متفرق

ہم نے بھی حضور انور ایدہ اللہ سے ملاقات کی

(محمد اظہار احمد راجہ۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل برکینا فاسو)

پس پردہ رونما ہونے والے چند مشاہدات کا تذکرہ

یہ کہانی ہے ہفتہ 26؍فروری 2022ء کی جب نیشنل عاملہ و قائدین علاقہ جات مجلس خدام الاحمدیہ برکینا فاسو کو اپنے پیارے امام حضرت اقدس خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ورچوئل ملاقات کے ذریعہ شرف دیدار و ملاقات نصیب ہوا۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ

یہاں اس ملاقات کا احوال، تفصیلات اور رپورٹ دینا مقصد نہیں ہے بلکہ چند مشاہدات کا تذکرہ کرنا مقصود ہے جو کہ پس پردہ رونما ہوئے اور ان کو مد نظر رکھ کر ہی خاکسار نے عنوان تجویز کیا ہے جس کاقارئین کو پڑھنے کے بعد بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔

گزشتہ سال ماہ اکتوبر2021ء کے شروع میں ہی صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ برکینا فاسو نے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں ورچوئل ملاقات کے لیے درخواست ارسال کی اور الحمدللہ چند دن بعد جب اس کی منظوری عنایت ہوئی تو یہ ہماری عید تھی کہ ہماری ورچوئل ملاقات حضور انور سے ہو گی۔ بہر حال اس خوشی میں ہم یہ بھول گئے کہ ہم دنیا کے اس حصہ میں بستے ہیں جس کا نام افریقہ ہے اور افریقہ میں سے بھی مغربی افریقہ جس کے لیے لوگوں کا دل چاہے تو واقعی طور پر اس کو موجودہ دنیا کی stone ageکہنا شروع کر دیں۔ خیر، سوال اب یہ تھا کہ اس ورچوئل ملاقات کی اجازت تو حاصل کر لی ہے اب یہ ہو گی کیسے؟ کیا وہ وسائل اور ٹیکنیکل سہولیات ہیں؟ کیا ہمیں اس ملاقات کے لیے مہیا ہو سکیں گی؟ بہر حال جب اپنے گریبان میں جھانکتے تو خوف ہی دامنگیر رہتا کہ ہو گا کیا؟ اس خوف کا ایک فائدہ بھی بعد میں نظر آیا کہ اس حالت نے دعا کی طرف ہی ہر مرتبہ پھیرا اور سب ہی دعا میں لگے رہے۔ حضور انور کو بھی بدستور دعا کی درخواست ارسال کرتے رہے اور اس حسن ظنی اور امید پر اپنے آپ کو ہر میٹنگ کے اختتام پر تسلی دیتے کہ ان شاء اللہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا لیکن اپنے محدود وسائل سے جب بھی کسی قسم کی ٹیسٹنگ کرتے تو ان امیدوں پر مکمل طور پر پانی پھر جاتا اور پھر وہی ایک حل، دعا اور حضور انور کی خدمت اقدس میں دعائیہ خط۔

وقت گزرتا گیا اور ماہ فروری2022ء یعنی ہماری ملاقات کا ماہ آن وارد ہوا۔ دن تیزی سے گزرتے جا رہے تھے اور ابھی تک کوئی حل نظر نہیں آ رہا تھا اپنی سی کوششیں اور تیز کر دیں اوریہ طے پایا کہ کسی کمپنی سے جو کہ سٹوڈیو کی سہولیات مہیا کرتی ہو بات کر کے ان کو کہا جائے کہ ہمارے لیے یہ ملاقات تکنیکی لحاظ سے ممکن بنائیں کیونکہ ان کا تو مختلف ٹی وی چینلز کو اس قسم کی سہولیات مہیا کرنا وغیرہ روز کا کام ہے۔ بہر حال جب بات کی گئی تو ان لوگوں نے حامی بھر لی لیکن جب اس کمپنی نے قیمت بتائی تو وہ پنجابی کی ضرب المثل کہ داڑھی سے مونچھیں لمبی ہو گئیں یاد آگئی کیونکہ کسی چیز کا مہنگا ہونا بالکل اور بات ہے اور حضور انور کی بابرکت صحبت کے حصول کے لیے تو یہ چیز کچھ حیثیت بھی نہیں رکھتی لیکن ان کی ڈیمانڈ جو کہ بالکل استطاعت سے ہی باہر ہو، وہ تو ممکن نہیں تھی۔ اب کیا کرنا تھا؟ امید کی بظاہر ایک کرن جو نظر آئی وہ بھی ختم۔ اور پھر وہی ایک حل دعا اور حضور انور کی خدمت اقدس میں خط۔

