الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

محترم عبدالرزاق بٹ صاحب

روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ 3؍ستمبر 2013ء میں مکرم محمد ادریس شاہد صاحب کے قلم سے محترم مولانا عبدالرزاق بٹ صاحب کا مختصر ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔

مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ خاکسار کو محترم عبدالرزاق بٹ صاحب کے ہمراہ دفاتر میں دس سال تک کام کرنے کا موقع ملا۔ آپ مجھ سے سینئر تھے لیکن کبھی کسی بھی شکوے کا موقع نہ دیا بلکہ رات دن ہر عسر اور یسر میں پورا ساتھ دیا۔ آپ نہایت سادہ مزاج، سادہ لباس اور صاف گو تھے۔ انداز گفتگو ایسا تھا کہ بات دل پر اُتر جاتی۔ خلافت کے ساتھ دیوانگی کی حد تک محبت۔ کئی بار طبیعت خراب ہونے کے باوجود دورے پر آجاتے۔ خاکسار عرض کرتا کہ طبیعت خراب تھی تو نہ جاتے۔ اس پر کہتے کہ گھر میں چارپائی پر مرنے کی بجائے کام کرتے مرجانا اچھا ہے۔ دارالفضل کے بہشتی مقبرہ میں جگہ ختم ہورہی تھی اور آپ کی تڑپ تھی کہ اگر اب مرجاؤں تو مجھے اس میں جگہ مل جائے گی۔ خداتعالیٰ نے آپ کی یہ خواہش نیا بہشتی مقبرہ شروع ہونے کے باوجود پوری کردی۔

محترم بٹ صاحب کو پندرہ سال سے زیادہ عرصہ گھانا میں خدمت کی توفیق ملی۔ وہ قحط سالی کا دَور تھا۔ حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب نے بھی بطور پرنسپل اسی علاقے میں آٹھ سال کا عرصہ گزارا۔ بٹ صاحب بتایا کرتے تھے کہ مجھے تو محترم میاں صاحب کے آنے کی کوئی اطلاع نہ تھی لیکن خداتعالیٰ اپنے بندوں کو خود پریشانی سے بچانے کا انتظام کرلیتا ہے۔ مَیں لاری اڈّہ میں اخبار بیچ رہا تھا۔ ایک بس میرے قریب آکر رُکی جس میں سے ایک خوبصورت نوجوان اُترا۔ مَیں انہیں جانتا نہ تھا لیکن سمجھ گیا کہ پاکستانی ہے۔ سلام دعا ہوئی، تعارف ہوا اور خاکسار آپ کو اپنے ساتھ مشن ہاؤس لے آیا۔ آپ کے آنے سے چند روز قبل ایک شخص مجھے کہنے لگا کہ تم پاکستانی ہو اور دودھ پی لیتے ہو، میرے پاس دودھ ہوتا ہے تمہیں بھجوادیا کروں گا۔ چنانچہ اُس نے دودھ بھجوانا شروع کردیا۔ مجھے یقین ہے کہ خداتعالیٰ نے یہ انتظام اپنے اس بندے کے لیے کیا تھا۔

………٭………٭………٭………

روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ 10؍جنوری 2014ء میں مکرم سیّد سعیدالحسن شاہ صاحب کے قلم سے محترم مولانا عبدالرزاق بٹ صاحب کا مختصر ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔

مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ خاکسار نے دفتر میں محترم بٹ صاحب کے ساتھ کچھ وقت گزارا۔ آپ کی سادگی، بےنفسی اور مسکراتے چہرے کے ساتھ ہر کسی کے ساتھ شفقت سے پیش آنا دل پر اثر کرنے والا تھا۔ لمباعرصہ غانا میں بطور مبلغ اور بطور پرنسپل جامعہ احمدیہ غانا خدمت کی توفیق پائی لیکن درویشی اور سادگی سے کبھی اندازہ نہیں ہوتا تھا۔ گِلے شکوے کی عادت نہ تھی بلکہ دعاؤں پر زور دیا کرتے تھے۔ خود بھی بڑے مستجاب الدعا تھے جس کا نظارہ خاکسار نے بھی دیکھا۔ ایک دفعہ بہاولپور شہر میں نومبائعین کی تربیتی کلاس تھی جن میں ہندو نومبائعین کی اکثریت تھی۔ وہاں افریقہ میں بزرگ مبلغین کے ایمان افروز واقعات کا تذکرہ ہوا تو مَیں نے محترم بٹ صاحب سے اپنے لیے دعا کی درخواست کی کہ مجھے بھی افریقہ جاکر تبلیغ کا موقع ملے۔ آپ نے دعا کا وعدہ کیا۔ کچھ ہی عرصے بعد خاکسار کا تقرر گیمبیا میں بطور مبلغ ہوگیا۔

ایک بار میرے والد محترم سیّد حمیدالحسن شاہ صاحب انصاراللہ پاکستان کے زیرانتظام مقابلہ تلاوت میں اوّل آئے تو محترم بٹ صاحب نے آپ کو مبارکباد دی اور پھر یہ کہہ کر اپنے ساتھ گھر لے گئے کہ آپ کی تلاوت بڑی اثرانگیز ہے میری خواہش ہے کہ آپ کی امامت میں نماز پڑھوں۔

