یورپ (رپورٹس)

جزیرہ Gotland، سویڈن کا تبلیغی دورہ

(رضوان احمد افضل۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل سویڈن)

Gotland (گوٹ لینڈ) بحیرہ بالٹک میں سویڈن کا ایک بڑا جزیرہ اور صوبہ ہے جس کی آبادی تقریباً 60ہزار ہے۔ اس جزیرہ کا سب سے بڑا شہر Visby (ویزبی) ہے۔ اس شہر میں ہر جون کے آخر یا جولائی کے شروع میں ایک سیاسی و سماجی میلہ لگتا ہے۔ جس کو Almedalsveckan کہتے ہیں۔ اس میلہ میں سویڈن کی بڑی سیاسی جماعتیں 5دن اپنے سٹال لگاتی ہیں۔ پانچوں دن پارٹی لیڈرز کی تقاریر بھی ہوتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے علاوہ مختلف انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اور بہت سی کاروباری تنظیمیں بھی اپنے سٹال لگاتی ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق تقریباً 40 ہزار لوگ اس میلہ کو وزٹ کرتے ہیں۔ امسال جماعت احمدیہ سویڈن کو بھی اس میلہ میں پہلی دفعہ دو دن اپنا تبلیغی سٹال Ask A Muslim کے عنوان کے تحت لگانے کی توفیق ملی۔ الحمد للہ۔

مکرم وسیم ظفر صاحب امیر جماعت احمدیہ سویڈن کی اجازت سے مکرم عطا الٰہی صاحب نیشنل سیکرٹری تبلیغ نےاس دورے کا پروگرام بنایا۔ مکرم آغا یحیٰ خان صاحب مبلغ انچارج سویڈن نے مبلغین کرام سویڈن کے ساتھ اس دورے کی تیاری کے سلسلے میں میٹنگز کیں۔ اس دورے میں مبلغ انچارج صاحب کے ہمراہ مکرم کاشف ورک صاحب مبلغ سلسلہ سٹاک ہالم اور خاکسار (مبلغ سلسلہ مالمو) گوٹ لینڈ روانہ ہوئے۔

سفرکا باقاعدہ آغاز 04؍جولائی 2022ء کی صبح گاتھن برگ سے ہوا۔ مکرم مبلغ انچارج صاحب سویڈن نے سفر کے آغاز میں دعا کروائی۔ اس سفر کے دوران کُل 1700 کلومیٹر کا سفر طے کیا گیا۔ اس سفر میں گاڑی کے پیچھے جماعتی ٹریلر بھی نصب کیا گیا جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بڑی تصویر، ’مسیح آگیا‘ کی سویڈش میں تحریر نیز جماعتی ویب سائٹ اور ماٹو ’محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں‘ نمایاں طور پر لکھا گیا ہے۔ اسی طرح ٹریلر کی ایک طرف Ask a Muslim لکھا ہوا تھا اور ساتھ ہی بعض عناوین بھی لکھے گئے جو کہ عموماً میڈیا میں آتے رہتے ہیں۔ اس سارے سفر کے دوران ہزاروں گاڑیاں اس کاروان کے پاس سے گزریں اور اس طرح ہزاروں لوگوں تک یہ پیغام پہنچا کہ جس موعود مسیح کا وہ انتظار کر رہے ہیں وہ آچکا ہے۔ سٹاک ہالم سے بذریعہ فیری اس جزیرہ کی طرف سفر کیا گیا۔ فیری کا سفر تقریباً 3گھنٹے کا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل اور حضور انور ایدہ اللہ کی ازراہ شفقت دعاؤں سے سٹال بہت ہی کامیاب رہا۔ بہت کثرت کے ساتھ لوگ ہمارے سٹال پر آئے اور بہت تفصیل سے اسلام کے بارے میں سوالات کیے۔ سٹال پر آنے والوں کو تفصیلی جوابات دیے گئے۔ اللہ کے فضل سے اکثریت نے ان جوابات پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ کا جواب عقلی طور پر بہت صحیح ہے۔ سٹال پر بہت زیادہ دلچسپی رکھنے والوں میں قرآن کریم بھی تقسیم کیے گئے۔ اس سٹال کے موقع پر 8 قرآن کریم تقسیم کیے گئے۔ آنحضورﷺ کی زندگی کے بارے میں حضرت مصلح موعود ؓکی کتاب لائف آف محمد کا سویڈش ترجمہ اور حضور انور ایدہ اللہ کے لیکچرز پر مشتمل کتاب Pathway to Peace بھی زائرین کی دلچسپی کا باعث رہی اور کافی تعداد میں تقسیم کی گئی۔ بہت سے لوگوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ ہمارے سے گفتگو کے بعد ان کا اسلام کے بارے میں جو نظریہ تھا وہ مثبت ہو گیا ہے اور ان کے خدشات دور ہو گئے ہیں۔ اکثر لوگوں نے جماعت کے اس اقدام اور مہم کو بہت اچھے الفاظ میں سراہا اور اس قسم کی مزید کوششوں کو جاری رکھنے کی درخواست کی۔ دو ممبران پارلیمنٹ کے علاوہ کئی اور سرکردہ افراد نے بھی ہمارے سٹال کا وزٹ کیا اور ہماری کوششوں کو سراہا۔

