متفرق مضامین

لیلة القدر کا حصول

(ابو حمدانؔ)

لیلۃ القدر سے یہ سبق مل سکتے ہیں، اول یہ کہ جو انسان خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ ابتدا سے کام کرے گا اس کا انتہا اچھا ہو گا اور دوم یہ کہ اگر کسی کے لئے لیلۃ القدر کی حالت پیدا نہیں ہوتی تو معلوم ہوا گو اس کا پہلا زمانہ بظاہر اچھا معلوم ہوتا تھا اور وہ اچھے کام کرتا نظر آتا تھا مگر اس میں کچھ ایسے نقص تھے کہ جن کی وجہ سے اس کی خدمات قبول نہ ہوئیں

مومنین اور مخلصین کےلیے تو رمضان المبارک کی آمد کا جس شدت سے انتظار ہوتا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پیاسا برسوں کسی کنویں کی تاک میں بیٹھا منتظر ہے اور دور سے اسے اپنی طرف آتا ہوا دیکھ تو رہا ہے مگر بے بسی ہے کہ کنویں کے پہنچنے میں ابھی وقت ہے۔چنانچہ اسی جستجو میں مومن کو رمضان آلیتا ہے۔مگر حیرت کی بات ہے کہ وہ رمضان جس کا اتنی شدت سے انتظار تھا آنے کے بعد اتنی سرعت سے کوچ کرجاتا ہے کہ فانی فی اللہ وجود تو حسرت ہی لیے رہ جاتے ہیں کہ کاش یہ پل ، یہ دن اور یہ مہینہ طویل سے طویل تر ہوتا چلاجاوے۔

اللہ تعالیٰ نے انہی کیفیات کو بھانپتے ہوئے جاتے جاتےرمضان کے منتظر اور متلاشی عشاق کےلیے لیلةالقدرکا تحفہ رکھ چھوڑا۔البتہ جستجو اور تمنا بڑھائے رکھنے اور مسلسل کوشاں رکھنے کےلیے اس بابرکت رات کا مکمل پتا نہ بتلایا۔ بلکہ بتا کر بھلادیا تا لوگ اسے حسب جستجو اور محنت تلاش کرسکیں۔البتہ یہاں طبعاً ایک سوال اٹھتا ہے کہ آیا لَیْلَۃُ الْقَدْرکوئی معین رات ہے اور کیا یہ وہی رات ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا۔تو اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:’’یہ امر تو ثابت شدہ ہے کہ قرآن کریم رمضان میں نازل ہونا شروع ہوا لیکن یہ امر واقعی طور پر ثابت نہیں کہ رمضان کی کس رات میں قرآن کریم کے نزول کی ابتداء ہوئی۔ بعض سترہ رمضان کی بتاتے ہیں اور بعض انیس رمضان کی اور بعض چوبیسویں رمضان کی قرار دیتے ہیں ۔ غرض اس بارہ میں اس کے سوا کہ آخری پندرہ تاریخوں میں سے کسی تاریخ قرآن کریم اترا تھا اور کوئی یقینی بات ثابت نہیں لیکن ہر رمضان میں جو لَیْلَۃُ الْقَدْر آتی ہے اس کے بارہ میں احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ آخری عشرہ میں سے کسی رات میں آتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لَیْلَۃُ الْقَدْر سے مراد معین طور پر وہ رات نہیں جس میں قرآن کریم اترا بلکہ صرف ایک ایسی رات مراد ہے جو نزول قرآن کی یاد میں خدا تعالیٰ نے بطور علامت مقرر فرمائی ہے۔…

…اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں کیا گیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ گو یہ رات نزول قرآن کی یاد میں ہے مگر قرآنی طریق کے مطابق اس سے مزید فائدہ بھی اٹھا لیا گیا ہے ۔کسی واقعہ کی یاد کے لئے کسی آس پاس کے دن کو مقرر کر دیا جائے تو وہ دن وہی فائدہ دیتا ہے جو فائدہ نزول کے دن اس یادگار کو منانا۔ لیکن اگر ایک ہی رات ہمیشہ کے لئے مخصوص کر دی جائے تو عبادت کی وہ کثرت نہیں ہو سکتی جو غیر مخصوص صورت میں ہو سکتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی یاد کو آخری عشرہ میں کسی رات میں مقرر کر کے یہ فائدہ مسلمانوں کے لئے پیدا کر دیا کہ بجائے ایک دن کے وہ دس دن جوش و خروش سے عبادت کریں۔ اگر وہ ایک دن کو لَیْلَۃُ الْقَدْر مقرر کر دیتا تو کمزور آدمی صرف ایک رات عبادت کر کے خوش ہو جاتا لیکن اس صورت میں کم سے کم دس راتیں تو وہ عبادت میں لگا رہے گا کیونکہ اسے خیال ہو گا کہ شاید یہ رات لَیْلَۃُ الْقَدْر ہو۔ یا شاید وہ ہو۔ اور اس طرح ایک رات کی جگہ دس راتیں متواتر قرآن کریم کے نزول کی نسبت اور اس کی برکات کی نسبت سے غور کرنے کا موقعہ ملتا رہے گا اور ان راتوں میں سے ہررات کو لَیْلَۃُ الْقَدْرِ کا خیال آتا رہے گا اور لَیْلَۃُ الْقَدْرِ کا خیال آتے ہی قرآن کریم کے نزول اور اس کی برکات کی طرف اس کا ذہن چلا جائے گا اور یہ ایک بہت بڑی برکت اور روحانی فائدہ والی بات ہے۔

آخری عشرہ میں لَیْلَۃُ الْقَدْر کو مقرر کرنے میں یہ حکمت ہے کہ خدمت کے ایام کا آخری وقت ہی انعام کا وقت ہوتا ہے۔

اس وقت تک میں نے یہ بتایا ہے کہ احادیث میں مذکورہ لَیْلَۃُ الْقَدْر بھی ایک جہت سے اسی لَیْلَۃُ الْقَدْر سے تعلق رکھتی ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا تھا اور یہ کہ ان معنوں کے رو سے اصل لَیْلَۃُ الْقَدْرِ وہی رات ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا تھااو رصرف اس کی یاد تازہ رکھنے کے لئے اور اس عہد کو تازہ کرنے کے لئے جو نزول قرآن کریم کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اس اُمت سے باندھا تھا اس نے لَیْلَۃُ الْقَدْر مقرر کی ہے اور اس فائدہ کو مدنظر رکھ کر کہ اُمت کے کمزور لوگ بھی کم سے کم دس راتیں تو خوب عبادت کر لیں اس نے رمضان کی آخری دس راتوں میں اسے چھپا دیا ہے اور معین رات مقرر نہیں کی۔ تا کہ اس کا قیام صرف ایک رسم ہو کر نہ رہ جائے جسے اسلام بہت ناپسند کرتا ہے۔ اب جو چاہے رمضان کی آخری راتوں میں اسے تلاش کر سکتا ہے۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے فضل کو دس راتوں میں تلاش کرے گا اسے دین کے ساتھ پہلے سے زیادہ لگاؤ ہو جائے گا اور اس کے دل میں دین کی محبت پیدا ہو جائے گی اور اس سے یہ امید کی جا سکے گی کہ پہلی غلطیوں کو چھوڑ کر پورے طور پر خدا تعالیٰ کی طرف جھک جائے اور کسی وقت اس کی ہر رات ہی لَیْلَۃُ الْقَدْر ہو جائے گی۔‘‘(تفسیر کبیر جلد 9صفحہ 324تا328)

