خطاب حضور انور

جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ جرمنی 2022ء کے اختتامی اجلاس سے سیدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا معرکہ آرا، بصیرت افروز اور دل نشیں خطاب

حقیقی امن اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک ایک بالا ہستی کو تسلیم نہ کیا جائے … یہ عقیدہ کہ اللہ تعالیٰ امن دینے والا ہے صرف اسلام نے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ پیش کیا ہے

’’اے یورپ! تُو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا! تُو بھی محفوظ نہیں اور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔
میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔‘‘ (حضرت اقدس مسیح موعودؑ)

ایسے میں اگر کوئی امید کی کرن ہے، امن کی ضمانت ہے تو ایک ہی وجود ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے امن و سلامتی کی تعلیم کے ساتھ دنیا میں بھیجا تھا، جو شہنشاہِ امن ہے،
جو اللہ تعالیٰ کو سب انسانوں سے زیادہ پیارا ہے، جس پر اللہ تعالیٰ کی آخری کامل اور مکمل شریعت اتری،جس کی تعلیم پیارو محبت کی تعلیم ہے

حقیقی امن تبھی ہو گا جو ذاتی، خاندانی، نسلی، قومی، ملکی ترجیحات سے بالا ہو کر قائم کرنے کی کوشش کی جائے، ایک مرکزی محور کے حصول کے لیے کی جائے۔ اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب
انسان اس بات کو سمجھ لے اور اس کا فہم و ادراک پیدا کر لے کہ میرے اوپر ایک بالا ہستی ہے جو میرے لیے ہی امن نہیں چاہتی بلکہ تمام دنیا کے لیے امن چاہتی ہے

اللہ تعالیٰ نے اپنے نور، جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور قرآن کریم جو روشن کتاب اور تمام علوم و معارف کا سرچشمہ اور نور ہدایت ہے اور سلامتی کا پیغام ہے ،کوبھیج کر انسانیت پر
بہت بڑا احسان کیا ہے۔ اگر انسان اس سے فائدہ نہ اٹھائے اور اپنے تباہ کرنے والے خود غرضانہ مفادات کا ہی اسیر رہے تو اس سے بڑی بدقسمتی اَور کیا ہو سکتی ہے

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق کے ساتھ جڑنا بھی ضروری ہے۔تبھی علم و معرفت کا صحیح ادراک ہو سکتا ہے

آج یہ کام مسیح موعود کی جماعت کے سپرد کیا گیا ہے۔ اگر ہم نے بھی گھریلو سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح تک اس کے مطابق اپنا کردار ادا نہ کیا تو ہمارے امن و سلامتی میں رہنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے

ہمارے مخالفین جو بھی چاہیں سوچیں اور کریں۔ ہمارا کام ہے کہ اگر ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو اپنائیں اور دنیا میں پھیلائیں۔
دنیا کو بتائیں کہ آج دنیا کی امن و سلامتی کا یہی واحد حل ہے۔ پس آؤ اور امن و سلامتی کی تعلیم دینے والے اس عظیم وجود سے جڑ کر دنیا و آخرت میں اپنی سلامتی کے سامان کر لو

امن اس وقت تک قائم ہو ہی نہیں سکتا جب تک لوگوں کے اندر حقیقی مواخات پیدا نہ ہو اور حقیقی مواخات ایک خدا کو مانے بغیر پیدا نہیں ہو سکتی

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کامل شریعت میں بیان فرمودہ تعلیمات کی روشنی میں حقیقی اور پائیدار امنِ عالم کے قیام کی بابت بصیرت افروز بیان

افرادِجماعت کو اپنا کردار اسلامی تعلیمات کے مطابق کرتے ہوئے دنیا کے لیے عمدہ نمونے قائم کرنے کی تلقین

(فرمودہ مورخہ21؍اگست 2022ء بروزاتواربمقام ایوانِ مسرور، اسلام آباد، ٹلفورڈ، یوکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾

اللہ تعالیٰ کا بےحد فضل اور احسان ہے کہ اس نے دنیا کے آجکل کے حالات کے باوجود

جماعت احمدیہ جرمنی کو اپنا جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی توفیق عطا فرمائی

اور گذشتہ سال کی نسبت وسیع انتظامات کے ساتھ آپ یہ جلسہ منعقد کر رہے ہیں۔ پہلے کووِڈ (covid)کی وبا نے دنیا کو پریشان کیا اور ابھی وہ وبا کی پریشانی ختم نہیں ہوئی تو اب دنیا میں جنگوں کی صورتحال نے دنیا کو ایک انتہائی خطرناک موڑ پر لا کر کھڑا کر دیاہے۔ دنیا کا کوئی خطہ بھی اس متوقع تباہی سے محفوظ نظر نہیں آتا اور

