تعارف کتاب

کتب مینار: سَتْ اُوپدیش (مصنفہ حضرت شیخ محمد یوسف صاحب رضی اللہ عنہ) (قسط 17)

(اواب سعد حیات)

میں تحدیث بالنعمہ کے طور پر کہہ سکتا ہوں کہ اس جواب کی تیاری میں اللہ تعالیٰ نے میری خاص نصرت و تائید سےمدد فرمائی… آپ دیکھیں گے کہ اس کتاب میں کس قدر حوالہ جات جمع کردیئے گئے ہیں اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو ایسی ٹھوس کتاب کا دو دن میں تیار کردینا بہت مشکل تھا

اس کتاب کے مؤلف و مرتب موصوف حضرت سردار شیخ محمد یوسف صاحب رضی اللہ عنہ کی ولادت 1889ء کو ہوئی۔ آپ سکھوں سے احمدی ہوئے، 1905ء میں تحریری بیعت کی سعادت پائی اور پھر وسط 1906ء میں قادیان آکر حضرت مسیح موعودؑ کے دست مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل کی۔ قبول احمدیت سے قبل بلوچستان میں ملازمت کرتے رہے۔

آپؓ کا پیدائشی نام سورن سنگھ اور وطن امرتسر تھا۔ آپؓ نے قادیان میں تعلیم الاسلام ہائی سکول میں بطور ملازم خدمات کی توفیق پائی۔ حضرت مسیح موعودؑ کی تصنیف ’’چشمۂ معرفت‘‘ میں سکھ مذہب کے لیے مواد اکثر و بیشتر حضرت شیخ صاحبؓ ہی نے مہیا کیاتھاجس پر حضورعلیہ السلام نے بہت خوشنودی کا اظہار فرمایا۔

خلافت اولیٰ کے عہد میں آپ نے سکھوں میں دعوت الیٰ اللہ اور سکھ مسلم اتحاد کی غرض سے ایک اخبار ’’نور‘‘ شروع کیا جو تقسیم ملک کے بعد کےابتدائی برسوں تک آپ کی ادارت میں باقاعدہ جاری رہا۔ 6؍مئی 1952ء کو بعمر 64سال آپؓ کا انتقال ہو گیا۔ حضرت مصلح موعودؓ کے خصوصی ارشاد پر آپ بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ خاص کے پہلو میں سپردخاک ہوئے۔

علاوہ دیگر متنوع اورقابل قدر تبلیغی وتحقیقی لٹریچر کے آپؓ نے قرآن مجید کے تراجم اور رسول مقبولﷺ کی سیرت مقدسہ شائع کرنے کی سعادت پائی۔

مصنف کی زیر نظر کتاب ’’ست اوپدیش‘‘کے پس منظر کی تلاش میں ہمیں ملتا ہے کہ سن 1921ء کی بات ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا اپنا بیان ہے کہ ’’24جون رات کے 9بجے میں اپنے معزز کرمفرما جناب خان بہادر میرزا سلطان احمد صاحب کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ جناب میرزا صاحب ایڈیٹر لائل گزٹ کی ایک تصنیف موسومہ بہ تکذیب اٹھا لائے اور اس میں سے بعض مقامات سے پڑھ کر سنایا اور مجھے اس کے جواب کے لئے ارشاد فرمایا۔ میں نے عرض کی کہ جو شخص ست بچن اور باوانانک کا مذہب نامی کتب اور اس تکذیب کو پہلو بہ پہلو رکھ کر پڑھے گا وہ خود اس نتیجہ پر پہنچ جائے گا کہ ایڈیٹر لائل گزٹ کی اس تکذیب کی برہان قاطع اور دلیل ساطع کے سامنے اتنی بھی حقیقت نہیں جو آفتاب عالمتاب کے سامنے ایک ٹمٹماتے ہوئے چراغ کی ہوتی ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ کوئی شخص بالالتزام اور بالاستیعاب ان کتب کو پہلو بہ پہلو رکھ کر پڑھے۔ اس لئے آپ یہ کتاب مجھے دیں اور میں اس کا جواب دوں گا۔ اور ان شاء اللہ تعالیٰ بہت جلد دوں گا۔ چنانچہ میں نے 25جون 1921ء صبح 8 بجے جواب لکھنا شروع کیا اور شام 4بجے تک نصف کتاب کا جواب مکمل کردیا، خیال تھا کہ میں 26کو جواب مکمل کردوں گا۔ مگر 10 بجے کے قریب میرے دیرینہ کرمفرما منشی نور محمد صاحب گرداورقانونگو بلوچستان تشریف لے آئے اوران سے قریباً ڈیڑھ دوگھنٹہ گفتگو رہی اور پھر اس کے بعد عزیزم مکرم شیخ محموداحمد صاحب او مکرم شیخ محمد اسماعیل صاحب سرساوی تشریف لے آئے اور قریباً دو گھنٹہ تک ان سے مختلف امور پر تبادلہ خیالات رہا اس وجہ سے 26 کا دن اسی طرح گزر گیا اور کام بہت کم ہوا۔ 27 صبح کو میں 7 بجے بیٹھا اور خدا کے فضل سے 12 بجے تک جواب مکمل کردیا جو حاضر خدمت ہے۔

