بنیادی مسائل کے جواباتمتفرق مضامین

بنیادی مسائل کے جوابات (نمبر31)

(ظہیر احمد خان۔ مربی سلسلہ، انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

(امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے پوچھےجانے والے بنیادی مسائل پر مبنی سوالات کے بصیرت افروز جوابات)

٭…کیا Eyebrow Pluckکرنا ناجائز اور زنا کے برابر ہے؟ نیز Body Waxکرنے کے بارے میں حضور انور کی کیاراہ نمائی ہے

٭…جب مرد مغربی ممالک میں قانوناًدوسری شادی کا حق نہیں رکھتا تو کیا پہلی بیوی کوطلاق دیے بغیر دوسرا نکاح کرلینا زنا میں شمار ہوتا ہے؟

٭…اسلام میں عورت کو اپنے آپ کو ڈھانپنے کا حکم ہے لیکن ہم سکارف وغیرہ لے کر سر پر پردہ کیوں کرتے ہیں؟ لڑکیاں سکول میں لڑکوں سے دوستی کیوں نہیں کر سکتیں؟ اور کیا Halloween پر پری بنا جا سکتا ہے؟

سوال: ایک خاتون نےحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ ایک مربی صاحب نے Eyebrow Pluckکرنے کو ناجائز اور زنا کے برابر قرار دیا ہے۔ اس بارے میں نیز Body Wax کرنے کے بارے میں راہ نمائی کی درخواست ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 16؍جنوری 2021ءمیں اس بارے میں درج ذیل ہدایات فرمائیں:

جواب: احادیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حسن کے حصول کی خاطرجسموں کو گودنے والیوں، گدھوانے والیوں، چہرے کے بال نوچنے والیوں، سامنے کے دانتوں میں خلا پیدا کرنے والیوں اور بالوں میں پیوند لگانے اور لگوانے والیوں پر لعنت کی ہے جو خدا کی تخلیق میں تبدیلی پیدا کرتی ہیں۔ (صحیح بخاری کتاب اللباس)

اسلام کا ہر حکم اپنے اندر کوئی نہ کوئی حکمت رکھتا ہے۔ اسی طرح بعض اسلامی احکامات کا ایک خاص پس منظر ہوتا ہے، اگر اس پس منظر سے ہٹ کر ان احکامات کو دیکھا جائے تو حکم کی شکل بدل جاتی ہے۔ آنحضورﷺ کی جب بعثت ہوئی تو دنیا میں اور خاص طور پر جزیرۂ عرب میں جہاں مختلف قسم کے شرک کا زہر ہر طرف پھیلا ہوا تھا وہاں مختلف قسم کی بے راہ رویوں نے بھی انسانیت کو اپنے پنجہ میں جکڑا ہوا تھا اور عورتیں اور مرد مختلف قسم کی مشرکانہ رسوم اور معاشرتی برائیوں میں مبتلا تھے۔

مذکورہ بالا امور کی ممانعت پر مبنی احادیث میں دو چیزوں کا خاص طور پر ذکر ملتا ہے۔ ایک یہ کہ ان کاموں کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی مقصود ہو اور دوسرا صرف حسن کا حصول پیش نظر ہو۔

ان دو نوں باتوں پر جب ہم غور کرتے ہیں تو پہلی بات یعنی خدا تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی جہاں معاشرتی برائیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے وہاں مشرکانہ افعال کی بھی عکاسی کرتی ہےچنانچہ بالوں میں لمبی گوتیں لگا کر سر پر بالوں کی پگڑی بنا کر اسے بزرگی کی علامت سمجھنا، کسی پیر اور گرو کی نذر کے طور پر بالوں کی لٹیں بنا نا یا بودی رکھ لینا، چار حصوں میں بال کر کے درمیان سے استرے سے منڈوا دینا اور اسے بچوں کےلیے باعث برکت سمجھنا۔ اسی طرح برکت کےلیے جسم، چہرہ اور بازووغیرہ پر کسی دیوی، بت یا جانور کی شکل گندھوانا۔ یہ سب مشرکانہ طریق تھے اور ان کے پیچھے زمانہ جاہلیت میں مذہبی توہمات کا رفرما تھے۔

