پیغام حضور انور

ایم ٹی اے العربیہ کے 15 سال پورے ہونے پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بصیرت افروز پیغام کا اردو ترجمہ

[ایم ٹی اے العربیہ کے 15سال پورے ہونے پر انتظامیہ کی درخواست پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے عربی زبان میں ایک بصیرت افروز پیغام ارسال کیا۔اس پیغام کا اردو ترجمہ قارئین الفضل انٹرنیشنل کی خدمت میں پیش ہے۔]

بسم الله الرحمٰن الرحيم

نحمده ونصلی علی رسوله الكریم

وعلی عبده المسیح الموعود

خدا كے فضل اور رحم كے ساتھ

هو الناصر

اسلام آباد ۔برطانیہ

25؍مارچ2022ء

عرب بہنو اوربھائیو

السلام علیكم ورحمۃ الله وبركاتہ

ایم ٹی اے العربیہ كی انتظامیہ نے مجھ سے پیغام بھجوانے كی درخواست كی ہے۔

اس موقع پر میرا پیغام یہ ہے كہ الله تعالیٰ كے فضل سے ایم ٹی اے العربیہ كو جاری ہوئے 15 سال كا عرصہ گزر گیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام كے ساتھ الله تعالیٰ كا جو وعده تھا كہ میں تیری تبلیغ كو زمین كے كناروں تك پہنچاؤں گا اس كو عربوں كے حوالے سے بھی ہم نے پورا ہوتے دیكھا۔ اور الله تعالیٰ نے توفیق دی كہ ایم ٹی اے العربیہ كا اجرا ہوا اور الله تعالیٰ كے فضل سے اس كے دور رس اور حوصلہ افزا نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

ایم ٹی اے ان اسباب کا ثمره تھا جو خدا تعالیٰ نے اس زمانے میں اسلام کے بے مثال پھیلاؤ كے لیے مقدر كیے ہوئے تھے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود ہمیں تبلیغِ اسلام کےلیے ان جدید ذرائع کی بشارت دی تھی اور بتایا تھا کہ کس طرح ان تمام ذرائع كو آپ کے پیغام كی تبلیغ كے لیے مسخّر كر دیا گیا ہے۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:’’جیسا کہ خدا نے بغیر توسط معمولی اسباب کے جسمانی ضرورتوں کے لئے حال کی نئی ایجادوں میں زمین کے عناصر اور زمین کی تمام چیزوں سے کام لیا ہے اور ریل گاڑیوں کو گھوڑوں سے بھی بہت زیادہ دوڑا کر دکھلایا ہے ایسا ہی اب وہ رُوحانی ضرورتوں کے لئے بغیر توسّط انسانی ہاتھوں کے آسمان کے فرشتوں سے کام لے گا۔ بڑے بڑے آسمانی نشان ظاہر ہوں گے اور بہت سی چمکیں پیدا ہوں گی جن سے بہت سی آنکھیں کھل جائیں گی۔ تب آخر میں لوگ سمجھ جائیں گے کہ جو خدا کے سوا انسانوں اور دوسری چیزوں کو خدا بنایا گیا تھا یہ سب غلطیاں تھیں۔ سو تم صبر سے دیکھتے رہو کیونکہ خدا اپنی توحید کے لئے تم سے زیادہ غیرتمند ہے اور دُعا میں لگے رہو ایسا نہ ہو کہ نافرمانوں میں لکھے جاؤ۔ اے حق کے بھوکو اور پیاسو! سُن لو کہ یہ وہ دن ہیں جن کا ابتدا سے وعدہ تھا۔ خدا ان قصوں کو بہت لمبا نہیں کرے گا اور جس طرح تم دیکھتے ہو کہ جب ایک بلند مینار پر چراغ رکھا جائے تو دور دور تک اس کی روشنی پھیل جاتی ہے اور یا جب آسمان کے ایک طرف بجلی چمکتی ہے تو سب طرفیں ساتھ ہی روشن ہو جاتی ہیں۔ ایسا ہی ان دنوں میں ہوگا کیونکہ خدا نے اپنی اس پیشگوئی کے پورا کرنے کے لئے کہ مسیح کی منادی بجلی کی طرح دنیا میں پھر جائے گی یا بلند مینار کے چراغ کی طرح دنیا کے چار گوشہ میں پھیلے گی زمین پر ہر ایک سامان مہیا کر دیا ہے۔‘‘(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 15-16)

