خلاصہ خطبہ جمعہ

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 08؍ اپریل 2022ء

رمضان المبارک کی مناسبت سے قبولیت دعا کی شرائط اور فلسفے کے متعلق حضرت مسیح موعود ؑکےبصیرت افروز ارشادات کا بیان

٭…اللہ جلّ شانہٗ نےجو دروازہ اپنی مخلوق کی بھلائی کے لیے کھولا ہے وہ ایک ہی ہے یعنی دعا

٭…دعاؤں کی قبولیت کے لیے پہلے اپنی حالتوں کو بدل کر خدا تعالیٰ کی طرف قدم بڑھانا ضروری ہے

٭…دعا ایک موت ہے اور جیسے موت کے وقت ایک اضطرار اور بے قراری ہوتی ہے اسی طرح پر دعا کے لیے بھی ویسا ہی اضطراب اور جوش ہونا ضروری ہے

٭…دنیا کے حالات کے لیے بھی دعا کریں ۔اللہ تعالیٰ دنیا کو تباہ کاریوں سے بچائے اور ان کو عقل دے کہ یہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچاننے والے ہوں

٭…بدری صحابہؓ کے متعلق ایم ٹی اے انٹرنیشنل کی تیار کردہ ویب سائٹ اور موبائل ایپلی کیشن کا اجرا

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 08؍اپریل 2022ء بمطابق 08؍شہادت 1401ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے مورخہ 8؍اپریل 2022ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، یوکے میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو مسلم ٹیلی وژن احمدیہ کے توسّط سے پوری دنیا میں نشرکیا گیا۔جمعہ کی اذان دینےکی سعادت صہیب احمدصاحب کے حصے میں آئی۔

تشہد،تعوذ،سورة الفاتحہ اور سورة البقرۃ کی آیت نمبر187کی تلاوت کے بعد حضورِانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے اس آیتِ مبارکہ کادرج ذیل ترجمہ پیش فرمایا۔

اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً مَیں قریب ہوں۔ مَیں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ پس چاہیے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔

حضورِانور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے رمضان کے مہینے سے ہم گزر رہے ہیں۔ یہ مہینہ دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے میں فیضِ خاص کا چشمہ جاری فرمادیا ہے۔اس مہینے میں انسان اپنا ہر فعل خداتعالیٰ کی رضا کے حصول کےلیے کرتا ہے۔آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیےجاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں۔ شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ عام حالات میں تو شیطان کو کھلی چھوٹ ہوتی ہے لیکن رمضان کے مہینے میں اسے باندھ دیا جاتا ہے اور خداتعالیٰ اپنی خاطر روزہ رکھنےوالوں کو مکمل طور پر اپنی حفاظت کے حصار میں لےلیتاہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزےدار کی جزا مَیں خود ہوجاتا ہوں۔ یہ کتنی بڑی خوش خبری ہے۔

یہ آیت جو مَیں نے تلاوت کی ہے یہ رمضان کی فرضیت،اہمیت اور احکامات کے بیچ میں آنے والی آیت ہے۔ جس میں خداتعالیٰ نے دعا کی قبولیت کے طریق کے متعلق بیان فرمایاہے۔ ان لوگوں کے بارے میں بیان فرمایا ہے کہ جو عبادالرحمٰن ہیں یا عبادالرحمٰن بننا چاہتےہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گھبراؤ نہیں مَیں تمہارے قریب ہی ہوں۔ میری تمام صفات پر کامل یقین اور ایمان رکھو پھر دیکھو کس طرح قبولیتِ دعا کے نظارے تم دیکھتے ہو۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ اللہ جلّ شانہٗ نے جو دروازہ اپنی مخلوق کی بھلائی کے لیے کھولا ہے وہ ایک ہی ہے یعنی دعا۔ جب کوئی شخص بکا و زاری سے اس دروازے میں داخل ہوتا ہے تو وہ مولائے کریم اس کو پاکیزگی اور طہارت کی چادر پہنا دیتا ہے۔

قبولیتِ دعا کے لیے کیسی حالت پیدا کرنے کی ضرورت ہے؟ اس بارے میں آپؑ فرماتے ہیں کہ جو شخص اعمال سے کام نہیں لیتا وہ دعا نہیں کرتا بلکہ خداتعالیٰ کی آزمائش کرتا ہے۔ اس لیے دعا کرنے سے پہلے اپنی تمام طاقتوں کو خرچ کرنا ضروری ہے۔