دوسری بات یعنی حسن کےحصول کی خاطر ایسا کرنا، بعض اعتبار سے معاشرتی بے راہ روی اور فحاشی کو ظاہر کرتی ہے۔ جائز حدود میں رہتے ہوئے انسان کااپنی خوبصورتی کےلیے کوئی جائز طریق اختیار کرنا منع نہیں۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ مجھے اچھا لگتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میرے کپڑے اچھے ہوں، میری جوتی اچھی ہو، تو کیا یہ تکبر میں شامل ہے؟ اس کے جواب میں حضورﷺ نے فرمایا یہ تکبر نہیں، تکبر تو حق کا انکار کرنے اور دوسروں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔ اور اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا إِنَّ اللّٰهَ جَمِيْلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ یعنی اللہ تعالیٰ بہت زیادہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ (صحیح مسلم کتا ب الایمان باب تَحْرِيمِ الْكِبْرِ وَبَيَانِهِ)

اسی طرح یہ امر بھی ثابت ہے کہ اُس زمانے میں بھی بچیوں کی جب شادی ہوتی تھی تو انہیں بھی اس زمانے کے طریق کے مطابق بناؤ سنگھار کر کے تیار کیا جاتا اور خوبصورت بنایا جاتا تھا۔

پس جس حسن کے حصول پر حضورﷺ نے لعنت کا انذار فرمایاہے، اس کا یقیناً کچھ اور مطلب ہے۔ چنانچہ جب ہم اس حوالے سے ان احادیث پر غور کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات بھی نظر آتی ہے کہ ان باتوں کی ممانعت کے ساتھ حضورﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ بنی اسرائیل اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کی عورتوں نے اس قسم کے کام شروع کیے۔ (صحیح بخاری کتاب اللباس) اور پھر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ حضورﷺ کی بعثت کے وقت یہود میں فحاشی عام تھی اور اس وقت مدینہ میں خصوصاً یہود کے علاقے میں فحاشی کے کئی اڈے موجود تھے، جن میں ملوث خواتین، مردوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی خاطر بناؤ سنگھار کےلیے اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتی تھیں، اس لیے رسول خداﷺ نے ان کاموں کی شناعت بیان فرما کر مومن عورتوں کو اس وقت اس سے منع فرما دیا۔

پس ان چیزوں کی ممانعت میں بظاہر یہ حکمت نظر آتی ہے کہ ان کے نتیجے میں اگر انسان کی جسمانی وضع قطع میں اس طرح کی مصنوعی تبدیلی واقع ہو جائے کہ مرد و عورت کی تمیز جو خدا تعالیٰ نے انسانوں میں پیدا کی ہے وہ ختم ہو جائے، یا اس قسم کے فعل سے شرک جو سب سے بڑا گناہ ہے اس کی طرف میلان پیدا ہونے کا اندیشہ ہو یا ان امور کو اس لیے بجا لایا جائے کہ اپنی مخالف جنس کا ناجائز طور پر اپنی طرف میلان پیدا کیا جائے تو یہ سب افعال ناجائز اور قابل مواخذہ قرار پائیں گے۔

حضورﷺ نےان برائیوں کے اس پس منظر میں جہاں اُس وقت مومن عورتوں کو ان کاموں سے منع فرمایا وہاں تکلیف یا بیماری کی بنا پر جائز حد تک اس کا استثنابھی فرمایا۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّامِصَةِ وَالْوَاشِرَةِ وَالْوَاصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ إِلَّا مِنْ دَاءٍ۔(مسند احمد بن حنبل)یعنی میں نے حضورﷺ کو عورتوں کو موچنے سے بال نوچنے، دانتوں کو باریک کرنے، مصنوعی بال لگوانے اور جسم کو گودنے سے منع فرماتے ہوئے سنا۔ ہاں کوئی بیماری ہو تو اس کی اجازت ہے۔