آپ علیہ السلام نے مسیح موعود کے دمشق کے مشرق میں ایک سفید مینارے پر نزول کے باره میں الہامی اشارات پر مشتمل الفاظ میں فرمایا:’’مسیح کے زمانہ کے لئے منارہ کے لفظ میں یہ اشارہ ہے کہ اُس کی روشنی اور آوا ز جلد تر دنیا میں پھیلے گی۔ اور یہ باتیں کسی اَور نبی کو میسّر نہیں آئیں۔ اور انجیل میں لکھا ہے کہ مسیح کا آنا ایسے زمانہ میں ہوگا جیسا کہ بجلی آسمان کے ایک کنارہ میں چمک کر تمام کناروں کو ایک دم میں روشن کر دیتی ہے یہ بھی اِسی امر کی طرف اشارہ تھا یہی وجہ ہے کہ چونکہ مسیح تمام دنیا کو روشنی پہنچانے آیا ہے اس لئے اُس کو پہلے سے یہ سب سامان دیئے گئے۔ وہ خون بہانے کے لئے نہیں بلکہ تمام دنیا کے لئے صلح کاری کا پیغام لایا ہے۔‘‘(خطبہ الہامیہ ، روحانی خزائن جلد 16صفحہ18)

اس میں کوئی شک نہیں کہ ايم ٹی اے انہی الفاظ کى عظیم تجلی ہے جو آپ علیہ السلام كی زبان مبارک سے نکلے تھے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اپنی تبلیغ کو عربوں تک پہنچانے كے لئے بےچین تھے او راس كام كو اپنے اہم مقاصد میں سے سمجھتے تھے،چنانچہ آپ علیہ السلام نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:’’اس وقت ہمارے دو بڑے ضروری کام ہیں۔ ایک یہ کہ عرب میں اشاعت ہو۔ دوسرے یورپ پر اتمام حجت کریں۔عرب پر اس لئے کہ اندرونی طور پر وہ حق رکھتے ہیں۔ ایک بہت بڑا حصہ ایسا ہوگا کہ ان کومعلوم بھی نہ ہو گا کہ خدا نے کوئی سلسلہ قائم کیا ہے۔ اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ان کو پہنچائیں۔ اگر نہ پہنچائیں تو معصیت ہوگی۔ایسا ہی یورپ والے حق رکھتے ہیں کہ اُن کی غلطیاں ظاہر کی جاویں کہ وہ ایک بندہ کو خدا بنا کرخدا سے دور جا پڑے ہیں۔‘‘(ملفوظات جلد2صفحہ253ایڈیشن1984ء)

