جلسہ سالانہ

جلسہ سالانہ کبابیر 2022ء

اللہ تعالیٰ کے فضل سے مورخہ 14 اور 15 جولائی 2022ء کو جماعت احمدیہ کبابیر کو اپنا پچیسواں جلسہ سالانہ بڑی کامیابی کے ساتھ منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ الحمد للہ۔ جلسہ کی تین نشستوں میں 1120 تک افراد کی شمولیت رہی۔ اسرائیل فلسطین کے علاوہ جارڈن، مغرب، یوکے، ناروے اور جرمنی سے بھی نمائندگی رہی۔

جلسہ کا پہلا روز۔ خصوصی اجلاس

مورخہ 14؍جولائی کی شام عبرانی زبان میں ایک خصوصی اجلاس مکرم محمد شریف عودہ صاحب نیشنل امیر کبابیر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اس موقع پر چارسو کے قریب غیر مسلم مہمانان تشریف لائے تھے جن میں سے اکثریت یہودی تھی۔ مکرم یتسحاق ہرتسوغ صاحب صدر مملکت اسرائیل جلسہ میں شامل ہونا چاہتے تھے مگر صدر امریکہ کے اسرائیل وزٹ کرنے کی وجہ سے وہ تشریف نہیں لاسکے۔ مگر ان کی طرف سے ایک ویڈیو پیغام موصول ہوا تھا جو جلسہ کے اس اجلاس میں دکھایا گیا جس میں انہوں نے جلسہ پر مبارک باد پیش کی اور قیام امن کے لیے جماعت احمدیہ کی کوششوں کو سراہا۔

اس اجلاس میں مکرمہ عینات کالیش صاحبہ میئر حیفا نے بھی تقریر کی۔ انہوں نے بتایا کہ شہر حیفا کو پر امن رکھنے اور اس کی نظم وضبط کی حفاظت میں جماعت احمدیہ کا کردار بہت اہم ہے۔

اس کے بعد مکرم امیر صاحب کی تقریر زیر عنوان ’’دنیا میں امن کا قیام الٰہی نوشتوں میں مذکورہ تعلیمات اور پیشگوئیوں کو قبول کرنے میں ہے‘‘ ہوئی جس میں انہوں نے امن وسلامتی کے اسلام کے پیش کردہ سنہرے اصول بیان کیے جس کا سامعین پر اچھا اثر رہا۔

اس کے بعد ایک یہودی لیکچرار ڈاکٹر موشے لاوی صاحب نے یہود اور عرب کے باہم تعلقات کو تاریخ کے حوالے سے بیان کیا جو اس موقع پر علمی لحاظ سے بھی اور رواداری کے لحاظ سے بھی پر اثر رہا۔ اس کے بعد جماعت احمدیہ کے عالمی اور مقامی کارناموں پر مشتمل ایک ڈاکومنٹری دکھائی گئی۔ بعد ازاں کچھ اور معزز مہمانوں کی تقاریر ہوئیں۔ جن میں مکرم ربی پروفیسر ہرزکووچ صاحب، صدر بار ایلان یونیورسٹی شامل تھے۔ اس کے بعد دروز مذہب کے نمائندہ نے جلسہ پر مبارک باد پیش کی اور جماعت احمدیہ کی خدمات کا شکریہ ادا کیا۔

جلسہ کا دورسرا روز

جلسہ کے دوسرے روز نماز تہجد باجماعت ادا کی گئی۔ مکرم امیر صاحب نے خطبہ جمعہ کے دوران حضور انور ایدہ اللہ کے خطبہ کا خلاصہ پیش کرنے کے بعد موقع پر موجود غیر احمدی مہمانوں کے سامنے حضرت مسیح موعودؑ کی آمد اور رسول کریمﷺ کی پیشگوئیوں کی تکمیل اور خلافت احمدیہ کا ذکر کیا۔

تقریب پرچم کشائی

شام پانچ بجے لوائے احمدیت لہرانے کے لیے دوست جمع ہوئے۔ مکرم خامسی عصام صاحب صدر جماعت مغرب نے مکرم امیر صاحب اور خاکسار (مشنری انچارج کبابیر) کی معیت میں لوائے احمدیت لہرایا۔ دعا کے بعد عربی ترانہ پڑھا گیا۔

