متفرق مضامین

خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب 25؍ فروری 2022ء

’’حضرت ابو بکرصدیقؓ کا اس امت پر اتنا بڑا احسان ہے کہ اس کا شکر نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ تمام صحابہؓ کو مسجد نبوی میں اکٹھے کر کے یہ آیت نہ سناتے کہ تمام گزشتہ نبی فوت ہو چکے ہیں تو یہ امت ہلاک ہو جاتی‘‘

سوال نمبر1: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے یہ خطبہ کہاں ارشاد فرمایا؟

جواب: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یہ خطبہ مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکےمیں ارشادفرمایا۔

سوال نمبر2: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےخطبہ کے عنوان کی بابت کیا بیان فرمایا؟

جواب: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ذکر ہو رہا تھا۔

سوال نمبر3: حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حجۃالوِداع کے موقع پر اونٹ کے گم ہوجانے کی بابت کیا تفصیل بیان فرمائی؟

جواب: فرمایا: حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ حج کے لیے نکلے۔ جب ہم عَرْجْ مقام پر تھے تو رسول اللہﷺ سواری سے اترے اور ہم بھی اترے تو عائشہ رسول اللہﷺ کے ایک پہلو میں بیٹھ گئیں اور میں اپنے والد کے پہلو میں بیٹھ گئی۔ اور رسول اللہﷺ اور حضرت ابوبکرؓ کا سامان اکٹھا ایک اونٹ پر تھا جو حضرت ابوبکرؓ کے غلام کے پاس تھا۔ حضرت ابوبکرؓ انتظار کرنے لگے کہ وہ آ جائے۔ وہ غلام آ گیا مگر اس کا اونٹ اس کے ساتھ نہ تھا۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا تمہارا اونٹ کہاں ہے۔ اس نے کہا گذشتہ رات سے میں اسے گم کر چکا ہوں۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا کہ ایک ہی اونٹ تھا وہ بھی تم نے گم کر دیا تو حضرت ابوبکرؓ اسے مارنے کے لیے اٹھے اور رسول اللہﷺ تبسم فرما رہے تھے اور فرمانے لگے اس مُحْرِمْ کو دیکھو یہ کیا کر رہا ہے؟ اِبنِ اَبِی رِزْمَہکہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اس سے زائد نہیں کہا کہ اس مُحْرِمْکو دیکھو کیا کرنے لگا ہے اور آپؐ تبسم فرمانے لگے۔ بہرحال جب بعض صحابہ کو معلوم ہوا کہ آنحضرتﷺ کا زادِ راہ گم ہو گیا ہے تو وہ حِیسْلے کر آئے۔ اور آنحضرتﷺ کے سامنے رکھ دیا۔ حضرت ابوبکرؓ جو اپنے غلام پر غصہ کر رہے تھے ان سے آنحضرتﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر! نرمی اختیار کرو۔ یہ معاملہ نہ تمہارے اختیار میں ہے اور نہ ہمارے۔ اس غلام کی کوشش تو یقیناً یہی رہی ہو گی کہ اونٹ گم نہ ہو لیکن گم ہو گیا…پھر آنحضرتﷺ نے اور حضرت ابوبکرؓ نے بھی وہ کھانا کھایا اور ان لوگوں نے بھی کھایا جو ان دونوں کے ساتھ کھایا کرتے تھے یہاں تک کہ سب سیر ہوگئے۔ اس کے بعد حضرت صَفْوَان بن مُعَطَّلْؓپہنچے۔ ان کی ذمہ داری قافلے کے پیچھے چلنے کی تھی۔ حضرت صَفْوَانؓ آئے تو اونٹ ان کے ساتھ تھا اور اس پر زادِ راہ بھی موجود تھا۔ انہوں نے اونٹ کو آنحضرتﷺ کے پڑاؤ کے دروازے پر لا کر بٹھایا۔ تب آنحضرتﷺ نےابوبکرؓ سے فرمایا۔ دیکھو تمہارے سامان میں سے کچھ گُم تو نہیں ہوا؟ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا سوائے ایک پیالے کے جس میں ہم پانی پیا کرتے تھے کوئی چیز گُم نہیں ہوئی۔ اسی وقت غلام نے کہا کہ وہ پیالہ میرے پاس پہلے ہی موجود ہے۔

