از افاضاتِ خلفائے احمدیت

آؤ ہم دعا کے نسخہ کو آزمائیں!

افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1933ءفرمودہ26؍دسمبر1933ءاز سیدنا حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ

تشہد ، تعوّذ اور سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:اللہ تعالیٰ کے رحم اور فضل سے پھر ہمیں یہاں جمع ہونے اور اس بات کا ذریعہ بننے کا موقع ملا ہے کہ ہر سال انہی دنوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بلند کرنے کیلئے اس کے بندے چاروں طرف سے جمع ہو کر یَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ یَاْتَوْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔(تذکرہ صفحہ 50 ایڈیشن چہارم)کا نظارہ دنیا کے سامنے پیش کریں۔

مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ آپ کے ایامِ جوانی میں آپ کے والد صاحب اور ہمارے دادا صاحب اکثر اوقات افسوس کا اظہار کیا کرتے تھے کہ میرا ایک بچہ تو لائق ہے (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بڑے بھائی اور ہمارے تایا مرزا غلام قادر صاحب) مگر دوسرا لڑکا (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام) نالائق ہے۔ کوئی کام نہ اُسے آتا ہے اور نہ وہ کرتا ہے۔ مجھے فکر ہے کہ میرے مرنے کے بعد یہ کھائے گا کہاں سے؟ یہاں سے جنوب کی طرف ایک گاؤں ہے کاہلواں اس کا نام ہے وہاں کا ایک سِکھ مجھ سے اکثر ملنے آیا کرتا تھا۔ اُسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ایسی محبت تھی کہ باوجود سِکھ ہونے کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قبرپر جا کر سلام کیا کرتا تھا دُعا کا طریق اِن میں نہیں۔ خلافت کے ابتدائی ایام میں جب کہ9۔10 بجے کے قریب ڈاک آیا کرتی تھی اور میں مسجد مبارک میں بیٹھ کر ڈاک دیکھا کرتا تھا ایک دن وہ سِکھ اُس وقت جب کہ میں ڈاک دیکھ رہا تھا، آیا اور مسجد مبارک کی سیڑھیوں پر سے ہی مجھے دیکھ کر چیخ مار کر کہنے لگا آپ کی جماعت نے مجھ پر بڑا ظلم کیا ہے۔ مجھے چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اُس کے تعلقات کا علم تھا میں نے اُسے محبت سے بٹھایا اور پوچھا کیا ہوا ہے، آپ بیان کریں اگر میری جماعت کے کسی شخص نے آپ کو کسی قسم کی تکلیف اور دُکھ دیا ہے تو میں اُسے سزا دوں گا۔ میرے یہ کہنے پر اُس نے جو دُکھ بتایا وہ یہ تھا کہ میں مرزا صاحب کی قبر پر متّھا ٹیکنے کےلئے گیا تھا مگر مجھے متّھا نہیں ٹیکنے دیا گیا۔ میں نے کہا ہمارے ہاں یہ شرک ہے اور ہم اِس کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اُس نے کہا اگر آپ کے مذہب میں یہ بات ناجائز ہے تو آپ نہ کریں مگر میرے مذہب سے آپ کو کیا واسطہ۔ مجھے کیوں نہ متّھا ٹیکنے دیا جائے۔ جب اُس کا جوش ٹھنڈا ہوا تو کہنے لگا۔ ہمارا آپ کے خاندان سے پرانا تعلق ہے، میرا باپ بھی آپ کے دادا صاحب کے پاس آیا کرتا تھا، ایک دفعہ جب وہ آیا تو میں اور میرا ایک بھائی بھی ساتھ تھے، اُس وقت ہم چھوٹی عمر کے تھے۔ آپ کے دادا صاحب اُس وقت افسوس سے میرے باپ کو کہنے لگے مجھے بڑا صدمہ ہے اب میری موت کا وقت قریب ہے میں اپنے اِس لڑکے کو بہت سمجھاتا ہوں کہ کوئی کام کرے مگر یہ کچھ نہیں کرتا ۔کیا میرے مرنے کے بعد یہ اپنے بھائی کے ٹکڑوں پر پڑا رہے گا؟ پھر کہنے لگے لڑکے لڑکوں کی باتیں مان لیتے ہیں اور ہم دونوں بھائیوں سے کہا تم جا کر اسے سمجھاؤ اور پوچھو کہ اُس کی مرضی کیا ہے؟ ہم دونوں بھائی گئے، دوسرے بھائی کو تو میں نے نہیں دیکھا وہ پہلے فوت ہو چکا تھا مگر جس نے یہ بیان کیا وہ مجھ سے ملتا رہتا تھا، اُس نے بتایا ہم آپ کے والد صاحب کے پاس گئے اور جا کر کہا کہ آپ کے باپ کو شکوہ ہے کہ آپ کوئی کام نہیں کرتے، نہ کوئی ملازمت کرنا چاہتے ہیں اِس سے اُن کے دل پر بہت صدمہ ہے۔ آپ ہمیں بتائیں آپ کا ارادہ کیا ہے؟ حضرت مسیح موعو دعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ بات سن کر فرمایا۔ بڑے مرزا صاحب خواہ مخواہ فکر کرتے ہیں مَیں نے جس کا نوکر ہونا تھا اُس کا نوکر ہو چکا ہوں۔ ہم نے آکر بڑے مرزا صاحب سے کہہ دیا کہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ مجھے جس کا نوکر ہونا تھا، ہو چکا۔ اِس پر آپ کے دادا صاحب نے کہا اگر وہ کہتا ہے تو ٹھیک کہتا ہے۔