کوششیں جاری تھیں کہ کسی طرح کا م بن جائے۔ ملاقات سے ایک ہفتہ قبل ایک خوشخبری یہ ملی کہ ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل سے بات ہوئی ہے اور وہ ہمیں یہ سہولت دینے کو تیار ہیں لیکن ہمیں یہ پروگرام ان کے سٹوڈیو میں جا کر کرنا پڑے گا اور قیمت بھی مناسب۔ اس خبر کا ملنا تھا کہ ہماری ایک اور عید ہو گئی اور اگلی ہی فرصت میں ہم سٹوڈیو دیکھنے چلے گئے ۔وہاں جا کر جائزہ لیا اور ہماری خوشی کی انتہا نہ تھی کہ یہ ہمارے لیے ایک تیار دستر خوان ہے بڑی کھلی اور کشادہ بیٹھنے کی جگہ، لائٹس اور کیمروں کا تمام سسٹم اورسب کچھ موجود ہے ہم نے بس جانا ہے اور ملاقات ہو گی اور واپس آجانا ہے۔ بقیہ ہر لحاظ سے تمام تکنیکی سہولیات اور وہ بھی بہترین قسم کی وہاں مہیا تھیں۔ اب ہمیں یہ فکرنہ رہی کہ ملاقات کیسے ہو گی۔ اسی خوشی میں ابھی دو دن ہی گزرے ہوں گے کہ ملاقات کے دن سے دو تین دن قبل اس سٹوڈیووالوں نے ہم سے رابطہ کیا اور بغیر کوئی وجہ بتائے ہم سے طے شدہ پروگرام کینسل کر دیا۔ ہماری حالت یہ تھی اب یا تو ہمیں زمین نگل لے یا آسمان اوپر اٹھا لےاور ہوتی بھی کیوں نہ کیونکہ دو دن بعد حضور انور سے ملاقات تھی اور ہماری تیاری بالکل صفر۔ اور پھر وہی ایک حل دعا اور حضور انور کی خدمت اقدس میں خط۔

اب وقت بالکل نہ تھا کہ مزید سوچنے میں صرف کیا جاتا اب جیسے تیسے کر کے کام کرنا تھا اور خود کرنا تھا اس لیے تکنیکی سامان کرائے پر لیا گیا اورجامعۃ المبشرین برکینا فاسوکے ہال میں تیاری شروع کر دی۔ اب چونکہ یہ ملاقات سے قبل والی رات تھی اور تمام قائدین اپنے اپنے علاقہ جات سے سفر کر کے مرکز پہنچ چکے تھےاس لیے رات گئے تک جب سب چیزیں لگا لیں اور ٹیسٹنگ شروع کی توکوئی قابل ذکر نتیجہ نہیں نکلا۔ لندن سےمکرم منیر عودہ صاحب جو کہ اس کام کے انچارج ہیں ہمارے ساتھ مسلسل ٹیسٹنگ کر رہے تھے۔ ان کو ہماری طرف سے کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں مل رہا تھاکہ جس کی بنا پر کہا جا سکے کہ ہاں آپ کی ملاقات کل ہو جائے گی۔ جب بہت رات ہو گئی اور ہمیں بھی معلوم ہو گیا کہ اب فی الحال تو کچھ بن بھی نہیں رہا اور مزید اتنے رات گئے کچھ ہو بھی نہیں سکتا تو ہم نے ان سے درخواست کی کہ ہمیں صبح تک کا وقت دیں ہم ان شاء اللہ بہتری لے آئیں گے۔ ان کا بھی ظرف کہ جواب میں کہا کہ میں اس وقت تک آرام نہیں کر رہا جب تک آپ کا مسئلہ حل نہ ہو جائے۔ صبح آٹھ بجے میں آپ سے دوبارہ رابطہ کروں گااور دوبارہ ٹیسٹنگ کریں گے۔

رات گئے جب کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ ہوئی تو ٹیکنیکل ٹیم بھی چلی گئی کہ اب صبح ہی آئیں گے اور دیکھیں گے۔

