مضامین

حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ کی زبان مبارک سے جلسہ سالانہ کے موقع پر کی جانے والی دعائیں

قرآنی دعاؤں کا دلآویز اور رواں ترجمہ۔ ان دعاؤں کے ساتھ خدا کے حضور جھکیں

õ  افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 19؍ دسمبر 1965ء میں اللہ کے حضور عرض کیا:

اے خدائے بزرگ و برتر کی برگزیدہ اور محبوب جماعت! خدا کرے کہ اس کے قرب کی راہیں آپ پر ہمیشہ کھلی رہیں۔ اے نور محمدی کے پروانو! خدا کرے کہ دنیا کی کوئی شمع کبھی تمہیں اپنی طرف مائل نہ کرسکے۔ اے حضرت مسیح موعود کی اطاعت گزار جماعت اور آپ کے جاں نثارو! خدا آپ کے نفوس اور اموال میں برکت ڈالے اور آپ ہمیشہ ان بشارتوں کے وارث بنے رہیں جو آسمان سے آپ کے لئے نازل کی گئی ہیں۔

اے مصلح موعود کے فیوض اور قوت قدسی سے تربیت یافتہ جماعت! خدا کرے کہ آپ اس مقام تربیت سے کبھی نیچے نہ گریں۔

اے جاں سے زیادہ عزیز بھائیو! میرا ذرہ ذرہ آپ پر قربان کہ آپ کو خداتعالیٰ نے جماعتی اتحاد اور جماعتی استحکام کا وہ اعلیٰ نمونہ دکھانے کی توفیق عطا کی کہ آسمان کے فرشتے آپ پر ناز کرتے ہیں۔ آسمانی ارواح کے سلام کا تحفہ قبول کرو۔ تاریخ کے اوراق آپ کے نام کو عزت کے ساتھ یاد کریں گے اور آنے والی نسلیں آپ پر فخر کریں گی کہ آپ نے محض خداتعالیٰ کی رضا کی خاطر اس بندہ ضعیف اور ناکارہ کے ہاتھ پر متحد ہو کر یہ عہد کیا ہے کہ قیام توحید اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے قیام اور غلبہ (دین) کے لئے جو تحریک اور جو جدوجہد حضرت مسیح موعود نے شروع کی تھی اور جسے حضرت مصلح موعود نے اپنے آرام کھو کر اپنی زندگی کے ہر سکھ کو قربان کرکے اکناف عالم تک پھیلایا ہے۔ آپ اس جدوجہد کو تیز، تیز تر کرتے چلے جائیں گے۔

میری دعائیں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں اور میں ہمیشہ آپ کی دعاؤں کا بھوکا ہوں۔ میں نے آپ کی تسکین قلب کے لئے، آپ کے بار ہلکا کرنے کے لئے، آپ کی پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے اپنے رب رحیم سے قبولیت دعا کا نشان مانگا ہے اور مجھے پورا یقین اور پورا بھروسہ ہے اس پاک ذات پر کہ وہ میری اس التجا کو رد نہیں کرے گا۔            

       (خطبات ناصر جلد اول صفحہ1)

õ  حضورؒ نے 26؍ دسمبر 1968ء کو جلسہ سالانہ ربوہ کے افتتاحی خطاب میں اللہ کے حضور عرض کیا:

