آسٹریلیا (رپورٹس)حضور انور کے ساتھ ملاقات

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خدام الاحمدیہ ساؤتھ آسٹریلیا کی (آن لائن) ملاقات

جب بچے دیکھیں گے کہ میرے والدین نماز ادا کر رہے ہیں، روزانہ قرآن کریم پڑھ رہے ہیں، آپس میں اچھے تعلقات ہیں، ایک دوسرے سے عزت سے پیش آتے ہیں۔ نیک اور بااخلاق انداز میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔… وہ جو کچھ دیکھتے ہیں وہ اس کے مطابق ہی عمل کرتے ہیں

امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 05؍جون 2022ء کو خدام الاحمدیہ ساؤتھ آسٹریلیا سے آن لائن ملاقات فرمائی۔

حضورِ انور نے اس ملاقات کو اسلام آباد (ٹلفورڈ) ميں قائم ايم ٹي اے سٹوڈيوز سے رونق بخشي جبکہ خدام الاحمدیہ نے مسجد محمود ایڈیلیڈ، آسٹریلیا سے آن لائن شرکت کی۔

اس ملاقات کا آغاز حسب روایت تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ بعدازاں خدام کو اپنے عقائد اور عصر حاضر کے مسائل کی بابت حضور انور سے سوالات پوچھنے کا موقع ملا۔

ایک خادم نے عرض کیا کہ خدام کا رجحان ورزشی اور دیگر تفریحی سرگرمیوں کی نسبت تربیتی اور علمی سرگرمیوں کی طرف بہت کم ہے۔ حضور انور سے راہنمائی کی درخواست ہے کہ اس رجحان کو کیسے بدلا جائے؟

اس پر حضور انورنے فرمایا کہ آجکل دنیاوی چیزوں میں پڑ جانے کے باعث آپ مذہب سے دور جا رہے ہیں۔ آپ اپنے دینی فرائض بھول رہے ہیں۔ آپ اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کو بھول رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ رجحانات کا رخ اور ان کی ترجیح بدل گئی ہے۔ خدام کو ان کی زندگی کے مقصد کا احساس دلائیں۔ یہی وہ بات ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے۔ اگر ہمیں اپنی زندگی کے مقصد کا احساس ہوجائے تو ہماری توجہ دینی فرائض کی طرف زیادہ ہوگی۔ ہمیں بچپن سے ہی صحیح تربیت کا آغاز کرنا ہوگا۔ اطفال الاحمدیہ کی تنظیم میں داخل ہونے سے پہلے ہی والدین کو چاہیے کہ ان کی تربیت کریں اور ان کو سکھائیں اور جب وہ سات سال کی عمر کو پہنچیں تو اطفال الاحمدیہ کی تنظیم کو ان کا خیال رکھنا چاہیے۔ وہ ان کو بتائیں کہ ان کے فرائض اور ذمہ داریاں کیا ہیں۔ وہ پنجوقتہ نمازیں ادا کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے والے ہوں اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوں کہ اس نے ہمیں اتنے فضلوں سے نوازا ہے۔ جب وہ بڑے ہوں اور خدام الاحمدیہ کی عمر میں داخل ہوں تو ان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہوگا۔ تو بنیادی بات یہ ہے کہ ان کو یہ احساس دلائیں کہ ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور ان کی زندگی کا مقصد کیا ہے نہ کہ بس دنیاوی چیزوں کا حصول۔ تو یہ ایک مسلسل کوشش ہے۔ تربیت کرتے چلے جاؤ۔ تربیت ایک مسلسل کوشش اور عمل ہے۔ کوئی زبردستی نہیں کی جاسکتی۔ ویسے بھی مذہب کے معاملے میں کوئی جبر نہیں۔ انہیں خود اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ ان کی کیا ذمہ داریاں ہیں۔ ہم نے نوجوان اطفال اور خدام کا بچپن سے لے کر زندگی کے ہر مرحلے میں جن سے وہ گزرتے ہیں خیال رکھنا ہے۔ اور یہ کام کرتے چلے جانا ہے۔ کبھی بھی یہ نہ سوچنا کہ آپ اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھائیں گے۔ یہ تمام عہدیداران کی ذمہ داری بھی ہے۔ کبھی بھی ہار نہ ماننا۔