رات کافی ہو چکی تھی اور اگلے روز اجتماعی نماز تہجد سے دن کا آغاز کرنا تھاکیونکہ یہ ملاقات کا دن تھا۔ خیر کام نمٹاتے ہوئے رات کے ایک بجے صدر صاحب مجلس نے یہ کہہ کر مجلس برخاست کی کہ چونکہ تین گھنٹے بعد تہجد بھی ہے اس لیے آرام کر لیں اور دعا کریں۔

صبح چار بجے کے قریب بیداری ہوئی اور اسی غمگین سی حالت میں مسجد میں جاکھڑے ہوئے اور یہی دعا کی کہ غیب سے سب کام ہو جائیں۔

منیر عودہ صاحب نے جیسے رات کو کہا صبح آٹھ بجے سے ہی ہم سے رابطہ شروع کر دیا لیکن ہماری طرف ٹیسٹنگ شروع نہ ہوئی اور ہوتی بھی کیسےکیونکہ بقول ہمارے کوآرڈینیٹر صاحب کہ رات کو جو انٹرنیٹ سگنل آ رہے تھے اب وہ بھی میسر نہیں اور جب امیر صاحب نے ان سے دریافت کیا کہ کیا اپ ڈیٹ ہے تو انہوں نے کہا کہ امیر صاحب ابھی تک تو کوئی صورت حال نہیں ہے اور بس دعا ہی بچا سکتی ہے یہی ایک واحد حل رہ گیا ہے۔

اسی جستجو میں ایک اور گھنٹہ گزر گیا اورجب کچھ انٹرنیٹ بہتر ہوا تو تقریباً صبح کے نو بجے کے بعد ٹیسٹنگ کا آغاز ہوا۔ یاد رہے کہ دو گھنٹے بعد ہماری حضور انور سے ملاقات شروع ہونی تھی۔ مکرم منیر صاحب بھی اپنے کام کی سرانجام دہی کے لیے اسلام آباد جہاں ورچوئل ملاقات کا سٹوڈیو ہے کی طرف گامزن تھے اور گاڑی میں تمام راستہ مسلسل ہمارے ساتھ ٹیسٹنگ بھی کر رہے تھے۔ یہ مرحلہ ٹھیک گزر گیا اور جب ان کو ہماری طرف سے کچھ تسلی ہوئی تو اتنے میں اسلام آباد بھی آ گیا۔انہوں نے کہا کہ اب میں اسلام آبادسٹوڈیو میں سے آپ سے ٹیسٹنگ کرتا ہوں۔ کوئی پانچ منٹ بعد دوبارہ ٹیسٹنگ کا آغاز ہوا۔ اس مرتبہ منیر صاحب کے پیچھے وہی خوبصورت بیک گراؤنڈ نظر آیا جو کہ ملاقات کے لیے پیارے آقا کے عقب میں نظر آتا ہےدل کو تسلی ہوئی کہ سٹوڈیو میں ٹیسٹنگ تک ہم کامیابی سے پہنچ گئے ہیں۔ جب منیر صاحب نے بولنا شروع کیا تو ہمیں تو ان کی تصویر اور آواز صاف آئے لیکن ہماری آواز جو کہ ابھی تک ان کی گاڑی میں بالکل ٹھیک تھی سٹوڈیو ٹیسٹنگ کی تو نہ جائے۔ اب یہ ایک اورمسئلہ تھا۔ خیر کوشش جاری رہی آواز کبھی ٹھیک ہو جاتی اور کبھی بالکل خراب اس کو درست کرنے کے تمام ترجتن کر لیے اور کام چل بھی پڑا لیکن دلی تسلی نہ ان کو ہم سے ہو رہی تھی اور نہ ہمیں خود تھی۔ملاقات کے آغاز سے آدھا گھنٹہ قبل قریباًساڑھے گیارہ بجے کچھ بہتری نظر آنا شروع ہوئی اور آخری دس منٹ ٹیسٹنگ کے بالکل ٹھیک رہے۔ اب مزید ٹیسٹنگ کا وقت نہیں تھا۔ حضور انور کی تشریف آوری سے قبل میزپر ضروری اشیاء رکھنے کا آغاز ہوا تو منیر صاحب کو وہاں سے رخصت ہو نا پڑا اور جاتے جاتے وہ یہ کہہ گئے کہ ہم اپنی طرف سے جتنی کوشش کر سکتے تھے آپ کے ساتھ کی اب میری دعا ہے کہ آپ کی ملاقات کے دوران سب کچھ بالکل ٹھیک رہے۔ اب ملاقات سے قبل دس منٹ باقی تھے سب لوگ محو دعا تھے کہ کسی لمحہ بھی حضور انور تشریف لائیں گے۔سکرین پر حضور انور کی خالی کرسی اور اس کرسی کے عقب میں وہ بیک گراؤنڈ سب کی آنکھوں کے سامنے تھااور دل میں گزشتہ تمام مراحل اور ایک خوف کہ ملاقات کے درمیان اگر دوبارہ تکنیکی لحاظ سے کچھ پیچیدگی ہو گئی تو کیا ہو گا؟ اسی کشمکش میں سکرین پر نظارہ بدلا اور السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کی آواز کے ساتھ حضور انور کا پُر نور چہرہ نمودار ہوا۔ سبحان اللہ۔ وہ گھڑی تھی جب گویا ایک دم تمام گزشتہ حالت خوف اور پریشانی کی بالکل مٹ گئی اور ایک گھنٹہ دس منٹ کا وقت امن، سکون اور اطمینان سے ایسے پلک جھپکتے میں گزر گیا کہ احساس ہی نہ ہوا ۔علم تو تب ہوا جب خود حضور انور ایدہ للہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے سب شاملین سے بات کر کے آخر پر صدرصاحب مجلس خدام الاحمدیہ برکینا فاسو کو فرمایا کہ آپ کے وقت پر مزید دس منٹ گزر چکے ہیں اس لیےاب اللہ حافظ ہو۔… الحمدللہ ملاقات کے دوران کوئی مسئلہ نہیں ہوا اور سب بخیریت رہا۔ اتنے زیادہ خوف جو کہ ملاقات سے قبل آخری لمحہ تک سر پر منڈلا رہے تھے حضور پر نور کی آمد پر ایک دم امن میں بدل گئے گویا کچھ بھی نہیں تھا اور دوران ملاقات بھی اس خوف کی طرف شائبہ بھی نہیں گیا کہ کوئی مسئلہ ہو سکتا ہے؟