اے ہمارے رب! تو ہر نقص سے پاک ہے۔ پیدائش عالم بے فائدہ اور بے مقصد نہیں۔ اے ہمارے رب! ہماری زندگی کو بے مقصد بننے سے بچالے اور اپنے غضب کی آگ سے تو اپنی پناہ میں لے لے۔  اے ہمارے رب! تیرے نام پر ایک پکارنے والے نے ہمیں پکارا اور تیری رضا کے حصول کے لئے ہم نے اس کو قبول کیا، اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر تیرے نام کی عظمت اور کبریائی کے لئے ہم نے اس کی آواز پر لبیک کہی کس حد تک ہم نے اس عہد بیعت کو نباہا۔  تو ہی بہتر جانتا ہے ہم کمزوریوں کے پتلے ہیں، ہماری عاجزانہ پکار کو سن اور ہمارے قصور معاف کر اور ہماری بدیاں ہم سے مٹا دے اور ہمیں اس گروہ میں شامل کر جو تیری نگاہ میں نیک اور پاک ہے اور اے ہمارے رب! اے سرچشمہ عنایات بے پایاں!! تیری طرف سے آنے والی ہر خیر کے ہم بھوکے اور فقیر ہیں۔ اے ہمارے رب! ہمیں وہ سب کچھ دے جس کا تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبان پر وعدہ کیا ہے اور جب جزا کا دن آئے تو ہم تیری نظروں میں ذلیل نہ ٹھہریں۔ دیکھنے والے دیکھیں اور سمجھنے والے کہ جو تیری راہ میں دکھ اٹھاتے اور سختیاں جھیلتے ہیں اور جن کو ذلیل کرنے اور ہلاک کرنے میں دنیا کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتی وہی تیرے پیار کو پاتے ہیں اور عباد اللہ المکرمون میں شامل کئے جاتے ہیں۔ ہم نے کوشش کی کہ ہم تیرے لئے اپنے نفسوں کی خواہشات اور ماحول کی کشش اور دنیا کی زینت سے کنارہ کش ہو جائیں اور ہم تیری راہ میں ستائے گئے اور ذلیل کئے گئے اور ہم نے تیری راہ میں رسوائیاں اٹھائیں اور ماریں کھائیں اور جائیدادیں لٹوائیں۔ لیکن ہلاکت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہم نے محبت کے اس شعلہ کو اور بھی روشن کیا جو تیرے لئے ہمارے دلوں میں موجزن ہے لیکن یہ توہماری سمجھ ہے اور ہوسکتا ہے کہ ہماری سمجھ کا قصور ہو۔ ہم تیرے خوف سے لرزاں ہیں ہماری روح تیرے جلال سے کانپ رہی ہے، تیری عظمت اور کبریائی نے ہمارے درخت وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہماری کمزوریوں سستیوں، غفلتوں کوتاہیوں، خطاؤں اور گناہوں نے ہماری نیکیوں کو دبا دیا ہے۔ مغفرت! مغفرت!! اے رب غفور! مغفرت کی چادر تلے ہمیں چھپالے، ہمارے ہاتھ نیکیوں کے پھول اور اعمال صالحہ کے ہار تیرے قدموں پر نچھاور کرنے کے لئے نہیں لاسکے۔ تہی دست تیرے قدموں پر گرتے ہیں اور تیری رحمت کی بھیک مانگتے ہیں۔ اے ہمارے رحمان! ان تہی ہاتھوں کو اپنی رحمت سے یدبیضا کردے۔ تیرا جمال اور محمدﷺ کا حسن دنیا پر چمکے اور اسے روشن کرے۔ ان تہی ہاتھوں کو اپنے دست قدرت میں پکڑ تیرا جلال اور محمدﷺ کی عظمت دنیا پر ظاہر ہو۔ اسلام اور محمدﷺ کے مغرور دشمن کا سرنگوں اور شرمندہ کر دے۔

اے ہمارے رب! ہماری بھول چوک پر ہمیں گرفت نہ کرنا اور ہماری خطاؤں سے درگزر کرنا، ہم عاجز اور کمزور بندے ہیں مگر ہیں تو تیرے ہی بندے۔ اے ہمارے رب! کبھی ایسا نہ ہو کہ ہم عہد شکن ہو کر ثواب کے کاموں سے محروم ہو جائیں اور عہد شکنی کی سزا تیری طرف سے ہمیں ملے۔ اے ہمارے محبوب! ہم ہمیشہ اپنے عہد پر قائم رہنے کی تجھ سے توفیق حاصل کرتے رہیں اور ہمیشہ تیری ہی رضا ہمارے شامل حال رہے اور تیرے انعامات بے پایاں کا جو سلسلہ اسلام میں جاری ہوا ہے اس کا تسلسل کبھی نہ ٹوٹے۔