اسلام نے اعمال کا دارو مدارنیتوں پر رکھا ہے۔ لہٰذا اس زمانے میں پردہ کے اسلامی حکم کی پابندی کے ساتھ اگر کوئی عورت جائز طریق پر اور جائز مقصد کی خاطر ان چیزوں سے فائدہ اٹھاتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر ان افعال کے نتیجے میں کسی برائی کی طرف میلان پیدا ہویا کسی مشرکانہ رسم کا اظہار ہو یا اسلام کے کسی واضح حکم کی نافرمانی ہو، مثلاً اس زمانے میں بھی خواتین اپنی صفائی یا ویکسنگ وغیرہ کرواتے وقت اگر پردہ کا التزام نہ کریں اوردوسری خواتین کے سامنے ان کے ستر کی بے پردگی ہوتی ہو تو پھر یہ کام حضورﷺ کے اسی انذار کے تحت ہی شمار ہو گا۔ اور اس کی اجازت نہیں ہے۔

پھر اس ضمن میں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے فتنہ اور فساد کو قتل سے بھی بڑا گناہ قرار دےکر فساد کو روکنے کا حکم دیا ہے۔ بعض ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ رشتے اس لیے ختم کر دیے گئے یا شادی کے بعد طلاقیں ہوئیں کہ مرد کو بعد میں پتا چلا کہ عورت کے چہرے پر بال ہیں۔ اگرچند بالوں کوصاف نہ کیا جائے یا کھنچوایا نہ جائے تو اس سے مزید گھروں کی بربادی ہو گی۔ ناپسندیدگیوں کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ اور آنحضورﷺ کا اس حکم سے یہ مقصود بہرحال نہیں ہو سکتا کہ معاشرے میں ایسی صورت حال پیدا ہو کہ جس کے نتیجے میں گھروں میں فساد پھیلے۔ ایسے سخت الفاظ کہنے میں جو حکمت نظر آتی ہے وہ یہی ہے کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے اور یہ باتیں چونکہ دیوی، دیوتاؤں وغیرہ کی خاطر اختیار کی جاتی تھیں یا ان کے نتیجے میں فحاشی کو عام کیا جاتا تھا، اس لیے آپ نے سخت ترین الفاظ میں اس سے کراہت کا اظہار فرمایا ہے اور اس طرح مشرکانہ رسوم و عادات اور فحاشی کی بیخ کنی فرمائی ہے۔

سوال: ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ اس کے خاوند نے جماعت سے اخراج کے بعد اسے طلاق دیے بغیر دوسرا نکاح کر لیا ہے، جبکہ قانوناًوہ دوسری شادی کا حق نہیں رکھتے اس لیے زنا کر رہے ہیں۔ اسلام کی رو سے مجھے اس نکاح کی کوئی اہمیت سمجھ نہیں آئی۔ اس لیے اس نکاح کو منسوخ کیا جائے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ16؍ جنوری2021ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا:

جواب: یہ بات ٹھیک ہے کہ اکثر مغربی ممالک میں ایک بیوی کے ہوتے ہوئے قانونی اعتبار سے دوسری شادی منع ہے لیکن اسلام نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت دی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی ایسی جگہ جا کر جہاں دوسری شادی کی ممانعت نہیں باقاعدہ نکاح کے ذریعہ دوسری شادی کر بھی لیتا ہے تو ان مغربی ممالک میں اس کی اس دوسری بیوی کوکسی قسم کے قانونی حقوق نہیں ملتے لیکن شرعاً وہ اس کی بیوی ہی مانی جائے گی اور اس کے ساتھ اس کے جسمانی تعلقات زنا شمار نہیں ہوتے۔

آپ کے خاوند اگر اس عورت سے بغیر نکاح کے تعلقات رکھتے، جو کہ شرعاً حرام ہے لیکن ان مغربی ممالک کے قوانین میں اس کی گنجائش نکل آتی ہے تو کیا یہ بات آپ کو خوش کرتی؟

