متفرق مضامین

صفات الٰہیہ۔ یعنی اللہ جَلّ جَلَالُہٗ کا سچا تعارف

(عبد السمیع خان۔ گھانا)

اللہ تعالیٰ کی صفات لا محدود، حدو بست سے بالا اور حکمتوں پر مبنی ہیں

قرآن کریم، احادیث رسولﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام سے اسمائے باری تعالیٰ کا ذکر

اسلام جس سچے خدا کا تصور پیش کرتا ہے وہ بےپناہ اور لامتناہی قدرتوں کا اکیلا مالک ہے۔اللہ تعالیٰ اپنا تعارف یوں کرواتا ہے: قُلۡ لَّوۡ کَانَ الۡبَحۡرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیۡ لَنَفِدَ الۡبَحۡرُ قَبۡلَ اَنۡ تَنۡفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیۡ وَلَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِہٖ مَدَدًا۔ (الکہف: 110)تو انہیں کہہ (کہ) اگر (ہرایک) سمندر میرے رب کی باتوں (کے لکھنے) کے لئے روشنائی بن جاتا تو میرے رب کی باتوں کے ختم ہونے سے پہلے (ہر ایک) سمندر (کا پانی) ختم ہو جاتا گو (اسے) زیادہ کرنے کے لئے ہم اتنا (ہی) اور (پانی سمندر میں ) لا ڈالتے۔

پھر فرمایا: وَلَوۡ اَنَّ مَا فِی الۡاَرۡضِ مِنۡ شَجَرَۃٍ اَقۡلَامٌ وَّالۡبَحۡرُ یَمُدُّہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ سَبۡعَۃُ اَبۡحُرٍ مَّا نَفِدَتۡ کَلِمٰتُ اللّٰہِؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ۔ (لقمان: 28) اور اگر زمین میں جتنے درخت ہیں ان کی قلمیں بن جائیں اور سمندر سیاہی سے بھرا ہوا ہو۔ اس طرح کہ سات اور سیاہی کے سمندر اس میں ملا دئے جائیں تو بھی اللہ کے نشان ختم نہیں ہوں گے۔ اللہ یقیناً غالب (اور) بڑی حکمتوں والا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کی روشنی میں فرماتے ہیں: ’’خدائے ذوالجلال کی قدرتیں اور حکمتیں بے انتہا ہیں …خدا تعالیٰ معہ اپنی صفات کاملہ کے غیر محدود اور غیر متناہی ہے‘‘(سرمہ چشم آریہ، روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 90تا91)

پھر فرمایا: ’’قرآن شریف کی اصطلاح میں اللہ اس ذات کامل کا نام ہے کہ جو معبود برحق اور مستجمع جمیع صفات کاملہ اور تمام رذائل سے منزہ اور واحد لاشریک اور مبدء جمیع فیوض ہے‘‘(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1صفحہ 435)

اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرح اس کی تمام صفات بھی نہایت درجہ پاکیزہ، مقدس اور ہر نقص سے پاک ہیں اور ان کا ظہور حق و حکمت کے ساتھ ہوتا ہے خود فرماتا ہے: اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ لَہُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی۔ (طہٰ: 9)یعنی اللہ (وہ ذات ہے کہ اس) کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کی بہت سی اچھی صفات ہیں۔ پھر فرمایا: وَلِلّٰہِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی فَادۡعُوۡہُ بِہَا ۪ وَذَرُوا الَّذِیۡنَ یُلۡحِدُوۡنَ فِیۡۤ اَسۡمَآئِہٖ ؕ سَیُجۡزَوۡنَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ۔ (اعراف:181)یعنی اور اللہ کی بہت سی اچھی صفات ہیں۔ پس تم ان کے ذریعہ سے اس سے دعائیں کیا کرو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کی صفات کے بارہ میں غلط (اور خیالی) باتیں کرتے ہیں۔ ان کو اپنے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔

اس لیے یہ تو ممکن نہیں کہ انسان صفات الٰہیہ کو گن سکے۔ ہاں خدا نے جو مناسب سمجھا وہ علم انسان کو عطا فرمایا اور اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعے ان کو ظاہر فرمایا۔ اس نے اپنی سب سے بڑی تجلی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کی اور اللہ کا کلام قرآن کریم ان صفات کے ذکر سے بھرا ہوا ہے۔