سوال نمبر4: رسول اللہﷺ نےمحمد بن ابوبکرؓ کی پیدائش پر حضرت اسماءبنت عمیسؓ کو حج کرنےکی بابت کیا ہدایت فرمائی؟

جواب: فرمایا: حضرت ابوبکر صدیقؓ سے روایت ہے کہ حجة الوداع کے موقع پر آپؓ رسول اللہﷺ کے ساتھ حج کے لیے نکلے اور آپؓ کے ساتھ آپؓ کی اہلیہ اسماء بنت عُمَیسؓ بھی تھیں۔ پس جب وہ لوگ ذوالحلیفہ میں پہنچے تو وہاں اسماءؓ کے ہاں محمد بن ابوبکر کی پیدائش ہوئی۔ بہرحال حضرت ابوبکر نبی اکرمﷺ کے پاس آئے اور آپﷺ کو اس بات کی خبر دی کہ اس طرح پیدائش ہوئی ہے تو رسول اللہﷺ نے آپؓ کو ارشاد فرمایا کہ اسماء کو کہیں کہ غسل کر لیں۔ پھر حج کا احرام باندھ لیں اور سب کام کریں جو دوسرے لوگ یعنی حاجی کرتے ہیں سوائے اس کے کہ وہ بیت اللہ کا طواف نہ کریں۔

سوال نمبر5: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حجۃ الوداع کے موقع پر سہیل بن عمروکی آپﷺ سے محبت کے متعلق کیا روایت بیان فرمائی؟

جواب: فرمایا: حضرت ابوبکرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حجة الوداع میں دیکھا کہ سُہَیل بن عَمرو ذبح کرنے کی جگہ پر کھڑے ہیں اور آپﷺ کے قربانی کے جانور کو رسول اللہﷺ کے قریب کر رہے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس کو ذبح کیا۔ پھر سر مونڈنے والےکو بلایا اور اپنے بال منڈوائے۔ کہتے ہیں کہ میں نے سُہَیل کو دیکھا کہ آنحضرتﷺ کے بال مبارک اپنی آنکھوں سے لگا رہا تھا۔ کہتے ہیں اس وقت مجھے یاد آ گیا کہ یہی سُہَیل صلح حدیبیہ کے وقت آپ کو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھنے سے روک رہا تھا جو معاہدے پہ لکھی جانی تھی۔

سوال نمبر6: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےرسول اللہﷺ کی بیماری کے ایام میں حضرت ابوبکرؓ کےامامت کروانے کی بابت کیا بیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: حضرت مصلح موعودؓ ایک جگہ بیان فرماتے ہیں کہ’’حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب آپؐ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو بوجہ سخت ضعف کے نماز پڑھانے پر قادر نہ تھے اس لیے آپؐ نے حضرت ابوبکرؓ کونماز پڑھانے کا حکم دیا۔ جب حضرت ابوبکرؓ نے نماز پڑھانی شروع کی تو آپؐ نے کچھ آرام محسوس کیا اور نماز کے لیے نکلے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ کو نماز پڑھانے کا حکم دینے کے بعد جب نماز شروع ہو گئی تو آپؐ نے مرض میں کچھ خفت محسوس کی۔ پس آپؐ نکلے کہ دو آدمی آپؐ کو سہارا دے کر لے جا رہے تھے۔ ‘‘ کہتی ہیں کہ ’’اور اس وقت میری آنکھوں کے سامنے وہ نظارہ ہے کہ شدت درد کی وجہ سے آپؐ کے قدم زمین سے چھوتے جاتے تھے۔ آپؐ کو دیکھ کر حضرت ابوبکرؓ نے ارادہ کیا کہ پیچھے ہٹ آئیں۔ اس ارادہ کو معلوم کر کے رسول کریمﷺ نے ابوبکرؓ کی طرف اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ پر رہو۔ پھر آپؐ کو وہاں لایا گیا اور آپؐ حضرت ابوبکرؓ کے پاس بیٹھ گئے۔ اس کے بعد رسول کریمؐ نے نماز پڑھنی شروع کی اور حضرت ابوبکرؓ نے آپ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنی شروع کی اور باقی لوگ حضرت ابوبکرؓ کی نماز کی اتباع کرنے لگے۔ ‘‘