پھر جب دادا صاحب فوت ہو گئے تو باوجود اِس کے حضرت مسیح موعو دعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی توجہ دین کی طرف اِس قدر تھی کہ بڑے بھائی سے جائداد وغیرہ کے متعلق کوئی سوال نہ کیا۔ آپ دن رات مسجد میں پڑے رہتے۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سنا۔ آپ فرمایا کرتے تھے اُن دنوں مَیں بُھنے ہوئے چنے اپنے پاس رکھ لیا کرتا اور آخری عمر تک باوجود یکہ بڑھاپا آ گیا تھا آپ کو چنوں کا شوق رہا اور شاید یہ ورثہ کا شوق ہے جو مجھے بھی ہے اور مجھے دنیا کی بہت سی نعمتوں کے مقابلہ میں چنے اچھے لگتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے کہ میں بُھنے ہوئے چنے اپنے پاس رکھ لیتا اور جب کئی دفعہ گھر سے کھانا نہ آتا اور میں پوشیدہ طور پر روزے رکھتاتو چنوں پر گزارہ کر لیا کرتا تھا۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے چھ ماہ تک متواتر روزے رکھے۔ اس عرصہ میں بسا اوقات دو پیسے کے چنے بُھنوا کر آپ رکھ لیتے۔ تبلیغِ اسلام کا شوق آپ کو شروع سے ہی تھا۔ ہندو لڑکوں کو آپ اپنے پاس جمع کر لیتے اور اُن سے مذہبی گفتگو کرتے رہتے۔ حافظ معین الدین صاحب جو آپ کے خادم تھے اور نابینا تھے فرمایا کرتے کہ مجھے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام جب گھر سے کھانا لانے کےلئے بھیجتے تو بعض اوقات اندر سے عورتیں کہہ دیا کرتیں کہ انہیں تو ہر وقت مہمان نوازی کی فکر رہتی ہے ہمارے پاس کھانا نہیں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنا کھانا دوسروں کو کِھلا دیتے اور خود چنوں پر گزارہ کرتے۔ اس حالت کا نقشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کھینچا ہے۔ آج کی حالت تو آپ کے سامنے نہ تھی مگر جو حالت تھی اُسے پیشِ نظر رکھتے ہوئے آپ نے ایک عربی شعر میں وہ نقشہ کھینچا ہے۔ فرمایا۔

لُفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ کَانَ اُکُلِیْ

وَصِرْتُ الْیَوْمَ مِطْعَامَ الْاَھَالِیْ

(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 596)

یعنی اے لوگو! ایک وقت وہ تھا کہ دستر خوان کے بچے ہوئے ٹکڑے مجھے ملتے تھے مگر اب یہ حالت ہے کہ سینکڑوں خاندانوں کو خدا تعالیٰ میرے ذریعہ رزق دے رہا ہے۔ کُجا وہ وقت جب کہ حافظ معین الدین صاحب مرحوم کی روایت کے مطابق جب کوئی مہمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس آتا تو گھر کی مستورات اُسے بوجھ سمجھتیں اور کھانا دینے سے انکار کر دیتیں اور حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو باوجود اِس کے کہ چھ ماہ تک آٹھ پہرے روزے رکھتے اپنا کھانا مہمان کو دے کر اس حالت کی پردہ پوشی کرنی پڑتی اور کُجا یہ وقت کہ آج ہزار ہا آدمی ہندوستان کے گوشہ گوشہ سے یہاں آتے ہیں اور اُن کا رزق اُن کے آنے سے پہلے ہی یہاں پہنچ جاتا ہے۔ رات اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں ایک منٹ کے لئے بھی اس لنگر خانہ کی آگ سرد نہیں ہوتی۔ جس کی خبر اس انسان کو دی گئی تھی جسے شام کے وقت آٹھ پہرہ روزہ افطار کرنے کےلئے بھی روٹی نہ ملتی تھی۔