قرآن کریم کے علاوہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی خفی کے ذریعے متعدد مواقع پر اللہ تعالیٰ کی متفرق صفات کا ذکر فرمایا۔ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے 99 ناموں کا ذکر فرمایا ہے۔ یہ روایات ایک سے زیادہ ہیں اور ان میں بعض ناموں کا فرق بھی ہے اور اس طرح کل نام 110 کے قریب ہو جاتےہیں۔ بعض مسلمانوں نے سمجھا کہ اللہ کی صرف یہی صفات ہیں مگر وہ تو محض نمونے کے طور پر تھیں۔ ورنہ وہ بےشمار ہیں۔

قرآن کریم پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صفات باری تعالیٰ کا تذکرہ دو طریق پر ہے۔

1۔ اسم فاعل یا اس سے ملتے جلتے صیغوں میں۔ مثلاً مالک۔ رحمان۔ رحیم۔ فعال۔ علیم

2۔ فعل کے طور پر۔ مثلاً یفعل۔ یحیی۔ یمیت۔ یعلم

افعال سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور بزرگان امّت نے بہت سی صفات اخذ کی ہیں۔ مگر یہ انہی لوگوں کا کام ہے جنہیں خدا اپنی ذات کا عرفان بخشتا ہے ہر آدمی کا کام نہیں۔ سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی مشہور کتاب دیباچہ تفسیر القرآن میں صفات الٰہیہ کی فہرست درج فرمائی اور اس میں مشہور حدیث کے 99 ناموں سمیت ایک سو چار ناموں کا ذکر کیا ہے اور فرمایا کہ قرآن کریم میں 99 سے بہت زیادہ نام مذکور ہیں جن میں سے 104 نام مَیں نے اوپر بیان کر دیے ہیں اور ابھی بہت سے باقی ہیں۔ (دیباچہ تفسیر القرآن صفحہ 308تا310)

یہ مضمون اسی بقیہ کی تلاش کا سفر ہے مضمون کو واضح کرنے کے لیے اسے کئی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

1۔ قرآن کریم میں بیان کردہ صفات

2۔ احادیث میں بیان کردہ صفات

3۔ حضرت مسیح موعودؑ پر خدا تعالیٰ نے اس زمانے میں پھر عظیم الشان تجلی فرمائی اور آپؑ نے اردو، عربی اور فارسی زبان میں خدا کی صفات کو نئے رنگ سے بیان کیا اور اس سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے اسے نئے نئے ناموں سے یاد کیا ان سب کو اس حصہ میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی ضمن میں حضرت مصلح موعودؓ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

کسی صفت کو دہرایا نہیں گیا البتہ اگر ایک صفت کو مختلف صیغوں اور رنگوں میں بیان کیا گیا ہے تو ان سب کو الگ الگ درج کیا گیا ہے کیونکہ ان میں باریک فرق ہیں مثلاً غافر، غفور، غفار، خیر الغافرین، ذو مغفرہ۔

1۔قرآن کریم میں مذکور صفات الٰہیہ

یہ کل 174 ہیں۔(بعض صفات کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جمع کے صیغہ میں ذکر کیا ہے ان کو اسی طرح درج کیا گیا ہے اور کوئی حرف عربی گرامر کی وجہ سے گرا ہوا ہے تو پورا لفظ لکھا گیا ہے )

1.ربّ (الفاتحہ: 2)

2.الرحمٰن (الفاتحہ: 3)

3.الرحیم (الفاتحہ: 3)

4.مالک یوم الدین (الفاتحہ: 4)

5.الملک (الحشر: 24)

6.القدوس (الحشر: 24)

7.السلام (الحشر: 24)

8.المؤمن (الحشر: 24)

9.المھیمن (الحشر: 24)

10.العزیز (الحشر: 24)

11.الجبار (الحشر: 24)

12.المتکبر (الحشر: 24)

13.الخالق (الحشر: 25)

14.الباری (الحشر: 25)

15.المصور (الحشر: 25)

16.الغفار (ص: 67)

17.القھار(یوسف: 40)

18.الوھاب (آل عمران: 9)

19.الرزاق(الذاریات:59)

20.الفتاح (سبا: 27)

21.العلیم (سبا: 27)

22.السمیع (البقرۃ: 128)

23.البصیر (البقرۃ: 97)

