متفرق مضامین

عہدیداران کے لیے عظیم بشارت

(’در مکنون‘)

اگر انتظامیہ کا ایک عہدیدار پورے خلوص اور جدو جہد سے اپنی ذمہ داری ادا کرر ہا ہے تو یقیناً وہ اللہ تعالیٰ کی رضااور خلیفہ وقت کی خوشنودی حاصل کر رہا ہے۔ اس پر اللہ کے فضل نازل ہو رہے ہیں۔ اس سے بڑی دنیا میں کوئی نعمت نہیں جس پر وہ جس قدر بھی شکر ادا کرے کم ہے

حضرت اقدس محمد مصطفیٰﷺ نے آخری زمانے میں اپنی امت کے فرقہ در فرقہ تقسیم ہونے کی دردناک خبر جب صحابہ کرامؓ کو سنائی تو وہ بے چین ہو گئے۔ جب آپﷺ نے یہ فرمایا کہ بنی اسرائیل کے 72 فرقے ہو گئے تھے میری امت کے 73 ہو جائیں گے۔ كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً (ترمذی ابواب الایمان مَا جَاءَ فِي افْتِرَاقِ هَذِهِ الأُمَّةِ) وہ تمام آگ میں ہوں گے سوائے ایک گروہ کے تو صحابہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ !وہ ایک کونسا خوش قسمت گروہ ہو گا؟

ایک نہایت مشکل سوال

یہاں رک کر جب ہم غور کرتے ہیں تو یہ نہایت مشکل سوال دکھائی دیتا ہے کیونکہ

٭…تمام فرقوں کا اس حدیث کے مطابق یہ دعویٰ ہو گا کہ صرف وہی سچے مسلمان اور جنتی فرقہ ہیں۔

٭…تمام فرقوں کے پاس اپنے علماء ہوں گے جو قرآن و حدیث کے ماہرین میں شمار کیے جاتے ہوں گے۔

٭…تمام فرقوں کے پاس اپنی کتب، دلائل کے انبار، مساجد اور مدارس ہوں گے۔

٭…تمام فرقے دوسروں کو کافر قرا ردے رہے ہوں گے۔

ایسی صورت حال میں ایک عام، سادہ مسلمان کیسے فرق کر سکے کہ ان میں سے کونسا فرقہ درست ہے۔ وہ جس کے پاس جائے گا ان کے دلائل سنے گا، اسے وہی سچا دکھائی دے گا۔ پس کیسے وہ پہچان سکے کہ ان 73 فرقوں میں سے وہ خوش قسمت کونسا فرقہ ہے جو حق پر ہے۔ ایک عام شخص کے لیے 73 فرقوں میں سے ایک کو تلاش کرنا یقیناً مشکل بلکہ بظاہر ناممکن نظر آتا ہے۔

نہایت آسان جواب

نبی کریمﷺ نے ایک بار فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیگر انبیاء پر بعض خاص فضیلتیں عطا کر رکھی ہیں ان میں سے ایک جَوَامِعَ الْكَلِمِ کا عطا ہونا ہے (بخاری کتاب التعبیر باب المفاتیح فی الید) یعنی بہت بڑے مضمون کو چھوٹے سے فقرے میں بیان کر دینا۔ مشکل مضامین کو نہایت آسان کر کے بیان کر دینا۔ قربان جائیں اپنے آقا و مولیٰﷺ پر کہ اس مشکل ترین سوال کا بھی بے حد آسان اور عام فہم جواب عطا فرما دیا جو ایک ان پڑھ دیہاتی بلکہ اندھے کو بھی آسانی سے معلوم ہو جائے گا کہ کونسے 72 ہیں اور کونسا ایک ناجی فرقہ ہے جو حق پر ہے۔