جلسہ کا دوسرا اجلاس

شام ساڑھے پانچ بجے جلسہ کا دوسرا اجلاس خاکسار کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اس جلسہ میں تلاوت قرآن اور قصیدہ کے بعد مکرم الحاج راشد خطاب صاحب صدر مجلس انصار اللہ کبابیر نے یصلون علیک صلحاء العرب وابدال الشام کے حوالہ سے تقریر کی جس میں انہوں نے ابتدائی عرب صحابہ مسیح موعود علیہ السلام کا تذکرہ کیا۔ دوسری تقریر مکرم عماد الدین صاحب مصری مربی سلسلہ کی تھی جس میں انہوں نے خلافت اور افراد جماعت کی باہمی محبت کے موضوع کو مختلف واقعات کی روشنی میں بیان کیا۔ اس اجلاس میں مکرم معاذ عمر صاحب جنرل سیکرٹری نے جماعت احمدیہ کبابیر کی سالانہ کارگزاریوں کی مختصر رپورٹ پیش کی۔ خدام واطفال کا ایک ترانہ بھی ہوا۔ اجلاس کے آخر میں بعض احمدی مہمانوں کی تعارفی تقاریر ہوئیں جن میں مکرم خامسی عصام صاحب صدر مغرب، ڈکٹر داؤد طاہر صاحب یوکے اور مکرم عصام الحورانی صاحب جارڈن نے مختصر تقاریر کیں۔ دعا سے قبل خاکسار نے جلسہ سالانہ کے موقع پر قبولیت دعا کے حوالے سے کچھ تاریخی باتیں پیش کیں۔

اختتامی اجلاس

نماز مغرب و عشاء کے بعد مکرم امیر صاحب کبابیر کی زیر صدارت اختتامی اجلاس ہوا۔ اس موقع پر احمدیوں کے علاوہ بہت سے غیر احمدی اور بعض عیسائی مہمان بھی شامل تھے۔ تلاوت قرآن، قصیدہ اور جماعت کے تعارف میں ایک مختصر ویڈیو پیش کرنے کے بعد خاکسار کی تقریر بعنوان ’’سیرت حضرت رسول کریمﷺ مظلومین کے لیے رحمت‘‘ ہوئی۔ اس موقع پر سیرت کے حوالے سے مختلف واقعات بیان کرکے مذہب کے نام پر ہونے والے ظلم کی وجوہات اور مسلمانوں میں باہم ظلم کے اسباب کا بھی مختصر تذکرہ کیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر ایمن فضل عودہ صاحب نے عرفان الٰہی کے موضوع پر تقریر کی۔ امسال جلسہ کا عنوان بھی عرفان الٰہی رکھا گیا تھا۔ موصوف مقرر نے اپنی تقریر میں قیام امن کے لیے حقیقی خالق سے تعلق پیدا کرنے کی ضرورت واضح کی۔ اس تقریر کے بعد قبولیت دعا اور عظمت خلافت کے حوالہ سے ایک ڈاکومنٹری دکھائی گئی جس میں در اصل عرفانی الٰہی کو سمجھنے کے لیے زندہ مثالیں پیش کی گئیں۔

بیعتیں

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ میں تین بیعتیں ہوئیں۔ جلسہ پر بعض ایسے نو مبایعین بھی تشریف لائے تھے جنہوں نے اپنی بعض مجبوریوں کے سبب کچھ عرصہ سے جماعتی پروگراموں میں شامل ہونے کی توفیق نہیں پائی۔

بعض معزز مہامانوں کے تاثرات

ایک بزرگ یہودی مہمان نے کہا کہ میں احمدیوں کو 30 سال سے جانتا ہوں، میں نے آپ کے تمام 25 جلسوں میں شرکت کی ہے (یہاں وہ جذباتی ہوگئے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور ان کی آواز اس طرح کانپ رہی تھی جیسے وہ رونے ہی والے ہیں)۔ انہوں نے مزید کہاکہ بے شک یہاں سب کے لیے محبت ہے اور کسی سے نفرت نہیں ہے۔

ایک اور یہودی مہمان نے کہا کہ یہ وہی ہے جس کی میں تلاش کر رہا تھا۔ میں حقیقی اسلام کی تلاش میں تھا، میں ایک ایسی آواز کی تلاش میں ہوں جو محمد(ﷺ)کے نام پر ہو، جو عیسیٰ، ابراہیم، اسحاق اور یعقوب جیسے مقدس انسان ہیں۔ محمد(ﷺ)میرے لیے مقدس ہیں، میں ایک یہودی ہوں، لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ مقدس انسان ہیں اور حق کے ساتھ مبعوث ہوئے تھے۔