24.اللطیف (الانعام: 104)

25.الخبیر (الانعام: 104)

26.الحلیم (البقرۃ: 226)

27.العظیم (البقرۃ: 256)

28.الغفور (البقرۃ: 174)

29.الشکور (الفاطر: 31)

30.العلی (البقرۃ: 256)

31.الکبیر (الرعد: 10)

32.الحفیظ (ہود: 58)

33.المقیت (النساء: 86)

34.الرقیب (النساء: 2)

35.الواسع (البقرۃ: 116)

36.الحکیم (الانعام: 19)

37.المجید (ہود: 74)

38.الشہید (آل عمران: 99)

39.الحق (بنی اسرائیل: 82)

40.الوکیل (آل عمران: 174)

41.القوی (انفال: 53)

42.الولی (البقرۃ: 258)

43.الحمید (ہود: 74)

44.الحی (البقرۃ: 256)

45.القیوم (البقرۃ: 256)

46.القادر (انعام: 38)

47.المقتدر (القمر: 56)

48.الاول (الحدید: 4)

49.الآخر (الحدید: 4)

50.الظاھر (الحدید: 4)

51.الباطن (الحدید: 4)

52.الرءوف (البقرۃ: 144)

53.المتعال (الرعد: 10)

54.التواب(البقرۃ: 38)

55.العفو (النساء: 49)

56.النور(النور: 36)

57.ذو الجلال والاکرام (الرحمٰن: 28)

58.الغنی (البقرۃ: 264)

59.رافع (آل عمران: 56)

60.مجیب (ہود: 62)

61.ھادی (الحج: 55)

62.البدیع (البقرۃ: 118)

63.الوارث (الحجر: 24)

64.المتین (الذاریات: 59)

65.الکریم (النمل: 41)

66.واحد (یوسف: 40)

67.الصمد (الاخلاص: 3)

68.مالک الملک (آل عمران: 27)

69.البر (الطور: 29)

70.جامع (آل عمران: 10)

71.حسیب (النساء: 87)

72.ودود (البروج: 15)

73.محیی (حم السجدۃ: 40)

74.مولیٰ (البقرۃ: 287)

75.نصیر (الفرقان: 32)

76.فعّال (البروج:17)

77.شاکر (البقرۃ: 159)

78.غافر الذّنب (المؤمن: 4)

79.قابل التّوب (المؤمن: 4)

80.شدید العقاب (المؤمن: 4)

81.ذی الطول (المؤمن: 4)

82.القاھر (الانعام: 19)

83.ارحم الراحمین (یوسف: 65)

84.ملیک (القمر: 56)

85.اعلم (العنکبوت: 10)

86.خیر (طٰہٰ: 74)

87.خیر الفا تحین (الاعراف: 90)

88.خیر الرازقین(المائدۃ: 115)

89.خیر الماکرین (آل عمران: 55)

90.خیر الفاصلین (الانعام: 58)

91.خیر الغافرین (الاعراف: 156)

92.خیر الحاکمین (یوسف: 81)

93.خیر المنزلین (المؤمنون: 30)

94.خیر الناصرین (آل عمران: 151)

95.موسعون (الذاریات: 48)

96.ابقیٰ (طٰہٰ: 74)

97.قدیر (البقرۃ: 110)

98.حافظ (الحجر: 10)

99.شدیدالمحال (الرعد: 14)

100.شدیدالعذاب (البقرۃ: 166)

101.ذوالعرش (البروج: 16)

102.ذوالقوۃ (الذاریات: 59)

103.ذوالفضل (البقرۃ: 106)

104.عالم الغیب والشہادۃ (الحشر: 23)

105.احکم الحاکمین (التین: 9)

106.کافی (الزمر: 37)

107.الٰہ (الناس: 4)

108.الاکرم (العلق: 4)

109.الاعلیٰ (الاعلیٰ: 2)

110.اسرع (الانعام: 63)

111.جاعل (البقرۃ: 125)

112.مھلک (بنی اسرائیل: 59)

113.معذب (بنی اسرائیل: 59)

114.ماھدون (الذاریات: 49)

115.علام الغیوب (سبا: 49)

116.محیط (البروج:21)

117.فاطر (الفاطر: 2)

118.رفیع الدرجات (المؤمن: 16)

119.سریع الحساب (البقرۃ: 202)

120.ذوانتقام (الزمر: 38)

