متفرق

رمضان اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا مہینہ

(سیدہ منورہ سلطانہ۔ جرمنی)

رمضان المبارک کی ہماری زندگی میں خاص اہمیت ہے۔ جس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے بند کردیے جاتے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اس ماہ میں ماحول سازگار ہوتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے احکامات پرعمل کرتے ہوئے نیکیوں میں ترقی کرسکتے ہیں۔زیر نظر مضمون میں خلفائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشادات کی روشنی میں رمضان کے فیوض و برکات حاصل کرنے کے ذرائع کی طرف راہ نمائی ملتی ہے جن پر عمل کرنے کی بدولت رمضان میں جاری نیکیاں اور اللہ تعالیٰ کی رضا ہماری زندگیوں کا حصہ بن جاتی ہیں۔

حضرت امیرلمومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:’’اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم آج کل رمضان کے مبارک مہینہ سے گزر رہے ہیں۔ خوش قسمت ہیں وہ جو اِس بابرکت مہینہ سے فائدہ اُٹھائیں گے۔ اور یہ برکتیں روزے کی حقیقت کو جاننے اور اس سے بھر پور فائدہ اُٹھانے سے ملتی ہیں۔ بیشک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد برحق ہے کہ رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے۔(صحیح مسلم کتاب الصیام باب فضل شہر رمضان حدیث نمبر 2495)

لیکن کیا ہر ایک کے لیے یہ دروازے کھول دیے جاتے ہیں؟ کیا ہر ایک کے شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے؟ کیا ہر ایک کے لیے دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں؟

یقیناً ہر ایک کے لیے تو ایسا نہیں ہو سکتا بلکہ یہاں مومنین کو مخاطب کیا۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف ظاہری ایمان لانے سے، مسلمان ہونے سے اور روزہ رکھنے سے یہ فیض انسان حاصل کر لے گا اور کیاصرف اتنا ہی ہے۔ اگر صرف اتنا ہی ہے تو اللہ تعالیٰ نے بار بار ایمان لانے کے ساتھ اعمالِ صالحہ بجا لانے کی طرف بہت زیادہ توجہ دلائی ہے، بہت زیادہ تلقین کی ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے تو کسی بھی انسان کے لیے چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ہو، اگر وہ نیک اعمال بجا لانے والا ہے تو نیک جزا کا بتایا ہے۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ27؍ جولائی 2012ء)

نیکیوں میں بھی آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے

’’پس اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ تبھی پورا ہوگا جب ہم ان حکموں پر بھی عمل کریں گے اور نیکیوں میں بھی آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے۔ اور رمضان میں تو اللہ تعالیٰ ان نیکیوں کے کرنے کی وجہ سے عام حالات کی نسبت ان کا کئی گنا بڑھا کر اجر دیتا ہے بلکہ بے حساب دیتا ہے۔ پس یہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ روزے میرے لئے ہیں اور مَیں ہی ان کی جزا ہوں۔ یہ اس لئے ہے کہ بندہ خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے آپ کو تمام جائز چیزوں سے روکتا ہے۔ جو نہ کرنے والی ہیں ان سے تو رکنا ہی ہے، جائز چیزوں سے بھی رکتا ہے۔ نیکیوں کو اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ برائیوں سے بیزاری کا اظہار کرتا ہے۔ اپنی عبادتوں کے معیاربڑھاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کے لئے، اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے، اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر چلتے ہوئے، پہلے بندہ کو ہی کوشش کرنی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی ذمہ داری بندہ کی ہی لگائی ہے کہ بندہ میری طرف ایک ہاتھ آئے گا تو پھر مَیں اس کی طرف دو ہاتھ آؤں گا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کی طرف چل کر جائے گا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں دوڑ کر اس کی طرف آؤں گا۔ پس ایک مومن کو ہر وقت یہ فکر رہنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے، تقویٰ اختیار کرتے ہوئے اپنے پیار کرنے والے خدا کی طرف جاؤں تو ایسے بندے کے لئے اللہ تعالیٰ رمضان میں عام دنوں سے زیادہ دوڑ کر آتا ہے اور اسے اپنی پناہ میں لے لیتا ہے۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ 7؍ اکتوبر 2005ء مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 28؍اکتوبر 2005ء صفحہ5)

دلوں میں خدا کی محبت کا بیج بونے کا مہینہ

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اپنی اگلی نسلوں کی تربیت کی کوشش کریں۔ ان کو باربار یہ بتائیں کہ عبادت کے بغیر تمہاری زندگی بالکل بے معنی اور بےحقیقت بلکہ باطل ہے۔ ایک ایسی چیزہے جو خدا تعالیٰ کے ہاں کسی شمارمیں نہیں آئے گی اس لئے جانوروں کی طرح یہیں مرکرمٹی ہو جاؤ گے۔ مگر فرق صرف یہ ہے کہ جانور تومرکر نجات پا جاتے ہیں تم مرنے کے بعد جزا سزا کے میدان میں حاضر کئے جاؤگے۔ پس یہ شعور ہے جسے ہمیں اگلی نسلوں میں پیدا کرناہے اور رمضانِ مبارک میں ایک بہت اچھا موقع ہے کیونکہ فضا سازگار ہو جاتی ہے۔