اے ہمارے رب! اپنے قہر کی گرفت سے ہمیں محفوظ رکھیو۔ تیرے غصہ کی ہمیں برداشت نہیں۔ تیری گرفت شدید ہے کچل کر رکھ دیتی اور ہلاک کر دیتی ہے۔ ہم عاصی ہیں ہمیںمعاف فرما۔ ہم سے گناہ پر گنا ہ ہوا۔ کوتاہی پر کوتاہی، اپنی رحمت کی وسیع چادر ہماری سب کمزوریوں کو چھپا لے ہمیں اپنی رحمتوں سے ہمیشہ نوازتا رہ تو ہمارا محبوب آقا تیرے دامن کو ہم نے پکڑا۔ دامن جھٹک کے ہمیں پرے نہ پھینک دینا ہماری پکار کو سن اور اسلام کے ناشکرے منکروں کے خلاف ہماری مدد کو آ اور ان کے شر سے ہمیں محفوظ رکھ۔ اے ہمارے رب! تیری راہ میں جو بھی سختیاں اور آزمائشیں ہم پر آئیں ان کے برداشت کی قوت اور طاقت ہمیں بخش اور سختیوں اور آزمائشوں کے میدان میں ہمیں ثبات قدم عطا کر، ہمارے پاؤں میں لغزش نہ آئے اور اپنے اور اسلام کے دشمن کے خلاف ہماری مدد کر اور ہماری کامیابیوں کے سامان تو خود اپنے فضل سے پیدا کردے۔

(روزنامہ الفضل ربوہ 12؍ جنوری 1969ء)

õ  حضورؒ نے 26؍ دسمبر 1969ء کو جلسہ سالانہ کے افتتاحی خطاب میں اللہ کے حضور عرض کیا:

اے اللہ! ہم ان بے حد و حساب نعمتوں پر تیرا شکر ادا کرتے ہیں جو تو نے محض اپنی ربوبیت اور رحمانیت کے جلووں سے ہمیں عطا کیں۔ ہماری دعا، ہماری التجا، ہمارے عمل، ہماری سعی، ہمارے مجاہدات انہیں کہاں پاسکتے تھے۔ لیکن اے ہمارے رب! تو اپنے عاجز بندوں کی دعائیں بھی تو قبول فرماتا ہے۔ اے ہمارے مالک! تو عمل اور مجاہدہ پر اپنی رحمت بے پال۔یاں سے ثمرات حسنہ بھی تو مرتب کرتا ہے۔ دعا اور سعی پیہم کی ہمیں توفیق عطا کر، انہیں قبول فرما اور نعماء ہمیں بخش جو دعا اور مجاہدہ پر عطا کی جاتی ہیں، ہمیں اپنا حقیقی خادم بنادے، صدق و سدا ددے، حق و صداقت پر ثبات قدم عطا کر، خوشحال زندگی ہمارے لئے مقدر کر دے اور فلاح اور کامیابی ہمارے نصیب میں کر دے۔

اے ہمارے خدا! ہم بے علم اور کمزور ہیں۔ تیری مدد اور نصرت کے بغیر ہم تیری رضا کی راہوں کو تلاش نہیں کرسکتے۔ اے ہمارے رب! تو خود مہربانی فرما اور ہمارے صحن سینہ اور وسعت دل کو اپنی ذاتی محبت سے معمور کر دے تا ایک اصیل اور تیز رو گھوڑے کی طرح ہم تیری طرف دوڑیں اور تیرے حضور جا حاضر ہوں۔ ماں باپ سے بڑھ کر پیار کرنے والے! پیار سے ہمیں اٹھا اور اپنی گود میں ہمیں بٹھا لے۔

کبر و غرور تیرے در کے لعین اور دھتکارے ہوئے لیکن تذلیل اور انکسار تیرے عرش کی لونڈی ہیں اے خدا! ہمارے دل کے بھی یہی مکین ہوں۔

