حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

ایک احمدی کی دو بڑی ذمہ داریاں

(انتخاب از خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 6؍ مارچ 2009ء)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مختلف مواقع پر جماعت کو جو نصائح فرمائیں، جن میں جماعت کے قیام کی غرض کے بارہ میں بھی بتایا اور افراد جماعت کی ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلائی اور پھر ان ذمہ داریوں کے پورا کرنے اور اس غرض کے حصول کی کوشش کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے جوفضل ہوں گے جن کا اللہ تعالیٰ نے آپؑ سے وعدہ کیا ہے اور من حیث الجماعت بھی اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کوکہاں تک پہنچانا ہے اس بارہ میں بھی آپ نے بتایا۔اس حوالہ سے مَیں اس وقت چند باتیں آپ کے سامنے پیش کروں گا تاکہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا بھی احساس رہے اور اس کی جگالی کرتے ہوئے ہم اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور اس کی رضا کو حاصل کرنے والے بھی بن سکیں اور ان فضلوں کے وارث بن سکیں جو جماعت سے وابستہ رہ کر ہمیں ملیں گے۔

سلسلہ کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:’’یہ زمانہ بھی روحانی لڑائی کا ہے۔ شیطان کے ساتھ جنگ شروع ہے۔ شیطان اپنے تمام ہتھیاروں اور مکروں کو لے کر اسلام کے قلعہ پر حملہ آور ہو رہا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسلام کو شکست دے مگر خداتعالیٰ نے اس وقت شیطان کی آخری جنگ میں اس کو ہمیشہ کے لئے شکست دینے کے لئے اس سلسلے کو قائم کیا ہے‘‘۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 16۔ ایڈیشن 1988ء )

آپؑ فرماتے ہیں: ’’مبارک وہ جو اس کو شناخت کرتا ہے‘‘۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 16 جدید ایڈیشن )

اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس سلسلہ میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔ ہم میں سے بعض کو ان کے بزرگوں کی نیکیوں کی وجہ سے اس سلسلہ کو شناخت کرنے کی توفیق عطا ہوئی اور ہم احمدی خاندانوں میں پیدا ہوئے اور بعض کو خود اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی کہ وہ بیعت کرکے سلسلے میں داخل ہوئے اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ جاری رہے گا تاکہ ہم اس گروہ خاص میں شامل ہو جائیں جس نے شیطان کے خلاف اسلام کی آخری جنگ لڑ کر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا بننا ہے۔ اس وجہ سے ہم میں سے بعض کو بعض ممالک میں سختیوں اور ابتلاؤں سے بھی گزرنا پڑ رہا ہے کہ ہم نے اس زمانہ کے امام کو ماناہے۔ لیکن ایک عظیم مقصد اور غرض کے حصول کے لئے ہماری قربانیاں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تو بے شمار تحریرات میں ہمیں ہمیشہ ان امتحانوں اور ابتلاؤں سے آگاہ فرماتے رہے جو آج بھی موجود ہیں کہ ابتلاء آئیں گے، تمہیں آزمایا جائے گا اور پھر اس کے نتیجہ میں خوشخبریاں بھی دیں۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’اس وقت میرے قبول کرنے والے کو بظاہر ایک عظیم الشان جنگ اپنے نفس سے کرنی پڑتی ہے۔ وہ دیکھے گا کہ بعض اوقات اس کو برادری سے الگ ہونا پڑے گا۔ اس کے دنیاوی کاروبار میں روک ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کو گالیاں سننی پڑیں گی۔ لعنتیں سنے گا۔ مگر ان ساری باتوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں ملے گا۔‘‘(ملفوظات جلد سوم صفحہ 16۔ ایڈیشن 1988ء)

آج اس زمانہ میں بھی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ان الفاظ کو جوآپؑ نے فرمائے بعض ملکوں میں بعینہٖ اسی طرح پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔اور آج بھی جواحمدی قربانیاں کر رہے ہیں وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کا اجر پانے والے ہیں۔…

پس جہاں جہاں بھی احمدی ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں وہ یاد رکھیں کہ یہ شیطان کے ساتھ آخری جنگ ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر آپ اس فوج میں داخل ہوئے ہیں جو اس زمانے کے امام نے بنائی۔اس لئے اپنے ایمانوں کو مضبوط کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ سے ثبات قدم اور استقامت مانگتے ہوئے ہمیشہ اور ہر وقت صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کریں۔ اللہ تعالیٰ کے آگے مزید جھکیں۔ آخری فتح انشاء اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت کی ہی ہے۔ جیسا کہ آپؑ نے فرمایا ہے کہ ان شیطانی اور طاغوتی قوتوں کو شکست دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم فرمایا ہے۔ لیکن ایک بات ہمیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ بیرونی شیطان کو شکست دینے کے لئے جو اندرونی شیطان ہے اس کو بھی زیر کرنا ہو گا۔ کیونکہ ہماری فتح مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ جڑنے کی وجہ سے ظاہری اسباب سے نہیں ہونی بلکہ دعاؤں سے ہونی ہے اور دعاؤں کی قبولیت کے لئے اپنے آپ کو خداتعالیٰ کی رضا کے مطابق چلنے والا بنانے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے نفس کا جہاد بھی بہت ضروری ہے۔