سوال نمبر7: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےرسول اللہﷺ کی وفات کے موقع پر اجماع صحابہؓ کی کیا تفصیل بیان فرمائی؟

جواب: فرمایا: حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ’’رسولِ کریمﷺ سے پہلے تمام انبیاء فوت ہو چکے ہیں جن میں مسیح بھی شامل ہیں۔ چنانچہ رسول کریمﷺ کی وفات پر جب مسلمان گھبرا گئے اور یہ صدمہ ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہو گیا تو حضرت عمرؓ نے اسی گھبراہٹ میں تلوار کھینچ لی اور کہا کہ اگر کوئی شخص یہ کہے گا کہ رسولِ کریمﷺ وفات پا گئے ہیں تو میں اس کی گردن کاٹ دوں گا۔ رسولِ کریمﷺ فوت نہیں ہوئے بلکہ حضرت موسیٰ کی طرح خدا سے ملنے گئے ہیں اور پھر واپس آئیں گے اور منافقوں کو ختم کریں گے پھر وفات پائیں گے۔ گویا ان کا یہ عقیدہ تھا کہ منافق جب تک ختم نہ ہوں آنحضرتﷺ فوت نہیں ہو سکتے اور چونکہ منافق آپؐ کی وفات تک موجود تھے اِس لیے وہ سمجھے کہ آپ فوت نہیں ہوئے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ جو اس وقت مدینہ کے پاس باہر ایک گاؤں میں گئے ہوئے تھے تشریف لائے۔ آنحضرتﷺ کے گھر گئے۔ رسولِ کریمﷺ کا جسم مبارک دیکھا۔ معلوم کیا کہ آپؐ واقع میں وفات پا چکے ہیں۔ اِس پر پھر آپؓ واپس باہر تشریف لائے اور یہ کہتے ہوئے آئے کہ اللہ تعالیٰ رسولِ کریمﷺ کو دو موتیں نہیں دے گا۔ یعنی ایک موت جسمانی اور دوسری موت روحانی کہ آپؐ کی وفات کے ساتھ ہی مسلمان بگڑ جائیں۔ پھر آپؓ سیدھے صحابہ کے اجتماع میں گئے اور لوگوں سے کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ حضرت عمرؓ تلوار لیے کھڑے تھے اور یہ اِرادہ کر کے کھڑے تھے کہ اگر کسی نے محمد رسول اللہﷺ کی وفات کا اعلان کیا تو میں اس کو قتل کر دوں گا۔ حضرت ابوبکرؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو وہی بات کی کہ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ یعْبُدُ اللّٰهَ فَإِنَّ اللّٰهَ حَیّ لَا یمُوْتُ۔ کہ جو شخص محمد رسول اللہﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ سن لے کہ محمدﷺ فوت ہو چکے ہیں اور جو کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ خوش ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور کبھی فوت نہیں ہو گا۔ پھر آپؓ نے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی کہ وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اَفَائِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰى اَعْقَابِكُمْ۔ محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول تھے اور آپ سے پہلے جتنے بھی رسول گزرے ہیں سب فوت ہو چکے ہیں۔ پھر آپؐ کیوں نہ فوت ہوں گے۔ اگر آپؐ فوت ہو جائیں یا قتل کیے جائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے اور اسلام کو چھوڑ دو گے۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ جب قرآنِ کریم کی یہ آیت حضرت ابو بکر صدیقؓ نے پڑھی تو میری آنکھیں کھل گئیں اور مجھے یوں معلوم ہوا کہ یہ آیت ابھی نازل ہوئی ہے اور مجھ پر ظاہر ہو گیا کہ رسولِ کریمﷺ فوت ہو گئے ہیں اور میرے پاؤں کانپ گئے اور میں زمین پر گِر گیا۔ یہ بیان کر کے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ یہ ایک ہی اجماع صحابہ کا ہے کیونکہ اس وقت سارے صحابہ موجود تھے اور درحقیقت ایسا وقت مسلمانوں پر پہلے کبھی نہیں آیا کیونکہ پھر کبھی مسلمان اِس طرح جمع نہیں ہوئے۔ اِس اجتماع میں حضرت ابوبکرؓ نے یہ آیت پڑھی کہ محمد رسولﷺ صرف اللہ تعالیٰ کے ایک رسول ہیں اور آپؐ سے پہلے جس قدر اللہ تعالیٰ کے رسول آئے ہیں وہ سب کے سب فوت ہو چکے ہیں۔ پس آپؐ کا فوت ہونا بھی کوئی قابلِ تعجب بات نہیں اور سارے کے سارے صحابہ نے آپ کے ساتھ اتفاق کیا۔