یوکرین کے چیف ربانی نے کہا کہ یہاں کا ماحول دوستی سے بھرا ہوا ہے، مجھے یہ ماحول بہت پسند آیا کیونکہ میں نے یہاں اپنا گھر جیسا محسوس کیا۔ میں یوکرین کا چیف ربائی ہوں اور مجھے اس بات کا فخر ہے کہ میں اس وقت ایک اصلاح پسند اسلامی جماعت کے ساتھ کھڑا ہوں جو امن، دوستی کو فروغ دیتی ہے۔ اور میرے خیال میں یہ سب سے اہم چیز ہے جو ہم ایک دوسرے سے سیکھ سکتے ہیں، انسانی تعلقات میں یہ ہم آہنگی امن پیدا کرتی ہے، اور یہی میں نے یہاں پایا ہے۔

ایک اور یہودی مہمان نے کہا کہ میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ کمیونٹی خالق کی طرف سے ایک تحفہ ہے اور میں خوش قسمت ہوں کہ اس معزز کمیونٹی، اس کی روشن خیال اور ترقی پسند تعلیمات سے واقف ہوگیا ہوں۔

ایک عرب مسلمان غیر احمدی مکرم اشرف قرطام صاحب (لیکچرر اور ہیومن ڈیولپمنٹ کوچ، جو عرب کمیونٹی میں بہت با اثر اور مشہور ہیں) نے کہا کہ واقعی آپ کے جلسہ کی کچھ خاصیت ہے۔ آپ جن موضوعات کا جلسہ میں ذکر کرتے ہیں، خاص طور پر اس سال، وہ ایسے مواضیع ہیں جنہیں تمام لوگوں کو خواہ ان کا دین کوئی بھی ہو،سننے کی ضرورت ہے۔ میں جب آپ کے جلسہ میں شامل ہوتا ہوں تو ایک تو روحانی غذا کھاتا ہوں، دوسری طرف پیشہ وارانہ طور پر بھی بہت فائدہ اٹھاتا ہوں۔ یہاں آکر میں مثبت توانائی سے بھر جاتا ہوں، جسے بعد میں ایک لیکچرر کے طور پر لوگوں میں استعمال کرتا ہوں۔

حیفا میں رہنے والے ایک عرب ٹیچر مکرم عید جوبیلی صاحب نے کہا کہ میں بیس سال تک حیفا شہر کے ہائی سکول میں پڑھاتا رہا جہاں پورے علاقہ کے طلباء پڑھتے ہیں۔ احمدی طلباء کو بھی پڑھاتا رہا، کبھی بھی احمدی طلباء کی طرف سے تشدد اور فسادات کے واقعات ہم نے نہیں دیکھے۔ بلکہ احمدی طلباء ہمیشہ اپنے اخلاق کے مظاہرہ میں اور دوسروں کا حق ادا کرنے میں دوسروں کے لیے نمونے ثابت ہوئے۔

ایک عیسائی مہمان نے کہا کہ آپ نے کمال کردیا ہے، آپ یہاں جو کام کرتے ہیں تمام مذاہب وملت والوں کو آکر اسے دیکھنا اور سننا چاہیے۔ آپ بلند اخلاق کے ہیں، آپ نے ہمیں محبت سکھائی اور یہ بھی سکھایا کہ کس طرح ایک شخص عاجزی اور اپنے کچھ حقوق ترک کر کے غیروں میں محبت پھیلا سکتا ہے۔ اس سال آپ کا جلسہ پہلے سے بہت اچھا رہا۔