جانتے ہو یہ حالت کس طرح پیدا ہوئی، یہ تغیر کس طرح رونما ہوا؟ یہ تغیر انسانی تدابیر کی وجہ سے نہیں ہوا اور نہ یہ حالت انسانی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ تم خیال کرو تم بھی کچھ تدبیریں کر لو گے اور موجودہ حالت کو نہ صرف قائم رکھ سکو گے بلکہ بڑھا لو گے یاد رکھو اس بارے میں کوئی انسانی تدبیر کام نہیں دے سکتی، کوئی انسانی جدوجہد کام نہیں آ سکتی۔ صرف ایک ہی چیز ہے جس سے آج کی ساری رونق قائم ہے اور جس سے یہ رونق ترقی کر سکتی ہے اور یہ چیز تقویٰ اللہ ہے۔ خداتعالیٰ پر کامل توکّل اور وثوق ہے۔ خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کرنا۔ تیروں سے زیادہ نشانہ پر بیٹھتی ہیں۔تلوار سے زیادہ کاری ہوتی ہیں اور توپوں سے زیادہ روکوں کو اُڑا دینے والی ہیں۔ میرے دوستو! غور تو کرو۔ اگر اِس بزرگ کی گوشہ تنہائی کی دعائیں جب ہمیں یہ دن نصیب کر سکتی ہیں تو کیا ہم اس کی سچی اتباع کرتے ہوئے اور اس کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حضور آہ و زاری کریں، اُس کے آگے گڑگڑائیں، اُس سے مدد طلب کریں تو ہماری چیخ و پکار خداتعالیٰ کے عرش پر جانے کی بجائے ناکام واپس آجائے گی اور نئی دنیاپیدا کرنے کے قابل نہ ہوگی؟ میں نہ تو وعظ کی کوئی حقیقت سمجھتا ہوں نہ تدابیر کے نتائج جانتا ہوں میں تو یہ جانتا ہوں کہ آزمایا ہوا نسخہ چھوڑنا نادانی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی فرماتے ہیں۔