اسلام نے جس طرح مرد کےلیے اس کی ضرورت کے مطابق حقوق بیان کیے ہیں اسی طرح عورت کےلیے بھی اس نےمختلف حقوق قائم فرمائے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسلامی تعلیم کا یہ پہلو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’یہ مسئلہ اسلام میں شائع متعارف ہے کہ چار تک بیویاں کرنا جائز ہے۔ مگر جبر کسی پر نہیں اورہر ایک مرد اور عورت کو اس مسئلہ کی بخوبی خبر ہے تویہ ان عورتوں کا حق ہے کہ جب کسی مسلمان سے نکاح کرنا چاہیں تو اول شرط کرالیں کہ ان کا خاوند کسی حالت میں دوسری بیوی نہیں کرے گا اوراگر نکاح سے پہلے ایسی شرط لکھی جائے تو بیشک ایسی بیوی کا خاوند اگر دوسری بیوی کرے تو جرم نقض عہد کا مرتکب ہوگا۔ لیکن اگر کوئی عورت ایسی شرط نہ لکھاوے اورحکم شرع پر راضی ہووے تواس حالت میں دوسرے کا دخل دینا بیجا ہوگااوراس جگہ یہ مثل صادق آئے گی کہ میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔ ہرایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ خدا نے تو تعدّد ازواج فرض واجب نہیں کیا ہے خدا کے حکم کی رو سے صرف جائز ہے پس اگر کوئی مرد اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے اس جائز حکم سے فائدہ اُٹھانا چاہے جو خدا کے جاری کردہ قانون کی رُو سے ہے اوراس کی پہلی بیوی اس پر راضی نہ ہو تواس بیوی کے لئے یہ راہ کشادہ ہے کہ وہ طلاق لے لے اور اس غم سے نجات پاوے اوراگر دوسری عورت جس سے نکاح کرنے کا ارادہ ہے اس نکاح پر راضی نہ ہو اس کے لیے بھی یہ سہل طریق ہے کہ ایسی درخواست کرنے والے کو انکاری جواب دےدے۔ کسی پر جبر تو نہیں لیکن اگر وہ دونوں عورتیں اس نکاح پر راضی ہو جاویں تو اس صورت میں کسی آریہ کو خواہ نخواہ دخل دینے اور اعتراض کرنے کا کیا حق ہے؟ ‘‘(چشمۂ معرفت، روحانی خزائن جلد 23صفحہ 246)

سوال: ایک سکول کی بچی نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے استفسار کیا کہ اسلام میں عورت کو اپنے آپ کو ڈھانپنے کا حکم ہے لیکن ہم سکارف وغیرہ لے کر سر پر پردہ کیوں کرتے ہیں؟ لڑکیاں سکول میں لڑکوں سے دوستی کیوں نہیں کر سکتیں؟ اور کیا میں Halloween میں پری بن سکتی ہوں؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 26؍جنوری 2021ء میں اس سوال کےجواب میں درج ذیل ارشاد فرمایا:

جواب: اسلام نے پردے کے بارے میں عورت اور مرد دونوں کو نہایت حکیمانہ تعلیم سے نوازا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ مومن مرد اور عورتیں دونوں اپنی نظریں نیچی رکھیں یعنی اپنی آنکھوں کو نامحرموں کو دیکھنے سے بچائیں اور اپنے ستر کی جگہ کو پردے میں رکھیں۔ اس کے بعد مومن عورتوں کو مزید تاکید فرمائی کہ وہ اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں اور اپنی زینتیں ظاہر نہ کیا کریں اور اپنے پاؤں بھی اس طرح زمین پر نہ مارا کریں کہ جس سے ان کی زینت ظاہر ہو۔

اس مختصر لیکن نہایت جامع تعلیم میں پردے کے بارے میں ہر قسم کی تفصیل بیان فرما دی گئی ہے کہ ایک مومن عورت اپنی آنکھ، کان اور ستر کی جگہوں کی حفاظت کے ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھے کہ اس کا لباس نہ اتنا تنگ ہو کہ اس سے اس کےجسم کے اعضاء کی نمائش ہو اور نہ ہی اتنا ڈھیلا اور کھلا ہو کہ سینہ اور دوسری ستر کی جگہوں کی بے پردگی ہو رہی ہو۔