سوال نمبر8: اجماع صحابہ کے حوالے سے حضرت مسیح موعودؑ نے حضرت ابوبکرؓ کے متعلق کیا بیان فرمایاہے؟

جواب: فرمایا: حضرت مسیح موعودؑ بھی حضرت ابوبکرؓ کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ’’حضرت ابوبکرصدیقؓ کا اس امت پر اتنا بڑا احسان ہے کہ اس کا شکر نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ تمام صحابہؓ کو مسجد نبوی میں اکٹھے کر کے یہ آیت نہ سناتے کہ تمام گزشتہ نبی فوت ہو چکے ہیں تو یہ امت ہلاک ہو جاتی کیونکہ ایسی صورت میں اس زمانے کے مفسد علماء یہی کہتے کہ صحابہؓ کا بھی یہی مذہب تھا کہ حضرت عیسیٰ زندہ ہیں مگر اب صدیق اکبر کی آیت ممدوحہ پیش کرنے سے اس بات پر کُل صحابہ کا اجماع ہو چکا کہ کل گزشتہ نبی فوت ہو چکے ہیں بلکہ اس اجماع پر شعر بنائے گئے۔ ابو بکر کی روح پر خدا تعالیٰ ہزاروں رحمتوں کی بارش کرے اس نے تمام روحوں کو ہلاکت سے بچالیا اور اس اِجماع میں تمام صحابہ شریک تھے۔ ایک فرد بھی ان میں سے باہر نہ تھا۔ اور یہ صحابہ کا پہلا اجماع تھا اور نہایت قابل شکر کارروائی تھی۔

سوال نمبر9: رسول اللہﷺ کی وفات کی خبرملنے پرانصار کس جگہ جمع ہوئے؟

جواب: فرمایا: جب صحابہ کرام کو رسول اللہﷺ کی وفات کا علم ہو گیاتو انصار سقیفہ بنی سَاعِدَہ میں جمع ہوئے۔

سوال نمبر10: رسول اللہﷺ کی وفات پر انصارنے کس کو خلیفہ کے لیے موزوں قراردیا؟

جواب: فرمایا: حضرت سعد بن عُبادہؓ ان دنوں علیل تھے۔ انہوں نے انصار کی قربانیوں اور خدمت اسلام کا تفصیلی تذکرہ کرتے ہوئے انہیں خلافت کا حق دار قرار دیا مگر انصار نے حضرت سعد بن عبادہؓ کو ہی خلافت کے لیے موزوں قرار دے دیا۔

