حضور انور کے ساتھ ملاقات

تذکرہ ایک یادگار ملاقات کا

(مبارک صدیقی)

مِرے سر پہ ہے وہی اک شجر اُسے کچھ نہ ہو

صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ انسانوں کے آگے نہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے سر جھکانا چاہیے۔ دشمن تو چاہتا ہے کہ ان کی باتوں سے ڈر کر میں بھی بولوں لیکن میں صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں اس لیے میں خاموش رہتا ہوں اور سب کے لیے دعا کرتا ہوں

(نوٹ: یہ مضمون ادارہ الفضل انٹرنیشنل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

6؍مارچ 2022ء بروز اتوار نمازِ فجر کے بعد خوشی کے مارے نیند ہی نہیں آرہی تھی کیونکہ آج صبح دس بجے پیارے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات تھی۔

اسلام آباد ٹلفورڈ کی طرف جاتے ہوئے میری گاڑی خود بخود ہی تیز چلتی ہے۔ سوا دس بجے کی بجائے میں ساڑھے نوبجے اسلام آباد ٹلفورڈ میں موجود تھا۔ جب ملاقاتیں شروع ہوئیں تو خاکسار سے قبل مکرم حنیف محمود صاحب ایڈیٹر الفضل کو ملاقات کی سعادت ملی۔ ان کے بعد خاکسار عقیدت و احترام سے خوشی سے لرزتے ہوئے دربار خلافت میں حاضر ہوا۔

جن احباب کو حضور انور سے ملاقات کی سعادت ملی ہے یا ملتی رہتی ہے وہ جانتے ہیں کہ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے پُرنور چہرے کو دیکھتے ہی برسوں کی تھکاوٹیں اتر جاتی ہیں اور روح شاداب ہو جاتی ہے۔ اس روحانی ماحول کو ان لمحات کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ آج میری خوش بختی کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہ شفقت اس عاجز کو ملاقات کے لیے بہت سا اضافی وقت عطا فرمایا اس لیے آج کی ملاقات میں تعلیم الاسلام کالج اولڈ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی مساعی کی مختصر رپورٹ پیش کرنے کے علاوہ بھی کچھ موضوعات پر مجھے حضور سے باتیں کرنے کی سعادت مل گئی جو خاکسار قارئین کے لیے رقم کر رہا ہے۔

پیارے حضور معمول کے مطابق خطوط کی فائلز ملاحظہ فرما رہے تھے۔ میں نے نہایت ادب و احترام سے عرض کی پیارے حضور ایک بات بہت عرصے سے پوچھنا چاہ رہا تھا۔ جب حضور خلافت کے منصب پر فائز ہوئے تھے تو اگلے روز مجھے ربوہ سے میرے ایک خالہ زاد بھائی کا فون آیا تھا۔ کہہ رہا تھا کہ حضور گوشہ نشین ہیں لیکن انتظامی امور میں بہت strict ہیں۔ خاکسار نے حضور سے عرض کی کہ حضور میں نے تو پچھلے اٹھارہ انیس سال میں حضور کو بہت زیادہ رحم دل، شفیق اور ازحد درجے درگزر کرنے والا پایا ہے۔ تو حضور یہ فرمائیے کہ کیا میرے کزن کو غلط فہمی ہوئی تھی یا مجھے غلط فہمی ہے۔ میرا سوال سن کر حضور بہت مسکرائے۔ کچھ دیر توقف فرمایا اور پھر فرمانے لگے۔ جہاں تک گوشہ نشینی کی بات ہے تو اب احباب سے ملنا اور ان کی راہنمائی کرنا میرے فرائض میں شامل ہے اور جہاں تک strict ہونے کی بات ہے تو انتظامی امور میں قواعد کے مطابق ہی چلنا پڑتا ہے اسے شاید آپ کا کزن strict ہونا سمجھ بیٹھا ہو۔ حضور نے فرمایا