نیستی ہمارے وجود کی اصلیت اور حقیقت ہے۔ اے خدا ہمیں اس حقیقت پر ہمیشہ قائم رکھ۔ نہ ہمارا جوان اپنی قوت پر اترائے۔ نہ ہمارا بوڑھا اپنی لاٹھی پر بھروسہ رکھے۔ نہ ہمارا عاقل اور فہیم اپنے عقل و فہم پر ناز کرے۔ نہ کوئی عالم اور فقیہ اپنے علم کی صحت اور اپنی دانائی کی عمدگی پر اعتبار کرے اورنہ ہمارا ملہم اپنے الہام اور کشف یا دعاؤں کے خلوص پر تکیہ کرے کیونکہ تو اے ہمارے رب! ہمارے محبوب!! جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ جن کو چاہے اپنے حضور سے دھتکار دے اور جن کو چاہے اپنے خاص بندوں میں شامل کرلے۔

اے ہمارے معبود! ہم تیرے عاجز اور بے مایہ بندے، عبودیت تامہ کے حصول کے لئے سرگرداں عبادت تو تیری ہی کرتے ہیں۔ لیکن پریشان خیالی اور شیطانی وسوسہ اندازی اور خشک افکار اور مہلک اوہام اور تاریک خیالات کے ساتھ ہم سیلاب کے گندے پانی کی مانند ہیں اور گمان اور ظن سے ہم چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتے۔

اے رحمت اتم! تو اپنے بے پایاں فیض سے خود اپنا چہرہ دکھا۔ تاحق و یقین ہمیں نصیب ہو۔

اے ارحم الراحمین! ہم تیری ہی نصرت کے طالب ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ ذوق، شوق، حضور قلب، بھرپور ایمان کے ملنے کیلئے، تیرے احکام پر لبیک کہنے کی توفیق کیلئے، سرور اور نور کیلئے، معارف کے زیورات اور حقائق و دقائق کے لباس کے ساتھ دل کو آراستہ کرنے کیلئے۔ تاہم تیرے فضل، تیرے رحم کے ساتھ یقین کے میدانوں میں سبقت لے جانے والے بن جائیں اور اسرار و حقائق کے دریا پر وارد ہو جائیں۔

اے ہمارے رحمان! ہوائے نفس کی موجیں ٹھاٹھیں مارتی رہتی ہیں اور ہمیں غرق کرتی رہتی ہیں۔ نفس کے عوارض ایک چکر میں ہیں اور ہوائے نفس کے قیدی ہلاک ہوتے رہتے ہیں اور کم ہیں جو نفس امارہ کی اس یلغار سے محفوظ رہتے ہوں! اے ہمارے رحمان! تو خود ہی ہماری حفاظت کر۔ اے شافی حقیقی! ایک حاذق طبیب کے روپ میں ہم پر جلوہ گر ہو۔ ہمیں اپنی طرف کھینچ لے۔ ہمیں اپنے سینہ سے لگا لے تاہم تیری محبت میں دیوانے مستانے بن جائیں اور سب امراض نفس سے شفا پائیں۔ ہمیں سعادت دے اور اس سعادتمندی پر قائم رہنے کی ہمیشہ توفیق بخش اور اپنے پاک بندوں میں ہمیں شامل کرلے۔

اے ہمارے ہادی! صراط مستقیم نعمت عظمیٰ ہے۔ ہر نعمت کی جڑ اور ہر عطا کا دروازہ ہے۔ اے ہمارے محبوب! اے ہمارے مقصود!! سیدھی راہ ہمیں دکھا۔ یہ نہ مٹنے والی روحانی بادشاہت ہمیں عطا کر۔ تیرے تفضلات اور تیری نعماء کا مسلسل ہم پر نزول ہو۔ ان نعمتوں، ان فضلوں کو قبول کرنے کے لئے ہمیں تیار کر اور ان کا ہمیں اہل بنا۔ تا اندھیری راتوں کے بعد خوشگوار زندگی اور ظلمات اور تاریکیوں کو دور کر دینے والا نور ہم پائیں تا اے ہمارے رب!! ہلاکت سے قبل ہر قسم کی لغزش اور ضلالت سے ہم نجات حاصل کرلیں۔