پھر انفرادی لیلة القدر اور اجتماعی لیلة القدر کی تفصیل بیان کرتے ہوئے آپؓ نے فرمایا:’’عبداللہ بن مسعود ؓاور دوسرے بزرگان دین سے جو یہ روایت ثابت ہے کہ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ سال میں سے کسی رات کو ظاہر ہو سکتی ہے اس کے یہی معنے ہیں کہ انفرادی لَیْلَۃُ الْقَدْر سال میں کسی وقت آسکتی ہے ورنہ اُن کا یہ منشاء نہیں کہ رمضان میں یہ لَیْلَۃُ الْقَدْرنہیں ہوتی۔ کیونکہ خود ان کی دوسری روایات میں رمضان کے آخری عشرہ میں لَیْلَۃُ الْقَدْرِ کے ظاہر ہونے کا ثبوت ملتا ہے چنانچہ وہ روایات اوپر نقل کی جا چکی ہیں ۔ ہم یہ تو خیال بھی نہیں کر سکتے کہ عبداللہ بن مسعودؓ نے رسول کریم ﷺ کے قول کو رد کر دیا۔ صحابہ ؓ سے اس بات کی ہرگز امید نہیں کی جا سکتی ہے ۔ پس ان کے اس قول کے کہ سال کے کسی حصہ میں بھی لیلۃالقدر آسکتی ہے یہی معنے ہو سکتے ہیں کہ فردی لَیْلَۃُ الْقَدْرسال کی کسی رات کو آسکتی ہے نہ یہ کہ جماعتی لَیْلَۃُ الْقَدْر جسے وہ خود بھی رسول کریم ﷺ کی روایت سے رمضان کی آخری راتوں میں قرار دے چکے ہیں ۔…اصل طریقہ یہی ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ سے سارے رمضان میں دعائیں کرتا رہے اور اخلاص سے روزے رکھے پھر اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی رنگ میں اس پر لَیْلَۃُ الْقَدْرکا اظہار کر دیتا ہے۔‘‘(تفسیر کبیر جلد 9صفحہ 328۔329)

کیا لیلة القدر جنت کی ضامن ہے؟ اس پر روشنی ڈالتے ہوئےحضرت مصلح موعودؓ نے کمال نقطہ بیان فرمایا ہے۔ فرمایا: ’’…یہ ضروری نہیں کہ آخری عشرہ میں ہی وہ رات آئے۔ لیکن رسول کریم ﷺ کے کلام سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ اور بعد میں آنے والے صلحاء اور اولیاء اللہ کے تجربہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ رات بالعموم آخری عشرہ رمضان میں آتی ہے۔…یہ تو ایک منٹ کے لئے بھی کبھی خیال نہیں کیا جا سکتا کہ رسول کریم ﷺ کا منشاء یہ ہے کہ اس گھڑی میں جو رمضان کے آخری عشرہ کی کسی را ت میں آتی ہے جو آدمی جو کچھ بھی مانگے وہ اسے مل جاتا ہے۔ کیونکہ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے۔ تو پھر دین کے معاملہ میں ا من و امان اٹھ جاتا ہے۔ اور لیلۃ القدر اس دعائے گنج العرش کی طرح رہ جاتی ہے۔ جس کے متعلق جاہلوں میں یہ خیال پھیلا ہوا ہے کہ وہ ایسی دعا ہے۔ جس سے انسان جو چاہے حاصل کر سکتا اور ہر قسم کی تکلیف سے بچ سکتا ہے۔…تو نادانوں کی یہ دعا نکالی ہوئی ہے اگر لیلۃ القدر بھی اسی کی طرح ہوکہ خواہ کوئی ڈاکہ ڈالے، چوری کرے، قتل کرے،انبیاء کو گالیا ں دے، شریعت کے کسی حکم پرعمل نہ کرے۔ لیکن اس رات دعا مانگ لے تو انبیاء کی دعائیں رد ہو جائیں مگر اس کی دعا رد نہ ہو گی۔ تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ پھر کسی کو نیک اعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مثلاً ایک شخص اس رات یہ دعا مانگ لے کہ میں جو چاہوں کروں لیکن جاؤ ں جنت کے سب سے اعلیٰ مقام میں اور اعلیٰ درجہ میں اور یہ دعا ضرور قبول ہونی ہے۔ تو پھر خواہ وہ کچھ کرے جنت میں ہی جائے گا۔ مگر یہ بات اسلام کی تعلیم اور اسلام کے مغز کے قطعاً خلاف ہے۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ 9؍اپریل 1926ءمطبوعہ خطبات محمود جلد10صفحہ128تا129)