اے آزمانے والے یہ نسخہ بھی آزما

ہم اور ہزاروں تدابیر کرتے ہیں۔ مگر آؤ! وہ نسخہ جس کے پھل ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں وہ بھی آزمائیں بلکہ وہی آزمائیں۔ خدا تعالیٰ کے آگے عاجزی اور انکسار سے گر جائیں اور کہیں ہمیں طاقت عطا کر کہ ہم بے طاقت ہیں، ہم اُس سے مدد مانگیں اور التجا کریں کہ ہماری کمزوریوں کو دُور کر دے، ہم اُس کے آستانے پر گریں اور اپنے نفسوں کو ذبح کر کے اُس سے دائمی حیات طلب کریں۔ یاد رکھو جو اُس کے آگے گر جائے اُسے وہ ردّ نہیں کرتا۔ لوگ کہتے ہیں مَیں نہیں جانتا، مَیں نے تو چڑیا گھر سے باہر شیر نہیں دیکھا کہ جو شیر کے آگے گِر جائے اُس پر شیر حملہ نہیں کرتا۔ اگر یہ درست ہے تو وہ جو شیروں کا پیدا کرنے والا خدا ہے اُس کے آگے عجز اور انکسار سے گرنے والے کی پُکار وہ کیوں نہ سنے گا۔ ہمارے سپرد نہایت ہی عظیم الشان کام کیا گیا ہے۔ ایسا عظیم الشان جو دل کو ہِلا دینے والا ہے، جس کا قیاس بھی دل کو بٹھا دیتا اور جس کا خیال بھی لرزہ براندام کر دیتا ہے۔ ایک نعمت تھی جو آسمان سے اُتری، ایک نور تھا جو عرش سے نازل کیا گیا مگر دنیا نے اُس کو دیکھا نہیں، اُسے سمجھا نہیں، اُس کی قدر نہیں کی بلکہ آج دنیا کے نزدیک (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ) بدترین وجودہ وہی وجود ہے جسے خدا تعالیٰ نے سب کا سردار بنا کر بھیجا۔ یعنی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم۔ ہر مذہب و ملت کے لوگوں کو اگر گالیاں دینے کی سُوجھتی ہے تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات پاک کو اس کے لئے چُن لیتے ہیں۔ اس کے بعد دوسرا بدترین وجود (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ) وہ ہے جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عزت کو قائم کیا۔ کوئی گالی اورکوئی بُرا کلمہ نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف استعمال نہ کیا جاتا ہو اور اس سے ہمارے سینوں کو چھلنی اور ہمارے قلوب کو ٹکڑے ٹکڑے نہ کیا جاتا ہو۔ اِس کے مقابلہ میں ہمارے پاس کیا ہے جس سے دنیا کے دلوں کو صاف کر کے اور لوگوں کی آنکھوں کو منور کر کے اِس قابل بنا سکیں کہ وہ صداقت کو قبول کر لیں۔ ہم تو ان لوگوں کے لئے بددعا بھی نہیں کر سکتے کیونکہ وہ ہمارے بھائی ہیں اور ہمارا فرض قرار دیا گیا ہے کہ ہم اِن کی اصلاح کی کوشش کریں اِس وجہ سے ہماری حالت ’’گوئم مشکل وگرنہ گوئم مشکل‘‘کی مصداق ہے یہ دنیا نہ تو ہمارے لئے رہنے کی جگہ ہے اور نہ چھوڑنے کی۔ پس آؤ خدا تعالیٰ کے آگے جھکیں اور اُس سے مدد طلب کریں۔ وعظ بھی ہوتے رہیں گے اور لیکچر بھی ہوجائیں گے مگر آؤ سب سے پہلے خدا تعالیٰ کے حضور جھکیں اور کہیں خدایا! یہ ہمارے لئے نہایت ہی بے کسی اور بے بسی کا زمانہ ہے۔ جو کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے اپنی طاقت اور ہمت کے مطابق اس کے کرنے کی ہم کوشش کرتے ہیں مگر یہ ہماری ہمت اور طاقت کے کرنے کا کام نہیں ہے۔ ہم تو اپنی جانوں کو بھی سہارا نہیں دے سکتے کُجا دوسروں کو سہارا دے سکیں۔ پس اے ازلی ابدی خدا! آسمانوں سے اُتر اور ہمارے بازوؤں میں طاقت عطا فرما اور ہمیں سہارا دے ۔ اے رحمٰن! جس نے بیان اُتارا ہمارے قلوب کو طاقت دے۔ اے قدوس خدا! ہمیں پاکیزگی کی چادر پہنا، ہماری کمزوریوں کو دور کر اور ہمارے نقائص کو مٹا دے تا کہ ہم کسی کے لئے ٹھوکر کا باعث نہ ہوں۔اے بادشاہ! جہاں دنیا اپنی خوبصورتی سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے ہمیں بھی کھینچتی رہتی ہے اپنی خوبصورتی کو ظاہر کر دے اور اپنا ایسا جلوہ دکھا کہ لوگوں کے قلوب اس طرف مائل ہو جائیں۔ اے خدا! ہر دل اور ہر قلب میں تیری محبت ہو، ہم تیرے نام کو روشن کرنے والے ہوں اور ہمارے وجود بھی روشن ہوں۔ اے ہمارے رب! وہ لوگ جو تیرے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو گالیاں دیتے اور تیرے پیارے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بُرا بھلا کہتے ہیں اور ہمارا دل دُکھاتے ہیں اُن کے قلوب میں بھی ایسا تغیر پیدا کر دے کہ ہم انہی کے منہ سے درود و صلوٰۃ سُنیں۔ اے خدا! دشمنوں کو دوست بنا دینا تیرا ہی کام ہے تُو آ اور ہمارے دشمنوں کو ہمارا دوست بنا دے اور اگر ہمارے دل میں کسی کے متعلق کینہ وکپٹ ہو تو اُس کو دور کر دے۔

پس آؤ ہم اِس نسخہ کو آزمائیں۔ یعنی خدا تعالیٰ سے دعا کریں اور اُسی سے ہر قسم کی مدد چاہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کے قُرب کے حصول کے دن ہیں۔(الفضل31؍دسمبر1933ء) (افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1933ء ، انوار العلوم جلد 13 صفحہ 297تا 304)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button