…یہ وہ طریق ہے جس سے آپ اپنے گھر میں اپنے بچوں کی بہت عمدہ تربیت کر سکتے ہیں۔ جب وہ صبح اٹھتے ہیں تو ان کو پیار اور محبت کی نظر سے دیکھیں ، ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ ان کو بتائیں کہ تم جو اٹھے ہو توخدا کی خاطر اٹھے ہو اور ان سے یہ گفتگو کیا کریں کہ بتاؤ آج نماز میں تم نے کیا کیا۔ کیا اللہ سے باتیں کیں، کیا دعائیں کیں اور اس طریق پر اُن کے دل میں بچپن ہی سے خدا تعالیٰ کی محبت کے بیج مضبوطی سے گاڑے جائیں گے یعنی جڑیں اُن کی مضبوط ہوںگی۔ ان میں وہ تمام صلاحیتیں جو خدا کی محبت کے بیج میں ہوا کرتی ہیں وہ نشوونما پاکر کونپلیں نکالیں گی۔پس رمضان اس پہلو سے کاشتکاری کا مہینہ ہے۔ آپ نے بچوں کے دلوں میں خداکی محبت کے بیج بونے ہیں۔ اس طریق پر اُن کی آبیاری کرنی ہے یعنی روزمرہ اُن کو نیک باتیں بتابتا کر کہ ان بیجوں سے بڑی سرسبز خوشنما کونپلیں پھوٹیں اور رفتہ رفتہ وہ بچے ایک شجر ہ طیبہ کی صورت اختیار کر جائیں جس کی جڑیں تو زمین میں پیوستہ ہوتی ہیں مگر شاخیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔

تو رمضانِ مبارک کو روزوں کے لحاظ سے جیسے گزارنا ہے وہ تو عام طورپر سب جانتے ہی ہیں مگر میں ان فائدوں پر نگاہ رکھ رہاہوں جو رمضان میں خاص طورپر ہجوم کر کے آجاتےہیں اوراس وقت آ پ اس ہجوم سے استفادہ کریں اور زیادہ سے زیادہ برکتیں لوٹ لیں۔ یہ مقصد ہے اس نصیحت کا جس کے لئے میں آ ج آ پ کو متوجہ کررہاہوں۔ بعض لوگ جانتے ہیں کنکوے اڑائے جاتے ہیں مگر بسنت میں جوکنکووں کے اڑنے کا عالَم ہے وہ چیز ہی اور ہو جاتی ہے۔ پس خدا کی یادوں کے لئے یہ مہینہ بسنت بن گیاہے اورباربار ذکرالٰہی کے جوگیت ہیں وہ گھر گھرسے بلند ہوتے ہیں۔ مختلف وقتوں میں اٹھتے ہیں ، صبح و شام تلاوت کی آوازیں آتی ہیں اور طرح طرح سے انسان اللہ کی یاد کو زندہ اور تازہ اور دائم کرنے کی کوشش کرتاہے تاکہ جو یاد آئے وہ پھرہاتھ سے نکل نہ جائے۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ 17؍جنوری 1997ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل7؍مارچ1997ءصفحہ5تا6)

سحری و افطاری کو تربیت کے لیے استعمال کریں

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’دیکھو رمضان میں کیسے اعلیٰ اعلیٰ مواقع آپ کو نصیب ہوتے ہیں اور کس طرح روزمرہ آپ کی اولاد کی تربیت آپ کے لئے آسان ہو جاتی ہے۔ ایک ماحول بنا ہوا ہے ، اٹھ رہے ہیں روزوں کے وقت، افطاری کے وقت اکٹھے ہو رہے ہیں اس وقت عام طو ر پرلوگ گپیں مارکے اپنا وقت ضائع کر دیتے ہیں۔ سحری کے وقت بھی میں نے دیکھا ہے یہ رجحان ہے کہ ہلکی پھلکی باتیں کرکے توہنسی مذاق یا دوسری باتوں میں سحری کے وقت کو ٹال دیتے ہیں اور ضائع کردیتے ہیں۔ اسی طرح افطاری کا حال۔ تو میں آپ کو یہ سمجھانا چاہتاہوں کہ جہاں تک ممکن ہو سکے سحری اور افطاری کو تربیت کے لئے استعمال کریں اور تربیت کے مضمون کی باتیں کیا کریں۔‘‘( خطبہ جمعہ فرمودہ 17؍ جنوری1997ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 7؍مارچ1997ءصفحہ7)

(جاری ہے)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close