ما انا علیہ و اصحابی

ایک موقع پر آپﷺ نے جواب دیا کہ جس پر میں اور میرے صحابہ ہوں گے۔ یعنی میری طرح ان کا امام بھی اللہ کا بنایا ہوا ہو گا اور میرے صحابہ کی طرح ان کی جماعت ہو گی وہی حق پر ہو گا۔ آج سارے عالم اسلام میں کوئی ایسا فرقہ نہیں کوئی ایسی جماعت نہیں جس کے امام کا یہ دعویٰ ہو کہ اس کو اللہ نے کھڑا کیا ہے۔ اور جیسے صحابہؓ پر ظلم و ستم ہوا، یہاں تک کہ کلمہ پڑھنے پر بھی پابندی لگائی گئی۔ بعینہٖ اسی طرح جماعت احمدیہ سے سلوک ہو رہا ہے۔ کلمہ پر پابندی، اذان پر پابندی، مسجد پر پابندی، تبلیغ پر پابندی۔ اور جیسے صحابہ کی جماعت ان پابندیوں کے باوجود ترقی کرتی چلی گئی اسی طرح تمام تر مخالفت کے باوجود جماعت احمدیہ بھی پہلے دن سے آج تک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ الحمد للہ

ھی الجماعۃ

ایک اور موقع پر اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ وہ ’’ جماعت‘‘ہو گی۔ اس ایک لفظ میں آپﷺ نے آسان پیرائے میں سارا مضمون کھول دیا کہ ان کا ایک امام ہو گا اور ساری جماعت اس کی اطاعت کر کے ایک ہاتھ پر جمع ہو گی۔ جیسے باجماعت نماز میں ایک امام کی اطاعت کی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ کے بھیجے ہوئے امام کے بغیر یہ برکت حاصل نہیں ہو سکتی کہ عالمگیر سطح پر پھیلی ہوئی جماعت کے دل اس امام کے ساتھ جڑے ہوں۔ آج سارے فرقوں میں کوئی بھی فرقہ ایسا نہیں کہ جس کا عالمی سطح پر ایک ہی امام ہو اور ہر ملک میں بسنے والے اس کے پیروکار، اس کی اطاعت میں سرشار ایک عالمگیر جماعت بن چکے ہوں۔ کیونکہ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہر رنگ و نسل کے لوگوں کا ایک ہاتھ پر وفا کے ساتھ جمع ہو جانا اللہ کی تائید و نصرت کے بغیر ممکن نہیں۔

اللہ دلوں کو جوڑتا ہے

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بڑے واشگاف الفاظ میں یہ مضمون بیان فرمایا ہے کہ وأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيْعًا مَّآ أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ(انفال: 64) کہ اللہ ہی ہے جس نے (ان کے دلوں) کو جوڑا ہے اے محمدﷺ !اگر تو تمام زمین کے خزانے بھی خرچ کر لیتا تو ہرگز ا ن کے دل نہ جوڑ سکتا لیکن اللہ نے ہی ان کے دلوں میں باہم الفت پیدا کی ہے اور وہ ایک جماعت کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔

جماعت پر اللہ کا ہاتھ

رسول اللہﷺ نے بھی فرمایا يَد اللّٰهِ فَوْقَ الْجَمَاعَةِ (سنن الکبری للنسائی) کہ جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ ہی جماعت بناتا ہے اور وہی اس کی حفاظت فرماتا ہے۔ پس جو جماعت سے نکلتا ہے وہ دراصل اللہ کی حفاظت کے حصار سے نکلنے کی جرأت کرتا ہے۔ اور جس نے اس جماعت سے ٹکر لی خواہ وہ بادشاہ ہو یا جرنیل وہ دراصل اللہ سے ٹکر لے رہا ہوتا ہے اس لیے ایسوں کا انجام بہت دردناک ہوتا ہے۔ جماعت احمدیہ کی تاریخ کا اس بات پر شاہد ناطق ہے۔

