حاصل مطالعہ

دکن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا ایک شیدائی

(حضرت الحاج مولانا عبدالرحیم صاحب نیّر رضی اللہ عنہ)

رحمان شاہ فقیر اپنے پیچھے ایک ایسی تاریخ چھوڑ گئے ہیں جو زندہ احمدیوں کے لئے ایک ایمان بڑھانے والی سچی داستان اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے انقلاب پیدا کرنے والی بشارت ہے

عادل آباد میں ایک مقبرہ

عادل آبا دکے جنگلات جو شیروں کے گھر، بورپچوں کے مسکن، ریچھوں کی آرام گاہ اور اپنی ہیبت ناک روایات کے لئے مشہور ہیں۔ ان کے قریب عادل آباد کی بستی میں ایک بزرگ کی اب بھی آرام گاہ ہے۔

اس گور مسکین، اس مزار غریب کا مکین عاشق احمد تھااور رحمان شاہ کے اسم سے موسوم تھا۔ رحمان شاہ فقیر اپنے پیچھے ایک ایسی تاریخ چھوڑ گئے ہیں۔ جو زندہ احمدیوں کے لئے ایک ایمان بڑھانے والی سچی داستان اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے انقلاب پیدا کرنے والی بشارت ہے۔

میرے دوست سلسلہ کے دیرینہ خادم، مسیحؑ پاک کے زمانہ میں بیعت کرنے والے مخلص دکنیوں میں سے ایک ڈاکٹر سیّد ظہور الاحمد صاحب نے جو کچھ مجھے بتایا اور فقیر خدا رسیدہ کی نسبت مجھے سنایا اُس کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔

رحمان شاہ کا بچپن

فقیر روشن ضمیر رحمان شاہ پنجاب کے کسی گاؤں میں جس کا نام انہوں نے نہیں بتایاایک ہندو زمیندار کے گھر پیدا ہوئے۔ بچپن سے طبیعت عبادت کی طرف مائل تھی۔ گھر میں تمول تھا لیکن اس بچہ کو فقیری زیادہ پسند تھی۔ گاؤں کے مولوی صاحب نمازیں پڑھتے تو یہ بچہ غور سے مولوی صاحب کو عبادت کرتے دیکھا کرتا۔ اور ایک دن متحیرّ ہوکر پوچھنے لگا۔ مولوی صاحب آپ یہ کیا کرتے ہیں۔ مولوی صاحب نے کہا۔ میرے عزیز میں خدا کی عبادت کرتا ہوں۔ اس عبادت سے خدا ملتا ہے۔ ہندو زمیندار کے نیک دل لختِ جگر نے عرض کیا۔ یہ خدا ملنے کا راستہ مجھے بھی سکھاؤ۔ مولوی صاحب نے عذر کیا اور کہا۔ کہ تم ریئس بچے ہو تمہارے باپ کو معلوم ہوا تو میرا اس جگہ رہنا محال ہوگا۔ لیکن نو عمر نونہال نے بڑے اطمینان سے کہا۔ نہیں۔ آپ کا بال بیکا نہ ہوگا۔ آپ مجھے نماز سکھا دیجئے۔ دس برس کی عمرمیں ہمارے ہیرو نے نماز سیکھ لی اور سچے دل سے لآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہ پڑھ لیا اور اسلام کا اس قدر والہ و شیدا ہوگیا کہ اب اس کا پوشیدہ رکھنا گناہ معلوم ہوا۔ مولوی صاحب کو بچانا بھی مقصود تھا۔ اس لئے یہ فیصلہ کیا کہ اب گھر بار ترک کروں اور فقیر ہوجاؤں۔ تنہائی میں نماز پڑھوں۔ خدا کو یاد کروں۔ سچا مسلمان بن کر مولا کا یار ہوجاؤں۔ ان اِرادوں کے ساتھ ایک صبح خاموشی سے ترکِ وطن کردیااور دشت نوَردی اختیار کی۔