ہم تینوں مبلغین نے مختلف سیاسی جماعتوں کے سٹالز کو بھی وزٹ کیا اور ان سے ان کے لیڈرز کے بیانات میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار تھا اس بارے میں بات کی اور انہیں ان کے خدشات کے بارے میں اصل اسلامی تعلیمات کے بارے میں بتایا۔

سوشل میڈیا یعنی Facebook، Twitter اورInstagram کے ذریعہ ساتھ ساتھ اس وزٹ کی تشہیر کی گئی۔ Facebook live اور Youtube live کے ذریعہ بھی اس وزٹ کے دوران جماعتی پیغام کو پھیلایا گیا۔ اس طرح ان تمام ذرائع کے ذریعہ اس دورہ کی خبر اور جماعت کا تعارف ہزاروں افراد تک پہنچا۔ الحمد للہ

سفر کے دوران اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضلوں کو ہم نے مشاہدہ کیا۔ سیاسی جماعتوں کے سٹالز کے علاوہ بعض دوسر ے سٹالز کا بھی ہم نے وزٹ کیا ان میں سے ایک سٹال ایک تنظیم Set My People Free کا تھا۔ جب ہم نے اس سٹال کا وزٹ کیا تو ہمیں پتا چلا کہ یہ لوگ ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں جنہیں اسلام چھوڑنے کے نتیجہ میں کسی بھی قسم کے مسائل کا سامنا ہو۔ ہم نے ان سے بات چیت کے دوران انہیں بتایا کہ اسلام بطور مذہب مذہبی آزادی کا علم بردار ہے اور مرتدین کے لیے کسی بھی قسم کی سزا تجویزنہیں کرتا۔ جب ہم ان سے بات کر رہے تھے تو اسی دوران مبلغ انچارج صاحب نے ان کے سٹال کے اندر لگی سکرین کو دیکھا تو وہاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطاب چل رہا تھا۔ مبلغ انچارج صاحب نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ انہیں جانتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ نہیں مگر اس وقت ایک لائیو کانفرنس International Conference on Freedom of Religious Belief لندن میں ہورہی ہے جس میں یہ خطاب چل رہا ہے۔ جس پر مبلغ انچارج صاحب نے انہیں بتایا کہ یہ ہمارے خلیفہ اور امام ہیں۔ اور جو باتیں ہم آپ کو بتا رہے ہیں وہ انہی کی راہنمائی میں جماعت ساری دنیا میں پھیلا رہی ہے۔ یہ موقع ہمارے لیے ایمانوں کی تازگی کا موجب بنا کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے ہماری باتوں کی مضبوطی کے اظہار کے لیے عین اس وقت جب ہم ان کے سٹال پر گئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسی وقت حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطاب اس سٹال میں آنا یقیناً یہ بات خدا تعالیٰ کے خاص فضل سے ہوئی اور سٹال والوں پر اس کا بہت ہی اچھا اثر ہوا۔