پس خداتعالیٰ نے جہاں فرمایا: اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الۡقَدۡرِ وہیں یہ بات بھی عیاں کردی کہ قرآن کریم اور لیلةالقدر کا ساتھ ہمیشہ کا ہے اور لازم وملزوم کی طرح یہ ایک دوسرے سےجدا نہیں ہوسکتے۔ چنانچہ لیلة القدر کو سمجھنے، اس تک پہنچنے اور اس کا بھرپور ادراک رکھنے کےلیے بھی قرآن کریم پر عمل کا راستہ اپناناہوگا۔ حضرت مصلح موعودؓ مزید فرماتے ہیں کہ ’’رسول کریم ﷺ نے جو یہ فرمایا ہے کہ اس رات میں ایک خاص گھڑی ہوتی ہے جب کہ برکات نازل ہوتی ہیں ۔ اور خصوصاً جمعہ کی رات کو اس سے بڑا تعلق ہے تو اس کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ اس گھڑی میں خواہ کوئی دعا کی جائے خدا تعالیٰ کو ضرور منظور کرنی پڑتی ہے اور وہ اسے رد نہیں کر سکتا۔ بلکہ اس کے لئے کچھ حدبندی کرنی پڑے گی۔ جس کے ماتحت اس وقت دعائیں قبول ہوتی ہیں …۔

پس رمضان المبارک کا آخری عشرہ بھی بعض حدبندیوں کے ماتحت آئے گا اور جب یہ بات تسلیم کی جائے گی۔ تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس عشرہ میں آنے والی خاص گھڑی سے وہی فائدہ اٹھائے گا جس کے دوسرے اعمال بھی اچھے ہوں گے۔ اور جو دوسرے ایام میں بھی اپنے اندر صلاحیت رکھتا ہو گا۔ یعنی وہی اس سے فائدہ اٹھائے گا جو اپنے اعمال کی رو سے اس کا مستحق ہو گا۔ پھر یہ حد بندی لگانے پر یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ لیلۃ القدر ہر انسان کے لئے نہیں ہے۔بلکہ اس کے لئے ہے جو خود اسے اپنے لئے پیدا کرتاہے۔ یہ نہیں کہ اس عشرہ میں وہ خاص گھڑی اس لئے رکھ دی گئی ہے کہ جو چاہے اس سے فائدہ اٹھا لے۔ بلکہ یہ کہ جو لوگ اپنے اعمال کے لحاظ سے اس کے مستحق ہوتے ہیں ان کے لئے یہ بنائی جاتی ہے۔ پس یہ بات خوب اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے۔ کہ لیلۃ القدراس رات میں پیدا نہیں کی جاتی جس کی طرف منسوب ہوتی ہے۔ بلکہ پچھلے سال اور پچھلے مہینے اسے بناتے ہیں ۔ جس کے پچھلے اعمال اعلیٰ ہوں گے ۔ اسی کے لئے لیلۃ القدر ہو گی۔