ایک معزز ریٹائرڈ یہودی خاتون نے کہا کہ میں حیفا کی رہنے والی ہوں اور یہاں کئی دفعہ آئی ہوں۔ جب بھی میں باہر سے سفر کرکے حیفا پہنچتی ہوں تو راستہ میں آپ کے دو بلند منارے دیکھتی ہوں۔ منارہ کو دیکھتے ہی مجھے ایک قسم کی خوشی محسوس ہوتی ہے اور سمجھتی ہوں کہ میں اپنا گھر آگئی ہوں۔ پھر منارے کو دیکھتے ہی مجھے آپ لوگ، آپ کا پیار اور آپ کی اچھائیاں یاد آتی ہیں اور دل سے کہتی ہوں کہ یہاں مجھ سے پیار کرنے والے لوگ رہتے ہیں۔ آپ کے امیر بہت بہادر ہیں، جہاں کہیں آگ بھڑکے گی وہاں آپ کے امیر اسے بجھانے کے لیے جاتے ہیں، اختلافی امور میں مختلف دینی لیڈروں کو ایک ساتھ لیکر چلتے ہیں۔ مجھے آپ لوگوں پر فخر ہے اور میں آپ کے خلیفہ کو بھی خط لکھنا چاہتی ہوں جنہیں میں پسند کرتی ہوں کیونکہ ان کے بارہ میں مَیں نے بہت کچھ سن چکی ہوں۔ میں ان کو بتانا چاہتی ہوں کہ کیا ہی عظیم قابل تقلید جماعت ہے آپ کی۔ آپ واقعی ایک رول ماڈل ہیں، آپ چونکہ لوگوں کو اکٹھا کرتے ہیں، آپ کا خاص شکریہ۔

ویسٹ بانک سے ایک احمدی نوجوان محمد سلمان صاحب نے کہا کہ میں اس بات کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس جلسہ نے مجھ پر خوب اثر کیا ہے۔ میری خوشی کا کوئی انتہا نہیں۔ پہلے تو طبیعت کی خرابی کی وجہ سے میں جلسہ پر شامل ہونے سے ہچکچا رہا تھا۔ پھر مجھے شاملین جلسہ کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعا یاد آگئی اور میں جلسہ پر حاضر ہوا۔ جلسہ کے دوسرے اجلاس سے ہی مجھے بہت راحت اور سکون ہونا شروع ہوا اور پھر اختتام میں جاکر میں بالکل مطمئن ہوا۔ بیماری کا ذرا بھی احساس نہیں ہوا۔ تقاریر تو بہر حال اچھی اور پر اثر تھیں۔ مگر ویڈیو ڈاکومنٹری میں قبولیت دعا اور معجزانہ شافایابی کے واقعات کو دیکھ کر میری حالت بدل گئی، خاص طور مکرم امیر صاحب کے بیٹے کے سینے پر حضور انور ایدہ اللہ نے انگوٹی رکھ کر دعا کی اور اس لڑکے کو اللہ تعالیٰ نے معجزانہ شفا عطا فرمائی۔

ایک معزز غیر احمدی دوست نے کہا کہ خدا کی قسم آپ لوگ بلند اخلاق والے ہیں۔ جلسہ کے دن آپ کے اعلیٰ اخلاق کا ظہور ہوا۔ جب میں نے آپ کے نوجوانوں کو ہمارے نو جوانوں کے ساتھ ملاکر تقابلی جائزہ لیا تو مجھے شدید تکلیف محسوس ہوئی کہ آپ عظیم لوگ کہاں، اور ہم کسی اور دنیا میں رہتے ہیں۔ اسلام کی عظمت اور خوبصورتی آپ کے حسن سلوک سے عیاں ہے۔

مکرم زائد فلاح صاحب قاضی شہر عکا نے کہا کہ جلسہ اس عظیم موقع پر آپ کی میزبانی میرے لیے اعزاز کا مقام رکھتی ہے۔ واقعی آپ نے امن وسلامتی کا جھنڈا عملی طور پر بہت بلند کیا ہے۔

مکرم بوعاز راموت صاحب نو مسلم احمدی نے کہا کہ اس سال کے جلسہ کے پروگرام پہلے سے بہت اچھا اور منظم رہا۔ 2016ء میں میری بیعت کرنے کے بعد سب سے اچھا جلسہ اس بار کا رہا۔ الحمد للہ۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ کو میڈیا نے بھی خوب نشر کیا۔ اخبارات، ٹی وی کے علاوہ سوشل میڈیا کے ذریعہ بھی جلسہ سالانہ کی خبریں اور رپورٹیں پیش ہوتی رہیں۔ الحمد للہ۔

قارئین الفضل کی خدمت میں تمام احباب جماعت، خدمت کرنے والے مرد وخواتین اور بچوں نیز تمام شاملین جلسہ کی دینی ودنیوی ترقیات کے لیے دعا کی عاجزانہ درخواست ہے۔

(رپورٹ: شمس الدین مالاباری، مشنری انچارج وافسر جلسہ گاہ کبابیرو نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button