جب تک واحد و یگانہ خدا کی طرف رجوع نہیں کریں گے تباہی سے بچ بھی نہیں سکتے۔

پہلے تو یورپ اور مغربی ممالک اور ترقی یافتہ ممالک اس زعم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ جنگوں کی صورتحال، فساد کی صورتحال، علاقوں اور ملکوں کی تباہی کے حالات جہاں پیدا ہوئے ہوئے ہیں یا ہو رہے ہیں وہ ہم سے ہزاروں میل دُور ہیں اور ہم محفوظ ہیں۔ حالات خراب ہیں، بم پڑ رہے ہیں،لوگ مر رہے ہیں، عورتیں بیوہ ہو رہی ہیں،بچے یتیم ہو رہے ہیں، لوگ اپاہج ہو رہے ہیں تو وہ ایشیا میں اور مشرق وسطیٰ میں اور غریب ممالک میں ہو رہے ہیں، ہمیں کیا فرق پڑتا ہے۔ ترقی یافتہ ملک ان ملکوں کو اسلحہ فراہم کرتے رہے کہ ہمارا اسلحہ بکتا رہے۔ یہ مرتے ہیں تو مریں، کیا فرق پڑتا ہے۔ لیکن بھول گئے کہ یہ حالات ان پر بھی آ سکتے ہیں اور اپنی ترقی کے زعم میں ان کی عقلیں ماری گئیں اور آنکھیں اندھی ہو گئیں اور پھر

اب سب دنیا دیکھ رہی ہے کہ وہی ہوا جس کا خطرہ تھا اوریورپ میں بھی جنگی حالات پیدا ہو گئے ہیں۔

یوکرائن کی وجہ سے روس اور نیٹو (NATO)کے ممالک آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ برتری کس نے آخر میں حاصل کرنی ہے یا دونوں کی طرف کتنا نقصان ہونا ہے لیکن یہ یقینی بات ہے کہ اس کے نتائج بہت خطرناک ہونے ہیں اور

اگر اب بھی عقل سے کام نہ لیا تو ایک خوفناک تباہی اس کا انجام ہے۔

پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اب تائیوان کا معاملہ بھی کھڑا ہو گیا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ اب پوری دنیا خوفناک جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے۔ اس زمانے کے اللہ تعالیٰ کے فرستادے نے بڑے زور سے تنبیہ کی ہوئی ہے کہ

’’اے یورپ! تُو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا! تُو بھی محفوظ نہیں اوراے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔‘‘

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22صفحہ269)

یہی وہ ارشاد ہے اور تنبیہ ہے اور warningہے جس کی وجہ سے خلفائے احمدیت وقتاً فوقتاً توجہ دلاتے رہے۔ میں بھی ایک عرصہ سے اس طرف توجہ دلا رہا ہوں، یہ بتا رہا ہوں کہ

اپنے پیدا کرنے والے واحد و یگانہ خدا کی طرف رجوع نہیں کرو گے تو تباہی یقینی ہے۔

عرصہ سے بتا رہا ہوں کہ بلاک بن رہے ہیں اور اس کا آخری نتیجہ ایک دوسرے کی تباہی پر منتج ہو گا، اس لیے ہوش کرو لیکن اکثر یہ لوگ یہ باتیں سنتے ہیں، سنتے تھے اور اب بھی سنتے ہیں اور کہہ دیتے تھے کہ حالات کچھ خراب ہیں۔ ٹھیک ہے کہ کچھ حد تک خراب ہیں لیکن ایسے بھی نہیں جیسے تم خوفناک اور مایوس کن حالات کا نقشہ کھینچ رہے ہو۔ مجھے بھی لوگوں نے کہا، ہمارے اپنے جماعت کے افراد کو بھی لوگوں نے کہا لیکن

اب یہی لوگ جو اُن باتوں کو سطحی نظر سے دیکھتے تھے خود کہنے لگ گئے ہیں کہ حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جا رہے ہیں اور اگر یہی حالات رہے توکسی وقت بھی خوفناک جنگ کی صورت ہو سکتی ہے۔

اب یہ باتیں ان کے تھنک ٹینک(think tank) اور تجزیہ نگار عام کہنے لگ گئے ہیں لیکن اس کے باوجود پائیدار امن قائم کرنے کا حل ان کے پاس نہیں ہے اور یہ ہو بھی کیونکر سکتا ہے کہ امن کے منبع کی طرف ان کی نظر نہیں ہے۔ دنیا میں ڈوبے ہوئے ہیں اور دین کو بھول چکے ہیں۔

جہاں امن کا حل ہے وہاں نہ یہ غیر مسلم حکومتیں آنا چاہتی ہیں اورنہ ہی بدقسمتی سے مسلمان حکومتیں آنا چاہتی ہیں۔

اب بعض جگہ تجزیہ نگار یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جنگوں کی صورت میں جو تباہی ہونی ہے وہ ایسی خوفناک ہو گی کہ ایک اندازے کے مطابق دورانِ جنگ اور اس کے بعد کے دو سالوں میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی وجہ سے دنیا کی چھیاسٹھ فیصد آبادی صفحہ ٔہستی سے مٹ جائے گی۔ ایسی تباہی و بربادی ہو گی جس کا تصور بھی کوئی نہیں کر سکتا۔ ایک عام انسان تو اس کا سوچ بھی نہیں سکتا۔پس بہت خوفناک حالات ہیں۔

ایسے میں اگر کوئی امید کی کرن ہے، امن کی ضمانت ہے تو ایک ہی وجود ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے امن و سلامتی کی تعلیم کے ساتھ دنیا میں بھیجا تھا، جو شہنشاہِ امن ہے، جو اللہ تعالیٰ کو سب انسانوں سے زیادہ پیارا ہے،جس پر اللہ تعالیٰ کی آخری کامل اور مکمل شریعت اتری، جس کی تعلیم پیارو محبت کی تعلیم ہے،