آپ علیہ السلام عربوں کے بارے میں حسن ظن ركھتے تھے۔اس لیے آپ نے ان لوگوں كو جو عربوں تك آپ كی تبلیغ پہنچنے كے باره میں مایوسی یا ان كے باره میں بدگمانی كا اظہار كرتے تھے، جواب دیتے ہوئے فرمایا:’’اور وہ لوگ جن کا یہ گمان ہے کہ عرب کے لوگ قبول نہیں کریں گے اور نہ سنیں گے پس ہمارے پاس اس نادانی کا بجز اس کے اور کوئی جواب نہیں کہ ہم ان کے اس خیال پر لا حول پڑھیں اور ان کی سمجھ پر اِنَّاللّٰه کہیں۔ کیا نہیں جانتے کہ عرب کے لوگ حق کے قبول کرنے میں ہمیشہ اور قدیم زمانہ سے پیش دست رہے ہیں بلکہ وہ اس بات میں جڑ کی طرح ہیں اور دوسرے ان کی شاخیں ہیں۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ یہ ہمارا کاروبار خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک رحمت ہے اور عرب کے لوگ الٰہی رحمت کے قبول کرنے کے لئے سب سے زیادہ حقدار اور قریب اور نزدیک ہیں اور مجھے خدا تعالیٰ کے فضل کی خوشبو آرہی ہے سو تم نو امیدی کی باتیں مت کرو اور ناامیدوں میں سے مت ہو جاؤ۔‘‘(ترجمہ عربی عبارت از نور الحق، روحانی خزائن جلد8 صفحہ26)

چنانچہ عربوں كے باره میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام كا یہ حسن ظن بڑا سچا ثابت ہوا اور انہوں نے اس دعوت کو قبول کیا جو حقیقی اسلام ہے اوراسلام كی وه نشأة ثانیہ ہے جس كے باره میں اللہ تعالیٰ نے چاہا كہ وه اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخلص خادم، امام مہدی اور مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعےظاہر فرمائے۔ او راس طرح خدا تعالیٰ كےحضرت مسیح موعود علیہ السلام كے ساتھ كیے جانے والے دو وعدے بھی پورے ہو گئے جو مندرجہ ذیل دو الہاموں میں مذكور ہیں:’’يصلّون عليك صلحاءُ العرب وأبدال الشام‘‘یعنی تجھ پر عرب كے صلحاء اور شام كے ابدال درود بھیجیں گے۔

اور’’يَدْعون لك أبدالُ الشام وعبادُ اللّٰه من العرب‘‘ یعنی تیرے لیے ابدال شام كے دعا كرتے ہیں اور بندے خدا كے عرب میں سے دعا كرتے ہیں۔ فالحمد لله علی ذالك۔

آخر پر میں عربوں كو حضرت مسیح موعود علیہ السلام كے بعض كلمات سے مخاطب كرتے ہوئے كہتا ہوں:

اے خالص عربوں كے گروهِ اتقیاء واصفیاء!اے سرزمین نبوت كے باسیو اورعظیم المرتبت بیت الله كی ہمسائیگی كا شرف پانے والو! اے عرب كے شرفاء! اور اے عربوں كے جگر گوشو! اے اس زمین كے باسیو جس پر محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم كے قدم مبارك پڑے! اس روحانی مائده سے فائده اٹھاؤ جو ہر روز اورچوبیس گھنٹے سجا ہوا ہے اور اس روحانی شربت سے اپنی پیاس بجھاؤ جو آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم كے خادم صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام لے كر آئے ہیں ۔اور اسلام كو پھیلانے كےلیے اگلی صفوں میں آكھڑے ہو۔اورجیسا كہ تم اسلام كے آغاز میں تھے اسی طرح اس وقت بھی آگے بڑھنے والوں میں سے بن جاؤ كیونكہ تم سب سے زیاده اس بات كا حق ركھتے ہو۔

ہماری دعا ہے كہ الله تعالیٰ عرب دنیا كو زمانۂ حال كی اس عظیم نعمت MTAسے غیر معمولی فائده اٹھانے كی توفیق عطا فرمائے اور اس میں كام كرنے والوں كوالله تعالیٰ توفیق عطا فرمائے كہ وه حقیقی رنگ میں احمدیت اور حقیقی اسلام كا پیغام عرب دنیا كو پہنچانے والے ہوں۔ میری دعا ہے كہ الله تعالیٰ ہمارے اس چینل كو مزید كامیابیوں سے نوازے ۔آمین

والسلام

مخلص

(دستخط)مرزا مسرور احمد

خلیفۃ المسیح الخامس

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button