اے ہمارے رب! ہمارے مالک!! اپنے ہی فضل سے ہمارے دلوں میں اپنی ذاتی محبت کا شعلہ بھڑکا۔ اپنے نشانوں سے اپنی ہستی پر ہمیں حق الیقین بخش۔ اے ہمارے محبوب! اپنے چہرے سے نقاب اٹھا اور رخ انور کا ہمیں جلوہ دکھا۔

اے محسن! تیرے احسان کی نورانی لہریں ہمارے فانی وجود میں کروٹ لیں ہمارا ذرہ ذرہ تجھ پر قربان۔ تیری سوزش محبت ہر وقت ہمارے سینے کو گرماتی رہے۔ تیری عظمت اور تیرے جلال کا جلوہ کچھ اس طرح ہمیں اپنی گرفت میں لے کہ دنیا اور اس کی ہر شے تیری ہستی کے آگے مردہ متصور ہو۔ ہر خوف تیری ہی ذات سے وابستہ رہے۔ تیرے درد میں لذت پائیں اور تیری خلوت میں راحت۔ تیرے بغیر دل کو کسی پہلوکسی کے ساتھ قرار نہ ہو۔

 اے ہمارے سچے اور حقیقی محسن! ہمیں اپنی محبت کی نعمت سے مالا مال کر۔ اپنی روح ہم نے تیرے سپرد کی۔ اپنی ہستی تجھے سونپی۔ ہم تجھ سے ہی اپنی محبت کو خاص کرتے ہیں۔ عاجزانہ اور متضرعانہ ہم تیری طرف آتے ہیں۔ تیری رحمت تیری شفقت کے ہم بھکاری ہیں۔ ہم غافلوں کی غفلت کے پردے پھاڑ کر پرے پھینک دے۔ ہماری چال کو سیدھا کر۔ ہماری روح تیری عظمت اور جلال کے خوف سے لرزاں اور ترساں ہے۔ تیری محبت رگ جان بن جائے۔

محبوب! ہماری مدد کو آ۔ یقین اور ایمان کو پختہ کر۔ تاہم اپنے پورے دل، اپنی ساری خواہشات، اپنی عقل، اپنے اعضا، اپنی زمین اور کھیتی باڑی، اپنی تجارت اور صنعت و حرفت اور اپنے پیشہ۔ سب کے ساتھ کلی طور پر تیری طرف ہی مائل ہو جائیں تیرے سوا سب سے منہ موڑ لیں۔ ہماری نگاہ میں اے ہمارے محبوب! تیرے سوا کچھ بھی باقی نہ رہے۔ ہم صرف تیری ہی اطاعت اور پیروی کرنے والے ہوں۔ اے خالق کل! اے مالک کل!! مال اور صاحب مال پر ہمیں ناز کیوں ہو اور ہم ان کے دھوکے میں کیوں آئیں۔ ہم تو بس تیری بارگاہ عزت میں عاجزوں اور مسکینوں کی طرح حاضر ہوتے ہیں۔ دنیا کو ہم دھتکارتے اور اس سے الگ ہوتے ہیں اور آخرت سے ہم محبت کرتے اور فقط اسے ہی چاہتے ہیں۔ اے کامل قدرتوں والے! ہمارا توکل صرف تیری محسن ذات پر ہے۔ اے رحمان! ہمارا ذرہ ذرہ تجھ پر قربان۔ ہمیں اپنے نور سے منور کر آمین۔ (روزنامہ الفضل ربوہ 28؍ جنوری 1970ء)

õ  حضور ؒنے 11؍ جنوری 1968 ء کو جلسہ سالانہ کے افتتاحی خطاب میں فرمایا:

میری یہ دعا ہے کہ اللہ کرے کہ تم پاک دل اور مطہر نفس بن جاؤ اور نفس امارہ کے سب گند اور پلیدیاں تم سے دور ہو جائیں۔ تکبر اور خود بینی اور خودنمائی اور خودستائی کا شیطان تمہارے دل اور تمہارے سینہ کو چھوڑ کر بھاگ جائے اور تذلل اور فروتنی اور انکسار اور بے نفسی کے نقوش تمہارے اس سینہ کو اپنے رب کے استقبال کے لئے سجائیں اور پھر میرا اللہ اس میں نزول فرمائے اور اسے تمام برکتوں سے بھر دے اور تمہارے دل اور تمہاری روح کو ہر نور سے منور کر دے اور خدا کرے کہ بنی نوع کی ہمدردی اور غمخواری کا چشمہ تمہارے اس سینہ صافی سے پھوٹے اور ایک دنیا تمہاری بے نفس خدمت سے فائدہ اٹھائے۔

خدا کرے کہ عاجزانہ دعاؤں کے تم عادی رہو اور تمہاری روح ہمیشہ اللہ رب العالمین کے آستانہ پر گری رہے اور اللہ، اس کی رضا اور اس کے احکام کی اتباع ہر ایک پہلو سے تمہاری دنیا پر تمہیں مقدم ہو جائے۔

تم خدا کی وہ جماعت ہو جسے اسلام کے عالمگیر غلبہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور اس مہم کو کامیاب انجام تک پہنچانے کی راہ میں تمہیں ہزار دکھ اور اذیتیں سہنی ہوں گی اور ہر قسم کے ابتلاء اور آزمائشوں میں تم کو ڈالا جائے گا۔

دعا ہے کہ ہر امتحان میں تم کامیاب رہو اور ہر آزمائش کے وقت رب کریم سے ثبات قدم کی تم توفیق پاؤ۔ بس اسی کے ہو جاؤ۔ وہ مہربان آقا تمہیں پاک اور صاف کر دے اور پیارے بچے کی طرح تمہیں اپنی گود میں لے لے اور ہر نعمت کے دروازے تم پر کھولے اور تمام حسنات کا تم کو وارث بنائے …

خدا کرے کہ آسمان کے فرشتے تمہیں یہ مژدہ سنائیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری عاجزانہ دعاؤں کو سنا اور تمہاری حقیر کوششوں کو قبول کیا اور اپنے قرب اور اپنی رضا کی جنتوں کے دروازے تمہارے لئے کھول دیئے ہیں۔ پس آؤ اور اللہ تعالیٰ کی جنتوں میں داخل ہو جاؤ۔

رب العالمین نے محمد رسول اللہ ﷺ کے ایک عظیم روحانی فرزند کو اس زمانہ کا حصن حصین بنایا ہے۔ چوروں اور قزاقوں اور درندوں سے آج اسی کی جان محفوظ ہے جو اس قلعہ میں پناہ لیتا ہے۔ اللہ کرے کہ تم بدی کو چھوڑ کر نیکی کی راہ اختیار کرکے اور کجی کو چھوڑ کے راستی پر قدم مار کر اور شیطان کی غلامی سے آزاد ہو کر اپنے رب عظیم کے بندۂ مطیع بن کر اس حصن حصین اس مضبوط روحانی قلعہ کی چاردیواری میں پناہ اور امان پاؤ۔

خدا کرے کہ تمہارے نفس کی دوزخ کلی طور پر ٹھنڈی ہو جائے اور اس لعنتی زندگی سے تم بچائے جاؤ جس کا تمام ہم و غم محض دنیا کے لئے ہوتا ہے۔ تم اور تمہاری نسلیں شرک اور دہریت کے زہریلے اثر سے ہمیشہ محفوظ رہیں۔ خدائے واحد و یگانہ کی روح تم میں سکونت کرے اور اس کی رضا کی خاص تجلی تم پر جلوہ گر ہو۔ پرانی انسانیت پر ایک موت وارد ہو کر ایک نئی اور پاک زیست تمہیں عطا ہو اور لیلة القدر کا حسین جلوہ اسی عالم میں بہشتی زندگی کا تمام پاک سامان تمہارے لئے پیدا کردے۔