جس نے اپنے خدا تعالیٰ کے تعلق کی وجہ سے اور اپنے اوپر اتری ہوئی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے اور دنیا کو تباہی سے بچانے کی فکر اور اس کے لیے شدید درد محسوس کر نے کی وجہ سے اپنی زندگی ہلکان کر لی تھی۔ اس حد تک اپنی حالت کر لی تھی اور کرب سے تڑپ کر اور رو رو کر اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ (الشعراء:4) کیا تُو اپنی جان کو اس لیے ہلاک کر دے گا کہ وہ مومن نہیں ہوتے۔

پس یہ ہے وہ ذات جو دل میں انسانیت کے لیے درد رکھتی تھی کہ لوگ اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کریں اور تباہی سے بچ جائیں۔ اپنی دنیا بھی بچا لیں اور اپنی آخرت بھی بچا لیں۔ایسی جامع تعلیم آپؐ نے عطا فرمائی کہ کوئی اَور تعلیم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ایسی امن کی ضمانت دی جو دراصل اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ضمانت ہے لیکن

افسوس کہ مسلمان بھی اس تعلیم کو بھول گئے اور ایمان کے صرف زبانی نعرے لگا کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوئے ہوئے ہیں اور اس کے لیے غیروں سے مدد کے طالب ہوتے ہیں۔

کلمہ گو،کلمہ گو کو دین کے مخالفین کی مدد سے قتل کر رہے ہیں۔ اس سے زیادہ بدقسمتی مسلمانوں کی اَور کیا ہو سکتی ہے؟ ایسی خوبصورت تعلیم اور ایسا درد رکھنے والے رسولؐ کی اتباع کا دعویٰ کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لے رہے ہیں اور دنیا میں امن و سلامتی پھیلانے کے بجائے بدامنی پھیلانے کے حوالے سے مشہور ہوتے چلے جا رہے ہیں اور یہ سب اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو اس زمانے میں امن و سلامتی کے بادشاہ اور اللہ تعالیٰ کے سب سے پیارے کے غلام کو دنیا میں امن و سلامتی کی تعلیم پھیلانے کے لیے بھیجا ہے اس کی بات بھی سننا نہیں چاہتے اور نہ صرف بات سننا نہیں چاہتے بلکہ اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ اس پر اور اس کے ماننے والوں پر کفر کے فتوے لگانے والے اور ان کو قتل کرنے کو اسلام کی خدمت اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا معیار سمجھتے ہیں۔ احمدیوں کی زندگیوں سے کھیلنا ان کے نزدیک کارِ ثواب ہے۔ پس ایسے لوگ کس طرح اسلام کی امن کی تعلیم کو دنیا میں پھیلا سکتے ہیں؟

کاش کہ یہ لوگ عقل کریں۔ ان کے علماء علمائے سوء بننے کی بجائے عقل و دانش پھیلانے والے علماء بنیں تاکہ امتِ واحدہ بن کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے والے بن سکیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق کے ساتھ مل کر دنیا کو حقیقی امن و سلامتی کا پیغام پہنچا سکیں۔

بہرحال یہ ایک علیحدہ اور تفصیلی مضمون ہے۔

اس وقت مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم، آپؐ پر اتری ہوئی شریعت،آپؐ کی امن و سلامتی پھیلانے والی تعلیم کے حوالے سےامنِ عالم کے بارے میں کچھ باتیں کروں گا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ تو اس قدر وسعت رکھے ہوئے ہیں کہ اس کا احاطہ تھوڑے وقت میں ممکن ہی نہیں لیکن بہرحال جیساکہ میں نے کہا چند باتیں بیان کروں گا۔

جماعت احمدیہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ نعوذ باللہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک اور توہین کے مرتکب ہوتے ہیں اور اس کی تعلیم دیتے ہیں

لیکن حقیقت میں ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر عمل کرنے والے اور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے محبت کرنے والے ہیں۔ جماعت کا لٹریچر اس بات کا گواہ ہے۔ ہر سال ہزاروں سعید فطرت لوگ اس تعلیم اور محبت کو دیکھ کر جماعت احمدیہ مسلمہ میں شامل ہوتے ہیں۔ غیر بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اسلام کی یہ تعلیم تو ایسی پُراثر اور محبت اور سلامتی پھیلانے والی تعلیم ہے کہ یہی دنیا کے امن کا آج واحد حل ہے۔

ابھی کچھ دن پہلے مَیں نے یوکے کے جلسہ سالانہ میں جماعت کی ترقی کی رپورٹ میں اور جلسہ کے تاثرات کے واقعات میں لوگوں کے بیان سنائے کہ کس طرح وہ لوگ احمدی ماحول اور جلسہ کے ماحول سے متاثر ہوئے اور انہیں اسلام کی امن پسند تعلیم کا پتہ چلا۔ بہرحال ہمارے مخالفین جو بھی چاہیں سوچیں اور کریں، ہمارا کام ہے کہ اگر ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو اپنائیں اور دنیا میں پھیلائیں۔ دنیا کو بتائیں کہ آج دنیا کی امن و سلامتی کا یہی واحد حل ہے۔ پس آؤ اور امن و سلامتی کی تعلیم دینے والے اس عظیم وجود سے جڑ کر دنیا و آخرت میں اپنی سلامتی کے سامان کر لو۔ یہ صرف باتیں ہی نہیں ہیں بلکہ جب ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ کس طرح اس نبی نے اَن پڑھ اور جاہل عربوں کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر اعلیٰ اخلاق اور علم و عمل کے میناروں تک پہنچا دیا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں:’’وہی رسول جس نے وحشیوں کو انسان بنایا اور انسان سے با اخلاق انسان ۔ یعنی سچے اور واقعی اخلاق کے مرکز اعتدال پر قائم کیا اور پھر بااخلاق انسان سے باخدا ہونے کے الٰہی رنگ سے رنگین کیا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد2 صفحہ183 الاشتہار مستیقنًا بوحی اللّٰہ القہار۔ مطبوعہ نظارت نشر واشاعت قادیان 2019ء)