جماعت کے تقاضے

کوئی بھی جماعت کسی نظام کے بغیر نہیں بن سکتی۔ اور کوئی بھی نظام انتظامیہ کے بغیر نہیں چل سکتا۔ پس ایک عالمگیر اور وسیع جماعت کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ اس کے امام سے شروع ہونے والا نظام شاخ در شاخ اس جماعت کے ایک چھوٹے سے بچے تک پہنچتا ہو تاکہ سبھی نظام کی تار میں تسبیح کے دانوں کی طرح پروئے ہوئے ہوں۔ جتنا مضبوط اور جتنا وسیع یہ نظام ہو گا اسی قدر وہ جماعت مضبوط ہو گی۔ جتنی مستعد انتظامیہ ہو گی اسی قدر مضبوط وہ جماعت ہو گی۔

جماعت احمدیہ کا شاندار نظام

محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور خلافت کی برکت سے جماعت احمدیہ ایک شاندار عالمگیر نظام سے منسلک ہے۔ جس کا مرکز خلیفہ وقت کی ذات بابرکات ہے۔ اس سے شروع ہونے والا نظام دنیا میں پھیلے ہوئے ہر چھوٹے بڑے ہر جوان بوڑھے، ہر مرد و زن تک پہنچتا ہے۔ اور تمام افراد جماعت کو ایک ہی بندھن میں جوڑے ہوئے ہے۔

جماعت احمدیہ کے دو نظام

پیشگوئیوں کے مطابق ناجی فرقہ کی جماعت کو مضبوط کرنے کے لیے ایک نظام نہیں بلکہ خلافت کے تابع دو نظام ہیں جو ہر فرد جماعت تک پہنچتے ہیں تاکہ اگر کسی ایک جگہ انتظامیہ میں کچھ کمی رہ جائے تو دوسرا نظام اس کمی کو دور کر دے۔ ایک نظام امارت، صدارت اور ان کی عاملہ کی انتظامیہ پر مشتمل ہے جن کا پھیلاؤ ہر فرد جماعت تک ہے۔ دوسرا ذیلی تنظیموں کا نظام ہے۔ جس میں انصار اللہ، خدام الاحمدیہ، اطفال الاحمدیہ، لجنہ اماء اللہ اور ناصرات الاحمدیہ ہیں۔ گویا ہر بچہ بچی سے لے کر نوجوان اور پھر بوڑھے اس وسیع نظام سے وابستہ ہیں۔ دونوں نظاموں کا ایک ہی مطمح نظر ہے کہ خلیفہ وقت کے ارشادات کے تحت تمام جماعت کی تعلیم و تربیت کرنا اور دنیا کی اصلاح کے لیے انہیں تیار کرنا ۔گویا یہ دو نہریں ہیں جو ہر فرد جماعت کو سیراب کر رہی ہیں۔

عہدیداران کا مقام

اس لحاظ سے جماعت کی تمام انتظامیہ، تمام عہدیداران جو خلافت کے تابع کام کر رہے ہیں ان کی خبر نبی کریمﷺ نے آج سے چودہ سو سال قبل عطا فرما دی تھی کہ وہ خوش قسمت ناجی فرقہ ’’جماعت‘‘ ہو گی یعنی ایک وسیع اور جامع انتظامیہ کے ذریعہ تمام افراد ایک امام سے جڑے ہوئے ہوں گے۔ خلافت کے سائے میں ایک وسیع انتظامیہ کے ذریعہ ایک شاندار نظام ہوگا۔ پس اطفال کی تنظیم کا کوئی سیکرٹری ہو یا ناصرات کی کوئی ممبر۔ خدام کا کوئی ناظم ہو یا انصار کا کوئی زعیم ہو یا لجنہ کی کوئی عہدیدار ہو۔ خواہ کوئی ذیلی تنظیم کا عہدیدار ہو یا امارت یا صدارات کا عہدیدار ہو ہر عہدیدار کو ہمیشہ یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ وہ اس انتظامیہ کا ممبر ہے جس کی خوشخبری رسول خداﷺ نے دی تھی۔ اس کا مقام کوئی معمولی مقام نہیں۔ خلیفہ وقت اور جماعت دراصل ایک ہی وجود کے دو نام ہیں اگر جماعت بدن ہے تو خلیفہ اس کی روح ہے۔ اور تمام انتظامیہ اس کے اعضاءکی مانند ہیں۔ پس جماعت کی خدمت کا کام جس کے سپرد ہو وہ اتنا خوش قسمت ہے کہ دنیا جہان کی نعمتیں اس کے سامنے عبث ہیں۔ سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’مومن کو چاہئے کہ وہ سلسلہ کی کمیٹیوں کو پارلیمنٹ کی ممبر ی سے بھی زیادہ موجب عزت خیال کرے…اپنے اندر یہ احساس پیدا کرو کہ جو شخص سلسلہ کی کسی میٹنگ میں شامل ہوتا ہے اس پر اس قدر انعام ہوتا ہے کہ امریکہ کی کونسل کی ممبری بھی اس کے سامنے ہیچ ہے‘‘(خطابات شوریٰ جلد سوم صفحہ601تا602)