فقیر سائیں سے ملاقات

اس تنہا سفر اور بادہ پیمائی اور تلاشِ یار میں سَرگردانی اور محویت نے کچھ دنوں تک تو کوئی اثر نہ کیا مگر آخر پیاس و بھوک نے مجبور کردیا۔ تاب مقاومت نہ رہی۔ ایک بستی بھی راستے کے قریب آگئی۔ اسلام کا عُسر و یُسر میں خدا پر بھروسہ کرنے والا فرزند، حقیقی فقیر ایک حلوائی کی دکان پر گیا اور اپنے دونوں ہاتھوں پر نظر کرکے جو دیکھا تو سونے کے کڑے اس ضرورت کو رفع کرنے کے لئے ایک سہارا معلوم ہوئے۔ کانوں سے سونے کی بالیاں اور ہاتھوں سے سونے کے کڑے اُتار لئے اور حلوائی کو پیش کرکے کہا۔ بابا یہ لے لواور مجھے کچھ کھانے کو دیدو۔ بنیئے کی بن آئی اور قیمتی زیورات لے کر بچے کو مٹھائی دیدی۔ فقیر نے پیٹ بھر کے مٹھائی کھائی، نماز پڑھی اور پھر راستہ لیا۔ چند کوس چلے تھے کہ ایک تکیہ نظر آیا۔ اس کے دروازے پر پہنچتے ہی ایک فقیر نے سلام کیااور کہا۔ بابا اندر آؤ۔ مُرشد بلاتے ہیں۔ رئیس زادہ فقیر مُرشد کے سامنے لایا گیا اور بوڑھے عمر رسیدہ مسلم مُرشد نے کہا۔ بیٹا آؤ۔ میں تمہارا منتظر تھا۔ تم آگئے اور ہم جائیں گے۔ آؤ اب اس گدّی کو سنبھالو۔ چند روز مُرشد کے پاس قیام کیا۔ اُن کی بیعت کی اور فقراءمیں رہنا شروع کیا۔ کہ یکایک ملک الموت نے مُرشد کو بلایااور فقیر سائیں نے رحمان شاہ کو اپنا قائمقام بنا کر داعی اجل کو لبیک کہا۔ اس طرح ہندو زمیندار کا بچہ چھوٹی عمر میں آغوشِ اسلام میں آکر ایک طرف مسلمانوں کا مُرشد بن گیااور دوسری طرف والدین ہر طرف تلاش کرکے مایوس ہوکر یہ سمجھ بیٹھے کہ اُن کی آنکھوں کا نُو رغائب ہوکر غالباً کسی درندے کی نظر ہوچکا ہے۔

دوسری مرتبہ قید سے رہائی

رحمان شاہ کچھ عرصہ مُرشد بنے رہےاور اپنے روحانی باپ کی جگہ تکیہ کا انتظام کرتے رہےاور خدّام کے خراجِ اطاعت وصول کرکے گدّی کے فرائض کی ادائیگی میں مصروف رہے۔ مگر جُوں جُوں جوانی آئی اُس کے ساتھ پُرانی آزادی نے پھر عَود کیااور اپنے آپ کو کہا۔ باپ کا گھر خدا سے ملنے کے لئے چھوڑا اور قید سے رہائی پائی اور اب یہ دوسری قید آئی۔ پس مناسب یہی ہے اس گدّی نشینی کو خیر باد کہوں اور صحرا نوَردی کرتے ہوئے پھر تنہائی میں مولا کی یاد کروں اور قید کی زنجیروں کو دوبارہ توڑ ڈالوں۔ یہ عزم کرکے ایک دن فقیروں سے نظر بچا کررحمان شاہ چل کھڑا ہوا۔ اور شمال سے جنوب کا راستہ لیا۔ جن ممالک میں اُس کے جدِّ اعلیٰ شری رام جی نے بِن باس لیا تھا۔

دکن کی سَیر

دکن میں آکر برسوں جنگلوں، پہاڑوں کی سَیر کی۔ سادھوؤں، سنیاسیوں کے ساتھ رہ کر جڑی بُوٹیوں کا علم حاصل کیااور طِبّ میں کمال پیدا کرلیااور بلدہ حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں وارد ہوئے۔ فقیر کی بے نیازی، پابندی مذہب، صفائی قلب، عبادت گذاری دکن کے اُمراءپر جو طبعاً فقیر پرست واقع ہوئے ہیں اثر کئے بغیر نہ رہی۔ ایک بڑے امیر نے اظہارِ اخلاص کیا اور اپنے مکان پر رہنے کے لئے مجبور کیا اور ہر طرح خاطر و مدارات سے پیش آنے لگے اور فقیر سائیں کے سامنے اپنے خاندانی تمول کا ایک نقشہ آنا شروع ہوا۔

