متفرق مضامین

شادی کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر پر اعتراض کا جواب

(نصیر احمد حبیب۔ لندن)

خلا نہ مادی دنیا میں قائم رہتا ہے نہ ہی نظریاتی دنیا میں، کوئی نہ کوئی چیز اسے پُر کرنے کے لیے آتی ہے

گذشتہ دنوں ہندوستان کی حکمران جماعت کی ایک ترجمان نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس پر بےجا اور بے سروپا اعتراضات اٹھا کر دراصل اپنی دماغی مفلسی کی نوحہ خوانی کی ہے۔ یہ اعتراضات کسی تحقیق یا مطالعہ کا نتیجہ نہیں بلکہ طے شدہ ایجنڈا کے تحت لگائے گئے ہیں تا کہ غریب عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹ کر کسی اَور طرف منتقل ہو جائے۔ غریب عوام آپس میں دست و گریباں رہیں اور برسراقتدار طبقے بڑے سکون سے عوام کا استحصال کرتے رہیں اور بعض طبقے اپنی لوٹ کھسوٹ جاری رکھیں۔ پچھلے دنوں ہندوستان میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں بوڑھے والدین کو بھیک مانگتے دکھایا گیا۔ دراصل انہیں ہسپتال سے اپنے جوان بیٹے کی نعش لینی تھی لیکن ان سے پچاس ہزار روپیہ رشوت کا مطالبہ کیا گیا۔ اب بوڑھے والدین کے پاس بھیک مانگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اسے دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا تھالیکن تعجب ان سیاست دانوں کی سنگ دلی پر کہ عوام کے مسائل کی طرف توجہ دینے کی بجائے وہ بے سروپا اعتراضات اٹھا کر مذہبی اشتعال پھیلا رہے ہیں۔ لیکن اس کے پیچھے باقاعدہ ایک ایجنڈا ہے۔ جس کا ہم جائزہ لیں گے۔

بی جے پی کی ترجمان نے یہ اعتراض کیا کہ

بچی کے ساتھ نکاح کر کے جسمانی تعلق قائم کیا۔

سب سے پہلے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی تاریخ پیدائش کا تعین ضروری ہے جس کے بارے میں مختلف روایات پائی جاتی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا 4 نبوی میں پیدا ہوئیں(ابن سعد)

اور آپؓ کی رخصتی 2 ہجری میں ہوئی اس وقت آپؓ کی عمر12؍سال تھی۔

جبکہ بخاری میں باب قولِہِ (بَلِ السَّاعَۃُ مَوۡعِدُہُمۡ وَالسَّاعَۃُ اَدۡہٰی وَاَمَرُّ) میںایک حدیث بیان کی گئی ہے۔

آپؓ نے فرمایا کہ جس وقت آیت بَلِ السَّاعَۃُ مَوۡعِدُہُمۡ وَالسَّاعَۃُ اَدۡہٰی وَاَمَرُّ(القمر:47)حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تو مَیںبچی تھی اور کھیلا کرتی تھی۔

(صحیح بخاری : جلد ششم : ترجمہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند صفحہ 416)

سورۃ القمر کی یہ آیت 5نبوی میں نازل ہوئی اور اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں۔

’’میں بچی تھی اور کھیلا کرتی تھی‘‘ بعض روایات کے مطابق آپؓ کو یہ آیات زبانی یاد تھیںاور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ 5نبوی میں آپؓ کی عمر چھ سال کے قریب ہو گی اور جب سن دوہجری میں آپ کی رخصتی ہوئی تو آپ ؓ کی عمر 15سال سے کم نہیں ہو گی۔

گویا ایک روایت کے مطابق آپ ؓ کی عمر رخصتی کے وقت 12 سال اور ایک روایت کے مطابق 15 سال تھی۔ آئیے اب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تا کہ دیکھا جائے کہ عمومی طور پر شادی کی عمر مختلف قوانین اور مذاہب میں کیا تھی۔ چنانچہ Jonathan A. C. Brownکی ایک کتاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے تعارف کے طور پر لکھی گئی ہے اور جسے آکسفورڈ یونیورسٹی نے شائع کیا ہے اس میں لکھا ہے

In many pre-modern law, marriage was not a question at all. In many pre-modern law Codes, Such as Hebrew biblical law and Salic Frankish law, marriage age was not a question at all. It was assumed that when a girl reached puberty and was able to bear children, she was ready for marriage. As a result, we find that average marriage ages in the pre-modern world were remarkably young. Surviving evidence from several centuries of imperial Roman history suggests that as many as 8% of woman married at ten or eleven…. Even in an 1861 Census in England over 350 woman married under the age of fifteen in just two counties that year.