اب یہ خوف کو امن میں بدلنے والی خلیفہ وقت کی ذات بابرکات اور خلافت کا انعام نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ کسی کو اس میں شک ہو تو یہ لیں آگے کی حالت بھی دیکھ لیں کہ جونہی حضور انور نے خدا حافظ فرمایا ، سکرین سے ہٹے پانچ منٹ بھی نہیں گزرے تھے اور ابھی مجلس بھی برخاست نہ ہوئی تھی اور سب حاضرین ،ہال میں بالکل ویسے ہی موجود تھے کہ اچانک لائٹ چلی گئی اور لائٹ کا جانا ہی تھا کہ ہال نعرہ ہائے تکبیر اور خلافت احمدیہ زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ یہ لائٹ جانے کی خوشی نہ تھی بلکہ ہر ایک کے اند رکی آواز تھی کہ دیکھیں جب تک حضور انور تشریف فرما رہے نہ کوئی تکنیکی مسئلہ ہوا اور نہ لائٹ گئی اور جونہی حضور انور تشریف لے کر گئے تو لائٹ بھی چلی گئی۔ گو دو جنریٹر موجود تھے اور ایک کو دوران ملاقات بیک اَپ کے طور پر سٹارٹ کر نے کی کوشش بھی کی گئی جو کہ ناکام ہی گئی ۔ملاقات کے دوران لائٹ چلی جاتی تو دوسرا جنریٹر جو کہ بالکل ٹھیک چل رہا تھا اس کو استعمال میں بھی اگر لایا جاتا تو کیا معلوم کتنا وقت ضائع ہو جاتا اور دوبارہ رابطہ ممکن بھی ہوتا؟ لیکن خدا کے فضل اور خلافت کی برکت سے یہ خوف کی نوبت ہی نہ آئی اور امن ہی امن رہا۔ یوں ان حالات میں ہم نے بھی حضور انور سے ملاقات کی۔

بلا شبہ یہ دن ہر لحاظ سے برکینا فاسو کی اور افریقہ کی تاریخ احمدیت میںایک سنہرے دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

اللہ کرے کہ یہ خوش نصیبی اور سعادت ہمیشہ عطا ہوتی رہے اور حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جو ہماری راہنمائی فرمائی اور نصائح سے نوازا ہم اس پر پورا اترنے والے بنیں اور اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی خوشنودی بھی حاصل کرنے والے بن سکیں آمین۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close