تیسری مرتبہ قید سے رہائی

زندگی کے واقعاتِ پُرتغیّرات سےمملو سفر جو سالہا سال میں طے ہوا تھا۔ اُس فقیر نے نظر کی تو دو مرتبہ رہائی کے بعد اپنے آپ کو پھر مُقید پایا۔ اس لئے ایک رات آنکھ بچا کر نکل گئے اور دکن کے جنگلوں، پہاڑوں، وادیوں کی سَیر کرکے فقیروں کی سی صابرانہ زندگی بسر کرتے ہوئے اور عبادتِ الٰہی میں پتےّ کھا کر اور قدرتی نہروں کا پانی پی پی کر ایک زمانہ گزار دیا اور آخرش گوہرِ مقصود ملنے کا وقت آنے لگا۔ مختلف اہم واقعات زندگی میں پیش آئے۔ ایک مرتبہ پھر پنجاب کا سفر کیا۔ بوڑھی ماں سے ملے اور بھائیوں سے ملاقات ہوئی۔ اُن لوگوں نے بھی قید کرنا چاہا مگر رحمان شاہ ایسے شکار نہ تھے جنہیں معمولی صیاد اپنے دام میں لاسکتا۔ پھر دکن میں آگئےاور یادِخدا میں مصروف ہوئے۔

میر محبوب علی بادشاہ سے ملاقات

ہمارا نومسلم رئیس زادہ سلطنتِ رُوحانیت کا بادشاہ تھا۔ نہ اُسے بادشاہوں سے سَروکار، نہ اُمراء سے واسطہ، نہ دولت کی فکر، نہ آرام کی خواہش۔ خدا اُسے چڑیا کی خوراک دیتا تھااور وہ اُسے کھا کر کل کی فکر کے بغیر رَین بسر کرتا تھا۔ شاہی شکار گاہ کے خوفناک درندوں کی مہیب آوازوں کے پہنچنے کی جگہ میں فقیر کا ڈیرا تھا۔ فقیر کے دل میں خواہش ہوئی کہ آج اچھا کھانا کھائیے۔ ایک طرف منہ اُٹھایا اور چل پڑے۔ تھوڑی دُور چلے تھے کہ ایک درخت کے نیچے گرم گرم کھانا اور اُس کے ساتھ پانی موجود تھاجو کسی شخص نے اپنی منّت پوری کرنے کے لئے غالباً ابھی ابھی لاکر رکھا تھا اُس کی منّت خدا کو قبول ہوئی اور فقیر نے آکر بیٹھ کر مزے سے کھانا کھایا۔ کھانا کھا کر پیچھے لَوٹنا پسند نہ کیا۔ اپنا عصا سنبھال کاندھے پر رکھ اس شان کے ساتھ جو دُنیوی تاجروں کو میسّر نہیں۔ رحمان شاہ خراماں خراماں جنگل میں چل پڑے۔ کچھ دُور نکل جانے پر چند آدمی نظر آئے جو ہاتھ سے فقیر کو ایک طرف ہوجانے کا اشارہ کررہے تھے۔ لیکن فقیر نے اُن کی مطلق پرواہ نہ کی اور آگے بڑھتا گیا۔ اچانک کیا دیکھتا ہےکہ زرق برق لباس پہنے ہوئے چوبداروں اور خدّام کے درمیان ایک بااقتدار انسان آرہا ہے جس کی صورت سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمینی سلطنت کا تاجدار ہے۔ دکن کا محبوب بادشاہ فقیر دوست میر محبوب علی پیش قدمی کرکے فقیر سے سوال کرتا ہے۔ اور فقیراُس کا جواب دیتا ہے۔

سوال۔ کیا تم کو معلوم نہیں کہ میں کون ہوں؟ جواب۔ ہاں بابا تُو بھی میری طرح خدا کا ایک بندہ ہے۔ سوال۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ تمام زمین اور یہ تمام سلطنت میری ہے؟ جواب۔ بابا معلوم ہے۔ تیری نہیں۔ سب خدا کی ہے۔ فقیر کے اِن جَوابوں نے بادشاہ پر بے حد اثر کیااور وہ فقیر سائیں کو فقیر دوست بادشاہ اپنے خیمہ میں لے آیا۔ بڑی عزت کی اور آزمائش کے لئے شرابِ ناب کا ایک گلاس پیش کرکے کہا کہ شرابًا طہورا ہے۔ نوش فرمائیے۔ فقیر نے جواب دیا۔ بابا شیطان کا مُوت ہے فقیر نہیں پیتا۔ اور اُس کو پھینک دیا۔ اس بات نے بادشاہ پر اور اثر کیا۔ اور حکم شاہی ہوا کہ اس رحمان شاہ کو خاطر و عزت سے رکھا جائے۔ لیکن یہ خاطر و عزت فقیر کو پسند نہ تھی کیونکہ یہ پھر ایک نئی قید تھی۔ فقیر آنکھ بچا کر خیمہ سے بھاگ گیااور ایسا بھاگا کہ باوجود شاہی لشکر و خدّام کے تلاش کرنے کے کسی کونہ ملا۔