پس آپؐ نے اپنے ماننے والوں اور اپنے سے محبت کرنے والوں کو اخلاق اور عبادتوں کے وہ گُر سکھائے جنہوں نے انہیں خدا تعالیٰ کا قرب پانے والا بنا دیا اور ان کا ہر قول و فعل خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو گیا۔ حقوق العباد کی ادائیگی بھی کی تو خدا تعالیٰ کا قرب پانے کے لیے۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچے دل سے پیروی انسان کو اس مقام پر لے جاتی ہے جہاں وہ اللہ تعالیٰ سے حقیقی محبت کرنے والا بن جاتا ہے اور یہ حقیقی محبت پھر انسان کے ہر قول و فعل کو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا بنا دیتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچے دل سے پیروی کرنے والے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچے دل سے پیروی کرنا اور آپ سے محبت رکھنا انجام کار انسان کو خدا کا پیارا بنا دیتا ہے ۔‘‘

(حقیقۃ الوحی،روحانی خزائن جلد22صفحہ67)

پس یہ انقلاب تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے دلوں میں پیدا کیا کہ جو مشرک تھے وہ موحد بنے اور ایسے موحد بنے کہ خدا تعالیٰ کے پیارے بن گئے۔ وہ خدا تعالیٰ سے محبت کرنے والے اور خدا تعالیٰ ان سے پیار کرنے والا بن گیا۔ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں نے عبادت کے بھی حق ادا کیے اور خوب ادا کیے۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تعلیم پر عمل شروع کیا اور خوب کیا اور اس کے معیار قائم کیے۔

جب کسی سے محبت ہوتی ہے تو پھر اس کے ہر قول و فعل پر انسان عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس کی ہر بات سننے اور اس کو ماننے کی کوشش کرتا ہے۔

زبانی محبت کا دعویٰ نہیں کرتا۔ پس جب ان لوگوں میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہوئی تو خدا تعالیٰ کی مخلوق کے حق ادا کرنے کی طرف بھی توجہ پیدا ہوئی۔ حقوق العباد کی بجاآوری میں بھی ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرنے والے بننے لگے۔ اور جب یہ صورتحال پیدا ہو تو پھر آپس کا محبت و پیار بھی للہ پیدا ہوتا ہے۔ دوسروں کے حق بھی خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے انسان ادا کرتا ہے اور جب یہ معیار بن جائے تو پھر امن و سلامتی کی بھی بنیاد پڑتی ہے، اس کے لیے کوشش ہوتی ہے اور اس کے معیار قائم ہوتے ہیں۔

پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہ وجود ہیں جنہوں نے ہمیں خدا تعالیٰ سے ملنے کے راستے دکھائے اور یہی وجود ہے جس پر اتری ہوئی تعلیم پر عمل کر کے ہم دنیا میں امن و سلامتی پیدا کر سکتے ہیں۔

ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ امن کی بنیاد گھروں سے شروع ہوتی ہے۔ پھر محلے، قصبے، شہر، ملک اور بین الاقوامی سطح تک اس کا دائرہ بڑھ جاتا ہے۔ پس

ہر سطح پر جب ایک دوسرے کے جذبات اور حقوق کا خیال رکھا جاتا ہےتو امن قائم ہوتا ہے اور ہر طبقہ کی یہی تعلیم اللہ تعالیٰ نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہمیں دی۔ ہر طبقے کو یہ تعلیم آپؐ نے دی۔

حضرت مصلح موعودؓ اس موضوع پر مختلف موقعوں پر بیان کرتے تھے لیکن ایک موقع پر اس مضمون کو بیان فرمایا :

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور امنِ عالم‘‘

آپؓ کے اس مضمون سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، استفادہ کرتے ہوئے میں بھی اس حوالے سے کچھ بیان کروں گا۔

یہ تو ہم دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ امن بڑی اہم چیز ہے۔ امن کی باتیں ہوتی ہیں، ہر کوئی کہتا ہے امن بہت اہم چیز ہے اور امن کی حالت ہی گھر کے سکون اور سلامتی کی بھی ضمانت ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی سکون و سلامتی کی ضمانت ہے اور خواہش بھی رکھتے ہیں کہ ہر سطح پر امن قائم ہو لیکن

صرف خواہش امن پیدا نہیں کر دیتی کیونکہ یہاں بھی امن کی خواہش خودغرضی لیے ہوئے ہوتی ہے اور یہی ہم دنیا میں دیکھتے ہیں۔

