی اس ایسوسی ایشن کے ہم مرد اور خواتین ممبران نے اپنے مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا یہ مشن رکھا ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اگلے سنہری اسلامی دور کی قیادت ان شاءاللہ العزیز احمدی مسلم سائنٹسٹس نے کرنی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی بتایا کہ ہم اپنے سالانہ پروگراموں میں قرآن اور سائنس سمپوزیم کا انعقاد بھی کرتے ہیں۔ حضورِانور ایدہ اللہ نے دریافت فرمایا کہ اس وقت جو ممبران یہاں بیٹھے ہیں وہ کتنے ہیں اور ان میں پی ایچ ڈی کتنے ہیں؟ اس پر موصوف نے عرض کیا کہ یہاں ۴۶ مرد اور ۳۷ خواتین ممبران موجود ہیں۔ اور اس ۸۳ کی تعداد میں سے ۳۵ پی ایچ ڈی ہیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ احمدیہ مسلم سائنٹسٹس ایسوسی ایشن کی ملاقات کا ایک منظر

اس کے بعد احمدی خواتین سائنٹسٹس ایسوسی ایشن کی صدر ڈاکٹر نصرت شریف صاحبہ نے اپنا ایڈریس پیش کیا۔ ڈاکٹر نصرت صاحبہ فائزرPFIZERمیں فارماسوٹیکلز کی سینئر پرنسپل سائنسدان ہیں۔ موصوفہ نے مرد اور خواتین دونوں ایسوسی ایشن کے مشترکہ وژن کے بارہ میں بتایا کہ ہم نے خلفائے احمدیہ کی خواہش کی بنیا دپر سو پروفیسر عبدالسلام بنانے ہیں۔ اپنی اس کوشش کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈاکٹر نصرت صاحبہ نے دونوں ایسوسی ایشن کی آفیشل ممبر شپ کے موجودہ ڈیموگرافک ڈیٹا کو پیش کیا اور بتایا کہ کم از کم دس۱۰ امیدوار عبدالسلام موجود ہیں۔ اس پر حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ جماعت کی جوبلی کے سال ہمارے پاس یہ سائنٹسٹس ہونے چاہیں۔

۱۹۸۹ء سے اب تک ۳۳ سال ہو چکے ہیں۔ حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرمایا اگلے چند سالوں میں کم از کم ایک یا دو عبدالسلام ہونے چاہئیں۔

بعد ازاں درج ذیل احمدی محققین نے اختصار کے ساتھ اپنی ریسرچز حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیں۔

سب سے پہلے ڈاکٹر اطہر نوید ملک صاحب نے اپنی ریسرچ پیش کی۔ موصوف ایم ٹی، پی ایچ ڈی، براؤن یونیورسٹی میں نیوروسرجری اور نیوروسائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔موصوف نے کوما (Coma)اور متعلقہ دماغی امراض کے علاج میں ایک غیر معمولی بہتری لانے کے لیے اپنی تحقیق کے بارہ میں بتایا۔ موصوف نے حضورِانور کے استفسار پر بتایا کہ ابھی یہ تحقیق جاری ہے۔

اس کے بعد ڈاکٹر آصف جلیل صاحب نے اپنی تحقیق پیش کی۔ موصوف پی ایچ ڈی ہیں اور ہاروڈ میڈیکل سکول میں انسٹرکٹر ہیں۔ موصوف نے دماغی محرکات کے آلات BRAIN STIMULATION DEVICESسے اعصابی اور نفسیاتی امراض کا علاج کرنے کے بارہ میں اپنی تحقیق کے بارہ میں بتایا اور عرض کیا کہ ابھی یہ ریسرچ جاری ہے۔

بعد ازاں ڈاکٹر عبدالنصیر صاحب نے اپنی ریسرچ کے بارہ میں بتایا۔ موصوف پی ایچ ڈی ہیں اور آگسٹا یونیورسٹی میں فزکس کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ موصوف نے بتایا کہ وہ جسم کے تمام خلیات خاص طور پر کینسر کے خلیات کی منتقلی کے پیچھے بنیادی طبیعات کو سمجھنے کی تحقیق کر رہے ہیں۔ ان کی یہ تحقیق حال ہی میں دنیا کے مادی سائنس کے سب سے بڑے جریدے میں شائع ہوئی ہے جس کا عنوان ہے ’’فطری مواد‘‘۔