میں تحدیث بالنعمہ کے طور پر کہہ سکتا ہوں کہ اس جواب کی تیاری میں اللہ تعالیٰ نے میری خاص نصرت و تائید سےمدد فرمائی۔ باوانانک کا مذہب نامی کتاب مارچ 1919ء کو شائع ہوئی اور اس کا جواب جون 1921ء یعنی دو سال تین ماہ کے بعد شائع ہوتا ہے مگر اس کے جواب کی تردید کے لئے اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے مجھے دو دن میں توفیق دے دیتا ہے اور ایک عاجز بندہ محض اس کی دستگیری اور فضل کے بھروسہ سے دو دن میں اس کا جواب تیار کر دیتا ہے اور پھر آپ دیکھیں گے کہ اس کتاب میں کس قدر حوالہ جات جمع کردیئے گئے ہیں اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو ایسی ٹھوس کتاب کا دو دن میں تیار کردینا بہت مشکل تھا۔ ذالک فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشاء واللّٰہ ذوالفضل العظیم‘‘(دیباچہ صفحہ اول و دوم)

یہ کتاب پہلی بار قریشی محمد علی صاحب رونق پرنٹر و کیپر انوارالقریش پریس امرتسر سے شائع کی گئی اور کاتب کی لکھائی کے کل 80 صفحات پر مشتمل ہے۔ جس میں کتاب تکذیب میں درج باتوں کے مدلل اور باحوالہ جوابات کے علاوہ قرآن کریم کے گورمکھی ترجمہ کا اشتہار، تبلیغ کے لیے نور بک ڈپو کی مفید کتب کی فہرست، ایک عرض حال بھی شامل ہے۔ جس میں کتابت و کاغذ کی گرانی اور دوسری مشکلات کا ذکرکیا گیا ہے۔ اور بتایا ہے کہ کتاب تکذیب کےاصل جواب کا مضمون تو 120صفحات پر ختم ہونا تھا مگر کفایت کی وجہ سے بہت اختصار کیا گیا ہے اور اس اختصار میں مکرم معظم پیر سراج الحق صاحب نعمانیؓ نے مدد دی ہے۔

