حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ (اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

٭…سویڈن میں گذشتہ ویک اینڈ پر ایک ڈینش کورٹ سے اس طرح کے واقعات پر سزا یافتہ ایک 40 سالہ فار رائٹ گروپ لیڈر نے ایسٹر کی چھٹیوں کے دوران اپنے دورے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی تھی۔ اس مذموم حرکت پر مسلمانوں کے دل رنجیدہ ہیں اور مسلمانوں سمیت اسلامی ممالک میں خصوصاً غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ جنوبی سویڈن میں اسلام مخالف تحریک کی جانب سے ایک ریلی کے موقع پر شدید تشدد دیکھا گیا جس کی قیادت ڈینش-سویڈش شہری راسموس پالوڈان نے کی تھی اور قرآن پاک کی بےحرمتی کا بھی اعلان کیا تھا۔

یورپی یونین نے سویڈن میں شدت پسند سیاسی لیڈر کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یورپین کمیشن میں داخلی امور کی ترجمان انیتا ہپ نے کہا کہ ایسے واقعات کے بارے میں ہماری پوزیشن بالکل واضح ہے۔یورپی یونین عدم برداشت کے ایسے تمام واقعات کی مذمت کرتا ہے جو اس کی بنیادی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ہر ملک کے قانون پر عملدرآمد اور انصاف کے ادارے اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ وہ اس طرح کے واقعات کی تحقیقات کے بعد مجرموں کو سزا دیں۔یورپی فریم ورک کے اس فیصلے کا آرٹیکل 1کہتا ہے کہ ہر ممبر ریاست اس شخص کو سزا دے گی، جو جان بوجھ کر کسی مذہب، رنگ، نسل ، گروہ یا ملک سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف تشدد کرتا یا اس کےلیے اکساتا ہے۔

سعودی عرب نے سویڈن میں بعض انتہا پسندوں کی طرف سے قرآن پاک کے دانستہ طور پر غلط استعمال، اشتعال انگیزی اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کی مذمت کی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ مملکت اس معاملے پر بات چیت کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔ سعودی عرب نے رواداری، بقائے باہمی، نفرت، انتہا پسندی اور تمام مذاہب اور مقدس مقامات کی توہین کو روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

٭…سابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے اظہار یکجہتی کے لیے فرانس کے دارالحکومت پیرس اور بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں اوورسیز پاکستانیوں نے ایک بڑا مظاہرہ کیا۔اس مظاہرے کی خاص بات لکسمبرگ سمیت ارد گرد کے علاقوں سے ایسی فیملیز کی ایک بڑی تعداد کی شرکت تھی جو آج تک کبھی کسی مظاہرے کا حصہ نہیں رہیں۔اس مظاہرے میں بھی شرکاء نے شہباز شریف حکومت کے خلاف اپنے جذبات کے اظہار کےلیے انہی نعروں ، فقرات اور سلوگنز کو اپنایا جو تحریک انصاف کے جلسوں میں اختیار کیے جاتے ہیں۔

٭…پاکستان مسلم لیگ ن کی اتحادی جماعتوں کے نئی کابینہ میں شامل اراکین نے19؍اپریل بروز منگل حلف اٹھا لیے ہیں۔ اسلام آباد میں ایوان صدر میں ہونےوالی تقریب حلف برداری میں صدر مملکت کی علالت کے سبب وفاقی کابینہ کے نئے اراکین سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے حلف لیا۔ اس کابینہ میں کل 31 وفاقی وزیر، تین وزیر مملکت ہیں اور تین مشیر شامل ہیں۔ نئی کابینہ میں مسلم لیگ ن کے 14 وزیر جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے 9 وفاقی وزیر اور 2 وزیر برائے مملکت اور ایک مشیر برائے وزیراعظم شامل ہیں۔ جے یو آئی ایف کے چار وزیر، ایم کیو ایم کے دو اور جے ڈبلیو پی اور بے اے پی کے ایک ایک وزیر نئی کابینہ کا حصہ ہیں۔پاکستان کی اس کابینہ سے متعلق دلچسپ امر یہ ہے کہ نئے وزیر اعظم سمیت اکثر وزراء کرپشن کے مقدمات میں نامزد ہیں۔

٭…برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے لاک ڈاؤن کے دوران قانون توڑنے پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ نہیں جانتا کہ سالگرہ کی تقریب میں کیسے جاپہنچا، خیال یہ تھا کہ وہ کووڈ کے حوالے سے میٹنگ ہے۔ اندازہ ہے کہ عوام وزیراعظم سے بہتر رویے کی توقع رکھتے ہیں۔ پولیس کی تفتیش کے نتائج کا احترام کروں گا۔

بورس جانسن، ان کی اہلیہ اور چانسلر رشی سُونک کو سالگرہ کی تقریب میں شرکت پر جرمانے کیے گئے ہیں۔ بورس جانسن برطانیہ کے پہلے وزیراعظم ہیں جنہیں عہدے پر رہتے ہوئے جرمانہ کیا گیا ہے۔