اگر کسی کو بصیرت عطا ہو تو وہ دیکھ لے گا کہ جماعت کا ہر عہدہ دنیا کے تمام خزانوں سے بڑھ کر ہے۔ دنیا کی تمام نعمتوں سے اعلیٰ و ارفع ہے۔ کیونکہ درحقیقت یہ ذمہ داریاں خلیفہ وقت کی طرف سے اسے عطا ہوئی ہیں وہ اپنے دائرہ میں خلیفہ وقت کا نمائندہ ہے۔ خلیفہ وقت نبی کا نمائندہ اور نبی خدا کا نمائندہ ہے۔ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ تک پہنچتا ہے۔ بہت خوش قسمت ہیں جن کو سلسلہ کی کسی خدمت کے لیے چن لیا جاتا ہے۔

بچےنبوت کریں گے

حضرت یوایل علیہ السلام نے پیشگوئی فرمائی کہ اُس زمانے میں ’’تمہارے بیٹے بیٹیاں نبوت کریں گے۔ تمہارے بوڑھے خواب اور جوان رؤیا دیکھیں گے ‘‘(یوایل باب 2 آیت28) اس پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ اس زمانے میں مسیح پاک کی برکت سے ایسا نظام جاری ہو گا کہ جس میں بچے اور بچیاں بھی حصہ لیں گے۔ نوجوان اور بوڑھے بھی اس کا حصہ بنیں گے۔ اور وہ سب نبیوں والے کام کریں گے۔ یعنی لوگوں کی اصلاح اور تعلیم و تربیت اوران کی خدمت کے لیے وقف ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ پیشگوئی من و عن پوری ہو رہی ہے۔ جماعت کی وسیع انتظامیہ میں بوڑھے بھی ہیں نوجوان بھی اور بچے بھی ہیں۔ مرد بھی اور عورتیں بھی ہیں۔ اور سب اخلاص کے ساتھ، وفا کے ساتھ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہوئے دن رات جماعت کی خدمت پر جتے ہوئے ہیں۔ وہ کام کر رہے ہیں جو انبیاء کیا کرتے تھے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ بھی ان کوان کی بساط کے مطابق انہی انعامات سے نوازتا ہے جو انبیاء اور اولیاء اللہ پر ہوتے تھے۔ انہیں اللہ کا پیار عطا ہوتا ہے۔ انہیں ایمان کی حلاوت نصیب ہوتی ہے۔ وہ روحانیت میں ترقی کرتے ہیں۔ سچی خوابیں اور رؤیا صالحہ انہیں دکھائی جاتی ہیں۔ وہ اللہ کے کام کر رہے ہوتے ہیں تو اللہ ان کے کام کر رہا ہوتا ہے۔ ان کے کاموں میں برکت عطا کی جاتی ہے۔ ان کی نسلوں میں برکت عطا کی جاتی ہے۔ ان کے کاروبار میں برکت عطا کی جاتی ہے۔ ان کی صحت میں برکت عطا کی جاتی ہے۔ اپنے اخلاص اور وفا کی نسبت سے ان کے چہروں پر بھی ایک نور برستا ہے اور ان کے وجود کو بابرکت بنایا جاتا ہے۔ پس آج جماعت احمدیہ کے ذریعہ ہزاروں سال کے نوشتے پورے ہو رہے ہیں۔ الحمد للہ علی ذالک