(Jonathan A. C. Brown: Muhammad A very short introduction. Oxford university press. Page 77-78)

یعنی شریعت موسوی میں اور Salic law جو کہ 500عیسوی میں بادشاہ Clovisنے ترتیب دیے) کے مطابق شادی کی عمر کے تعین کا کوئی سوال نہیں تھا۔ جب کوئی لڑکی بالغ ہو جاتی وہ شادی کے قابل سمجھی جاتی اور تاریخ روم کے مطابق 8 فیصد لڑکیوں کی شادی دس یا گیارہ سال کی عمر میں ہو جاتی تھی۔ اور 1861ء میں انگلستان میں مردم شماری کے اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ 350 سے زیادہ لڑکیوں کی شادی پندرہ سال سے کم عمر میں کر دی گئی اور یہ اعداد و شمار انگلستان کی صرف دو کاؤنٹیز (counties)کے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو مسئلہ ہے ہی نہیں اسے مسئلہ کیوں بنایا جاتا ہے۔ دراصل 1990ء کی دہائی میں کمیونزم کے زوال کے بعد عالمی سیاست میں ایک نظریاتی خلا پیدا ہو گیاا ور خلا نہ مادی دنیا میں قائم رہتا ہے نہ ہی نظریاتی دنیا میں۔ کوئی نہ کوئی چیز اسے پُر کرنے کے لیے آتی ہے۔ چنانچہ کمیونزم کے زوال کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے خلاکو تہذیبی اور ثقافتی وابستگیوں کے تصور ات سے پُر کیا گیا جیسا کہ Samuel Huntington لکھتا ہے

It is my hypothesis that the fundamental source of conflict in this new world will not be primarily ideological or primarily economic. The great division among humankind and the dominating source of conflict will be cultural.

(Samuel P. Huntington: The Clash of civilization: Foreign Affairs, Summer 1993, Vol 72, No 3 page 22:49)

چنانچہ جونہی نظریاتی افق سے کمیونزم کی بالادستی کا سورج غروب ہوا سرمایہ داری نظام اپنے ارمان نکالنے کے لیے پوری آب و تاب سے جلوہ گر ہوا کیونکہ غریب شہر کے تن پر ابھی لباس باقی تھا۔ دنیا بھر میں اس وقت 26 فیصد بچے خوراک کی کمی کی وجہ سے مکمل نشوونما حاصل نہیں کر سکتےدوسری طرف یہ عالم ہے کہ امریکہ کے پچاس بینک پوری دنیا کے سرمائے کا دو تہائی رکھتے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی ملٹی نیشنل کمپنی وال مارٹ دنیا کے 161؍ممالک سے زیادہ رقم رکھتی ہے۔ امریکہ کے تین امیر ترین ارب پتیوں کے پاس 60 کروڑ عوام سے زیادہ دولت ہے۔

(داس کیپیٹل : جلد اول دوم: کارل مارکس : مترجم سید محمد تقی)

دراصل کمیونزم اور سرمایہ داری نظام دونوں افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ لہٰذابعض سرمایہ دار اپنے لالچ اور ہوس زر کے لیے بعض ایسے سیاستدانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جو کہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا کر کسی اَور طرف منتقل کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔

چنانچہ ہندوستان کی گذشتہ دو دہائیوں کی تاریخ کا جائزہ لیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعض سیاست دانوں کو مذہبی منافرت پھیلانے کے علاوہ کوئی کام نہیں۔ بھوک ، افلاس اور بیماریوں سے مرتے عوام کی کوئی فکر نہیں سوائے اس کے کہ کسی مخالف فریق کو پکڑ کر اس سے زبردستی نعرے لگوائے جاتے ہیں اور اس کی مارپیٹ کی جاتی ہے۔ اس کے ذریعے عوا م کو خوش رکھا جاتا ہے۔ یقیناً ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے۔ اس سے پہلے کہ اس ظلم و بے انصافی کا رد عمل کسی اَور شکل میں ظاہر ہو،اللہ کرے کہ دنیا جلد اسلام کی توسط اور اعتدال پر مبنی تعلیمات کے ذریعے اس زہر کا تریاق حاصل کرلے۔

لو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

ایک تبصرہ

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button