………٭………٭………٭………

محترم عبدالرزاق بٹ صاحب 6؍اکتوبر 2012ء کو وفات پاگئے۔ روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ 25؍اپریل 2014ء میں مکرم شکیل احمد صاحب کے قلم سے محترم مولانا عبدالرزاق بٹ صاحب کا مختصر ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔

مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ ہمارا تعارف 9سال قبل ہوا اور 3 سال اکٹھے کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ آپ ایک بےنفس انسان تھے لیکن جو بھی ایک بار آپ سے ملتا وہ آپ کا مداح ہوجاتا۔ ہر کوئی آپ کی تعریف کرتا لیکن اگر کوئی آپ کے سامنے آپ کی تعریف کردیتا تو آپ بہت بُرا مناتے۔ خاکسار نے آپ کے ساتھ کئی سفر بھی کیے۔ آپ کھانے وغیرہ کے لیے کبھی کسی سے نہ کہتے بلکہ اگر کوئی ضرورتمند آجاتا تو اپنا کھانا اُس کو دے کر خود بھوکے سو رہتے۔ کوئی غریب اگر کھانے کی دعوت دیتا تو یہ کہتے ہوئے دعوت قبول کرتے کہ کھانے میں بغیر مرچ کی صرف دال یا سبزی ہو۔ پھر کھانا کھاکر بہت خوشی کا اظہار کرتے کہ بہت مزا آیا۔ ہمیشہ دوسروں کی خوبیاں ہی بیان کرتے۔ ایک سخی دل، صابر اور قانع انسان تھے۔ اپنی ضروریات کے لیے رکھی ہوئی رقم بھی بعض دفعہ دوسروں کو دے دیتے۔ اگر کبھی کسی کی مدد نہ کرسکتے تو اُس سے دعا کا وعدہ کرتے اور میرا مشاہدہ ہے کہ بلامبالغہ ہر دفعہ اللہ تعالیٰ اُس ضرورت کو پورا فرمادیتا۔

نماز سے بہت پہلے مسجد جاکر ذکرالٰہی میں مصروف رہتے۔ عبادت گزار تھے لیکن خشکی نام کو بھی نہ تھی۔ حد درجہ مہمان نواز تھے۔ اوقاتِ کار کے بعد بھی حسب ضرورت دفتر میں آجاتے۔ دفتر میں وقت ملتا تو قرآن کریم کی تلاوت اور کتب حضرت مسیح موعودؑ کا مطالعہ کرتے اور ان پر غور کے نتیجے میں جو مضمون سامنے آتا وہ ساتھیوں سے بیان کرتے۔ خلیفہ وقت کے ساتھ ایسا عشق تھا کہ گویا اپنے محبوب کا ذکر کرتے۔ ہرمحفل میں حضورانور کے خطبے کا ذکر ضرور کرتے۔ ہر خطبہ تین چار بار سنتے اور اس پر عمل کی کوشش کرتے۔ حضورانور نے اپنے خطبے میں آپ کا جو ذکرخیر فرمایا ہے وہی آپ کی زندگی کا خلاصہ ہے۔

………٭………٭………٭………

کشمیر کا مقدس مقام۔ حضرت بَل

روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ 27؍اگست 2013ء میں مکرم پروفیسر ڈاکٹر محمد شمیم صاحب کے قلم سے کشمیر کے مقبول ترین مقدّس مقام حضرت بَل کا تعارف شامل اشاعت ہے۔ یہ عمارت مشہور جھیل دَل کے کنارے واقع ہے۔ سو دو سو سال قبل یہ مقام درس و تدریس کی عظیم جگہ تھی۔ نہایت درجہ علمی کتب سے معمور کتب خانہ تھا۔ نہایت قابل اساتذہ تھے۔ مرورِ زمانہ نے اسے مسجد تک محدود کردیا ہے۔ مدرسہ مدینۃالعلوم موجود تو ہے لیکن اس کا علمی درجہ نہایت کمزور ہے۔

حضرت بَل کے تقدّس کی وجہ اس عمارت میں محفوظ رسول کریمﷺ کا ایک بال ’’موئے مبارک‘‘ہے جو ہرسال مخصوص ایّام میں زیارت کے لیے باہر نکالا جاتا ہے۔

یہ بابرکت بال کس طرح یہاں پہنچا اس حوالے سے مؤرخ مرزا قلندر بیگ اپنی کتاب ’’حجت قاصرہ‘‘ میں اور محمد اعظم دیدہ مری ’’واقعاتِ کشمیر‘‘ میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ صاحب جو رسول کریمﷺ کی اولاد میں سے تھے اور مدینہ منوّرہ کے منتظم تھے، اُن کو مُوئے مبارک کے علاوہ آنحضرتﷺ کا سر پر باندھا جانے والا کپڑا اور حضرت علیؓ کے گھوڑے کی کاٹھی بھی حضرت امام حسینؓ سے وراثت میں منتقل ہوتی ہوئی 1635ء میں ملی تھی۔ جب اُن کے ایک عزیز سیّد ہاشم سے اختلاف کے نتیجے میں انہیں اُن کے عہدے سے معزول کرکے ترکی کے سلطان نے اُنہیں شاہی عدالت میں طلب کیا تو آپ بوجوہ وہاں پیش نہ ہوئے۔ اس پر حضرت عبداللہ صاحب کی ساری جائیداد بحق سرکار ضبط کرلی گئی اور انہیں مدینہ بدر کردیا گیا۔

