متفرق

رمضان المبارک میں بطور گھر کی نگران میری ذمہ داریاں (قسط دوم۔ آخری)

(آصفہ عطاء الحلیم۔ جرمنی)

پر سکون عائلی ماحول کا قیام

پھر رمضان المبارک میں بطور بیوی اپنے جیون ساتھی کو ایک روحانی اور پر سکون ماحول دینے کی کوشش کریں۔ ایک دوسرے کی خواہشات کا احترام اور ضروریات کا خیال رکھیں۔روحانی ترقی میں ایک دوسرے کے مدد گار بننے کی کوشش کریں۔ ہمار ے پیارے نبی ﷺ نے فرمایا :’’جس عورت نے پانچوں وقت کی نماز پڑھی اور رمضان کے روزے رکھے اور اپنے آپ کو برے کاموں سے بچایا اور اپنے خاوند کی فرمانبرداری کی اور اس کا کہنا مانا ایسی عورت کو اختیار ہے جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہوجائے۔‘‘

(مجمع الزوائد کتاب النکاح باب فی حق الزوج علی المرأۃ )

پس ایک مسلمان عورت پر جہاں گھر کی نگرانی کی ذمہ داری ہے وہاں اسلام نے عورت کو کتنا بڑا مقام دیا ہے۔ ایک نیک ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی ، ایک فرمانبردار بیوی کو جنت کی بشارت دے دی۔ الحمدللہ رب العالمین

والدین اور رحمی رشتہ داروں کا خیال

اس بابرکت مہینے میں جہاں ہر پل اللہ تعالیٰ کو راضی رکھنے کی کوشش میں لگے رہنا چاہیے وہاں خدا تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ بھی پہلے سے بڑھ کر حسن سلوک اور محبت کا تعلق پیدا کرنا چاہیے۔ اگر کسی سے کوئی رنجش ہے تو اسے دور کرنے کی کوشش کریں۔ گھر میں بزرگ والدین یا بیمار اگر روزہ نہیں رکھ سکتے ان کا خاص خیال رکھیں، ان کی دل جوئی کریں عین ممکن ہے کہ وہ آپ کے روزے اور مصروفیت کی وجہ سے اپنی کسی ضرورت کا اظہار نہ کریں اس صورت میں ہمیں پہلے سے بڑھ کر ان کا خیال رکھنا اور ان کی دعائیں لینی چاہئیں۔

اہل خانہ کی صحت کا خیال رکھنا

اپنےگھر والوں کی صحت اور خوراک کا خیال رکھنا بھی ہماری ایک ذمہ داری ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’پھر روزہ صرف دینی شرور سے بچنے کےلئے اور خیر کے راستے کھولنے والا نہیں ہے بلکہ دنیاوی شر سے بچانے والا اور خیر کے راستے کھولنے والا بھی ہے۔ مثلاً ایک خیر جس کو اب ڈاکٹر بھی تسلیم کرتے ہیں، سائنسدانوں کے ایک طبقہ نے بھی ماننا شروع کر دیا ہے کہ سال میں ایک مہینے کا جو کھانے پینے کا کنٹرول ہے وہ انسانی صحت کے لئے مفید ہے۔ تو یہ خیر ہے، ایک بھلائی ہے جو اس روزے سے انسانی جسم کوحاصل ہوتی ہے۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ12؍ جولائی 2013ء)

لہٰذا رمضان المبارک میں ہمیں اس خیر اور بھلائی کا بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔سحرو افطار کے وقت مرغن اور مصالحہ دار کھانوں سے حتی الوسع پرہیز کرنا چاہیے اور صحت مند غذائیں استعمال کرنی چاہئیں۔ ایسا کھانا تیار کریں جو نہ صرف آپ کے اہل خانہ کی صحت کے لیے اچھا ہو بلکہ اس کو بنانےمیں بہت زیادہ وقت کا ضیاع نہ ہو اور اس وقت کو آپ رضائے باری تعالیٰ حاصل کرنے اور بچوں کی تربیت میں استعمال کریں۔

احمدی عورت گھر کا محور

خاکسار اپنے مضمون کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے ایک بہت پیارے اقتباس پر ختم کرتی ہے جس سے ایک احمدی مسلمان عورت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ حضور ؒفرماتے ہیں:’’ احمدی عورت واقعتاً اس بات کی اہلیت رکھتی ہے اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی توقعات کو پورا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے کہ اس دنیا میں جنت کے نمونے پیدا کرے۔اپنے گھروں کو وہ جذب دے وہ کشش عطا کرے جس کے نتیجہ میں وہ محور بن جائے اور اس کے گھر کے افراد اس کے گرد گھومیں۔انہیں باہر چین نصیب نہ ہو بلکہ گھر میں سکینت ملے۔ وہ ایک دوسرے سےپیار اور محبت ے ساتھ ایسی زندگی بسر کریں کہ لذت یابی کا محض ایک ہی رخ سر پر سوار نہ رہے…بلکہ خدا تعالیٰ نے پیار اور محبت کے جولطیف رشتے عطا فرما رکھے ہیں ان رشتوں کے ذریعہ وہ سکینت حاصل کرے۔‘‘ (مستورات سےخطاب فرمودہ27؍دسمبر1991ء)

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کماحقہ ہمیں اپنی ذمہ داریاں نبھانے اور رمضان المبار ک کی برکتیں سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button
Close