میں نے کسی سے کیا سختی کرنی ہے میں تو انتہائی عاجز سا انسان ہوں۔

اس کے بعد خاکسار نے عرض کی کہ حضور ایک بات میں نے نوٹ کی ہے کہ صبح کے وقت جب دفتری ملاقاتیں ہوتی ہیں تو حضور ایک وقت میں دو دو کام کر رہے ہوتے ہیں۔ انتہائی اہم خطوط بھی ملاحظہ فرما رہے ہوتے ہیں اور ملاقات پر آنے والوں کی باتیں بھی توجہ سے سن رہے ہوتے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ حضور جب میں گھر میں کاغذات وغیرہ دیکھ رہا ہوتا ہوں تو اگر کوئی بچہ بار بار مجھ سے سوالات پوچھے تو ہر چند کہ لوگ مجھے حلیم الطبع کہتے ہیں، مجھے تھوڑا سا غصہ آ ہی جاتا ہے اور میں بچوں سے کہتا ہوں پلیز مجھے ڈسٹرب نہ کریں۔ تو حضور آپ خطوط پڑھتے ہوئے بھی اکثر مجھ جیسے بندے کی باتیں سن کر مسکرا رہے ہوتے ہیں آپ کو غصہ نہیں آتا۔ اس کا کیا راز ہے؟

اس پر حضور بہت ہنسے۔ پھر فرمانے لگے آپ کو کیا پتا۔ ہو سکتا ہے مجھے دل ہی دل میں آپ پر بہت غصہ آ رہا ہو۔ پھر حضور نہایت شفقت سے مسکراتے ہوئے فرمانے لگے ہر گز ایسی بات نہیں ہے۔

مجھے آپ کی باتوں آپ کے سوالات پر غصہ نہیں آتا کیونکہ مجھے علم ہے کہ آپ راہنمائی کے لیے سوال پوچھتے ہیں اور مجھے اس طرح کام کرنے کی عادت ہے۔

اس کے بعد موجودہ جنگ کی صورت حال پر بات ہوئی توخاکسار نے عرض کی کہ حضور ہمیں علم ہے کہ آپ تو گذشتہ بہت سالوں سے عالمی جنگ سے متعلق عالمی راہنماؤں کو متنبہ کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں قیام امن کی تحریک کر رہے ہیں۔ اب روس یوکرائن جنگ شروع ہو چکی ہے اور گذشتہ روز روسی صدر نے کہا ہے کہ یورپ کی اقتصادی پابندیوں کو بھی جنگ ہی تصور کیا جائے گا۔ حضور یہ سب کیوں ہو رہا ہے اور آگے کیا ممکنات ہیں؟

اس پر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ میں نے تو ان راہنماؤں کو پہلے بھی امن کے قیام کےلیے خطوط لکھے تھے اور اب بھی لکھے ہیں۔

اگر ان دنیاوی سربراہان نے اب بھی ہوش مندی سے کام نہ لیا تو عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے جس سے بڑے پیمانے پر تباہی کے امکانات ہیں۔

ہم سب کو اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرنی چاہیے کہ دنیا میں امن قائم ہو۔ حضور نے فرمایا کہ پہلے کسی نہ کسی رنگ میں روس کو یقین دلایا گیا تھا کہ یوکرائن ایک غیر جانبدار ملک رہے گا اور روس اور یورپی یونین کے مابین پُل کا کردار ادا کرے گا۔ لیکن اب یوکرائن کو نیٹو کا حصہ بنانے کے ارادے کی وجہ سے یہ خوفناک صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ جب شام اور عراق پر بمباری اور حملے ہوتے ہیں اس وقت تو یہ ممالک متحد ہو کر احتجاج بلند نہیں کرتے اور حملہ کرنے والوں پر اقتصادی پابندیاں عائد نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ رحم کرے اور پوری دنیا میں امن قائم ہو۔

خاکسار نے عرض کی کہ حضور جب میں چھوٹا تھا تو مجھے یاد ہے پاکستان ہندوستان کی جنگ کے وقت بعض گھروں میں صحن میں خندقیں بھی بنائی گئی تھیں تاکہ بم کے حملے سے بچنے کے لیے زیر زمین پناہ لی جا سکے

