ہماری ساری زندگی رمضان میں زندگی کی طرح بسر ہونی چاہیے!

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

پس ہمیں ہر رمضان سے یہ سبق حاصل کرنا چاہیے اور یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح سال میں رمضان کا ایک مہینہ ہر مسلمان پر روزے رکھنا فرض ہے ہمارے لیے سارا سال ہی رمضان ہے۔ ہمارے لیے صرف ایک مہینہ ہی روزوں کا مہینہ نہیں بلکہ بارہ مہینے ہی روزوں کے مہینے ہیں۔ جب تک اسلام دوبارہ دنیا میں پھیل نہ جائے اور جب تک تمام دنیا کے لوگ اسلام میں داخل نہ ہو جائیں اُس وقت تک ہماری جماعت کے لیے صرف سال میں ایک مہینہ ہی روزوں کا مہینہ نہیں بلکہ سال میں بارہ مہینے ہی روزوں کے مہینے ہیں۔ ہماری مثال بالکل اُس بزرگ کی سی ہے جس سے کسی نے پوچھا زکوٰۃ کے متعلق کیا حکم ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ عام لوگوں کے لیے چالیس روپوؤں پر ایک روپیہ زکوٰۃ ہے اور میرے لیے چالیس رپوؤں پر اکتالیس روپے زکوٰۃ ہے۔ کیونکہ عام لوگوں کے لیے عام حکم ہے مگر میرے ساتھ خدا تعالیٰ کا یہ سلوک ہے کہ میری ساری ضرورتیں وہ خود پوری کرتا ہے اور اُس کا میرے ساتھ وعدہ ہے کہ مَیں تیری تمام ضرورتوں کا کفیل ہوں۔ اگر باوجود اِس کے مَیں روپیہ جمع کروں تو وہ روپیہ مَیں ناجائز حالت میں جمع کروں گا جو مجھے واپس کرنا چاہیے اور ایک روپیہ جرمانہ کا ادا کرنا چاہیے کہ باوجود خدا تعالیٰ کے وعدہ کے مَیں نے اپنی ضرورتوں کے لیے خود انتظام کیا۔ یہی حال ہمارا ہے۔ لوگوں کے لیے بارہ مہینوں میں سے صرف ایک مہینہ رمضان یعنی روزوں کا ہوتا ہے مگر ہمارے لیے سارا سال ہی روزوں کا ہونا چاہیے اور ہماری ساری زندگی رمضان کی طرح بسر ہونی چاہیے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ سارا سال ہی روزے رکھے جائیں۔ یہ تو منع ہے کہ کوئی شخص تمام سال روزے رکھتا رہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ ہماری جماعت کے لوگوں کے لیے اپنے نفس کو خدا کے احکام کے تابع کرکے ضروری اور جائز چیزوں کو بھی حرام اور غیر ضروری قرار دینا ہوگا۔

پس ہمارے لیے بارہ مہینے ہی رمضان ہے اور شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ میں ہمیں یہ سبق دیا گیا ہے کہ انبیاء کی بعثت کے زمانہ میں ان کے ماننے والوں کے لیے بارہ مہینے ہی بلکہ ساری زندگی ہی رمضان میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ عام لوگوں کے لیے بارہ میں سے صرف ایک مہینہ روزوں کا ہوتا ہے مگر ہمارے لیے بارہ مہینوں میں سے بارہ ہی روزوں کے مہینے ہیں۔ کیونکہ جس وقت خدا کا کلام نازل ہوتا ہے تو وہ روزوں کا زمانہ ہوتا ہے۔ جس طرح کہ قرآن مجید کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ رمضان کے مہینہ میں اتارا گیا ہے۔

(فرمودہ یکم ستمبر 1944ء بمقام ڈلہوزی، مطبوعہ الفضل19؍ستمبر، 1944ء)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button
Close