121.ذوعقاب الیم (حم السجدۃ: 44)

122.ذی المعارج (معارج: 4)

123.اھل التقویٰ (المدثر: 57)

124.غالب (یوسف: 22)

125.کاشفون (الدخان: 16)

126.ذو الرحمۃ (الانعام: 134)

127.منتقمون (الزخرف: 42)

128.مرسلون (القمر: 28)

129.مغیر (الانفال: 54)

130.المستعان (یوسف: 19)

131.ممد (الانفال: 10)

132.قریب (البقرۃ: 187)

133.منشئون (الواقعہ: 73)

134.خلّاق (یٰس: 82)

135.فالق الحب والنویٰ (الانعام: 96)

136.فالق الاصباح (الانعام: 97)

137.حفیّ (مریم: 48)

138.احسن الخالقین (المؤمنون: 15)

139.متوفّی (آل عمران: 56)

140.مطھّر (آل عمران: 56)

141.نعم المولیٰ (الحج: 79)

142.نعم النصیر (الحج: 79)

143.نعم الوکیل (آل عمران: 174)

144.کفیل (النحل: 92)

145.خادع (النساء:143)

146.مخزی (التوبہ: 2)

147.بَرِیۡٓءٌ (التوبہ: 3)

148.اَشَدُّ بَأسًا (النساء: 85)

149.اَشَدُّ تَنْکِیْلًا (النساء: 85)

150.اَسْرَعُ الْحَاسِبِیْنَ(الانعام: 63)

151.المبین (النور: 26)

152.سریع العقاب (الانعام: 166)

153.قائم (الرعد: 34)

154.الزارعون (الواقعہ: 65)

155.آخذ (ہود: 57)

156.شہود (یونس: 62)

157.موھن (الانفال: 19)

158.واسع المغفرۃ (النجم: 33)

159.ذومغفرۃ (حم السجدۃ: 44)

160.اھل المغفرۃ (المدثر: 57)

161.شدید القویٰ (النجم: 6)

162.کاتبون (الانبیاء: 95)

163.مستمعون (الشعراء: 16)

164.مخرج (البقرۃ: 73)

165.مبتلیین (المؤمنون: 31)

166.رادّ (القصص: 85)

167.متمّ (الصف: 9)

168.عدوّ(البقرۃ: 99)

169.أصدق (النساء: 88)

170.مبرم (زخرف: 80)

171.بالغ (الطلاق: 4)

172.احد (الاخلاص: 2)

173.منزلون (الواقعہ: 70)

174.ذو مرّۃ (النجم: 7)

………………………………………

2۔ احادیث میں مذکور صفات الٰہیہ

جن صفات کا ذکر قرآن میں آگیا ہے ان کو دہرایا نہیں گیا۔ احادیث میں مذکورصفات الٰہیہ104ہیں۔ یہ سب اسما٫ حدیث کی کتب میں موجود ہیں اور حدیث کے آن لائن مجموعہ المکتبۃ الشاملۃمیں تلاش کیے جا سکتے ہیں۔

  1. القابض
  2. الباسط
  3. الخافض
  4. المغنی
  5. المعز
  6. المذل
  7. الحکم
  8. العدل
  9. الجلیل
  10. الباعث
  11. المحصی
  12. المبدء
  13. المعید
  14. الممیت
  15. الواجد
  16. المقدم
  17. المؤخر
  18. الوالی
  19. الماجد
  20. المقسط
  21. الباقی
  22. الرشید
  23. الصبور
  24. المانع
  25. الضار
  26. النافع
  27. البار
  28. راشد
  29. البرھان
  30. الواقی
  31. الناظر
  32. السامع
  33. المعطی
  34. الابد
  35. المنیر
  36. التام
  37. الحنان
  38. ذوالحول
  39. المدبر
  40. الرفیق
  41. حیی
  42. ستیر
  43. السبوح
  44. مقلب القلوب
  45. الشافی
  46. وتر
  47. جمیل
  48. نظیف
  49. طیب
  50. محسن
  51. منان
  52. المسعر
  53. ذوالجبروت
  54. ذوالملکوت
  55. ذو الکبریا
  56. ذو العظمۃ
  57. جوّاد
  58. الدّیان
  59. السید
  60. طبیب
  61. اغیر
  62. قسط
  63. الدائم
  64. الدھر
  65. ذو الحبل الشدید
  66. اھل الحق
  67. الصادق
  68. ھازم
  69. الصاحب
  70. الخلیفۃ
  71. قیم
  72. قیام
  73. القدیم
  74. المغیث
  75. نذیر
  76. الوفی
  77. ذو النعم
  78. ذو المجد والکرم
  79. اعز
  80. اکبر
  81. عضد
  82. الدافع
  83. خیرالمسؤلین
  84. خیر المعطین
  85. جار
  86. ذو العزۃ
  87. فارج الھم
  88. منتھیٰ
  89. مبتدی
  90. غایۃ رغبتنا
  91. الطاھر
  92. المبارک
  93. اجل
  94. الستار
  95. مُنْزِل
  96. مُنَزِّل
  97. کائن
  98. مکون
  99. ذوالقدرۃ
  100. ذوالکرم
  101. قاضی
  102. حسن التجاوز
  103. اجود الاجودین