کیا موجودہ صورت حال میں بھی گھروں میں زیر زمین پناہ گاہ بنانی چاہیے؟ اس پر حضور نے فرمایا کہ یہ ہر کسی کا انفرادی فیصلہ ہے۔

خاکسار نے عرض کی کہ حضور ایک غیر احمدی صحافی جسے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اتنی زیادہ مصروفیات کا علم نہیں ہے اس نے کہا ہے کہ جماعت احمدیہ کے سربراہ بہت آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں انہیں کوئی غم فکر نہیں۔ تو حضور کیا جماعت احمدیہ کے امام کی زندگی بہت آرام دہ ہوتی ہے؟

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ مجھے علم ہے۔ اس صحافی نے کہا ہے جماعت احمدیہ کے امام مرسیڈیز میں سفر کرتے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ یہ انگلستان ہے۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ یہاں تو ٹیکسی ڈرائیوروں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی مرسیڈیز چلاتی ہے۔ تو انگلستان میں مرسیڈیز میں سفر کرنا کوئی ایسی بڑی بات نہیں ہے۔ باقی 

خلیفہ وقت کی آرام دہ زندگی سے متعلق میں یہی کہوں گا کہ مشہور اخبار دی ٹائمز کے نمائندے نے میری مصروفیات سے متعلق میرا انٹرویو شائع کیا تھا۔ یہ صحافی میرا وہ انٹرویو پڑھ لیں تو انہیں خود حقیقت حال کا علم ہو جائے گا۔

اس کے بعد خاکسار نے عرض کی کہ حضور آپ کی اتنی مصروفیات ہیں۔ ایک دفعہ میں نے محترم منیر جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کا انٹرویو کیا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ ایک ہفتے میں ہزاروں خطوط حضور انور ملاحظہ فرماتے ہیں۔ سینکڑوں لوگوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ سینکڑوں لوگوں کی راہنمائی فرماتے ہیں۔ پانچ وقت نماز پڑھانے کے ساتھ ساتھ ہر ہفتے خطبہ جمعہ کی تیاری، دو سو سے زائد ممالک کے احمدیوں سے رابطہ، نماز فجر سے نماز عشاء تک حضور کی بہت مصروفیات ہیں۔ تو حضور میرا سوال یہ ہے کہ ایسے میں حضور اپنی صحت کا خیال کیسے رکھتے ہیں اور اپنے رشتے داروں کو کیسے وقت دے پاتے ہیں۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسکراتے ہوئے فرمایا میں نے کیا کرنا ہے یہ سب تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ میرا کوئی کمال نہیں ہے۔ عام دنوں میں تو میں اپنے عزیزوں رشتے داروں کو وقت دیتا ہوں۔ آج کل کورونا کی وجہ سے یہ سلسلہ کچھ کم ہے۔ بچوں سے کھانے کے وقت پر ملاقات ہو جاتی ہے۔ جہاں تک صحت کا سوال ہے آپ کے سامنے ہی ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ خاکسار نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضور انور کی صحت بہت اچھی ہے۔ اس پر حضور انور نے مسکراتے ہوئے یہ شعر پڑھا۔

اُن کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پر رونق

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

اس کے بعد خاکسار نے مؤدبانہ طور پر عرض کی کہ حضور کسی نے کہا تھا کہ اگر کبھی حضور انور سے ملاقات ہو تو ایک سوال پوچھیں۔ کیا اجازت ہے؟ حضور نے ازراہ شفقت اجازت عطا فرمائی۔ میں نے کہا کہ دو تین خواتین نے پوچھا ہے کہ ایک ملک میں خواتین کے مشاعرے پر پابندی لگائی گئی ہے کیا یہ کورونا کی وجہ سے ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ کورونا کی وجہ سے نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ

مشاعرے جماعت کی اعلیٰ اقدار اور روایات کے مطابق ہی ہونے چاہئیں۔

کسی اَور ملک والوں نے مجھ سے مشاعرہ کرنے کی اجازت مانگی تھی تو انہیں میں نے پروگرام کرنے کی اجازت دی ہے۔