اس مضمون کو بھی خداتعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے جہاں وہ فرماتا ہے کہ وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا یعنی جو لوگ ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں ہم ضرور ان کو اپنے راستے دکھاتے ہیں۔ پس رمضان کا مہینہ خاص طور پر اس جہاد کا مہینہ ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ بھلا یہ کیونکر ہوسکے کہ جو شخص نہایت لاپروائی سے سستی کررہا ہے وہ ایسا ہی خداکے فیض سے مستفیض ہوجائے جیسے وہ شخص کہ جو تمام عقل تمام زور اور تمام اخلاص سے اس کو ڈھونڈتا ہے۔

پس دعا ؤں کی قبولیت کےلیے بھی پہلے اپنی حالتوں کو بدل کر خداتعالیٰ کی طرف قدم بڑھانا ضروری ہے۔ آنحضورﷺ نے فرمایا کہ خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ جب بندہ میری طرف ایک قدم چل کر آتا ہے تو مَیں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں۔ پس خداتعالیٰ تو ہم پراتنا مہربان ہے لیکن اخلاص و وفا شرط ہے۔یہ نہیں کہ رمضان میں تو دعویٰ کریں کہ ہم نمازیں پڑھیں گے، خداتعالیٰ کے احکامات اورحقوق العباد ادا کریں گے لیکن رمضان گزرنے کے بعد پھر خداتعالیٰ اور اس کے احکامات کو بھول جائیں۔ دنیا داری ہم پر غالب ہوجائے تو پھرخداتعالیٰ پر یہ شکوہ نہیں ہونا چاہیےکہ خداتعالیٰ تو یہ کہتا ہے کہ مَیں پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں لیکن میری دعائیں تو نہیں سنی گئیں۔ اللہ تعالیٰ توہر وقت اپنے بندے کو پیار کی آغوش میں لینے کی کوشش کرتا ہے۔ اسے تو اپنے بندے کے اپنی طرف آنے کی اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جتنی ایک ماں کو اپنے گم شدہ بچّے کے ملنے کی خوشی ہوتی ہے یا جس طرح ایک مسافر کو ریگستان میں اپنے سامان سے لدے گم شدہ اونٹ کے ملنےسے خوشی ہوتی ہے۔

پس ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اس فیض سے حصّہ لینے والے بنیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنےکے جہاد کو کبھی کم نہ ہونے دیں۔ یہ ایسا مضمون ہے جسے بار بار سن کرسمجھنے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا اس مضمون سے متعلق مَیں حضرت مسیح موعودؑ کے بعض ارشادات پیش کرتا ہوں۔

آپؑ فرماتے ہیں کہ جس طرح ہماری دنیاوی زندگی میں ہر فعل کےلیے ایک ضروری نتیجہ ہے ایسا ہی دین کے متعلق بھی یہی قانون ہے۔ خداتعالیٰ ان دومثالوں میں صاف فرماتا ہے کہ جو لوگ اس فعل کو بجالائے کہ انہوں نے خداتعالیٰ کی جستجو میں پوری پوری کوشش کی توا س فعل کےلیے لازمی طور پر ہمارا یہ فعل ہوگا کہ ہم ان کو اپنی راہ دکھادیں گے۔ اور جن لوگوں نے کجی اختیار کی اور سیدھی راہ پر چلنا نہ چاہا تو ہمارا فعل اس کی نسبت یہ ہوگا کہ ہم ان کے دلوں کو کج کردیں گے۔

فرمایا:انسان کے دل پر کئی قسم کی حالتیں وارد ہوتی رہتی ہیں ۔ آخرخداتعالیٰ سعید روحوں کی کمزوری کو دُور کرتاہے اور پاکیزگی اور نیکی کی قوت بطور موہبت عطافرماتا ہے۔ایک اور مقام پر فرمایا کہ جو ہماری راہ میں جہاد کرے گا ہم اس کو اپنی راہیں دکھلادیں گے یہ تو وعدہ ہے۔ ادھر یہ دعا بھی سکھادی کہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ سو انسان کو چاہیے کہ اس کو مدِنظر رکھ کر نماز میں بالحاح دعاکرے اور تمنا رکھے کہ وہ بھی ان لوگوں میں سے ہوجاوے جو ترقی اور بصیرت حاصل کرچکے ہیں۔

قادیان کا ایک واقعہ کسی نے بیان کیا ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے ایک صحابی مسجد مبارک کے کونے میں کھڑے نماز میں بڑی رقت اور خشیت سے ہاتھ باندھ کر دعا کیے جارہے تھے۔ جب غور کرکے سنا تو بار بار اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ کا فقرہ دہرا رہے تھے۔