اس عرض حال میں فاضل مصنف نے مزید لکھا جو ان کے اعلیٰ اخلاق پر بھی روشنی ڈال رہا ہے: ’’ایڈیٹر لائل گزٹ کی کتاب میں بہت مرارت اور سخت گوئی ہے مگر میں نے اس طرح جواب دینا پسند نہیں کیا حالانکہ میں بھی ایڈیٹر ہوں اور قلم دوات اور کاغذ میرے پاس بھی ہے اور منہ میں زبان بھی رکھتا ہوں میں چاہتا تو ان سے آگے رہتا۔ چونکہ یہ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے اور ماسوا اس کے ایڈیٹر صاحب میرے بھائی ہیں ہم ایک وقت بے تکلف دوست تھے۔ انہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔ اس وقت بھی میرے پاس درجنوں خطوط ہوں گے بغیر محبت کے کسی کا کوئی ایک خط نہیں رکھ سکتا۔ بھائی صاحب فطرتا ًبرے نہیں مگر حالات سے مجبور ہیں اور میں تو خطرناک دشمن سے بھی سختی کو پسند نہیں کرتا پھر بھائی امر سنگھ صاحب کے لئے میں اپنے فرض کو کیوں چھوڑوں۔ مجھے بھائی کا لفظ زیادہ پیارا اور موزوں لگتا ہے اس لئے سردار کی بجائے بھائی کے لفظ کو ترجیح دی۔ امید ہے کہ بھائی صاحب امر سنگھ بھی اسے پسند کریں گے۔ محمد یوسف ایڈیٹر نور‘‘

مصنف موصوف نے کتاب کے صفحہ 5پر لکھا ہے کہ’’بھائی امر سنگھ صاحب کی کتاب اپنے مضمون کے لحاظ سے تین حصص پر منقسم ہے (1) سخت گوئی اور دشنام دہی (2) بےتعلق شلوک و اقوال (3) نفس مضمون پر بحث۔ سو میں نے پہلی شق یعنی دشنام دہی اور سخت گوئی کو بالکل نظر انداز کردیا ہے اورمیں اس کا کوئی جواب نہیں دوں گا۔ گالیاں دینا کوئی خوبی نہیں اس لئے میں کسی کی خاطر اپنے اخلاق کو بگاڑنا نہیں چاہتا۔ اگر بھائی صاحب اس دشنام دہی سے اپنی جیت سمجھتے ہیں تو انہیں مبارک ہو۔

ہمیں ہمارا پیارا اسلام یہ تعلیم دیتا ہے: ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ۔ (النحل: 126)

ہاں وہ لوگ جو اس تعلیم سے محروم ہوں ان بیچاروں کی حالت قابل رحم ہے۔ اس لئے بدوں کسی نوٹس کے ان گالیوں اور سخت گوئی کے تحفہ کو بھائی صاحب کی طرف عطائے تو بہ لقائے تو بخشیدم لوٹاتا ہوں۔ اور بھائی صاحب کی ہی گل دستار ہونے کے قابل سمجھتا ہوں۔ دوسرے وہ اقوال جن کا تعلق براہ راست نفس مضمون سے کوئی نہیں۔ ان کو زیر بحث لانا تضیع اوقات تھا۔ اس لئے میں نے اس کو بھی نظر انداز کردیا ہے۔ ہاں وہ اقوال اور شلوک جن کا تعلق براہ راست نفس مضمون سے ہے ان پر میں نے خدا کے فضل سے بخوبی ریویو کردیا ہے اور ناظرین ان شاء اللہ اس نتیجہ پر پہنچ جائیں گے کہ معترض کو اس کا گھر دکھلانے کے لئے کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی۔ …‘‘