اگر خودغرضی نہ ہو تو لڑائیاں ہو ہی نہیں سکتیں۔ بالعموم جب کوئی امن کی بات کرتا ہے تو امن کی خواہش اپنے لیے ہوتی ہے بلکہ عموماً جب انسان دعا بھی کرتا ہے اور اگر دعا نہیں بھی ہو رہی تو انسان یہی کہتا ہے یعنی بعض دفعہ خواہش کا اظہار زبان پر بھی آ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے بیوی بچوں کو میرے قریبیوں کو امن میں رکھے۔ دوسروں کے امن میں رہنے کے لیے یہ درد نہیں ہوتا یا انسان اپنی زندگی سکون سے بسر کرنے کے لیے دولت چاہتا ہے اور اس کو اچھا سمجھتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ دشمن کے لیے بھی وہ دولت کو اچھا سمجھتا ہے بلکہ صرف اپنے لیے دولت کو اچھا سمجھتا ہے۔ اگر صحت کو اچھا سمجھتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ دشمن کے لیے بھی اچھی صحت چاہتا ہے۔ دشمن کے لیے تو یہی چاہے گا کہ وہ نادار ہو اور کمزور ہو تاکہ اس کو دشمن پر فوقیت رہے۔ اسی طرح عزت و مرتبہ اگر لوگ چاہتے ہیں تو اپنے لیے، ہر شخص کے لیے نہیں چاہتے۔ یہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ دوسرے کو بھی وہی عزت و مرتبہ ملے جو مجھے مل رہا ہے۔ دنیا میں یہی نظارے ہمیں نظر آتے ہیں عام لوگوں میں بھی اور لیڈروں میں بھی۔ سیاستدانوں کی آپس کی لڑائیاں اور اقتدار میں آنے پر ایک دوسرے پر ظلم جو اپنے ہی ملکوں میں ہم دیکھ رہے ہیں، ایک دوسرے پر جو کر رہے ہیں وہ اسی سوچ کا نتیجہ ہے۔ پس اگر صرف امن کی خواہش ہے تو وہ فساد کا ذریعہ ہو سکتی ہے کیونکہ اس میں خود غرضی شامل ہے کیونکہ جو لوگ امن چاہتے ہیں وہ اس رنگ میں امن کے متمنی ہیں کہ صرف انہیں اور ان کے قریبیوں کو یا ان کی قوم کو امن حاصل رہے۔ ورنہ دوسروں کے لیے اور دشمنوں کے لیے وہ یہی چاہتے ہیں کہ ان کے امن کو مٹا دیں۔ پس اگر اس اصول کو رائج کر دیا جائے کہ اپنے لیے اَور معیار اور دوسرے کے لیے اَور تو دنیا میں جو بھی امن قائم ہو گا وہ چند لوگوں کا امن ہو گا، ساری دنیا کا امن نہیں ہو گا۔ اور اگر ساری دنیا کا امن نہ ہو تو

جو ساری دنیا کا امن نہ ہو وہ حقیقی امن نہیں کہلا سکتا۔ حقیقی امن تبھی ہو گا جو ذاتی، خاندانی، نسلی، قومی، ملکی ترجیحات سے بالا ہو کر قائم کرنے کی کوشش کی جائے، ایک مرکزی محور کے حصول کے لیے کی جائے۔ اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب انسان اس بات کو سمجھ لے اور اس کا فہم و ادراک پیدا کرلے کہ میرے اوپر ایک بالا ہستی ہے جو میرے لیے ہی امن نہیں چاہتی بلکہ تمام دنیا کے لیے امن چاہتی ہے،

جو میرے گھر اور ملک کے لیے ہی امن نہیں چاہتی بلکہ تمام ملکوں کے لیے امن چاہتی ہے۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ِامن کا نقطہ محور یہ احساس ہے کہ ایک بالا ہستی مجھے دیکھ رہی ہے جس کے لیے میں نے اپنے قول و فعل کو ایک کرنا ہے۔ ہمیشہ

اس اصول پر چلنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئےاس سنہری اصول کو سامنے رکھنا ہو گا کہ دوسرے کے لیے بھی وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔

پس اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیشہ یہ سوچ رکھنی ہو گی کہ اگر میں صرف اپنے لیے یا اپنی قوم کے لیے یا صرف اپنے ملک کے لیے امن کا متمنی ہوں تو اس صورت میں مجھے اللہ تعالیٰ کی مدد، اس کی نصرت اور اس کی خوشنودی کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔

جب اس عقیدے پر انسان قائم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر سب کچھ کرنا ہے تبھی حقیقی امن قائم ہو سکتا ہے ورنہ نہیں۔

پس اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہمیں اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ (الحشر:24) وہ بادشاہ ہے۔پاک ہے، دوسروں کو پاک کرتا ہے۔ خود ہر ایک عیب سے سلامت ہے، دوسروں کو سلامت رکھتا ہے۔ سب کو امن دینے والا ہے۔ یہ کہہ کر کہ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ انسانی ارادوں کو پاک صاف کر دیا ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ جب تک ارادے درست نہ ہوں اس وقت تک کام بھی درست نہیں ہوسکتا۔ نیت ہی صاف نہ ہو تو کام میں برکت کس طرح پڑ سکتی ہے؟جب تک ارادے درست نہ ہوں اس وقت تک بہرحال یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کبھی بھی کام درست نہیں ہو سکتا، ہو ہی نہیں سکتا۔

دنیا میں اس وقت جتنی لڑائیاں اور فساد ہیں وہ سب اس وجہ سے ہیں کہ انسان کے ارادے صاف نہیں ہیں۔