لیبر رہنما سر کئیر اسٹارمر نے بورس جانسن کے بیان کو مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے اپنا ذہن بنالیا ہے، وہ بورس جانسن کے الفاظ پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ اس سے قبل یہ اصرار کرتے رہے کہ انہوں نے کوئی قانون نہیں توڑا تھا۔

٭…جنرل منوج پانڈے بھارت کے نئے آرمی چیف مقرر کردیے گئے ہیں وہ اپریل کے آخر میں عہدہ سنبھالیں گے۔جبکہ موجودہ آرمی چیف جنرل منوج مکند نراونے 30؍اپریل کو ریٹائر ہوجائیں گے۔لیفٹننٹ جنرل منوج پانڈے اس وقت وائس چیف آف دی آرمی کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور وہ بھارت کے موجودہ آرمی چیف جنرل منوج نروانے کی ریٹائرمنٹ پر آرمی چیف کا عہدہ سنبھالیں گے۔

٭…تنازعات کی روک تھام کے لیے سرگرم تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے ایران سے متعلقہ امور کے ماہر علی واعظ نے بتایا کہ امریکی صدر جو بائیڈن ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا نام بظاہر آئندہ بھی ‘دہشت گرد گروپوں’ کی امریکی فہرست ہی میں شامل رکھنے کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران حکومت کا مطالبہ ہے کہ ایرانی ایٹمی پروگرام سے متعلق ویانا مذاکرات کے نتیجے میں عالمی طاقتوں کے ساتھ کسی نئے معاہدے سے قبل امریکا پاسدارانِ انقلاب کا نام اپنی اس فہرست سے خارج کرے۔ تاہم امریکی قیادت مستقبل قریب میں بظاہر ایسا کرتی نظر نہیں آتی۔

٭…سری لنکااورانٹرنیشنل مونیٹری فنڈ(آئی ایم ایف) کےدرمیان مالیاتی پیکجپرواشنگٹن میں مذاکرات جاری ہیں۔آئی ایم ایف کا کہنا کہ سری لنکن حکام کےساتھ بات چیت ابتدائی مرحلےمیں ہے،سری لنکاسےڈیل کےلیے قرضوں کی غیرمستحکم صورت حال کےحل کی یقین دہانی ضروری ہے۔ دوسری جانب مظاہرین اقتصادی بحران پر سری لنکن صدر گوتابایا راجاپاکسے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ سری لنکن صدارتی دفتر نے جاری کیے گئے بیان میں کہا تھا کہ کولمبو میں ہونے والے مظاہرے کی قیادت انتہا پسند قوتوں نے کی، مظاہرین عرب اسپرنگ کی طرح کی حکومت مخالف تحریک پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ سری لنکا میں گذشتہ 6 ماہ میں افراطِ زر کی شرح میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

٭…یوکرین کے اہم اسٹریٹیجک شہر ماریوپول کے زیادہ تر حصے پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے ماسکو نے ماریوپول میں یوکرینی افواج کو ہتھیار ڈالنے کےلیے الٹی میٹم دیا ہے اور کہا ہے کہ آج ہتھیار ڈالنے والے یوکرینی اہلکاروں کو معاف کردیا جائے گا۔ جبکہ کیف کی جانب سے روسی پیشکش پر ابھی کوئی ردعمل نہیں دیا گیا ہے۔ کیف کے شمالی اور لیوف کے مغربی حصے میں دھماکے بھی سنے گئے ہیں۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ماریوپول کی صورت حال ‘‘غیر انسانی’’ ہے، یوکرینی صدر نے مغرب سے فوری طور پر بھاری ہتھیار فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

٭…یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین کے شہر خارکیف میں روسی شیلنگ مسلسل جاری ہے جہاں عام رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

دوسری جانب یوکرین کے وزیراعظم نے کہا کہ ماریوپول کے کچھ حصے یوکرینی فوج کے کنٹرول میں ہیں۔ماریوپول میں روس کے سرینڈر کرنے کے مطالبے کے باوجود لڑائی جاری ہے۔

٭…خبر ایجنسی کے مطابق روسی وزارت دفاع نے اپنے جاری شدہ بیان میںیوکرینی فوجیوں کو یوکرین کے شہر ماریوپول میں ازوسٹال میٹلرجیکل پلانٹ چھوڑ نے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماریوپول میں ہتھیار ڈالنے والے یوکرینی فوجیوں کو زندہ رہنے کی ضمانت دی جائے گی۔

٭…غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق روسی حملے کے بعد سے اب تک تقریباً 4ملین یوکرینی ملک سے انخلا کرچکے ہیں۔ خیال رہے کہ دو روز قبل کیف ریجن کے پولیس چیف آندری نبیتوف نے دعویٰ کیا تھا کہ روسی فوج کے کیف ریجن سے انخلا کے بعد سے اب تک وہاں 900 سے زائد شہریوں کی لاشیں مل چکی ہیں۔