کتاب کے صفحہ 9پر ملتا ہے کہ معترض نے حضرت شیخ محمد یوسف صاحبؓ کے بارے میں طعنہ کسا کہ وہ تو روٹی کے لیے مسلمان ہوئے ہیں۔ اس کے جواب میں آپؓ نے لکھاکہ’’یہ بھائی صاحب کی یا تو عدم واقفیت کا نتیجہ ہے یا انہوں نے جان بوجھ کر حق کو چھپایا ہے۔ یادش بخیر رائے بہادر سردار ساندھو سنگھ صاحب افسر جنگلات بلوچستان جو اُن دنوں کوئٹہ میں تھے اور نیک نفس اور نیک نیت وجود تھے۔ ایسے خوبیوں کے شخص بہت کم ہی دیکھے ہیں۔ جب میں مسلمان ہوا تو انہوں نے مجھے چند ماہ کے بعد اپنے گھر پر بلایااور اس قدر محبت و کرم سے پیش آئے کہ خود فرش پر بیٹھتے اور باوجود میر ےسخت اصرار کے مجھے کرسی پر بیٹھاتے۔ اور قریباً تین ماہ تک ان سے گفتگو و بحث ومباحثہ کا سلسلہ جاری رہا۔ آپ نے دوران بحث میں ایک دفعہ فرمایا کہ میری یہ بڑی خواہش ہے کہ سکھوں میں کوئی اردو اخبار جاری ہو۔ (اس وقت لائل گزٹ کا نام و نشان تک نہ تھا) اور آپ اس کے ایڈیٹر بنیں۔ اور ہم پانچ ہزار روپے نقد بطور سرمایہ دینے کے لئے تیار ہیں۔ اس وقت سکھوں میں اردو اخبار کی سخت ضرورت تھی۔ اگر میں اس وقت اردو اخبار جاری کر دیتا تواب لائل گزٹ کا نام و نشان تک نہ ہوتا۔ اور جب مجھے پانچ ہزار روپیہ سرمایہ ملتا تھا اور قوم بھی اخبار کے لئے تیار تھی …اب ہر ایک اہل انصاف غور کرے کہ مجھے کس بات نے اپنی زندگی کو باعزت اور باوقار بنانے والے پروگرام سے روکا۔ وہ خدائے دانائے راز جس کے قبضہ تصرف میں میری اور ہر ایک کی جان ہے بہتر جانتا ہے کہ محض راستی اور صداقت اسلام نے جناب سردار سادھوسنگھ صاحب جو سکھ مذہب کے ایک یگانہ روز اور عالم بے بدل تھے، ان کے پریم بھرے اوپدیش سے بعض اوقات میرا دل ڈانواں ڈول بھی ہوجاتا تھا۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کا محض فضل تھا جس نے مجھے اس آزمائش اور ابتلاء سے بچایا۔ اور صداقت اسلام پر قائم اور ثابت قدم رکھا۔

ایک اور بات تذکرہ کے قابل ہے کہ جب میں مسلمان ہوا خدا کو میری آزمائش منظور تھی۔ مجھے دوسرے روز ہی تپ محرقہ ہوگیا…‘‘

کتاب کے صفحہ11پر مزید واضح کیا کہ ’’روٹی کے لئے تو کوئی مسلمان ہو ہی نہیں سکتا۔ اور اگر ہوبھی جائے تو زیادہ دیر کے لئے رہ نہیں سکتا۔ کیونکہ مسلمان غریب قوم ہے۔ یہاں کمزور اور حریص اور لالچی کے لئے گنجائش نہیں۔ ہاں خدا جوئی، خدا طلبی، خدا بینی، خداشناسی کا ذریعہ ہے جو نفسانی خواہشات سے پاک و صاف ہونے سے دستیاب ہوسکتا ہے۔‘‘

الغرض اس کتاب میں فاضل گرامی مصنف نے معترض کے جواب میں حضرت باواگرونانک رحمہ اللہ علیہ کے حالات زندگی، مختلف ادوار، آپ کے عقائدو تعلیمات۔ مختلف تبرکات اور یادگاروں پر جہاں سیر حاصل بحث کی ہے وہاں اس بات کا خصوصی اہتمام کیا ہے کہ ہر بات باحوالہ اور معین و ثقہ ثبوت کے ساتھ سامنے رکھی جائے۔

کتاب میں اپنے موقف کے حق میں مختلف بیرونی شہادتیں اور اقوال درج کرکے اپنے سکھ بھائیوں سے 27 سوالات کیے ہیں اور آخری ورق پر چولہ کا عکس بھی پیش کیا ہے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

ایک تبصرہ

  1. کتب مینار کے نام سے مختلف جماعتی کتب کا تعارف ایک بہت عمدہ کاوش ہے۔جزاکم اللہ ۔پزیادہ مناسب اور فائدہ مند ہوگا اگر اس کتاب کا لنک بھی ساتھ کے ساتھ دے دیا جائے تا تشناں روحوں کو پڑھنے کی سہولت میسر آجائے۔جزاکم اللہ

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button