ایک خادم نے حضور انور کی خدمت میں سوال پوچھا کہ ایک والد کو اپنی بیٹیوں کی تربیت کے حوالے سے کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟

حضور انور نے فرمایا کہ ایک والد کو اپنی بیٹیوں کی تربیت کے حوالے سے وہی کردار ادا کرنا چاہیے جو وہ اپنے بیٹوں کی تربیت کے حوالے سے کرتا ہے۔ آپ کو یہ سوال کرنا چاہیے کہ ایک والد کو اپنے بچوں کی تربیت میں کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟ تو جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں اگر والدین اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور اپنے بچوں کی تربیت ان کے بچپن سے ہی شروع کردیں اور انہیں سمجھائیں کہ وہ کون ہیں، مسلمان کون ہیں، کلمہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ کے ہم پر کیا افضال ہیں، کس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار چیزوں سے نوازا ہے جس کی وجہ سے ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بننا چاہیے، پھر اپنا نمونہ بھی قائم کریں۔ اگر آپ پنجوقتہ نمازیں ادا کر رہے ہیں تو بچے دیکھیں گے کہ ہمارے والدین اپنی پنج وقتہ نمازیں اد اکر رہے ہیں اور وہ دیکھیں گے کہ والدین اپنی مذہبی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کر رہے ہیں۔ اگر آپ قرآن کریم پڑھ رہے ہوں گے تو انہیں معلوم ہوگا کہ آپ قرآن کریم پڑھ رہے ہیں پھر جب وہ مختلف باتیں سیکھنی شروع کریں تو انہیں آسان دعائیں سکھائیں۔ آسان سورتیں یاد کروائیں اور انہیں سمجھائیں کہ اللہ تعالیٰ کیا ہے۔ اس طرح آپ ان کے دل و دماغ میں مذہبی رجحان پیدا کرسکتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ اپنا نمونہ بھی قائم کریں۔ جب بچے دیکھیں گے کہ میرے والدین نماز ادا کر رہے ہیں، روزانہ قرآن کریم پڑھ رہے ہیں، آپس میں اچھے تعلقات ہیں، ایک دوسرے سے عزت سے پیش آتے ہیں۔ نیک اور بااخلاق انداز میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔ والد کو کبھی والدہ کے ساتھ اونچی آواز میں بات کرتے نہیں دیکھا یا مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھایا تو یہ باتیں ہیں جو بچے دیکھتے ہیں اور وہ جو کچھ دیکھتے ہیں وہ اس کے مطابق ہی عمل کرتے ہیں۔ بچے بڑے تیز ہوتے ہیں وہ آپ کے ہر عمل کو دیکھ رہے ہوتے ہیں تو اصل تربیت آپ کے اپنے اعمال و افعال ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ ان کو کہو تم یہ یہ کرو جبکہ تم خود وہ کام نہ کرتے ہو۔

ایک اَور خادم نے عرض کیا کہ وقف نو بچوں کا جامعہ جانے کا تناسب وقف کی تعداد کے مقابلے میں اب بھی بہت کم ہے۔ ہم انہیں وقف کا مقصد پورا کرنے کے لیے کیسے تیار کریں؟