حضرت عبداللہ صاحب بصرہ سے ہوتے ہوئے دو سال کی طویل مسافت کے بعد ہندوستان کی ریاست دکن کے شہر بیجاپور پہنچے جہاں کا راجہ آپ کے مقام اور آپ کے پاس موجود نوادرات سے بڑا متأثر ہوا اور اپنے پاس سے وسیع جاگیر دے کر آپ کو وہاں قیام کی اجازت دے دی۔ تئیس سال کے بعد حضرت عبداللہ وفات پاگئے تو یہ نوادرات آپ کے بیٹے سیّد حامد کی تحویل میں آگئے۔

جب مغل شہنشاہ شاہجہاں کی بیماری کے دوران اُس کے بیٹوں میں بادشاہت کے لیے رسّہ کشی شروع ہوئی تو سیّد حامد نے داراشکوہ کی حمایت کی۔ چنانچہ جب اورنگزیب نے بادشاہت پر قبضہ کرلیا تو اُس نے بطور سزا سیّد حامد کی ساری جائیداد ضبط کرلی۔ اگرچہ سیّد حامد نے دلّی جاکر جائیداد کی واپسی کی بہت کوشش کی لیکن اس میں کامیابی نہ ہوئی۔ اسی اثنا میں ایک کشمیری تاجر نورالدین آشواری کی دلّی میں سیّد حامد سے ملاقات ہوئی تو وہ اتنا متأثر ہوئے کہ اکثر ملاقات کی غرض سے آنے جانے لگے اور بڑی رقوم بھی پیش کرتے رہے۔ ایک دن اتفاق سے انہیں مقدّس نوادرات کا علم ہو اتو انہوں نے سیّد حامد سے ایک تبرک عطا کرنے کی درخواست کی تاکہ وہ اسے کشمیر لے جائیں اور وہاں کے رہنے والے بھی برکت حاصل کریںلیکن سیّد حامد نے انکار کردیا۔ اُسی رات انہیں خواب میں رسول کریمﷺ کی زیارت ہوئی اور آپؐ کے ارشاد فرمانے پر اگلے روز ہی سیّد حامد نے آشواری صاحب کو بلاکر مُوئے مبارک اُن کے حوالے کردیے اور اپنے خادم مائیدانش کو بھی اُن کے ہمراہ کردیا۔

جب آشواری صاحب مُوئے مبارک لے کر لاہور سے ہوتے ہوئے کشمیر جانے لگے تو اورنگزیب کو یہ خبر پہنچ گئی اور اُس نے آشواری صاحب کو اپنے دربار میں بلاکر یہ مُوئے مبارک لے لیے اور ان کی اصلیت معلوم کرنے کی کوشش شروع کی۔ بادشاہ کے پیرومُرشد حضرت ابوصالح نے مُوئے مبارک کے اصل ہونے کے حق میں رائے دی تو تحقیق جاری رکھنے کے ساتھ بادشاہ نے یہ حکم بھی دیا کہ یہ تبرک حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی درگاہ اجمیر شریف میں رکھ دیے جائیں۔ لیکن کچھ روز بعد ہی اورنگزیب کو آنحضورﷺ کی خواب میں زیارت ہوئی اور آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ مُوئے مبارک آشواری صاحب کو واپس دے دیں۔ چنانچہ آشواری صاحب کو دربار میں طلب کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اُن کا انتقال ہوچکا ہے۔ البتہ مائیدانش نے دربار میں حاضر ہوکر بتایا کہ آشواری صاحب کی خواہش تھی کہ اُنہیں مُوئے مبارک کے قُرب میں دفنایا جائے۔ اس پر شاہی حکم کے مطابق مُوئے مبارک کو کشمیر لے جایا گیا اور وہاں خواجہ معین الدین نقشبندی کی خانقاہ میں رکھوادیے گئے۔ بعدازاں زائرین کی کثرت کی وجہ سے وہاں کچھ جانی نقصان ہونے کے بعد مغل گورنر فاضل خان نے ایک اجلاس بلاکر فیصلہ کیا کہ مُوئے مبارک ’’باغ صادق خان‘‘ میں رکھے جائیں۔ یہی باغ اب حضرت بَل کے نام سے مشہور ہے۔ صادق خان مغل شہزادہ تھا جس نے یہ خوبصورت عمارت بنوائی تھی۔ 1993ء میں یہ عمارت اور قیمتی کتب خانہ نذرآتش ہوگیا تو پھر سنگ مرمر کی نئی عمارت بنواکر مُوئے مقدّس اس میں محفوظ کردیے گئے۔

………٭………٭………٭………

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button