رمضان حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اور صفات الٰہیہ

حضرت مسیح موعودؑ صفات الٰہیہ پر ایک جامع نظر ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’خدا اپنی تمام خوبیوں کے لحاظ سے واحد لا شریک ہے کوئی بھی اس میں نقص نہیں۔ وہ مجمع ہے تمام صفات کاملہ کا اور مظہر ہے تمام پاک قدرتوں کا اور مبدأہے تمام مخلوق کا اور سرچشمہ ہے تمام فیضو ں کا اور مالک ہے تمام جزا سزا کا اور مرجع ہے تمام امور کا اور نزدیک ہے باوجود دوری کے اور دور ہے باوجود نزدیکی کے۔ وہ سب سے اوپر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی اَور بھی ہے۔ اور وہ سب چیزوں سے زیادہ پوشیدہ ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس سے کوئی زیادہ ظاہر ہے۔ وہ زندہ ہے اپنی ذات سے اور ہر ایک چیز اس کے ساتھ زندہ ہے۔ وہ قائم ہے اپنی ذات سے اور ہر ایک چیز اس کے ساتھ قائم ہے۔ اس نے ہر یک چیز کو اٹھا رکھا ہے اور کوئی چیز نہیں جس نے اس کو اٹھا رکھا ہو۔ کوئی چیز نہیں جو اس کے بغیر خود بخود پیدا ہوئی ہے یا اس کے بغیر خود بخود جی سکتی ہے۔ وہ ہر یک چیز پر محیط ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ کیسا احاطہ ہے۔ وہ آسمان اور زمین کی ہریک چیز کا نور ہے اور ہریک نور اسی کے ہاتھ سے چمکا۔ اور اسی کی ذات کا پرتوہ ہے۔ وہ تمام عالموں کا پروردگار ہے۔ کوئی روح نہیں جو اس سے پرورش نہ پاتی ہو اور خود بخود ہو۔‘‘(لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد 20صفحہ 152تا153)

الہامی نام

حضرت مسیح موعودؑ کے الہامات میں بہت سی صفات الٰہیہ کا تذکرہ ہے ان میں سے کئی قرآن و حدیث میں ہیں۔ ان کے علاوہ بیان کردہ صفات کا ذکر کیا جاتا ہے جو آپ کے مجموعہ الہامات تذکرہ میں موجود ہیں یہ 27 ہیں۔

1۔ یلاش (یعنی یا لا شریک اے وہ جس کا کوئی شریک نہیں )

2۔ عجیب

3۔ اعجب العجیبین

4۔ مھین

5۔ معین

6۔ ذوالمجد والعلیٰ

7۔ ذوالجود والعطا

8۔ ذوالسلطان

9۔ ذوالعزوالسلطان

10۔ ذو اللطف والندیٰ

11۔ ناصر

12۔ حاشر

13۔ مبشر

14۔ الصاعقہ

15۔ ذوالمنن

16۔ مستتر

17۔ قرین

18۔ بادشاہ

19۔ راض

20۔ منجی

21۔ موجود

22۔ عاج

23۔ ذوالاقتدار

24۔ ماش

25۔ ناظر

26۔ ازلی

27۔ ابدی

حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے منظوم اور منثور کلام میں صفات الٰہیہ پر نہ صرف تفصیلی روشنی ڈالی ہے بلکہ خدا تعالیٰ سے اپنی بے پناہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے اس کے کاموں کے حوالے سے نئے نئے ناموں سے یاد کیا ہے۔ بعض تو قرآن و حدیث کے الفاظ کا ترجمہ معلوم ہوتے ہیں مگر انہیں درج کیا گیا ہے کیونکہ وہ اردو زبان میں خدا کے ایک مامور کی طرف سے بیان ہوئے ہیں۔ یہ ایک طویل سلسلہ ہے اس میں سے چند بیان کیے جاتے ہیں۔