اسی سٹال والوں نے میلہ میں ایک پبلک جگہ جو کہ تقاریر وغیرہ کے لیے ہوتی ہے وہ بُک کی ہوئی تھی اور انہوں نے ایک اسلام مخالف عیسائی نقاد کو وہاں لیکچر کے لیے بلایا ہوا تھا۔ ہمیں اس بات کا علم نہیں تھا۔ ایک دن صبح 10 بجے کے قریب اچانک ہمیں لیکچر کی آواز آئی ہمارے ساتھ مبلغ صاحب نے آواز پہچان کر کہا کہ یہ تو فلاں مخالف اسلام ہے ۔ ہم تینوں اسی وقت اس جگہ کی طرف چل پڑے۔ اور وہاں وہی اسلام مخالف عیسائی نقاد اسلام میں مرتد کی سزا پر قرآن اور آنحضورﷺ پر اعتراضات کر رہا تھا۔ اس کے لیکچر کا پہلا حصہ ختم ہوا تو مکرم کاشف ورک صاحب نے ہاتھ کھڑا کر کے اس لیکچر پر تبصرہ کی اجازت چاہی جو مل گئی اور پھر کاشف ورک صاحب نے تفصیل سے اس کے اعتراضات کا جواب دیا اور پبلک کو بتایا کہ یہ لیکچر دینے والا اسلام مخالف عیسائی نقاد ہے اور جس طرح یہ قرآنی آیات کو ان کے سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کر رہا ہے اس طرح تو عیسائیت سب سے فسادی مذہب ثابت ہوتا ہے۔ کاشف صاحب کے جوابات کا جواب اس لیکچرر نے دینے کی کوشش کی اور مزید تلبیس سے کام لینا شروع کردیا۔ جس پر ہم مبلغین نے مشورہ کر کے دوبارہ کاشف صاحب کو اسٹیج پر بھجوایا اور اسے چیلنج کیا کہ کوئی حدیث پیش کروجس میں آنحضور ﷺ نے خود مرتدین کو قتل کرنے کا حکم دیا ہو۔ جس پر اس نے کوئی بھی حدیث اس حوالے سے پیش کرنے سے معذرت کی اور بعض دوسری احادیث پیش کرتا رہا۔ اس دوران اس نے لوگوں کو جماعت کا بھی تفصیلی تعارف کروایا کہ انہیں تو دوسرے مسلمان کافر سمجھتے ہیں اور ساتھ ہی جماعت پر مسلمانوں کی طرف سےہونے والے مظالم کا بھی ذکر کیا۔ اس طرح وہ ہماری بات کی وقعت کم کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ جس پر اس بات کا بھی اسے بھرپورجواب دیا گیا۔ اس طرح سننے والوں پر جو اس نے یکطرفہ اثر ڈالنا تھا وہ زائل ہو گیا اور ہمارے جوابات سے اسلام اور حضرت محمدﷺ کی شان ان پر ظاہر ہوگئی۔ یہ واقعہ بھی ہمارے ایمانوں میں اضافے کا باعث بنا کہ کیسے تقدیر الٰہی ہمیں کھینچ کر وہاں لے گئی اس کی آواز کا پہچانا جانا اور پھر ان کا ہمیں دفاع کا موقع دینا۔ سب باتیں ایک ہی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین اور اپنے پیارے رسولﷺ کی سیرت کا دفاع کرنے کے لیے حضرت محمدﷺ کے غلام صادق حضرت مسیح موعودؑ کے غلاموں کو وہاں بھیجا اورہمیں کامیاب دفاع کی طاقت عطا فرمائی۔ الحمد للہ ۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ کی طرح حضرت مسیح موعودؑ کے غلاموں کو خلافت احمدیہ کی راہنمائی کی روشنی میں اسلام کے دفاع کے لیے بہت منظم اور مؤثر اقدامات کی توفیق ملی۔

قارئین الفضل کی خدمت میں دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ اس تبلیغی وزٹ کے مثبت نتائج پیدا کرے اور ہمیں اسلام کی صحیح تعلیمات کو احسن رنگ میں پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور آئندہ بھی ہمیں اس قسم کے پروگرام ترتیب دینے کی توفیق ملتی رہی۔ اور اللہ تعالیٰ ہر دورے کو اپنے فضل سے بہت کامیاب فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button