لوگ منہ سے جو باتیں کرتے ہیں ان کے مطابق ان کی خواہشات نہیں اور ان کی خواہشات کے مطابق ان کے قول و فعل نہیں اور دنیا کے اس فساد میں بڑی اور ترقی یافتہ کہلانے والی قوموں کا زیادہ کردار ہے۔ آج بیشک دنیا لڑائی کو بُرا کہتی ہے۔ ہر لیڈر کا یہی بیان ہے کہ لڑائی بُری چیز ہے لیکن اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہمارے خلاف کوئی لڑے تو یہ بُری بات ہے لیکن اگر ان کی طرف سے جنگ کی ابتدا ہو تو یہ کوئی بری بات نہیں ہے اور یہ نقص اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں کی نظر اس ہستی پر نہیں ہے جو ’سلام‘ ہے اور سلامتی دینے والی ہستی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جہاں تک ہمارا فائدہ ہے ہم امن کے نعرے لگانے پر عمل کریں گے مگر جب ہمارے مفاد کے خلاف بات آئے گی تو ہم ردّ کر دیں گے۔ ہمارے دشمن کی کوئی مدد کرے اور اسے اسلحہ دے تو یہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے لیکن اگر ہم کسی کو اسلحہ دیں چاہے وہ ظلم کرنے پر ہی استعمال ہو رہا ہو تو یہ جائز ہے۔ اگر یہ سوچ ہو تو کس طرح حقیقی امن قائم ہو سکتا ہے؟

پس حقیقی امن دنیا میں لانے کے لیے یہی عقیدہ اور اس پر عمل کارگر ہو گا کہ دنیا کا ایک خدا ہے جو یہ چاہتا ہے کہ سب لوگ امن میں رہیں۔

اور جب یہ عقیدہ ہو گا، اس پر عمل ہو گا تو پھر ہی انسان کی خواہشات خودغرضی سے بالا ہوں گی بلکہ دنیا کو عام نفع پہنچانے والی ہوں گی۔ اور جب یہ ہو گا تو ہماری سوچوں اور امن و سلامتی قائم کرنے کے اَور ہی معیار ہوں گے۔ ہم یہ نہیں دیکھیں گے کہ فلاں بات کا ہمیں فائدہ پہنچتا ہے یا نہیں بلکہ ہم یہ دیکھیں گے کہ ساری دنیا پر اس کا کیا اثر ہے۔ دنیا والے تو ہمیشہ اپنے فائدے کے لیے دوسروں کے امن کو برباد کرتے رہتے ہیں لیکن جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ایک بالا ہستی ہے تو وہ کبھی جرأت نہیں کریں گے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ اگر ہم نے ایسا کیا تو ایک بالا ہستی ہمیں کچل کر رکھ دے گی۔ غرض کہ

حقیقی امن اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک ایک بالا ہستی کو تسلیم نہ کیا جائے،

جب تک اس کی محبت دل میں پیدا نہ ہو۔ اور

یہ عقیدہ کہ اللہ تعالیٰ امن دینے والا ہے صرف اسلام نے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ پیش کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو تعلیم اتاری اس میں فرمایا کہ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ۔يَّهْدِيْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ (المائدۃ:16-17)۔ یقیناً تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آ چکا ہے اور ایک روشن کتاب بھی۔ اللہ اس کے ذریعہ انہیں جو اس کی رضا کی پیروی کریں سلامتی کی راہوں کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے تو نورِ ہدایت بھیج دیا، ایک کتاب بھی تمام احکامات کے ساتھ بھیج دی اور اس میں سلامتی کی راہوں کی طرف واضح ہدایات بھی بیان فرما دیں۔ اب جو لوگ اس کی کامل پیروی کریں گے وہی سلامتی کی راہوں کو پانے والے ہوں گے۔ اگر آج مسلمانوں میں فتنہ و فساد کی کیفیت ہے، آپس میں جنگوں کی کیفیت ہے تو واضح ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اور بھیجی ہوئی کتاب اور نور کی حقیقی پیروی نہیں کر رہے۔ بےشک دعوے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں لیکن عمل اس کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قول تو کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی بات کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں کبھی غلط نہیں ہو سکتیں۔

اگر مسلمانوں میں فتنہ و فساد ہے تو واضح ہے کہ یہ اس کتاب مبین کو ماننے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اس میں جو تعلیم اتاری ہے اس کی پیروی نہیں کر رہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ تو ہے لیکن آپؐ کے اسوہ اور تعلیم پر عمل نہیں۔

پس آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے ماننے والوں کا یہ کام ہے کہ اس تعلیم کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔ قرآن کریم کے احکامات پر عمل کریں تو تبھی اپنے ماحول میں سلامتی پیدا کر سکتے ہیں اور دنیا کو بھی سلامتی کا پیغام پہنچا سکتے ہیں ورنہ دنیا کہے گی کہ اپنے قول و فعل ایک کرو پھر ہمیں نصیحت کرنا۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں:’’اب آسمان کے نیچے فقط ایک ہی نبی اور ایک ہی کتاب ہے یعنی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جو اعلیٰ وافضل سب نبیوں سے اور اتم واکمل سب رسولوں سے اور خاتم الانبیاء اور خیر الناس ہیں جن کی پیروی سے خدائے تعالیٰ ملتا ہے اور ظلماتی پردے اٹھتے ہیں اور اسی جہان میں سچی نجات کے آثار نمایاں ہوتے ہیں اور قرآن شریف جو سچی اور کامل ہدایتوں اور تاثیروں پر مشتمل ہے جس کے ذریعہ سے حقانی علوم اور معارف حاصل ہوتے ہیں اور بشری آلودگیوں سے دل پاک ہوتا ہے اور انسان جہل اور غفلت اور شبہات کے حجابوں سے نجات پاکر حق الیقین کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد1صفحہ 557-558 حاشیہ در حاشیہ)