اے ہمارے رب! تو ہمیں مسیح موعود و مہدیٔ معہود کے انصار میں سے بنا اور اس قیامت خیز ہلاکت اور عذاب سے ہمیں محفوظ رکھ جس سے تو نے ان لوگوں کو ڈرایا ہے جو اپنا تعلق تجھ سے توڑ چکے ہیں۔ پس اپنی طرف تبتل اور انقطاع اور رجوع کی توفیق ہمیں بخش اور ہم پر رجوع برحمت ہو۔

اے ہمارے رب! اے ہمارے رحمان خدا! ہمارے ان بھائیوں کو جو قرآن عظیم کی اشاعت کے لئے دنیا کے ملک ملک اور کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں اپنی رحمت سے نواز، ان کے ایثار اور ان کے تقویٰ میں برکت ڈال، ان کی قلموں کو تاثیر دے، ان کی زبانوں پر انوار نازل کر اور ان کی سعی اور کوشش کو دجال کے ہر دجل اور دہریت کے ہر شر سے محفوظ رکھ اور اے ہمارے اللہ! ہمارے پیارے رب تو ایسا کر کہ تیرے یہ کمزور اور بے مایہ بندے تیرے لئے بنی نوع کے دل جیت لیں اور تیرے قدموں میں انہیں لاڈالیں۔…

اب میں دعا کرواؤں گا آپ بھی دعا میں شامل ہوں۔ آج سب سے اہم دعا جو ہم اپنے رب سے کرسکتے ہیں وہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کی ہدایت کے سامان پیدا کردے دنیا تباہی کے گڑھے کے کنارے کھڑی ہے اور نہیں جانتی کہ وہ کہاں کھڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں بصیرت اور بصارت عطا کرے وہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچاننے لگیں اور اس کی محبت ان کے دلوں میں پیدا ہو وہ اپنے کئے پر نادم ہوں اور اپنے رب کی طرف وہ رجوع کریں اور محمد رسول اللہ ﷺ جو دنیا کے لئے ایک محسن اعظم ہیں۔ آپﷺ کے ٹھنڈے سایہ تلے جمع ہو جائیں اور نار جہنم سے محفوظ کر لئے جائیں۔ خاص طور پر یہ دعائیں کریں۔ آپ سمجھ نہیں سکتے کہ دنیا اس وقت کس قدر نازک دور سے گزر رہی ہے اللہ تعالیٰ رحم کرے۔   (روزنامہ الفضل ربوہ 25 فروری 1968ء ص2 تا4)

اے ہمارے رب! تو ہمیں مسیح موعود کے مددگاروں میں سے بنا اور ان آفات اور عذابوں سے ہمیں بچا جو آپ کے مخالفوں کے لئے مقدر ہوچکے ہیں اور شرک اور بدعت اور ظلم کی ہر قید و بند سے ہمیں ہمیشہ محفوظ رکھ۔

اے خدا ہمیں نیکی اور تقویٰ پر ہمیشہ قائم رکھ اور بدخصلت وساوس پیدا کرنے والوں سے ہمیشہ پناہ دے تا ہمارا بیعت کا تعلق اور غلامی کا رشتہ جو ہم نے (۔) تیرے مسیح اور تیرے خلفاء سے باندھا ہے وہ ہمیشہ مضبوطی سے قائم رہے۔اے خدا! ہمارے بیماروں کو شفا دے۔ ہمارے کمزوروں کوطاقت بخش۔ ہمارے غریبوں کو مال دار بنا اور ہمارے ضرورت مندوں کی ہر ضرورت کو پورا کر اور ہمارے جاہلوں کی جھولیاں دینی اور دنیوی علوم سے بھر دے۔