پاؤں زمین پر نہ مارنے کے حکم میں یہ بات سمجھا دی کہ ایک مومن عورت اس طرح کی اچھل کود سے بھی اجتناب کرے جس سے اس کی جسمانی ساخت کے اتار چڑھاؤ کا اظہار ہو۔ یا یہ کہ اگر پاؤں میں کوئی زیور (پازیب وغیرہ) پہنا ہوا ہے تو اس کی چھنکار سے لوگوں کی توجہ اس کی طرف ہو اور غیروں کی نظریں اس پر اٹھیں۔ یا اگر پاؤں پر مہندی یا نیل پالش وغیرہ لگا کر ان کاسنگھار کیا گیا ہے تو اس کی وجہ سے غیرمردوں کی نظریں اس پر اٹھیں۔ یہ سب باتیں پردے کے احکامات کے منافی ہیں۔

پس اسلام نے عورت کےلیے صرف سر پر سکارف لینا ہی کافی قرار نہیں دیا بلکہ یہ امور بیان کر کے پردے سے متعلقہ تمام لوازمات کو بھی خوب کھول کر بیان کر دیا کہ عورت نے کس طرح اپنے پردےکا خیال رکھنا ہے اور کس طرح خود کو ڈھانپنا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام پردے سے متعلقہ ان آیات کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ایمانداروں کو جو مرد ہیں کہہ دے کہ آنکھوں کو نامحرم عورتوں کے دیکھنے سے بچائے رکھیں اور ایسی عورتوں کو کھلے طور سے نہ دیکھیں جو شہوت کا محل ہو سکتی ہوں اور ایسے موقع پر خوابیدہ نگاہ کی عادت پکڑیں اور اپنے ستر کی جگہ کو جس طرح ممکن ہو بچاویں۔ ایسا ہی کانوں کو نامحرموں سے بچاویں یعنی بیگانہ عورتوں کے گانے بجانے اور خوش الحانی کی آوازیں نہ سنیں۔ ان کے حسن کے قصے نہ سنیں۔ یہ طریق پاک نظر اور پاک دل رہنے کےلئے عمدہ طریق ہے۔ ایسا ہی ایماندار عورتوں کو کہہ دے کہ وہ بھی اپنی آنکھوں کو نامحرم مردوں کے دیکھنے سے بچائیں اور اپنے کانوں کو بھی نامحرموں سے بچائیں یعنی ان کی پُرشہوات آوازیں نہ سنیں اور اپنے ستر کی جگہ کو پردہ میں رکھیں اور اپنی زینت کے اعضاء کو کسی غیر محرم پر نہ کھولیں اور اپنی اوڑھنی کو اس طرح سر پر لیں کہ گریبان سے ہو کر سر پر آجائے یعنی گریبان اور دونوں کان اور سر اور کنپٹیاں سب چادر کے پردہ میں رہیں اور اپنے پیروں کو زمین پر ناچنے والوں کی طرح نہ ماریں۔‘‘(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 341تا342)

حضور علیہ السلام مزید فرماتے ہیں: ’’قرآن مسلمان مردوں اور عورتوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ غض بصر کریں۔ جب ایک دوسرے کو دیکھیں گےہی نہیں تو محفوظ رہیں گے۔ …

اسلامی پردہ سے یہ ہر گز مراد نہیں ہے کہ عورت جیل خانہ کی طرح بند رکھی جاوے۔ قرآن شریف کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں ستر کریں۔ وہ غیر مرد کو نہ دیکھیں۔ جن عورتوں کو باہر جانے کی ضرورت تمدنی امور کےلیے پڑے ان کو گھر سے باہر نکلنا منع نہیں ہے، وہ بیشک جائیں لیکن نظر کا پردہ ضروری ہے۔‘‘(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 405، مطبوعہ 2016ء)