٭…یورپین گروسری مارکیٹ سے آنے والی رپورٹس کے مطابق روس اور یوکرین کی جنگ کے باعث یورپین یونین میں عام گھریلو استعمال کے سن فلاور آئل کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ کے باوجود اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ سن فلاور آئل کی فراہمی میں دن بہ دن کمی واقع ہو رہی ہے۔ اسی کمی کے پیش نظر اب کچھ یورپین کمپنیاں پام آئل اور سویا بین کی جانب واپس جانے کا سوچ رہی ہیں، حالانکہ یورپ میں ماحولیاتی تنظیمیں آئل پالیسی کے خلاف تحریک چلاتی رہی ہیں کیونکہ ان کا موقف رہا ہے کہ پام کے درخت لگانے کےلیے قدرتی ٹروپیکل ذخائر کو کا ٹا جا رہا ہے، جو ماحول کےلیے انتہائی خطرناک ہے، جس پر بہت سی کمپنیوں نے یورپ میں پام آئل کی درآمد چھوڑ دی تھی۔ گذشتہ عشرے کے دوران ہی روس اور یوکرین میں سن فلاور آئل کی پیداوار میں زبردست اضافہ ہوگیا تھا جس کے باعث دونوں ممالک یورپین مارکیٹ کےلیے سن فلاور آئل کے بڑے سپلائر کے طور پر سامنے آئے تھے لیکن دونوں ممالک کے درمیان موجودہ جنگ نے عام استعمال کےخوردنی تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کردیا ہے۔

٭…روس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ یوکرین میں 63 ممالک کے 6 ہزار 824 غیر ملکی جنگجو موجود ہیں۔ یوکرین جنگ میں 1ہزار 35 غیر ملکی جنگجو مارے جا چکے ہیں، ماریوپول میں 4 سو کے قریب غیر ملکی جنگجو موجود ہیں۔ روس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین میں 1 ہزار 717 غیر ملکی جنگجو پولینڈ ، 15 سو غیر ملکی جنگجو امریکا، کینیڈا، رومانیہ جبکہ 6 سو غیر ملکی جنگجو برطانیہ اور جارجیا سے آئے ہیں۔

دوسری جانب یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ روس سے 10 برس تک لڑ سکتے ہیں۔ روسی دھمکیوں پر مذاکرات نہیں کیے جا سکتے۔ہم اپنا علاقہ روس کو نہیں دے سکتے، فتح ہماری ہی ہو گی۔

٭…چینی وزارت خارجہ نے منگل کو جاری بیان میں کہا ہے کہ چین روس کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک کوآرڈینیشن یعنی ہم آہنگی بڑھانے کا سلسلہ میں اضافہ جاری رکھے گا۔ چین کے نائب وزیراعظم نے بھی چین میں روسی سفیر کو اسٹریٹجک کوآرڈینیشن بڑھانےکی یقین دہانی کروائی ہے۔

٭…نیدرلینڈز نے یوکرین کے شہر لیوف میں کم اسٹاف کے ساتھ اپنا سفارت خانہ بحال کیا ہے۔ڈچ وزارت خارجہ کے مطابق صورت حال مزید بہتر ہونے پر سفارت خانے کو لیوف سے کیف منتقل کیا جائے گا۔ کیف سے روسی افواج کے انخلا کے بعد سے کئی یورپی ملکوں نے اپنے سفارت خانے کیف منتقل کرنا شروع کردیے ہیں۔

٭…روس سے نیدرلینڈز کے 15، بیلجیم کے 21اور آسٹریا کے 4 سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ غیرملکی سفیروں کو ملک چھوڑنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دی گئی ہے۔ روس سے غیرملکی سفارت کاروں کی ملک بدری کےجوابی اقدامات ہیں۔ یورپی ممالک 300 سے زائد روسی سفارتی عملے کو ملک بدر کرچکے ہیں۔

٭…برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اور کئی دیگر مغربی ممالک کے رہنماؤں نے یوکرین کی جنگ کی وجہ سے روس پر موجودہ دباؤ مزید بڑھانے سے متعلق تبادلہ خیال کیا کہ روس کو بین الاقوامی سطح پر زیادہ سے زیادہ الگ تھلگ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ قبل ازیں ماسکو حکومت نے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن، امریکی صدر جو بائیڈن اور کئی دیگر مغربی رہنماؤں سمیت برطانوی وزیر خارجہ اور کئی دیگر ملکی وزراء پر روس میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔

٭…سپورٹس نیوز ویب سائٹ اسپورٹیکو نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ روس کے یوکرین پر فوجی حملے کی وجہ سے روسی کھلاڑیوں کو اس سال ٹینس کے ومبلڈن ٹورنامنٹ میں شرکت سے روک دیا جائے گا۔ قبل ازیں آل انگلینڈ لان ٹینس کلب نے کہا تھا کہ اس کی ومبلڈن ٹورنامنٹ میں روس اور بیلاروس کے کھلاڑیوں کی شرکت سے متعلق برطانوی حکومت کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور حتمی فیصلے کا اعلان مئی کے وسط تک متوقع ہے۔ ٹینس ومبلڈن ٹورنامنٹ ستائیس جون سے لے کر دس جولائی تک کھیلا جائے گا۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close