خاکسار نے عرض کی حضور میں نے آپ کو ہمیشہ مسکراتے ہی دیکھا ہے۔ ہم عام انسان تو چھوٹی چھوٹی باتوں پر گھبرا جاتے ہیں۔ توحضور ازراہ کرم مشکل حالات میں مسکرانے کا ہنر مجھے بھی سکھا دیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ

انسان کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر پورا یقین ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی مددگار نہیں۔

پھر ایک بات پرحضور نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا یہ مصرعہ پڑھا

’’سر جھکا بس مالکِ ارض و سما کے سامنے‘‘

حضور نے فرمایا:

صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ انسانوں کے آگے نہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے سر جھکانا چاہیے۔ دشمن تو چاہتا ہے کہ ان کی باتوں سے ڈر کر میں بھی بولوں لیکن میں صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں اس لیے میں خاموش رہتا ہوں اور سب کے لیے دعا کرتا ہوں۔

اس دوران حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطوط کی دو فائلیں ملاحظہ کرکے، خطوط پر دستخط کر کے انہیں مکمل کر کے میز پر رکھا اور کھڑے ہو کر تیسری فائل اٹھائی۔ خاکسار نے عرض کی حضور چند ماہ قبل میرے بھتیجے عثمان کی شادی تھی امریکہ میں۔ وہاں یوں تو سبھی پیارے حضور کو بڑی محبت سے سلام کہنے کا کہہ رہے تھے لیکن ایک صاحب میرے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے جو حضور کا بہت ہی عقیدت سے ذکر کر رہے تھے اور مجھے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزسے اپنی ملاقات کے بہت دلچسپ واقعات بھی سنا رہے تھے۔ حضور نے فرمایا کیا نام تھا ان کا۔ میں نے نام یاد کرنے کی کوشش کی لیکن نام ذہن میں نہیں آرہا تھا۔ خاکسار نے عرض کی حضور ان کا نام میرے فون میں ہے اگر اجازت ہو تو فون جیب سے نکال کر دیکھ لوں۔ فرمایا جی ٹھیک ہے۔ خاکسار نے فون نکالا اور تیزی سے ان کا نام تلاش کرنے لگا۔ ادب اور گھبراہٹ کے مارے نام ڈھونڈنا کافی مشکل ہو رہا تھا۔ میں نے سرچ بار میں لکھا یو ایس اے۔ اور جلدی یو ایس اے کے سارے نام پڑھنے لگا۔ میں نے کہا جی حضور مل گیا۔ ان کا نام ہے کریم صاحب۔ حضور نے فرمایا امریکہ کے کس شہر میں تھے آپ؟ میں نے عرض کی لاس اینجلس میں۔ حضور فرمانے لگے اچھا اچھا لاس اینجلس کے کریم صاحب۔ ساتھ ہی حضور انور نے کریم صاحب کی مصروفیات، ان کا حلیہ، ان کے کاروبار سے متعلق بتا کر پوچھا وہ والے کریم صاحب؟ میں نے عرض کی اللہ اکبر! حضور بالکل وہی کریم صاحب۔ آپ تو ایسے ہے جیسے کہ چشم تصور سے جماعت کے ہر فرد کو دیکھ رہے ہوں۔ حضور نے فرمایا جی کریم صاحب مجھے دعا کے خطوط لکھتے رہتے ہیں۔

قارئین کرام یہاں میں ایک بات عرض کرتا چلوں کہ خاکسار نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی مصروفیات سے متعلق ایک مضمون غالباً چار صفحات کا الفضل انٹرنیشنل میں لکھا تھا کبھی وقت ملے تو ضرور پڑھیں (ملاحظہ فرمائیں الفضل انٹرنیشنل 29؍ اگست تا 11؍ستمبر 2014ء صفحہ 29تا 32)۔ اس کے علاوہ خاکسار نے حضورِ انور کی حیرت انگیز یادداشت سے متعلق دو صفحات پر مشتمل ایک مضمون الفضل میں لکھا تھا اور یہ ہی عرض کی تھی کہ کیسے جماعت احمدیہ کے افراد کو اللہ تعالیٰ نے خلافت کی نعمت سے نوازا ہوا ہے کہ خلیفہ وقت دو سو سے زائد ممالک کے احمدیوں کے حالات پر نظر رکھتے ہیں اور جو لوگ حضور کو دعا کے لیے خطوط لکھتے رہتے ہیں کیسے وہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو دعاؤں میں یاد رہتے ہیں۔