اس کے بعد ڈاکٹر فیضان عبداللہ ھاگورا صاحب نے اپنی تحقیق پیش کی۔ موصوف ایم ڈی، پی ایچ ڈی، نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے پروفیسر اور نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی شکاگو میں سینٹر فار گلوبل سرجری (CENTER FOR GLOBAL SURGERY) کے ڈائریکٹر ہیں۔ انہوں نے اپنی ریسرچ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بچوں میں پہننے کے قابل سینسر (Wearable Sensors)استعمال کر کے کسی بھی سرجری کے بعد نتائج کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

بعد ازاں مجیب اعجاز صاحب جو ONE (OUR NEXT ENERGY)کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔ انہوں نے اپنی کمپنی کی الیکٹرک بیٹری ٹیکنالوجی (ELECTRIC BATTERY TECHNOLOGY) کے بارے میں بتایا جو الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ایک ہزار کلومیٹر کے سفر میں ایک ہی چارج پر مدد فراہم کرتی ہے۔

اس کے بعد عدیل ملک صاحب جو CLEARSTEP INC کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں انہوں نے بتایا کہ وہ ضرورت مندوں کی دیکھ بھال کے لیے ARTIFICIAL INTELLIGENCE کو استعمال کر رہے ہیں۔ اور اس بارہ میں ریسرچ کر رہے ہیں۔

بعد ازاں خواتین کی طرف سے ڈاکٹر شہناز بٹ صاحبہ نے اپنی ریسرچ کے بارہ میں بتایا۔ موصوفہ پی ایچ ڈی ہیں اور سینٹ جوزف یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور اسی یونیورسٹی میں NEUROPSYCHO PHARMACOLOGY LAB کی ڈائریکٹر ہیں۔ موصوفہ نے بتایا کہ وہ مختلف نفسیاتی عوارض PSYCHOLOGICAL DISORDERS میں سٹریس کے کردار کا مطالعہ کرنے کے لیے مختلف سائنسی ماڈل استعمال کر رہی ہیں۔

اس کے بعد اولیویا ولیمز باربر صاحبہ (OLIVIA WILLIAMS BARBER) نے اپنی تحقیق کے حوالہ سے بتایا۔ موصوفہ نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی شکاگو میں ENVIRONMENTAL ENGINEERING میں پی ایچ ڈی کی کینڈیڈیٹ ہیں۔ موصوفہ نے اپنی ریسرچ کے حوالہ سے بتایا کہ کس طرح گھر کے اندر جراثیم کش SPRAYING DISINFECTANTSچھڑکنے سے ANTI TIOTIC RESISTANT BACTERIA کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔

اس کے بعد نائلہ رزاق صاحبہ نے اپنی تحقیق کے حوالہ سے بتایا۔ موصوفہ YALE یونیورسٹی میں EARLY MEDITERRANEAN RELIGIONS میں PHD CANDIDATE ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اسلام کے آغاز میں بحیرۂ روم کے علاقے کا مطالعہ کرنے کے لیے ARCHEOLOGYمیں نئے طریقے استعمال کر رہی ہیں۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان ریسرچ کرنے والوں سے ا ن کے کام کے نتائج اور معاشرے پر اس کے اثرات کے بارے میں پوچھا۔

آخر پر ایسوسی ایشن نے حضورِانور کی خدمت میں ایک آسٹرولیب پیش کیا۔ ایک ایسا آلہ ہے جو پہلے زمانوں میں فلکیاتی پیمائش کے لئےاستعمال ہوتا تھا۔ ابتدائی مسلمان سائنسدانوں نے اسے ایجاد کیا تھا۔

ملاقات کا یہ پروگرام آٹھ بج کر پانچ منٹ تک جاری رہا۔ بعد ازاں سوا آٹھ بجے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد فتح عظیم میں تشریف لا کر نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائیں۔

نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button