حضور انور نے فرمایا کہ ہر چیز کی ابتدا بچپن سے ہوتی ہے۔ اسی لیے فرمایا ہے کہ بچہ جب پیدا ہوتا ہے اس کے دائیں کان میں اذان دواور بائیں کان میں تکبیر کہو۔ تو اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے کہ بچے کے پیدا ہوتے ہی اس کی تربیت شروع کر دو۔ اذان دے کے اس کے بعد اس کے سامنے بت رکھ دینا یہ تربیت تو نہیں ناں۔ اس کے بعد بچے کا ہر جو دن بڑھتا ہے اس کے لیے دعا کرنا ماں باپ کا کام ہے۔ اگر وقف نو بچہ ہے تو ماں باپ کا کام بھی ہے کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کی تربیت صحیح کرے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کی تربیت صحیح کر سکیں اور اس کے لیے جب دعا کریں گے تو پھر جس طرح پہلے میں کہہ چکا ہوں بچے کی تربیت کے بارے میں کہ اپنا نمونہ دکھائیں۔ ماں باپ خود بھی نمازیں پڑھنے والے ہوں قرآن پڑھنے والے ہوں دعائیں کرنے والے ہوں تو بچے نمونہ دیکھیں گے۔ بچپن میں اس کو یہ بتائیں کہ تمہاری زندگی کا مقصد کیا ہے تو اس کو سمجھ آئے گی کہ کیا مقصد ہے۔ وہی جو ہر بچے کی تربیت کے لیے ضروری ہے وہ وقف نو کی تربیت کے لیے بھی ضروری ہے۔ پھر اس کو بتائیں کہ ہماری یہ خواہش تھی کہ ہم تمہیں اس سکیم میں وقف کریں اور ہم نے تمہیں کر دیا اور یہ یہ اسلام کی تعلیم ہے ۔ یہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنو گے بچپن میں اس کے کان میں ڈالتے رہیں۔ بیشک سکول میں ٹریننگ دیتے رہیں سکول میں جو پڑھاتے ہیں کہ تم آزاد ہو یہ کرو وہ کرو وہ سکول والوں کا کام ہے وہ کر رہے ہیں، آپ نے اپنا کام کرتے رہنا ہے اس لیے میں نے یہ کہا تھا کہ جب بچہ پندرہ سال کا ہوجائے تو وہ خود لکھ کے دے کہ اب میں ہوش و حواس میں ہوں میرے ماں باپ نے مجھے وقف کیا تھا میں اس وقف کو جاری رکھنا چاہتا ہوں کہ نہیں رکھنا چاہتا۔ پھر جب وہ یونیورسٹی پاس کر لے اکیس سال کا ہو جائے بائیس سال کا ہو جائے تھوڑاسا اور بڑا ہو جائے پھر دوبارہ اپنے وقف زندگی کےbondکو renewکرے ۔ تو کمپلسری تو نہیں ہے یہ پہلے ہی کہا ہوا ہے bond fill کرنے کا۔ پہلے پندرہ سال کی عمر میں اپنی consent دے پھر بڑا ہوجائے اکیس بائیس سال کا تب دے۔ پھر جب اپنی ایجوکیشن ختم کر لے تو تب بتائے کہ میں نے وقف جاری رکھنا ہے کہ نہیں رکھنا۔ تو یہاں تو آزادی ہے یہ ایک خواہش تھی ماں باپ کی اب ماں باپ کی اگر خواہش تھی تو ماں باپ کو اس کے لیے بچپن سےکوشش بھی کرنی چاہیے ۔ دعا سے اور اپنے عملی نمونے سے۔ جب نمونہ دکھائیں گے اور دعا کر رہے ہوں گے تو بچہ خود دیکھ لے گا گھر کا ماحول ایسا ہے تو اس کو خود ہی دین کی طرف رغبت پیدا ہو گی۔ وہ جو سکول کی ٹریننگ ہے اس کی طرف نہیں جائے گا یہ ماں باپ کا بھی فرض ہے یہ نہیں کہ ماں باپ نے بچہ پیدا کیا اور کہہ دیا کہ جی ہم نے وقف کر دیا ہے اب جماعت آپ ہی اس کو سنبھالے۔جماعت تونہیں سنبھالے گی جب تک بچہ ماں باپ کے گھر میں ہے، وہ ماں باپ نے سنبھالنا ہے۔ اگر آپ کو کوئی بہت پیارا ہو اس کو آپ نے تحفہ دینا ہو آپ تحفے کو لیتے ہیں اس کو بڑے خوبصورت طریقے سے wrapکرتے ہیں presentable بناتے ہیں کسی بندے کے لیےپھر تحفہ پیش کرتے ہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ تو ایک دیندار آدمی کوسب سے پیارا ہونا چاہیے ۔ اس کے حضور آپ نے وقف نو کا تحفہ پیش کرنا ہے اس کو آپ کہتے ہیں کہ اس طرح میں نے اللہ میاں کوپھٹے ہوئے کپڑوں میں لپیٹ کے دے دینا ہے ۔ یہ تو چیز نہیں ہے۔ اس کو بھی خوبصورت بنائیں اور پھر اس کو اچھا خوبصورت طرح سے wrapکریں اور پھر اللہ تعالیٰ کو دیں اللہ تعالیٰ کے حضور بھی presentable تحفہ ہونا چاہیے ۔ یہ سوچ اگر ماں باپ کی ہو جائے تو بچوں کے خیالات بھی ٹھیک ہوجائیں گے۔ یہ کہہ دینا کہ جی جماعت آپ ہی سنبھال لے جماعت کے پاس تو بچےہفتہ میں ایک دن ایک گھنٹے کے لیے جاتے ہیں ۔ ہفتے کے سات دن چوبیس گھنٹے تو آپ کے پاس رہتے ہیں۔ تو اس لیے ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ اگر وقف کیا ہے تو پھر وقف کی جو باقی باتیں ہیں ان کو بھی پورا کریں۔ اس کے لیے میں نے ایک تفصیلی خطبہ دیا تھا کینیڈا میں 2016ء کا ہے۔ اس میں مَیں نے سارے پوائنٹس بتائے تھے کہ یہ یہ یہ یہ باتیں ہیں وقف نو کو کہیں اگر تمہارے اندر یہ ہے توتم صحیح وقف نو ہو۔ اس کا کیا مطلب ہے صرف وقف نو کو نہیں کہنا بلکہ ماں باپ نے خود بھی ان پہ عمل کروانا ہے۔ جب ماں باپ خود ان باتوں پہ عمل کروائیں گے تو بچہ ایسا تیار ہوجائے گا۔ بہت سارے ماں باپ ہیں جن کے ایسے بچے ہیں اور وہ بڑے اچھے طریقے سے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہونا ہوتا ہے۔ بلکہ ماں باپ بعض دفعہ اتنی ٹریننگ نہیں کر رہے ہوتے بچے میںخود ہی جوش پیدا ہوتا ہے ،وہ بھی اسی ماحول میں پڑھ رہے ہیں۔ بچے سکولوں میں بھی جاتے ہیں، باتیں بھی سنتے ہیں، آزادانہ ماحول بھی ہے لیکن پھر بھی کہتے ہیں ہم نے دین کے لیے وقف کرنا ہے۔ تو یہ تو آپ کے گھر کے ماحول کے اوپر آپ کی دعاؤں کے اوپر آپ کے اپنے عمل کے اوپر depend کرتا ہے۔

