جمعہ کے دن قبولیت دعا کے وقت کی تعیین

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جمعہ اور رمضان کو آپس میں ایک مشابہت حاصل ہے اور وہ یہ کہ جمعہ بھی قبولیتِ دعا کا دن ہے اور رمضان بھی قبولیتِ دعا کا مہینہ ہے۔ جمعہ کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نماز کے لئے مسجد میں آ جائے اور خاموش بیٹھ کر ذکرِ الٰہی میں لگا رہے، امام کا انتظار کرے اور بعد میں اطمینان کے ساتھ خطبہ سنے اور نماز باجماعت میں شامل ہو تو اس کے لئے خاص طور پر خدا تعالیٰ کی برکات نازل ہوتی ہیں اور پھر ایک گھڑی جمعہ کے دن ایسی بھی آتی ہے کہ جس میں انسان جو دعا بھی کرے قبول ہو جاتی ہے۔ قانونِ الہٰی کے ماتحت اس حدیث کی یہ تعبیر تو ضرور کرنی پڑے گی کہ وہی دعائیں قبول ہوتی ہیں جو سنتُ اللہ اور قانونِ الہٰی کے مطابق ہوں۔ لیکن جہاں یہ بہت بڑی نعمت ہے وہاں یہ آسان امر بھی نہیں۔ جمعہ کا وقت قریباً دوسری اذان سے یا اس سے کچھ دیر پہلے سے شروع ہو کر نماز کے بعد سلام پھیرنے تک ہوتا ہے۔ اگر یہ دونوں وقت ملا لئے جائیں اور خطبہ جمعہ چھوٹا بھی ہو تو یہ وقت آدھا گھنٹہ ہو جاتا ہے اوراگر خطبہ لمبا ہو جائے تو یہ وقت گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس ایک گھنٹے یا ڈیڑھ گھنٹے میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے کہ جب انسان کوئی دعا کرے تو وہ قبول ہو جاتی ہے۔ لیکن اس نوے منٹ کے عرصہ میں انسان کو یہ علم نہیں ہوتا کہ آیا پہلا منٹ قبولیتِ دعا کا ہے، دوسرا منٹ قبولیتِ دعا کا ہے یاتیسرا منٹ قبولیتِ دعا کا ہے۔ یہاں تک کہ 90 منٹ کے آخر تک انسان کسی منٹ کے متعلق بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ قبولیتِ دعا کا وقت ہے۔ گویا وہ گھڑی جس میں ہر دعا قبول ہوتی ہے 90 منٹ میں تلاش کرنی پڑے گی۔ اور وہی شخص قبولیتِ دعا کا موقع تلاش کر نے میں کامیاب ہو سکے گا جو برابر 90 منٹ تک دعا کرتا رہے۔ اور 90 منٹ تک برابر دعا میں لگے رہنا اور توجہ کو قائم رکھنا ہر ایک کا کام نہیں۔ بعض لوگ تو پانچ منٹ تک بھی اپنی توجہ قائم نہیں رکھ سکتے۔۔۔۔۔

غرض اس مبارک گھڑی کو پکڑنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان خطبہ کے شروع سے نماز کے ختم ہونے تک برابر دعا میں لگا رہے۔۔۔۔۔

غرض رمضان کے ایّام بھی ایسے ہیں جن میں دعائیں قبول ہوتی ہیں خصوصاً لیلۃ القدر میں دعاؤں کی قبولیت کا قرآن کریم میں وعدہ کیا گیا ہے ۔اس رات کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ 3 یعنی سورج ڈوبنے سے لے کر صبح تک کلامِ الٰہی لانے والے فرشتے اترتے رہتے ہیں۔سلامتی، رحمتیں اور برکتیں بنی نوع انسان پر چھا جاتی ہیں۔

غرض جمعہ اور رمضان دونوں اپنے اندر برکتیں رکھتے ہیں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ 30 مئی 1952ء)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close