عربی کلام

مازر (قوت)

الحب

ملجا (پناہ)

غیور

وحید

فرد

فرید

مقدر (تقدیربنانے والا)

مؤید (تائید کرنے والا)

اقدر (سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا)

منبع الھدیٰ

مامن (پناہ)

مفازہ (مراد)

ملاذ (پناہ)

مرشد (ہدایت دینے والا)

مرجع الخلق

ذوالامتنان

عون (مددگار)

ذوکرامۃ

میسر(آسانی کرنے والا )

المراد

مطلب

مھجۃ مھجتی (جان کی جان)

مقصد مھجتی

موئلی (سپر)

اھل الاوامر

روح بالی (دل کا آرام)

ذوتبرع (رحمت والا)

عطوف (مہربان)

ذوعطا

عین الھدیٰ

المفیض (عطا کرنےوالا)

موفق (توفیق دینے والا)

مرمق (نظر میں رکھنے والا)

روحی (میری راحت)

راحتی (میرا آرام)

مغفر (خود)

حبیبی

شاھد

خیر الواھبین

الاحب

الاحق

اردو و فارسی کلام

سپر

چارہ گر

پناہ

منعم

کارساز

عیب پوش

سلطان

درع(زرہ)

کردگار

محسن

پروردگار

مبد٫الانوار

سورج

قمر

قادر اکبر

یار(یارمحسنم)

یار جانی

یار نہاں

یار لا مکانی

یار یگانہ

یار گمشدہ

دلستاں

دلبر(دلبر نہانی۔ دلبر ازل۔ دلبر یگانہ)

دلدار

وحدہ لا شریک

غیب دان

با شان کبیر

جان آفریں

پاک

مشکل کشا

بے مانند

حاضر

کرتار

راحم

ذات جاودانی

سہارا

رحمت اتم

توانا

رہبر

ترس(ڈھال)

پیارا

مہربان

شاہ دو جہانی

جاناں

بندہ پرور

داور

خدائے زندہ

بحر الایادی

رب ارباب

رب البرایا

جنت

بہشت

فردوس اعلیٰ

دار الاماں

جوہر شناس

معشوق

محبوب

درماں

جاں کی پناہ

ذات عز وجل

عالی جناب

حضرت عزت

عالم القلوب

مربی

ساربان

حاجت برار

حصار

دوستدار

شہریار

غمگسار

زخموں کا مرہم

نگار

لازوال

دھیما(غضب میں )

آمرزگار

ذو العجائب

خدائے خشمگیں

حاجت روا

آرام جاں

لم یزل

لا یزال

رہنما

معلم

ملہم

بے نظیر

جلیل

شہنشاہ

نگران

جامع ہر کمال

دادار

یار دلبرم

چارہ آزار ما

علاج گریہ ہائے زار ما

جان جہاں

نور انوار

پنہانی

مونس جاں

چارہ ساز

پناہ عاجزاں

ذات قدیم

آمرم

مغیث

دستگیر

ذات بیچوں (بے مثل)

شہ

محبوب من

کہف

جاں آفری

جان جاں

جانان ما

حضرت احدیت

شمس الکمال

ساقی

جاں بخش جہاں

چشمہ نور ھدیٰ

مہربان

رازدان

جناب کبریا

یکتا

زندگی کا چشمہ

غیب الغیب

ورا٫ الورا٫

نہایت مخفی

کامل

کثیر البرکت

مصدر خیرات دائمی

جامع صفات کاملہ

صانع عالم

مستجمع صفات کاملہ

ذات جامع الکمالات

لعل بے بدل

سہارا۔ لازوال

علت العلل

واجب الوجوب

وجود اعظم

مبد٫ فیض

بے مثل

بہار حسن

غیر متغیر۔ مجمع صفات کاملہ ۔مظہر پاک قدرتوں کا۔

حضرت مصلح موعودؓ نے مندرجہ ذیل مزید صفات بیان کی ہیں۔ المتکلم ذوالوقار(دیباچہ تفسیر القرآن صفحہ308)مطعم(تفسیر کبیر جلد 5 صفحہ 19 )سبحان(تفسیر کبیر جلد1 صفحہ 445)

حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ فرماتے ہیں کہ خدانے مجھے الہاماً اپنا نام’’ نجیب‘‘ بتایا۔ (ذکر حبیب پہلا صفحہ )پھر لکھتے ہیں میں نے خواب میں دیکھا کہ کالو نام کا ایک آدمی ہمارے گھر میں آیا ہے اور میری بیوی نے اس سے پردہ نہیں کیا مجھے اس پر سخت غصہ آیا اور بیدار ہو گیا حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں تعبیر کے لیے لکھا تو حضورؑ نے فرمایا کہ’’ کالو‘‘ عربی لفظ ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا نام ہے جس کے معنے ہیں نگاہ رکھنے والا۔ اور آپ کے ہاں لڑکا ہو گا اور خدا پیدائش کے مرحلہ میں خاص مدد کرے گا۔ حضور کو اس وقت حمل کی کوئی خبر نہ تھی۔ (ذکر حبیب صفحہ 229)

سابقہ بزرگان امّت

حضرت مسیح موعودؑ سے پہلے بزرگوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے متعلق بہت کچھ لکھا ہے اور تفاسیر اور شروح، احادیث اور کلام کی کتب میں ہر پہلو سے معلومات جمع کی ہیں اور قرآن و حدیث میں بیان کردہ صفات کے علاوہ خود بھی کئی صفات بیان کی ہیں اور بعض اللہ کے افعال سے اخذ کی گئی ہیں۔ ان کتب میں سے مثال کے طور پر صرف 2 کتب کا ذکر کیا جاتا ہے تاکہ دلچسپی رکھنے والے فائدہ اٹھا سکیں۔

التوحيد ومعرفة أسماء اللّٰه عز وجل وصفاته على الاتفاق والتفرد لابن منده

المؤلف:أبو عبد اللّٰه محمد بن إسحاق بن محمد بن يحيى بن مَنْدَه العبدي (المتوفى: 395ھ)

الأسماء والصفات للبيهقي

المؤلف: أحمد بن الحسين بن علي بن موسى الخُسْرَوْجِردي الخراساني، أبو بكر البيهقي (المتوفى: 458ھ)

حضرت امام رازی نے لکھا ہے کہ علما٫میں یہ مشہور ہے کہ اللہ تعالیٰ کے 1001 نام ہیں اور یہ کتاب وسنت میں موجود ہیں (مفاتیح الغیب المعروف تفسیر کبیر رازی متوفی۔ 606ھ۔ جلد اول صفحہ 23)

تحفہ اور نعمتوں کی کان

الغرض یہ اسماء یا صفات مولائے کائنات کے بحرِِناپیداکنار میں سے صرف چند ایک چمکدار لافانی موتی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے انسان پر منکشف فرمایا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا سچا تعارف اور اس کے وجود کا آئینہ ہیں۔ یہ توحید باری تعالیٰ کے مضمون کی جان ہے۔ یہ انسانیت کے لیے نور السماوات والارض کا سب سے بڑا تحفہ اور نعمتوں کی کان ہے۔ یہ رب العالمین کے حسن کے جلوے اور رحمان و رحیم کے احسانات کی بارشیں ہیں اور مالکِ یوم الدین کی تجلیات کے مظہر ہیں۔ یہ اس خالق اور باری اور مصور کے جمال کی کرنیں اورذوانتقام اور سریع الحساب کے جلال کی تیز دھار انیاں ہیں۔ یہ اس ودود اور منان کے فضلوں کے عناوین اور رحمتوں کے لؤلؤ اور مرجان ہیں۔ یہ اس غفار اور تواب کے قرب کو پانے کی نوید اور سمیع الدعاء کی قبولیت کی کلید ہے۔ یہ اس العلی العظیم کی رفعتوں کے سورج اور قدرتوں کے چاند ستارے ہیں۔ ان صفات کو اپنانا اور اپنے اپنے دائرے میں اس کا عکس بننے کی کوشش کرنا ہی انسانی پیدائش کا مقصود ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس راہ پر کامیابی سے چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close