اس سے معلو م ہوتا ہے کہ لیلۃ القدر میں یہ اشارہ ہے کہ جس کے ابتدائی ایام نیکی میں گذرتے ہیں ۔ اس کے انتہائی ایام میں بھی خدا تعالیٰ کی تائید اس کے شامل حال ہو جاتی ہے۔جیسا کہ رمضان کے ابتدائی ایام میں جو خداتعالیٰ کی عبادت کرتا ہے۔ اس کے لئے آخری ایام میں ایسا وقت آتا ہے کہ خدا اس کے لئے فضل نازل کرنے کا خاص موقعہ رکھتا ہے۔ پس لیلۃالقدر میں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اگر انسان اپنی زندگی کی ابتدائی گھڑیوں کو خدا تعالیٰ کی رضا میں صَرف کرے۔ تو اس کی انتہائی گھڑیاں خدا تعالیٰ خود اپنی رضا میں صرف کرا لے گا۔ اگر کوئی شخص اپنے طاقت کے ایام میں خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تو اس وقت جب کہ بڑھاپے کی وجہ سے اور کمزور ہو جانے کے باعث خدا تعالیٰ کی خاطر جسمانی اور مالی قربانی نہ کر سکے گا۔ خدا تعالیٰ خود اس سے کرا لے گا۔

پس رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں جس لیلۃ القدر کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ دراصل انسان کے انجام کی طرف اشارہ ہے۔ اگر ایک انسان نے متواتر خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کی۔ اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کی۔ تو جب اس پر ایسا زمانہ آئے گا۔ جب وہ اپنی ناطاقتی کی وجہ سے خدمت دین میں حصہ نہ لے سکے گا۔ تو خدا تعالیٰ خاص طور پر اس کی مدد فرمائے گا۔ اور اس کی باتوں میں وہ اثر پیدا کر دے گا۔ جو دوسروں کے کاموں میں بھی نہیں ہو گا۔ کیونکہ اس نے اپنی ساری عمر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول میں خرچ کر دی۔ اور دوسرے ابھی امتحان میں ہیں ۔ نہ معلوم ان کا کیا نتیجہ ہو۔ پس لیلۃ القدر اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایک انسان جس نے اپنی ساری عمر خداتعالیٰ کی رضا اور اس کے دین کی خدمت میں صرف کر دی وہ کمزور ہو جانے کی وجہ سے جب جہاد کے لئے نہیں جا سکے گا۔ یا مالی قربانی نہیں کر سکے گا۔ اس وقت اس کے دل میں جو نیک ارادے پیدا ہوں گے۔ ان کا ہی اس کو اتنا ثواب ملے گا۔ جو جوانوں کو ان کے کاموں کا نہیں ملے گا۔ کیونکہ ان کی زندگی کی تو ابھی ابتدا ہوئی ہے۔ اور وہ اپنی زندگی اور قویٰ خرچ کر کے انتہا کو پہنچ چکا ہے۔

پس لیلۃ القدر پیدا کی جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں کام کرنے والوں کے انجام کی خوبی کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ مگر دوسری طرف اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی کا انجام اچھا نہیں ہو گا تو معلوم ہوا۔ اس کی ابتدا بھی اچھی نہ تھی۔ اور اس کی ابتدائی خدمات نیک نیتی اور خلوص پر مبنی نہ تھیں ۔

پس لیلۃ القدر سے یہ سبق مل سکتے ہیں ۔ اول یہ کہ جو انسان خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ ابتدا سے کام کرے گا۔ اس کا انتہا اچھا ہو گا۔ اور دوم یہ کہ اگر کسی کے لئے لیلۃ القدر کی حالت پیدا نہیں ہوتی۔ تو معلوم ہوا۔ گو اس کا پہلا زمانہ بظاہر اچھا معلوم ہوتا تھا۔ اور وہ اچھے کام کرتا نظر آتا تھا۔ مگر اس میں کچھ ایسے نقص تھے کہ جن کی وجہ سے اس کی خدمات قبول نہ ہوئیں ۔ اور خداتعالیٰ نے اس کے اعمال کے تسلسل کو جاری نہ رہنے دیا۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ 9؍اپریل 1926ء مطبوعہ خطبات محمود جلد10صفحہ129تا132)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button