ایک اور خادم نے عرض کیا کہ جب خدا اپنے بندے سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے تو پھر دوزخ اور اتنی سخت سزا کا تصور کیوں ہے جبکہ بچہ جتنے بھی برے کام کر لے اس کے باوجود ماں اپنے بچے کو اتنی سخت تکلیف یا عذاب میں کبھی نہیں دیکھ سکتی۔

اس پر حضور انور نے فرمایا کہ ماں باپ بچے کو اصلاح کے لیےسزا دیتے ہیں ناں؟ تو بات یہ ہے کہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ اتنا رحم دل ہے رحیم و کریم ہے کہ وہ ماؤں سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جتنا ماں بچے پہ رحم کرتی ہے اس کے باوجود تم لوگ اتنے بگڑے ہوئے لوگ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے اتنے رحیم ہونے کے باوجود وہ سزا حاصل کر لیتے ہو۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کا قصور تو نہیںتمہارا قصور ہے۔ جو بچہ ہے کتنی حرکتیں کرتا ہے۔ ایک چھوٹے بھائی کو چپیڑ مار دے گا یا کسی کو دھکا دے دے گا یا ماں کے سامنے اوں اوں کر کے رونا شروع کر دے گا یا ضد کرے گا تھوڑا ہلکا سا چپیڑ مارے گی تو پھر پیار بھی کر لے گی۔ تو اللہ تعالیٰ بھی بندوں کو پیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ کہتا ہے اگر تم لوگوں کے عمل دیکھ کے میں تمہیں سزائیں دینے لگوں تو میں سارے بندے ہی مار کے رکھ دوں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا رحم ہے جو ہمیں اس دنیا میں باوجود ہماری بیہودہ حرکتوں کے اتنی سزائیں نہیں دیتا۔ ہاں اس نے ایک قانون بنایا ہوا ہے اس نے کہاہے یہ اچھائیاں ہیں یہ برائیاں ہیں۔ تم اچھے کام کرو گے تو تمہیں میں reward دوں گا۔ برے کام کرو گے تو تمہیں سزا دوں گا۔ اللہ تعالیٰ اگر رحیم ہے اور اس کی رحمانیت ہر چیز پہ حاوی ہے تو وہ سزا دینے والا بھی تو ہے۔ منتقم بھی ہے اور مالک بھی ہے تو اگر ہر ایک کو یہ پتا لگ جائے کہ اللہ تعالیٰ نے تو کچھ کہنا نہیں جو مرضی کرتے رہو تو تم لوگ تو سارے ہی بگڑ جاؤ نمازیں نہ پڑھو۔ سارے پھر ایک ہو جاؤ گے برے اور اچھے میںتمیز کیا رہ جائے گی؟ یہ سزا جو ہے وہ اس لیے ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ باوجود یہ کہنے کے کہ جنت کا دوزخ کا concept ہے پھر بھی اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بندے کو بھی معاف کر دیا جس نے سو قتل کیے تھے۔ صرف اس لیے کہ اس کو اللہ تعالیٰ سے اچھی امید تھی کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے گا اور وہ چاہتا تھا کہ میری اصلاح ہوجائے، اپنی اصلاح چاہتا تھا۔ اور جب وہ جار ہا تھا اصلاح کی طرف تو رستے میں فوت ہو گیا۔ وہاں فرشتے آ گئے۔ دوزخ کا فرشتہ کہتا ہے میں دوزخ میں لے کے جاؤں گا جنت والا کہتا ہے میں جنت میں لے کے جاؤں گا کیونکہ یہ نیکی کی طرف جا رہا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا کہ انہوں نے کہا اچھا چلو فاصلہ ناپتے ہیں اگر تو یہ اس طرف زیادہ چلا گیا جدھر نیکی کو وہ حاصل کرنا چاہتا تھا تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا۔ اگر اس کا فاصلہ اس کے زیادہ قریب ہوا جہاں سے یہ برائیاں کر کے نکلا تھا تو پھر دوزخ میں جائے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا کہ اس کے لیے فاصلہ کم کر دیا جو جنت والا تھا اور وہ جنت میں چلا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ تو اتنا رحمان اور رحیم ہے کہ اتنے گناہوں کے باوجود بخش دیتا ہے۔ باقی جہاں تک ماؤں کا سوال ہے، مائیں اگر زیادہ لاڈ کرتی ہیں اپنے بچوں کو تو ان کا نتیجہ پھر وہ نکلتا ہے جو ایک حکایت ہے کہ ایک شخص تھا بچپن سے اس کو مار دھاڑ کی اور چھوٹی چھوٹی چوریوں کی عادت تھی، بڑا ہوا اور ڈاکو بن گیا پھر قاتل بن گیا۔ آخر ایک وقت میں پکڑا گیا اور جب پکڑا گیا تو وہ قاتل تھا کئی قتل کیے ہوئے تھے ڈاکے ڈالے ہوئے تھے۔ اس کو پھانسی دینے لگے۔ جب پھانسی دینے لگے تو اس سے کہا کہ تمہاری کوئی خواہش ہے تو اس نے کہا کہ ہاں میری ایک خواہش ہے کہ میں مرنے سے پہلے اپنی ماں کو قریب سے دیکھنا چاہتا ہوں اور اس کوپیار کرنا چاہتا ہوں۔ جیلر نے کہا ٹھیک ہے خواہش پوری ہو جاتی ہے۔ ماںآئی تو اس نے اپنی ماں کو کہا اپنا منہ قریب کرو میں تومرنے لگا ہوں میں تمہاری زبان کو چوسنا چاہتا ہوں۔ اپنی ماں کی زبان۔ جب ماں نے زبان باہر نکالی تو اس نے اتنا زور سے اس کو کاٹا کہ آدھی زبان کٹ گئی اور ماں چیخنے لگی۔ لوگوں نے اس کو بڑا برا بھلا کہا کہ تمہیں شرم نہیں آتی کہ آخری وقت مرنے لگے ہو تب بھی تم اپنی ماں کو دکھ دے کے جا رہے ہو اور زبان کاٹ دی تا کہ اب کبھی بول ہی نہ سکے ۔ وہ کہتا ہے جب میں بچہ تھا تو برائیاں کرتا تھا تو مجھے پیار کرتی تھی کہتی تھی کوئی نہیں بچے ،کچھ نہیں ہوتا۔ پھرمیں ذرا بڑا ہوا باہر جب میں نے یہ حرکتیں کرنی شروع کیں برائیوں کی تو لوگ میری شکایت کرتے تھے پھربھی میرے پہ ہاتھ رکھتی تھی لوگوں سے لڑتی تھی، نہیں نہیں کوئی نہیں میرا بچہ بالکل ٹھیک ہے اور مجھے کچھ نہیں کہا کرتی تھی کہتی تھی بچہ بس ٹھیک ہے کرتے جاؤ جو کچھ کر رہے ہو۔ وہ ماںاس کو بخشی جارہی تھی ۔ اس سے مجھے اور encouragementپیدا ہوئی۔ بڑا ہو گیا، میں نے چوری چکاری شروع کی، ڈاکے ڈالنے شروع کیے پھر قتل کرنے شروع کر دیے اور میری ماں ہر دفعہ مجھے پروٹیکٹ کرتی تھی۔ کچھ نہیں کچھ نہیں بچے۔ بخشش کا یہ نتیجہ نکل رہا ہے ناں اور اب اتنا جرم ہو گیا کہ میں اب پھانسی چڑھنے لگا ہوں۔ جو میری ماں ہے جس کی زبان میں نے کاٹی ہے اگر یہی زبان مجھے بچپن میں نصیحت کرتی اچھی باتیں بتاتی اور میری بری باتوں سے مجھے روکتی اور بلا وجہ کا رحم مجھ پہ نہ کرتی تو آج میری یہ حالت نہ ہوتی۔ تو اللہ تعالیٰ اس قسم کے رحم نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک قانون رکھا ہوا ہے۔ جو جرم کرے گا اس کو سزا دے گا۔ لیکن اس کے باوجود وہ رحمان ہے وہ جس کو چاہے بخش بھی دیتا ہے بہت بڑے بڑے جرم کرنے والے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بخش دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمانیت ہی ہے کہ سزا کا وقت گزارنے کے بعد ایک وقت ایسا آئے گا جب کہتا ہے میں دوزخ خالی کر دوں گا سب جنت میں چلے جائیں گے۔ یہ بھی تو اس کی رحمانیت ہی ہے ناں۔ لیکن سب سے بڑی بات ہمارے سوچنے والی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اتنا رحم کرنے والا ہے اس کے باوجود ہم اتنے گنہگار ہیںکہ گناہ کر کےپھر بھی دوزخ میں چلے جاتے ہیں۔ کیوں نہیں اللہ تعالیٰ کا رحم حاصل کر سکتے۔ تو یہ تو اپنے اوپر سوچنے والی بات ہے بجائے اللہ تعالیٰ کو الزام دینے کے کہ وہ ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ سوچو جا کے کہ ہم نے نیکیاں کرنی ہیں۔ اللہ پہ الزام نہ دو اپنے اوپر الزام دو۔