آپؑ فرماتے ہیں کہ جس قدر کاروبار دنیا کے ہیں سب میں اوّل انسان کو کچھ کرنا پڑتا ہے۔ جب وہ ہاتھ پاؤں ہلاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی برکت ڈال دیتا ہے۔ اسی طرح خداتعالیٰ کی راہ میں بھی وہی لوگ کمال حاصل کرتے ہیں جو مجاہدہ کرتے ہیں… فرمایا:اللہ تعالیٰ کو پانےکےلیے محنت کی ضرورت ہے۔ جس طرح وہ دانہ تخم ریزی کے بدوں کوشش اور آبپاشی کے بےبرکت رہتا بلکہ خود بھی فنا ہوجاتا ہے اسی طرح تم بھی اس اقرار کو ہر روز یاد نہ کرو گے اور دعائیں نہ مانگو گے کہ خدایا ہماری مدد کر تو فضلِ الٰہی وارد نہیں ہوگا۔

فرمایا کہ وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا …الخ میں اسی طرف اشارہ ہے کہ جو حق کوشش کا اس کے ذمہ ہے وہ بجالائے۔ یہ نہ کرے کہ اگر پانی بیس ہاتھ نیچے کھودنے سے نکلتا ہے تو وہ صرف دو ہاتھ کھود کر ہمت ہاردے… لوگ دنیا کی فکر میں درد برداشت کرتے ہیں حتیٰ کہ بعض اسی میں ہلاک ہوجاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کےلیے ایک کانٹے کی بھی درد برداشت کرنا پسند نہیں کرتے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہماری راہ کےمجاہد راستہ پاویں گے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس راہ میں پیمبر کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنا ہوگا ایک دو گھنٹے کے بعد بھاگ جانا مجاہد کا کام نہیں ہے۔

پھر توبہ و استغفار کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں کہ توبہ اور استغفار حصول الیٰ اللہ کا ذریعہ ہے… صحابہ کی زندگی میں دیکھو بھلا انہوں نے محض معمولی نمازوں سے ہی وہ مدارج حاصل کرلیے تھے۔نہیں! بلکہ انہوں نے خداتعالیٰ کی رضا کے حصول کےواسطے اپنی جانوں تک کی پروا نہیں کی اور بھیڑ بکریوں کی طرح قربان ہوگئے جب جاکر ان کو یہ رتبہ حاصل ہوا ۔

یاد رکھو دعا ایک موت ہے اور جیسے موت کے وقت ایک اضطرار اور بےقراری ہوتی ہے اسی طرح پر دعا کے لیے بھی ویسا ہی اضطراب اور جوش ہونا ضروری ہے… اوّل اوّل جو حجاب انسان کے دل پر ہوتے ہیں ان کا دُور ہونا ضروری ہے جب وہ دُور ہوگئے تو دوسرے حجابوں کے دُور کرنے کے واسطے اس قدر محنت اور مشقت نہیں کرنی پڑے گی… دعا بھی ایک مجاہدے کو چاہتی ہے جو شخص دعا سے لاپروائی کرتا اور اس سے دُور رہتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی پروا نہیں کرتا اور اس سے دُورہوجاتا ہے۔ جلدی اور شتاب کاری یہاں کام نہیں دیتی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس رمضان کو ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے پختہ تعلق جوڑنے والا بنا دے۔

دنیا کے حالات کے لیے بھی دعا کریں۔اللہ تعالیٰ دنیا کو تباہ کاریوں سے بچائے اور ان کو عقل دے کہ یہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچاننے والے ہوں۔

نمازِ جمعہ کے بعد مَیں ایک ویب سائٹ اور موبائل ایپلیکیشن کا اجرا کروں گا جو ایم ٹی اے نے بنائی ہے۔ اس میں تین سَو تیرہ بدری صحابہ کے متعلق میرے خطباتِ جمعہ کو جمع کیا گیا ہے۔اس ویب سائٹ پرقارئین بدری صحابہ کےمتعلق بنائی گئی پروفائلز کو پڑھ سکتے ہیں۔ ہر صحابی سے متعلق سوال و جواب کا ایک کوئز موجود ہے اسی طرح مفید نقشے اور مشکل الفاظ اور ناموں کا عربی تلفظ بھی سنا جاسکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اس ویب سائٹ کو لوگوں کے لیے فائدے کا موجب بنائے۔ آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close