جہاں تک لڑکیوں اور لڑکوں کی دوستی کی بات ہے تو اس میں بھی بنیادی حکمت عورت کی عفت کی حفاظت ہی ہے۔ انسان کے اپنی مخالف جنس کے ساتھ میل جول سے کئی قسم کی برائیاں پیدا ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ اس لیے اسلام نے اس پہلو سے بھی محرم اور غیر محرم رشتوں کا امتیاز قائم کر کے مرد و عورت کے تعلقات کی حدود بیان فر ما دیں اور اللہ اور اس کے رسولﷺ نے اس بارے میں اپنے متبعین کوبڑی واضح تعلیم سے نوازا۔ چنانچہ آنحضورﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص کسی نامحرم عورت سے تنہائی میں نہ ملے کیونکہ ان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ (سنن ترمذی کتاب الفتن)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضورﷺ کے اس ارشاد کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’بسا اوقات سننے دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی قومیں غیر مردا ورعورت کے ایک مکان میں تنہا رہنے کو حالانکہ دروازہ بھی بند ہو کوئی عیب نہیں سمجھتیں۔ یہ گویا تہذیب ہے۔ انہی بد نتائج کو روکنے کے لیے شارع اسلام نے وہ باتیں کرنے کی اجازت ہی نہ دی جو کسی کی ٹھوکر کا باعث ہوں۔ ایسے موقعہ پر یہ کہہ دیا کہ جہاں اس طرح غیر محرم مرد و عورت ہر دوجمع ہوں تیسرا ان میں شیطان ہوتا ہے۔ ان ناپاک نتائج پر غور کرو جو یورپ اس خلیع الرسن تعلیم سے بھگت رہا ہے۔ بعض جگہ بالکل قابل شرم طوائفانہ زندگی بسر کی جار ہی ہے۔ یہ انہیں تعلیمات کا نتیجہ ہے۔ اگر کسی چیز کو خیانت سے بچانا چاہتے ہو تو حفاظت کرو لیکن اگر حفاظت نہ کرو اور یہ سمجھ رکھو کہ بھلے مانس لوگ ہیں تو یاد رکھو کہ ضرور وہ چیز تباہ ہوگی۔ اسلامی تعلیم کیسی پاکیزہ تعلیم ہے کہ جس نے مرد و عورت کو الگ رکھ کر ٹھوکر سے بچایا اور انسان کی زندگی حرام اور تلخ نہیں کی۔‘‘(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 34-35ایڈیشن 1984ء)

Halloweenکی رسم جسے اب ایک Fun خیال کیا جاتا ہے، اس کی بنیاد شیطانی نظریات اور مشرکانہ عقائد پر ہے اور ایک چھپی ہوئی برائی ہے۔ ایک سچے مسلمان اور خصوصاً ایک احمدی کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر وہ کام جس کی بنیاد شرک پر ہو اگرچہ وہ Fun کے طور پر ہی ہو اسے اس سے بچنا چاہیے، کیونکہ اس قسم کی رسومات انسان کو مذہب سے دور لے جاتی ہیں۔ پھر اس تہوار کے موقع پر تفریح کے نام پر بچے لوگوں کے گھروں میں فقیروں کی طرح جو مانگتے پھرتے ہیں وہ بھی ایک احمدی بچہ کے وقار کے خلاف ہے۔ ایک احمدی کا اپنا ایک وقار ہوتا ہے اور اس وقار کو ہمیں بچپن سے ہی بچوں کے ذہنوں میں قائم کرنا چاہیے۔ ان باتوں کے علاوہ بھی اس رسم کے اور بہت سے معاشرتی بد اثرات نئی نسل پر ہو رہے ہیں۔

پس Halloweenکی رسم میں کسی احمدی کو شامل ہونے کی اجازت نہیں ،چاہے بھوت، چڑیل بننا ہو یا پری بننا ہو، کیونکہ یہ رسم ایک غلط اور مشرکانہ عقیدہ پر مبنی ہے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close