ایک خادم نے عرض کیا کہ ہمیں حضور انور میں سادگی سے زندگی بسر کرنے کی ایک اعلیٰ مثال نظر آتی ہے لیکن آج کل خدام اور اطفال کا رجحان اس کے برعکس مہنگی مہنگی چیزیں خریدنے کی طرف ہے مثلاً برینڈڈ کپڑے گھڑیاں جوتے۔ میرا سوال یہ ہے کہ ہم انہیں حضور انور کی طرح سادہ زندگی گزارنے کی طرف کس طرح مائل کر سکتے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں حضور انور نے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ جو لوگ برینڈڈ کپڑے خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں وہ لے سکتے ہیں اس میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن ساتھ ہی انہیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ دوسرے لوگوں کے بھی ان پر کچھ حقوق ہیں جن کو انہیں پورا کرنا چاہیے اور انہیں انسانیت کی مدد کرنی چاہیے۔ برینڈڈ کپڑوں وغیرہ پر بہت زیادہ پیسے خرچ کرنے کی بجائے وہ کچھ بچت کر کے صدقہ خیرات دے سکتے ہیں تاکہ غریبوں کی بھی مدد ہو جائے۔ پس انہیں یہ احساس دلائیں کہ ان کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کا اور غریب ممالک کے رہنے والوں کا خیال رکھیں۔ پس اگر انہیں سمجھ آجائے تو بہت اچھی بات ہے لیکن جو لوگ امیر نہیں ہیں یا جن کی آمدنی کم ہے انہیں دوسروں کی نقل کرنے کی بجائے یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر ان کے پاس برینڈڈ کپڑے نہیں ہیں تو کوئی بات نہیں۔ برینڈڈ چیزوں کے علاوہ ان سے ملتی جلتی چیزیں بھی ہوتی ہیں جو کم قیمت میں مل جاتی ہیں صرف ان پر کوئی برینڈ نہیں ہوتا۔ پس انہیں احساس دلائیں کہ ان کی کیا ذمہ داریاں ہیں ۔ پہلی بات یہ ہے کہ ان میں یہ احساس ہونا چاہیے کہ ارد گرد رہنے والوں کے کیا حقوق ہیں۔ صرف اپنی ذات پر ہی نہ خرچیں بلکہ اس طرف بھی توجہ دینے کی کوشش کریں کہ اور لوگ کن حالات میں رہ رہے ہیں اور ہم ان کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں۔ جب انہیں اس کا احساس ہوجائے گا تو وہ دوسروں کی مدد کے لیے زیادہ صدقہ خیرات کریں گے۔ ہم انہیں صرف یہ احساس ہی دلا سکتے ہیں ہم انہیں مجبور نہیں کر سکتے۔ بہرحال آپ سب نے تو سادہ کپڑے ہی پہنے ہوئے ہیں مجھے کوئی ایسا خادم نہیں نظر آ رہا جو غیر معمولی قسم کے کپڑے پہن کر آیا ہو۔ اگر ایک دو ایسے ہوں جو اپنے کپڑوں پر زیادہ پیسے خرچ کرنا چاہتے ہوں اور وہ استطاعت رکھتے ہوں تو انہیں کرنے دیں لیکن ساتھ ہی انہیں یہ احساس دلائیں کہ انہیں غرباء کے لیے بھی کچھ رقم دینی چاہیے۔

ملاقات کے آخر میں حضور انور نے صدر صاحب کو فرمایا کہ چلو گھنٹہ ہو گیا ہے… السلام علیکم… اللہ حافظ۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button