روزہ نماز کی طرف لے جاتا ہے۔۔۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْافِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا میں اس طرف بھی اشارہ کیاگیا ہے کہ صرف اسلام کو قبول کرلینا اورمنہ سے اپنے آپ کو مومن کہہ لیناکافی نہیں ۔علم و عرفان اورقر ب الٰہی کے راستے صرف ایسے ہی لوگوں پر کھو لے جاتے ہیں جوسچی محبت اورتڑپ سے کام لیتے اوراس کے لئے دیوانہ وار جدوجہدکرتے ہیں ۔اسی لئے قرآن کریم نے یہ تو کہا ہے کہ جوہماری طرف آتے ہیں ہم ان کی مددکرتے ہیں لیکن اس نے یہ کہیں نہیں کہاکہ جو ہم سے بھاگتے ہیں ہم ان کو پکڑ کر واپس لاتے ہیں ۔جو ہم سے منہ پھیرتے ہیں ہم انکواپنی تائید سے نوازتے ہیں ۔جوگرناچاہتے ہیں ہم ان کو زبردستی اٹھالیتے ہیں ۔جو بے ایمان ہوناچاہتے ہیں ہم ان کو مجبورکرکے ایماندار بناتے ہیں ۔قرآن یہی کہتاہے کہ جوبے ایمان ہوناچاہتاہے ہم اسے بے ایمان بنادیتے ہیں ۔اورجوایمان دار ہوناچاہتاہے ہم اسے ایمان دار بنادیتے ہیں ۔بہرحال انسانی زندگی کاخلاصہ صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے ایک پختہ عزم پیداکرے اوراچھی چیز کو پکڑ کر اس طرح بیٹھ جائے جیسے شکاری کتا اپنے شکار کر پکڑ کر بیٹھ جاتاہے ۔اس کے دانت ٹوٹ جائیں توٹوٹ جائیں مگروہ اپنے شکار کو نہیں چھوڑتا ۔جب انسان اس نیت اور ارادہ کے سا تھ ایک راستہ کو اختیا رکرلیتاہے ۔اوراچھی چیز کو پکڑ کر بیٹھ جاتاہے توپھر نیکیوں کی طرف اس کاقدم اٹھناشروع ہوجاتاہے کیونکہ کوئی نیکی نہیں جواس سے اگلی نیکی کی توفیق نہیں دیتی ۔اگرکوئی انسان سچے دل سے صدقہ دیتاہے توضرور ہے کہ اسے نماز کی بھی توفیق ملے اورزکوٰۃ کی بھی توفیق ملے اورروزہ کی بھی توفیق ملے اوراگرکوئی اخلاص کے ساتھ روزے رکھتا ہے توضرور ہے کہ اس نیکی کے نتیجہ میں اسے نماز اورزکوٰۃ اور حج کی توفیق ملے ۔کیونکہ ہرنیکی دوسری نیکی کی طرف لے جاتی ہے ۔بھلا یہ کس طرح ہوسکتاہے کہ ایک شخص جو کسی غریب سے ہمدردی کرتاہے اس سے محبت اورپیار کاسلوک کرتاہے اوردنیاداری کے خیالات کلے ماتحت نہیں بلکہ سچے دل سے اسے کھاناکھلاتاہے ایسے شخص کے پاس اگرامانت رکھی جائے تووہ کھاجائے گا ۔یہ قطعاً ناممکن بات ہے ۔جس شخص کے دل میں دوسر وں کااتنا درد ہے اورجو ان کے لئے ہروقت قربانی کر نے کے لئے تیار رہتاہے کس طرح ممکن ہے کہ وہ دوسروں کے مال میں خیانت کرے ۔اگرسب لو گ مل کر بھی کہیں گے کہ اس نے دوسروں کامال کھایاہے توہم کہیں گے وہ جھوٹ بولتے ہیں۔کیونکہ جس کے دل میں ا پنامال قربان کرنے کی خواہش پائی جاتی ہے ۔و ہ دوسروں کے مال کوکبھی کھانہیں سکتا ۔اسی طرح جس شخص کے دل میں خواہش پائی جاتی ہے کہ وہ خداکے لئے بھوکارہے کس طرح ماناجاسکتاہے کہ وہ نماز نہیں پڑھے گا۔وہ ایک دن نماز نہیں پڑھے گادودن نماز نہیں پڑھے گا تین دن نماز نہیں پڑھے گا مگرآخراس کانفس اسے کہے گا کہ احمق تُو خداکے لئے بھوکارہتا ہے اورپھر اس کی عبادت نہیں کرتا اوروہ مجبور ہو گاکہ نماز پڑھے اورجب وہ نماز پڑھنے لگ گیا ۔توپھر اسے کوئی ہٹانابھی چاہے تووہ نہیں ہٹ سکتا ۔اسے قید کردو تووہ قید میں ہی نماز پڑھنے لگ جائے گا ۔چارپائی پر باندھ تو لیٹے لیٹے نماز پڑھتارہے گا ۔کیونکہ ایک نیکی دوسری نیکی کی طرف لے جاتی ہے ۔پس اصل گُر انسانی ترقی کایہی ہے کہ جوچیز اسے اچھی نظر آئے اسے مضبوطی سے پکڑ لے ۔پہلے وہ اپنے دل میں فیصلہ کرلے کہ میں نے اچھی چیز کو لینا ہے اورپھر اسے چھو ڑنا نہیں ۔اس فیصلہ کے بعد اسے جوچیز بھی اچھی نظرآتی ہو اسے اس نیت کے ساتھ پکڑ لے کہ اب میں نے اسے چھو ڑنا نہیں ۔جب انسان اس مقام پر آجاتاہے تووہ ساری دنیا سے سبق حاصل کرنے کے لیء تیار رہتاہے ۔ایک بچے سے بھی سبق لے لیتا ہے ایک بوڑھے سے بھی سبق لے لیتاہے ۔ایک پاگل سے بھی سبق لے لیتاہے ۔غرض دنیا کی ہرچیز سے وہ فائدہ حاصل کرلیتاہے۔

(تفسیر کبیر جلد 7 صفحہ 696)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button