عہدیداروں کی ذمہ داریاں

جتنی عظیم بشارت ہوتی ہے اتنا ہی بڑا انذار بھی اس کے ساتھ لگا ہوتا ہے۔ جماعتی خدمت کی ذمہ داری بہت عظیم ذمہ واری ہے کیونکہ یہ بالواسطہ اللہ تعالیٰ اور خلیفہ وقت کی طرف سے سونپی گئی ہے اس لیے ہر عہدیدار براہ راست اللہ تعالیٰ کے حضور بھی جواب دہ ہے۔ نبی کریمﷺ فرماتے ہیں۔ فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ (بخاری باب کتاب العتق العبد راع)کہ تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ پس جس کو اتنی بڑی ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ تو بدرجہ اولیٰ جواب دہ ہو گا۔ اور اگر کسی نے اپنی ذمہ داری خواہ وہ کسی بھی درجہ کی ہو پوری کوشش اور محنت سے ادا نہ کی تو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بنے گا۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ’’مَا مِنْ أَمِيْرٍ يَلِی أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ لَا يَجْهَدُ لَهُمْ وَيَنْصَحُ، إِلَّا لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ ‘‘ (صحیح مسلم۔ کتاب الامارہ باب فضیلۃ الامام)جس شخص کو مسلمانوں کے معاملات میں سے کسی حصہ کا نگران بنایا جائے۔ پھر وہ اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے پوری جدو جہد اورکوشش نہ کرے اور لوگوں کی خیر خواہی نہ کرے وہ ان کےساتھ جنت میں داخل نہ ہو گا۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا اور جنت کی خوشبو ایک سال کی مسافت تک پہنچتی ہے (مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الفتن باب ذکر فی عثمان ) گویا وہ جنت سے بہت دور کیا جائے گا۔ ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’عہدے بہرحال آپ کے سپرد کئے گئے ہیں، ایک ذمہ واری آپ کے سپرد کی گئی ہے۔ ایک دائرے میں آپ نگران بنائے گئے ہیں۔ پس یہ جو خدمت کے مواقع دیئے گئے ہیں یہ حکم چلانے کے لئے نہیں دیئے گئے بلکہ خلیفۂ وقت کی نمائندگی میں انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے لوگوں کی خدمت کرنے کے لئے ہیں …اگر عہدیداران جن میں قاضی صاحبان بھی ہیں،دوسرے عہدیداران بھی ہیںاپنے فرائض انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ادا نہیں کرتے تو پھر اللہ کی گرفت کے نیچے آتے ہیں۔ میرے نزدیک وہ دوہرے گناہگار ہو رہے ہوتے ہیں۔ دوہرے گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ایک اپنے فرائض صحیح طرح انجام نہ دے کر، دوسرے خلیفۂ وقت کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا کر۔‘‘(مشعل راہ جلد پنجم حصہ سوئم صفحہ53)

اگر انتظامیہ کا ایک عہدیدار پورے خلوص اور جدو جہد سے اپنی ذمہ داری ادا کرر ہا ہے تو یقیناً وہ اللہ تعالیٰ کی رضااور خلیفہ وقت کی خوشنودی حاصل کر رہا ہے۔ اس پر اللہ کے فضل نازل ہو رہے ہیں۔ اس سے بڑی دنیا میں کوئی نعمت نہیں جس پر وہ جس قدر بھی شکر ادا کرے کم ہے۔ اللہ تعالیٰ جماعت کے اور ذیلی تنظیموں کے تمام عہدیداران کو احسن رنگ میں خدمت بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

خدمت دین کو اک فضل الٰہی جانو

اس کے بدلے میں کبھی طالب انعام نہ ہو

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button