اے خدا ابتلاؤں میں ہمیں ثابت قدم رکھ اور کامیابیوں میں ہمیں مزاج کے منکسر اور طبیعت کے غریب بنا۔ اے خدا تیرے اور تیرے رسول کے خلاف نہایت گندہ اور مکروہ اور ناقابل برداشت لٹریچر شائع ہورہا ہے۔ ہمیں اور ہماری نسلوں کو اس فتنہ سے محفوظ رکھ اور اس کے خلاف قلمی اور لسانی جہاد کی ہمیں توفیق دے اور اس میں ہمیں کامیاب فرما۔ اے خدا ایسا نہ ہو کہ حاسدوں کی کوششیں ہمارے قومی شیرازہ کو بکھیر دیں اور ہم میں لامرکزیت آجائے۔ اے خدا حاسد اپنے حسد میں جلتے ہی رہیں۔ ہمارا قومی شیرازہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے اور ہمارا مرکز تا ابد بنی نوع انسان کی بھلائی اور خدمت کا مرکز بنا رہے……

اے ہمارے اللہ اے ہمارے رب! ہم تیرے ہی آستانہ پر جھکتے ہیں۔ تجھ پر ہی ہمارا توکل ہے تو ہی ہمارا سہارا ہے ہمیں بے سہارا کبھی نہ چھوڑیو یا رب العالمین۔(الفضل 24؍ نومبر 2007ء)

õ  اختتامی خطاب جلسہ سالانہ ربوہ 26 ؍دسمبر 1980ء میں اللہ کے حضور عرض کیا:

 ”اے ہمارے رب! ہم تمام دوسرے ارباب سے توبہ کرتے ہوئے تیری طرف لوٹتے ہیں۔ انسان نے بہت سے ارباب بنالئے اپنے حیلوں اور دغابازیوں پر اسے بھروسہ ہوگیا۔ اپنے علم یا قوت بازو کا انہیں گھمنڈ، اپنے حسن یا مال و دولت پر انہیں فخر، اسی طرح کے ہزاروں اسباب ہیں جو ان کی زندگیوں کے ساتھ بطور ارباب لگے ہوئے ہیں۔ اے خدا! ہم نے ان سب ارباب کو ترک کیا۔ ان سے بیزار ہوئے۔ اے واحد لاشریک سچے اور حقیقی رب! ہم تیرے حضور سرنیاز کو جھکاتے ہیں۔ اے خدا ہماری دعاؤں کو سن اور ہماری مرادوں کوپورا کر اور اپنے وعدوں کو جو اس زمانہ سے تعلق رکھتے ہیں ہماری زندگی میں ہمیں دکھا۔ … اے خدا ہمیں تو تجھ سے دعا کرنے کی اور مدد مانگنے کی حاجت ہے ہماری حاجت روائی کر۔ ہماری دعاؤں کو سن اور انہیں قبول کر اور ہم پر رحم کر۔ ہم ناچیز انسان ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں۔ ہم میں کوئی خوبی نہیں۔ ہمارے عمل بھی ان بلندیوں تک نہیں پہنچے جن بلندیوں تک تو انہیں دیکھنا چاہتا ہے۔ مگر اے خدا تو تو ”دیالو” ہے۔ بخشنہار ہے۔ تو دینے والا ہے۔ تو عطا کرنے والا ہے۔ تو نے ہماری زندگیوں سے بھی پہلے ہمارے وجود سے بھی پہلے بیشمار، ان گنت نعماء ہمارے لئے پیدا کردیں۔ اب جب تو نے ہمیں پیدا کیا۔ تو ہمیں توفیق دے کہ ہم تیرے حضور کچھ پیش کرسکیں اور ایسا کر کہ جو بھی ہم عاجزانہ رنگ میں ٹوٹی پھوٹی چیزیں تیرے حضور پیش کریں تو انہیں قبول کرلے اور اپنی رضا کی جنتیں ہمارے لئے مقدر کردے۔      

 (الفضل 24؍ نومبر 2007ء)

(بحوالہ الفضل  ربوہ دعا نمبر 28؍ دسمبر 2015ء)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button