احمدی ڈاکٹر سے ملاقات

وقت آگیا۔ کہ قیس صحرا نوَردی کے بعد محملِ لیلیٰ کو دیکھے۔ اور محبوب حقیقی کا راستہ بتانے والے محبوب سے ملاتی ہو۔ جس جگہ آزادی قربان کی جاتی ہے اور جس گُل پر آزاد اُڑنے والی بُلبُل سَو جان سے نثار ہوجاتی ہے۔ وہ وصل کی گھڑیاں رحمان شاہ کو بھی میسّر ہوں۔ چنانچہ وہ شیدائے حسنِ ازل جنگلوں اور پہاڑوں میں پھرتا ہوا عادل آباد کی مسجد میں آگیااور بخار میں مبتلا ہوگیا۔ ڈاکٹر سیّد ظہور الا حمد صاحب احمدی جو عادل آباد کے ڈاکٹر انچارج تھے مسجد میں گئے تو فقیر کو شدید بخار میں مبتلا پایا۔ ڈاکٹر صاحب دوائی لینے کے لئے اسپتال میں آئے اور دوائی لے کر واپس گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ فقیر سائیں مسجد کے حوض میں غوطے لگا رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف نے متعجب ہوکر پوچھا۔ آپ کو تو بخار تھا۔ یہ کیا کررہےہیں؟ تو ہنس کر جواب دیا۔ بابا گرمی تھی غسل کرکے اُسے دُور کررہا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے نبض دیکھی تو بخار نہ تھا۔ اس طرح بخار تو اُتر گیا مگر نقاہت تھی۔ بیمار کا علاج بغیر دَوا کے ہوگیا مگر ڈاکٹر صاحب کو اُس وقت تک چَین نہ پڑا جب تک فقیر کو اپنے گھر پر نہ لے آئے۔ سائیں جی جو اَب شاہ صاحب کہلاتے تھے۔ سیّد صاحب احمدی کے گھر میں آکر رہنے لگے۔

قادیان کا سفر

شاہ صاحب احمدی کے گھر پر تھے اور یہ وہ وقت تھا جبکہ کُفر کے فتووں کا زور تھا۔ اور گو مسلمانوں کی ریاستوں میں اور مسلمانوں کے ملکوں میں احمدیوں کا رہنا دشوار تھا مگر سلطنتِ حیدرآباد میں گورنمنٹ ملازمین پر مذہب کی وجہ سے کوئی پابندی نہ تھی۔ اس لئے ڈاکٹر صاحب کے مکان پر احمدیت کا چرچا دن رات رہتا تھا۔ شاہ صاحب بھی توجہ سے سُنتے رہتے۔ ایک دن ڈاکٹر صاحب سے پوچھا۔ سیّد صاحب یہ کیا معاملہ ہے؟ مجھے بھی بتاؤ۔ سیّد صاحب نے ظہو رِمہدی نزولِ مسیح موعودؑ کی بشارت رحمان شاہ کے گوش گزار کردی۔ فقیر نے جونہی سنا کہ آسمان پنجاب کے گاؤں قادیان کی زمین سے قریب ہوگیا ہے تو وہ بٹالہ کے پرگنے میں آنے والے زمیندار گورو کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا اشتیاق لے کر دکن سے روانہ ہو پڑے۔ دارالامان قادیان پہنچ کر مسیحؑ پاک کی زیارت کی۔ دل تو نُورِ ایمان سے منّور تھا۔ آنکھیں بھی خدا نے بصیرت کے ساتھ مزیّن کی تھیں۔ اس لئے چہرہ انور کو دیکھتے ہی اپنی تمام آزادی بھول گئے اور کشتۂ مژگان ہوکر اپنے تئیں مسیحؑ پاک کے غلام سمجھنے لگ گئے اور سچے دل سے آمَنَّا کہہ دیا مگر خیال آیا کہ بیعت تو ایک دفعہ پہلے فقیر سائیں کی بچپن میں کرچکا ہوں اور اُن کا سجادہ نشین بھی بن گیا تھا۔ اب بیعت کی کیا ضرورت ہے۔ اِسی خیال میں چند روز گزرے۔ بیعت کرنے میں کشمکش تھی۔ کیا دیکھتے ہیں کہ رؤیا میں فقیر سائیں یعنی مُرشدِ اوّل جو سب سے پہلے ملے تھے اور جنہوں نے اپنا قائمقام بنایا تھا۔ قادیان آئے اور کہتے ہیں۔ بیٹا سُورج کے سامنے سِتاروں کی کیا ضرورت۔ پس ہماری بیعت کے باوجود مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرو۔ فقیر سائیں کی نصیحت پر عمل ہوا۔ اور شاہ صاحب مسیحؑ پاک کی بیعت میں داخل ہوکر زُمرۂ مومنین میں شامل ہوئے۔ اور اپنے آقا سے رخصت لے کر دکن میں واپس تشریف لے آئے اور خدمت احمدیت اپنا فرض سمجھنے لگے۔