(مذکورہ مضمون درج ذیل لنک پر پڑھا جا سکتا ہے)

اس کے بعد شعر و شاعری کے موضوع پر بات ہوئی تو پیارے آقا ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ’’آج کل آصف باسط صاحب بہت اچھی نظمیں لکھ رہے ہیں ‘‘۔

الحکم اخبار کی بات ہوئی تو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ قاصد معین صاحب نے بہت پیارا مضمون لکھا ہے۔ آپ نے پڑھا ہے الحکم اخبار میں؟ میں نے کہا حضور اچھا ! قاصد صاحب نے مضمون لکھا ہے؟ مجھے اس کا علم نہیں۔ حضور نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔ کمال کرتے ہیں مبارک صاحب۔ جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے۔ قاصد صاحب کا مضمون پڑھیں۔

(مذکورہ مضمون درج ذیل لنک پر پڑھا جا سکتا ہے)

اس کے بعد ملاقات اختتام کو پہنچی۔ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دفتر سے باہر نکلتے سوچ رہا تھا کہ دنیا میں کوئی اتنا پیارا راہبر اتنا پیارا مرشد نہیں ہے جو مجھ جیسے نابکار و دلفگار کا دل رکھنے کے لیے اسے اتنا زیادہ وقت دے اور ہر ہر معاملے میں ہر سائل کی راہنمائی کرے۔ اللہ تعالیٰ قدم قدم پر ہمارے محبوب امام کا حافظ و ناصر ہو آمین۔

دفتر سے واپسی پر اپنی کار میں، میں اپنی ہی لکھی ہوئی ایک غزل دہرا رہا تھا

اے مِرے خدا مِرے چارہ گر اُسے کچھ نہ ہو

مجھے جاں سے ہے وہ عزیز تر اُسے کچھ نہ ہو

تِرے پاؤں پڑ کے دعا کروں سرِ دشت میں

مِرے سر پہ ہے وہی اک شجر اُسے کچھ نہ ہو

وہ جو ایک پل تھا قبولیت کا مجھے ملا

تو کہا تھا خالقِ بحر و بر اُسے کچھ نہ ہو

اے غنیمِ جاں چلو آج تجھ سے یہ طے ہوا

مجھے زخم دے بھلے عمر بھر اُسے کچھ نہ ہو

(مبارک صدیقی۔ 6؍ مارچ 2022ء)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

ایک تبصرہ

  1. السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    محترم مبارک صدیقی صاحب سب سے پہلے تو آپ کو بہت جزاک اللہ و احسن الجزاء۔ اللہ ہی آپ کو اس کی احسن جزا دے سکتا ہے کہ آپ نے اس قدر پُرلطف ملاقات کا احوال سنایا۔ جہاں جہاں آپ نے حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ کے تبسم فرمانے کا بیان کیا تو ساتھ ہی میں بھی پیارے حضور ایدہ اللہ کی مسکراہٹ کو چشم تصور سے محسوس کر رہا تھا اور میرے چہرے پر بھی اک مسکراہٹ بکھر گئی۔ آپ ہمیں بھی دربارِ خلافت میں لے گئے۔بے شک ہماری خوشیاں اور ہمارے غم خلافت کے ساتھ ہیں۔ خلیفہ وقت کے چہرہ مبارک اور لطیف مزاح سے ہماری روحوں کو سکون اور امن نصیب ہوتا ہے اور خلیفۃالمسیح کے غم سے ہمارے دل بھی مغموم ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے امام کی ہرقدم پر تائیدو نصرت فرمائے اور ہمیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی سلطانِ نصیر بننے کی توفیق عطا فرمائے،آمین۔
    جزاک اللہ و احسن الجزاء۔ بہت لطف آیا پڑھ کر۔
    والسلام
    خاکسار
    آفاق احمد زاہد
    جرمنی

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close