سوال نمبر11: سقیفہ بنی ساعدہ میں حضرت ابوبکرؓ نے انصار کے سامنے کیا تقریرکی؟

جواب: فرمایا: عبداللہ بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ نے تقریر شروع کی۔ اللہ کی حمد و ثنا کے بعد کہا یقیناً اللہ نے اپنی مخلوق کی طرف محمدﷺ کو رسول اور اپنی امت کا نگران بنا کر بھیجا تا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں اور اس کی توحید کا اقرار کریں حالانکہ اس سے پہلے وہ اللہ کے سوا مختلف معبودوں کی عبادت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ معبود اللہ کے حضور ان کی شفاعت کرنے والے اور نفع پہنچانے والے ہیں حالانکہ وہ پتھر سے تراشے گئے تھے اور لکڑی سے بنائے جاتے تھے۔ پھر حضرت ابوبکرؓ نے یہ آیت پڑھی کہ وَیعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یضُرُّهُمْ وَلَا ینْفَعُهُمْ وَیقُوْلُوْنَ هٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ (یونس: 19) اور وہ اللہ کے سوا اس کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ سب اللہ کے حضور ہماری شفاعت کرنے والے ہیں۔ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى(الزمر: 4)کہ ہم اس مقصد کے سوا ان کی عبادت نہیں کرتے کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کرتے ہوئے قرب کے اونچے مقام تک پہنچا دیں۔ عربوں کو یہ بات گراں گزری کہ وہ اپنے آباءواجداد کے دین کو ترک کر دیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے یہ آیتیں پڑھ کے فرمایا کہ عربوں کو یہ بات گراں گزری کہ وہ اپنے آباءواجداد کے دین کو تر ک کر دیں۔ پس اللہ نے آپﷺ کی قوم میں سے اولین مہاجرین کو رسول کریمﷺ کی تصدیق کے لیے اور آپﷺ پر ایمان لانے کے لیے اور آپﷺ کی غمگساری کے لیے اور آپﷺ کے ساتھ اپنی قوم کی سخت ایذارسانی اور تکذیب کے وقت ڈٹے رہنے کے لیے خاص کر لیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: حالانکہ تمام لوگ ان کے مخالف تھے اور ان پر ظلم کرتے تھے مگر باوجود اپنی کم تعداد کے اور تمام لوگوں کے ظلم اور اپنی قوم کے ان کے خلاف اکٹھے ہو جانے کے وہ کبھی خوفزدہ نہیں ہوئے۔ اور وہ پہلے تھے جنہوں نے زمین میں اللہ کی عبادت کی اور اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لائے۔ اور وہ رسول اللہﷺ کے دوست اور خاندان والے ہیں اور آپﷺ کے بعد لوگوں میں سے اس منصب کے سب سے زیادہ حق دار ہیں۔ اس معاملہ میں سوائے ظالم کے اور کوئی ان سے تنازعہ نہیں کرے گا۔ اے انصار کے گروہ! اور تم وہ ہو جن کی دین میں فضیلت اور اسلام میں سبقت لے جانے کے متعلق انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ کے دین اور اس کے رسولﷺ کے مددگار بننے کی وجہ سے اللہ تم سے راضی ہو گیا اور اس نے رسول اللہﷺ کی ہجرت بھی تمہاری طرف ہی رکھی۔ آپؐ کی اکثر ازواج اور اصحاب تمہارے یہاں رہتے ہیں۔ مہاجرین اولین کے بعد ہمارے نزدیک تمہارے مرتبہ کا کوئی بھی نہیں۔ امیر ہم میں ہوں گے اور تم وزیر۔ ہر اہم معاملے میں تم سے مشورہ لیا جائے گا اور تمہارے بغیر اہم معاملات کے متعلق فیصلہ نہیں کریں گے۔

سوال نمبر12: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےدنیا کے موجودہ حالات کی بابت کیا بیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: دنیا کے جو موجودہ حالات ہیں اس بارے میں بھی دعا کے لیے کہنا چاہتا ہوں۔ یہ انتہائی خطرناک ہو چکے ہیں اور ہو سکتے ہیں، بڑھتے جا رہے ہیں۔ صرف ایک ملک نہیں بلکہ بہت سے ممالک اس میں شامل ہو جائیں گے اگر یہ اسی طرح بڑھتا رہا اور پھر اس کے خوفناک انجام کا اثر نسلوں تک رہے گا۔ خدا کرے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کو پہچاننے والے ہوں اور اپنی دنیاوی خواہشات کی تسکین کے لیے انسانوں کی جانوں سے نہ کھیلیں۔ بہرحال ہم تو دعا کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں، سمجھا سکتے ہیں اور سمجھاتے ہیں اور ایک عرصے سے ہم یہ کام کر رہے ہیں لیکن بہرحال ان دنوں میں خاص طور پر احمدیوں کو بہت دعا کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ جنگ کے جو خوفناک حالات ہیں اور یہ جو تباہ کاریاں ہیں جن کا تصور بھی انسان نہیں کر سکتا کہ ایسی تباہ کاریاں ہو سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے انسانیت کو بچا کے رکھے۔

سوال نمبر13: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےکس مرحوم کا ذکرخیرفرمایا؟

جواب: حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مکرم خوشی محمد شاکر صاحب مربی سلسلہ کا ذکرخیرفرمایا۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close