شاہ صاحب کے آخری ایّام

عادل آباد پہنچ کر شاہ صاحب کی زندگی میں ایک تغیّر تھا۔ آزاد فقیر اب پابند معلوم ہوتا تھاجو دنیا کے تمام تفکرات سے آزاد تھا۔ وہ اب ایک فکر کا پابند ہے۔ جس کا اہل و عیال نہ تھا اب ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اُس کا کوئی گھر ہے اور گھر میں گھر والے ہیں جن کی اِمداد شاہ صاحب پر واجب ہے۔ پیارے شاہ صاحب طبیب تھے۔ جڑی بوٹیوں سے علاج کرتے تھے۔ خدا نے اُن کے ہاتھ میں شِفا رکھی تھی۔ لوگ مفت دوائی کے عادی تھے مگر تبدیل شدہ شاہ صاحب ہر مریض سے پوچھتے۔ بابا شِفا ہونے پر کیا دو گے؟ مریض ایک منّت مانتا۔ گو اُسے بہت تعجب ہوتا۔ مگر شِفا ہوجانے پر جب نذر پیش ہوتی تو شاہ صاحب فرماتے۔ دیکھو بابا انگریزی ڈاکخانہ میں جاؤایک منی آرڈر فارم لو اور اُس پر لکھو ’’حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیان پنجاب‘‘اور یہ نذر ہمارے مُرشد کو بھیج دو۔ رحمان شاہ آخری دنوں میں اپنے چندے کی ادائیگی میں ایک نمونہ تھے۔ اور آزاد فقیر سائیں مسیح موعودؑ کی بیعت کے بعد ہر طرح پابند تھا۔ اُن کا خاتمہ خدا نے مسیح موعودؑ کی غلامی پر کیا۔ بچپن سے لے کر بڑھاپے تک اُن کی قربانیاں خدا نے قبول کرلیں۔ جس غرض سے نماز سیکھی تھی۔ جس شوق سے خدا سے وصال حاصل کرنے کی تمنّا اُن کی زندگی میں تغیّرات پیدا کرنے کا موجب ہوئی تھی وہ شوق فصل کے بعد وصل سے تبدیل ہوگیااور شاہ صاحب احمدی ہوکر اپنے محبوبِ حقیقی سے وصال پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ۔ دکن کی سَرزمین میں اُن کا مقبرہ آئندہ فتوحاتِ احمد کا پیش خیمہ ہے۔ جو لوگ اِس سچی داستان کو پڑھیں گے اُن کا ازدیادِ ایمان ہوگا۔ اور میری درخواست ہے کہ وہ رحمان شاہ دکن کے لئے دعا کریں تا خدا تعالیٰ اس اسلامی سلطنت کو دونوں طرح حقیقی اسلامی سلطنت بنادے اور دکن کے لوگوں کو رحمان شاہ کا نمونہ بننے کی توفیق ملے۔ اِلٰہی تُو رحمان شاہ پر ہزار ہزار رحمتیں نازل کر اور میری بھی تائید کر اور جو بیج آج بویا جارہا ہے اِس کو ثمر وَر کر تا دکنی لوگ اِس ثمر کو کھائیں اور احمدیت کی تعلیم سے بہرہ وَر ہوکر اسلام کے خادم بن کر خاتمہ بالخیر کی سعادت حاصل کریں۔ آمین ثم آمین

(اخبار الفضل قادیان 24؍جولائی 1930ء)

(مرسلہ: مبارک احمد بسرا۔ مبلغ سلسلہ بریڈ فورڈ یوکے)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button