پس

اللہ تعالیٰ نے اپنے نور، جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور قرآن کریم جو روشن کتاب اور تمام علوم و معارف کا سرچشمہ اور نور ہدایت ہے اور سلامتی کا پیغام ہے، کوبھیج کر انسانیت پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ اگر انسان اس سے فائدہ نہ اٹھائے اور اپنے تباہ کرنے والے خود غرضانہ مفادات کا ہی اسیر رہے تو اس سے بڑی بدقسمتی اَور کیا ہو سکتی ہے۔

پس اگر اپنی دنیا و عاقبت سنوارنی ہے، امن و سلامتی سے رہنا ہے تو ہمیں اللہ تعالیٰ کے اس کلام کوجو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے کہ يَهْدِيْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ، اس روشن کتاب کی ہدایت کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں۔ اس روشن کتاب کی ہدایت کو پڑھنا اور سامنے رکھنا چاہیے تبھی سبل السلام پر چلنے والے ہوں گے۔ سلامتی کے راستے پر چلنے والے ہوں گے۔ اس کتاب کا کوئی حکم بھی ایسا نہیں جو انسانی امن برباد کرنے والا ہے۔ پس

یہ پیغام ہے جو اپنوں اور غیروں کو دینا ہمارا کام ہے آج اوریہی دنیا کے امن کی ضمانت ہے۔

اور یہی وہ انقلاب تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہؓ میں پیدا کیا اور عملی طور پر ایسی جماعت تیار کر دی جو اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا (الفرقان:64)، اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے تو کہتے سلام،اس کا مصداق بنا دیا اور یہی وہ حالت ہے جب ہم میں پیدا ہو جائے اور ہم دنیا میں پیدا کر دیں تو ہمارا حال اور حاضر بھی امن میں ہو گا اور ہمارا مستقبل بھی امن میں ہو گا۔ پس

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے ماننے والوں کا یہ ایک بہت بڑا کام ہےجنہوں نے اپنے گھروں اور اپنے ماحول میں بھی امن اور سلامتی پیدا کرنی ہے اور دنیا میں بھی امن و سلامتی پیدا کرنی ہے۔

اور یہ کام اسی وقت ہو گا جب ہمارے دل بھی خالص توحید سے پُر ہوں گے اور دنیا کو بھی حقیقی توحید کی طرف لانے والے ہوں گے۔

یہ بات یقینی ہے کہ توحید کامل کے قیام کے بغیر امن قائم ہو ہی نہیں سکتا۔

پہلے بھی بیان ہو گیاکہ بالا ہستی کو بہرحال تسلیم کرنا ہو گا اور وہ بالا ہستی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کا خیال توحید کو دل میں قائم کیے بغیر نہیں آسکتا اور توحید قائم نہیں ہو گی تو لڑائیاں بھی جاری رہیں گی۔ لڑائیاں تو تبھی بند ہو سکتی ہیں جب حقیقی مواخات پیدا ہو، آپس میں محبت اور پیار پیدا ہو، بھائی چارے کی صورتحال پیدا ہو۔

امن اس وقت تک قائم ہو ہی نہیں سکتا جب تک لوگوں کے اندر حقیقی مواخات پیدا نہ ہو اور حقیقی مواخات ایک خدا کو مانے بغیر پیدا نہیں ہو سکتی،

واحد و یگانہ خدا سے تعلق کے بغیر پیدا ہی نہیں ہو سکتی۔ صرف ماننا ہی نہیں بلکہ ایک تعلق بھی قائم کرنا ہو گا اور اس کی تعلیم بھی ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہی ملی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (الفاتحہ:2)کی تعلیم جب ہمیں قرآن کریم میں دی تو اسے ہر نماز میں پڑھنے کا حکم بھی دیا تا کہ مسلمانوں میں اخوت کا وسیع تصور قائم ہو۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ پڑھ کر خدا تعالیٰ کی ربوبیت تمام عالم پر وسیع ہونے کا ادراک پیدا ہوتا ہے۔ ان کلمات کو پڑھ کر انسان کی سوچ وسیع ہوتی ہے اور وہ اس خدا کی تعریف کرتا ہے جو تمام دنیا اور جہانوں کا رب ہے۔ جو عیسائیوں کا بھی رب ہے، ہندوؤں کا بھی رب ہے، یہودیوں کا بھی رب ہے اور ہر ایک کا رب ہے۔ جب یہ کلمات انسان پڑھتا ہے تو پھر کسی سے نفرت کیونکر ہو سکتی ہے۔ یہی بات میں نے ایک دفعہ امریکہ میں غیروں کی ایک مجلس میں بیان کی تو وہ کہتے ہیں یہ کیسی تعلیم ہے! اور واقعی اسلام کی تعلیم ایسی ہے جو کبھی ایک حقیقی مسلمان کے دل میں دوسرے کے لیے بغض و کینہ پیدا کر ہی نہیں سکتی۔ رَبّ الْعٰلَمِيْنَ کے الفاظ نے تو سب کا احاطہ کر لیا ہے اور یہی چیز سلامتی پھیلانے کے بڑے اور وسیع راستے کھولتی ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ میں بتا دیا گیا کہ