اس بارہ میں ہمیں نصیحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ’’اغراض نفسانی شرک ہوتے ہیں۔وہ قلب پر حجاب لاتے ہیں۔ اگر انسان نے بیعت بھی کی ہوئی ہو تو پھر بھی اس کے لئے ٹھوکر کا باعث ہوتے ہیں‘‘۔ یعنی نفسانی غرضیں جو ہیں وہ شرک ہیں اور باوجود اس کے کہ بیعت کی ہوئی ہے دلوں پر پردے پڑ جاتے ہیں۔ انسان سوچ سمجھ کے بیعت کرتا ہے۔ بعض پرانے احمدی ہیں لیکن پھر بھی بعض ایسی باتیں ہو جاتی ہیں جو ٹھوکر کا باعث بن جاتی ہیں۔ فرمایا: ’’ہمارا سلسلہ تو یہ ہے کہ انسان نفسانیت کوترک کرکے خالص توحید پر قدم مارے‘‘۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ286حاشیہ۔ ایڈیشن 1988ء )

پس ایک احمدی کا فرض ہے کہ تمام قسم کی نفسانی اغراض سے اپنے دلوں کوپاک کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی توحید کے قیام میں لگ جائے۔ آپؑ نے فرمایاکہ بیعت کرنے کے باوجود بعض لوگ ٹھو کر کھا جاتے ہیں صرف اس لئے کہ اس غرض کو نہیں سمجھتے جس کے لئے وہ بیعت میں شامل ہوئے ہیں اور وہ غرض یہی ہے کہ مکمل طور پر اپنے آپ کو خداتعالیٰ کے سپرد کر دینا اور اپنے دل کو ہر قسم کے شرک سے پاک کرنا۔

یہ دو بڑی اور اہم ذمہ داریاں ہیں جو ایک احمدی پر عائد ہوتی ہیں اور خاص طور پر پاکستانی احمدی پر کیونکہ وہاں کے حالات خراب ہیں۔اور دنیا میں جہاں جہاں بھی حالات خراب ہیں، عموماً اب تو یہی نظر آتا ہے، احمدیوں کو خاص طور پر اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ وہ احمدی جن کو اللہ تعالیٰ نے آسودہ حال بنایا ہو اہے بعض اوقات اپنے احمدی ہونے کے مقصد کو بھول جاتے ہیں۔دنیاوی کاموں میں ضرورت سے زیادہ پڑ جاتے ہیں۔ کئی شکایات آتی ہیں۔ جماعتی روایات اور اسلامی تعلیمات کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ توحید کے قیام کے لئے جو سب سے اہم کام ہے اور جو انسان کا مقصد پیدائش ہے یعنی عبادت کرنا اور نمازوں کی حفاظت کرنا اس کی طرف پوری توجہ نہیں دی جاتی۔ پس بڑا خوف کا مقام ہے کہ ہمارے میں سے کسی ایک کی بھی کمزوری اسے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مصداق نہ بنا دے کہ لَیْسَ مِنْ اَھْلِکَ(ھود: 47) کہ تیرے اہل میں سے نہیں ہے۔ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ (ھود:47)کہ یقیناً اس کے عمل غیر صالح ہیں۔ اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے، کبھی کسی بیعت میں شامل ہونے والے کا مقام خداتعالیٰ کی نظر میں ایسا ہو۔ اس بات سے، خوف سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جانے چائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں وہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو اس کی نظر میں صالح ہوں۔ ہم اپنے زعم میں اپنے آپ کو، اپنے خو د ساختہ نیکیوں کے معیار پر پرکھنے والے نہ ہوں۔ بلکہ وہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کریں جو اس زمانہ کے امام نے اپنی جماعت سے توقع رکھتے ہوئے ہمیں بتائے ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ’’جب تک ہماری جماعت تقویٰ اختیار نہ کرے نجات نہیں پا سکتی‘‘۔ فرمایا کہ ’’خداتعالیٰ اپنی حفاظت میں نہ لے گا‘‘۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 330۔ ایڈیشن 1988ء)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close