اگر حقیقی توحید قائم ہو اور رب العالمین کی حمد سے انسان کی زبان تر ہو تو یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی قوم کا کینہ انسان کے دل میں ہو، نہ عیسائیوں کے لیے، نہ ہندوؤں کے لیے، نہ یہودیوں کے لیے۔

یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تو وہ ان کی بربادی کی خواہش رکھے اور دوسری طرف ان کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد اور تعریف بھی کرے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ پس حقیقی موحد ہی حقیقی امن و سلامتی کا علمبردار ہے۔ اگر مسلمان حقیقت میں اس نکتہ کو سمجھ لیں اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالیں تو دنیا میں حقیقی امن پسند یہی ہوں گے لیکن پھر وہی بات کہ اس کے لیے

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق کے ساتھ جڑنا بھی ضروری ہے، تبھی علم و معرفت کا صحیح ادراک بھی ہو سکتا ہے۔

لیکن ساتھ ہی میں پھر کہوں گا کہ یہ ہم پر بھی ذمہ داری ڈالتا ہے کہ ہم اپنی حالتوں کا جائزہ لیتے رہیں۔ یہ نہ ہو کہ ہمارا نمازوں میں اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ پڑھنا صرف منہ کے الفاظ ہوں اور دل اس کی گہرائی سے خالی ہوں۔ اگر دل و دماغ اس گہرائی سے خالی ہیں تو ہم بھی فتنہ و فساد پیدا کرنے والوں میں سے ہوں گے۔ امن و سلامتی پھیلانے والوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کی پیروی کرنے والوںمیں سے نہیں ہوں گے۔

پس بہت سوچنے کا مقام ہے، بہت غور کی ضرورت ہے، بہت فکر کا مقام ہے۔ آج ہر احمدی کا کام ہے کہ حقیقی امن اور سلامتی دنیا میں پیدا کرنے کے لیے خدائے واحد پر اپنے ایمان کو پختہ کرے۔ خدا تعالیٰ کی محبت کو اپنے دلوں میں راسخ کرے کہ کوئی اور محبت اس کی جگہ نہ لے سکے۔ اس کے حکموں پر عمل کرنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اُتری ہوئی تعلیم یعنی قرآن کریم کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائے۔ جب ہمارے معیار اس حد تک جائیں گے کہ قرآن کریم کا ہر حکم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ارشاد ہمارے قول و فعل کا حصہ بن جائے گا تب ہی ہم دنیا کو اسلام کا حقیقی پیغام پہنچا سکیں گے۔ انہیں حقیقی امن کے گُر کی نہ صرف تعلیم پیش کر کے بتائیں گے بلکہ اپنے عمل سے بھی سکھائیں گے اور یہی دنیا میں حقیقی امن قائم کرنے کا ذریعہ ہے اور یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو امنِ عالم کا عظیم وجود ثابت کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہی اسلام پر اعتراض کرنے والوں کے منہ بند کرنے کا ذریعہ ہے۔ بہرحال

آج یہ کام مسیح موعود کی جماعت کے سپرد کیا گیا ہے۔ اگر ہم نے بھی گھریلو سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح تک اس کے مطابق اپنا کردار ادا نہ کیا تو ہمارے امن و سلامتی میں رہنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے،

نہ ہی ہماری نسلوں کی امن و سلامتی میں رہنے کی کوئی ضمانت ہے اور نہ ہی دنیا کے امن و سلامتی کی کوئی ضمانت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لے جانے کا ذریعہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ احسن رنگ میں ہمیں فرض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

ہم اب دعا کریں گے۔

دعا میں سب یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ سب شاملین جلسہ کو جلسہ کی برکات کا حامل بنائے اور ہر ایک کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی دعاؤں کا وارث بنائے۔ دنیا کے حالات میں جلد ہر طرح سے امن و سلامتی پیدا فرمائے تا کہ ہم اپنے جلسے پھر وسیع پیمانے پر اور اسی شان سے ہر قسم کی فکروں سے آزاد ہو کر منعقد کر سکیں اور جلسوں کو اپنی روحانی اور علمی پیاس بجھانے کا ذریعہ بنائیں اور حقیقت میں اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیم کے مطابق ڈھالنے والے بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ کے پیار اور اس کے فضل کو سمیٹنے والے ہم ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔ دعا کر لیں۔ (دعا)

دعا کے بعد حضورِ انور نے فرمایا: جرمنی جلسہ کی جو حاضری ہے وہ پہلے سن لیں پھر نعرہ لگائیں۔ کہتے ہیں جلسہ کی ہماری کُل حاضری انیس ہزار سات سو بیاسی ہے جس میں مستورات نوہزار چار سو بیاسی اور مرد حضرات دس ہزار تین سو اور اس کے علاوہ جو دوسرے ذرائع سے لوگ جلسہ سالانہ کی کارروائی دیکھ رہے ہیں یا سن رہے ہیں ان کی تعداد بھی چالیس ہزار سے اوپر ہے۔ اچھا اب اگلا پروگرام جو آپ نے کرنا ہے کریں۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button