متفرق مضامین

اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے

(میر انجم پرویز۔عربی ڈیسک یوکے)

آپؑ نے ان تینوں زبانوں میں پیغامِ حق پہنچانے کا فریضہ ادا کیا اور جو مضامین نثر میں بیان کیے ان کا خلاصہ نظم کے پیرائے میں بھی بیان فرما دیا۔لیکن آپ کا مقصد محض شعروشاعری نہیں تھا بلکہ تبلیغِ رشد وہدایت اور اظہارِ حق تھا کہ شاید اس ڈھب سے کوئی سمجھے اور ہدایت پا جائے

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوۡمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَہُمۡ۔(ابراہیم:5)اور ہم نے کوئى پىغمبر نہىں بھىجا مگر اس کى قوم کى زبان مىں تا کہ وہ انہىں خوب کھول کر سمجھا سکے۔

اللہ تعالیٰ نے امام آخر الزمان حضرت مسیح موعود وامام مہدی علیہ السلام کو ہندوستان میں مبعوث فرمایا، جو ایک ایسا ملک ہے جہاں بہت سی بیرونی قومیں آکر آباد ہوئیں اور مقامی طور پر اس کے مختلف علاقوں میں مختلف زبانیں بولی جاتی تھیں۔ یہاں بعض مقامی اور بعض بیرونی زبانوں کے اشتراک سے ایک ایسی زبان نے جنم لیا جو بہت جلد ترقی کرکے ایک ایسی حیثیت اختیار کرگئی کہ جسے بلا شبہ سارے ہندوستان کی مشترکہ زبان قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ اردو زبان ہے اور الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ اسے ہندی کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ لیکن اپنی ساخت کے اعتبار سے یہ ایک ہی زبان ہے۔ اسی زبان کو مامورِ زمانہؑ نے تبلیغِ رسالت کا بنیادی ذریعہ بنایا۔

حضرت مسیح موعودؑ چونکہ نبی عربی حضرت محمدرسول اللہﷺ کے خادم اور غلام کی حیثیت سے احیائے اسلام کے لیے مبعوث ہوئے تھے اس لیے دوسری زبان جس کو آپ نے تبلیغِ رسالت کا ذریعہ بنایا وہ عربی زبان ہے، جس میں آپ نے 22کتب تصنیف فرمائیں۔ اسی طرح فارسی زبان جسے 1835ء یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش کے سال تک سرکاری زبان کا درجہ حاصل تھا اور برصغیر کی تہذیب وثقافت میں اس کا بھی بہت کردار تھا، اس لیے تیسری زبان جسے آپ نے تبلیغِ رسالت کا ذریعہ بنایا وہ فارسی تھی۔ فارسی میں آپؑ نے کوئی کتاب تحریر نہیں فرمائی تاہم دس عربی کتب کی اشاعت فارسی تراجم کے ساتھ فرمائی، جن میں مکتوب احمد، حجۃ اللہ،ترغیب المومنین، نجم الہدیٰ، حقیقۃ المہدی، خطبہ الہامیہ، لجۃ النور، اعجازالمسیح، اعجازِ احمدی اورمواہب الرحمٰن شامل ہیں۔

آپؑ نے ان تینوں زبانوں میں پیغامِ حق پہنچانے کا فریضہ ادا کیا اور جو مضامین نثر میں بیان کیے ان کا خلاصہ نظم کے پیرائے میں بھی بیان فرما دیا۔لیکن آپ کا مقصد محض شعروشاعری نہیں تھا بلکہ تبلیغِ رشد وہدایت اور اظہارِ حق تھا کہ شاید اس ڈھب سے کوئی سمجھے اور ہدایت پا جائے۔ چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں:

کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق

اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے

یہاں یہ ذکر کر دینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ اپنی ناسمجھی سے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ انبیاء کو زیبا نہیں کہ وہ منظوم کلام کہیں اور اس کی تائید میں وہ قرآن کریم کی بعض آیات کا حوالہ دیتے ہیں جیسے:وَمَا عَلَّمۡنٰہُ الشِّعۡرَ وَمَا یَنۡۢبَغِیۡ لَہٗ ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ وَّقُرۡاٰنٌ مُّبِیۡنٌ۔(يٰس:70)اور ہم نے اسے شعر کہنا نہىں سکھاىا اور نہ ہى ىہ اسے زىب دىتا تھا۔ ىہ تو محض اىک نصىحت ہے اور واضح قرآن ہے۔

اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ یہاں نبی کریمﷺ پر نازل ہونے والے کلام کے بارے میں بات ہو رہی ہے اور بتایا ہے کہ ہم نے اپنے رسول کو شعر کہنا نہیں سکھایا تاکہ یہ نہ سمجھا جائے کہ چونکہ یہ شخص شاعر ہے اس لیے یہ اپنے ذاتی ملکہ اور صلاحیت سے ایسا فصیح وبلیغ کلام بنا کر اسے وحی الٰہی قرار دے رہا ہے۔پس یہ بات صرف آنحضرتﷺ کے لیے خاص ہے اور اس سے قرآنی وحی کی ہر ممکنہ شبہ سے نزاہت وبریت مقصود ہے۔ ورنہ شعر کہنا اپنی ذات میں کوئی معیوب بات یا برائی نہیں۔ اگر یہ معیوب بات ہوتی تو آنحضرتﷺ شاعری کو پسند نہ فرماتے اور نہ ہی یہ فرماتے: إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ لَحِكْمَةً۔ (سنن ابن ماجہ، كتاب الادب) کہ بعض اشعار بڑے حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔ چنانچہ حضرت لبید ابن ربیعہ ؓکے ایک مصرع کے بارے میں آپؐ نے فرمایا: أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا الشَّاعِرُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللّٰهَ بَاطِلٌ۔(صحیح البخارى كتاب المناقب) کہ سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی ہے وہ لبید نے کہی ہےاور وہ یہ کہ یقیناً اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔ اگر شعر کہنا کوئی برائی ہوتی تو آپؐ یقینا ًاپنے صحابہ کو شعر کہنے سے منع فرماتے لیکن اس کے برعکس آپ حضرت حسان بن ثابتؓ کوجو شاعر رسول کہلاتے ہیں، شعر کہنے کا حکم دیتے اور فرماتے: اهْجُهُمْ أَوْ هَاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ۔(صحیح البخاری، كتاب بدء الخلق) کفار کے بالمقابل شعر کہو، حضرتِ جبریلؑ آپ کے ساتھ ہے۔ ایک اَور روایت میں ہے: أَجِبْ عَنِّي، اللّٰهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ۔ (صحیح البخاری، كتاب بدء الخلق) کہ اے حسانؓ، کفار کو میری طرف سے تم شعر کہہ کر جواب دو۔ اس ارشاد کے ساتھ ہی آپؐ ان کے لیے یہ دعا بھی کرتے کہ اے اللہ! تو حسان کی روح القدس کے ساتھ تائید فرما۔

حضرت حسان ؓکے علاوہ حضرت کعب بن مالکؓ، حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓاور دیگر صحابہ بھی کفار کی ہجو کیا کرتے تھے۔ بعض اشعار میں حکمت، وعظ ونصیحت اور آداب کی باتیں ہوتی ہیں۔ جیسا کہ زمانہ جاہلیت کے بعض لوگوں کے اشعار میں پائی جاتی تھیں۔ان میں سے امیہ بن ابی صلت بھی تھے جن کے بارے میں آنحضرتﷺ نے فرمایا: آمَنَ شِعْرُهُ وَكَفَرَ قَلْبُهُ کہ اس کا شعر تو مومنانہ ہے مگر دل کافر تھا۔(تفسیر ابن کثیر، زیر آیت وما علمناہ الشعر وما ینبغی لہ)

هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيئًا قُلْتُ نَعَمْ قَالَ’’هِيهِ‘‘فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا فَقَالَ ’’هِيهِ‘‘ ثُمَّ أَنْشَدْتُهُ بَيْتًا فَقَالَ ’’هِيهِ‘‘ حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِائَةَ بَيْتٍ۔(صحيح مسلم، كتاب الشعر)

پھر ایک صحابی حضرت شرید ؓسے آپؐ نے فرمایا کہ کیا تمہیں امیہ بن ابی صلت کے اشعار میں سے کچھ یاد ہے تو وہ صحابی کہتے ہیں کہ میں نے ایک شعر سنایا تو آپؐ نے فرمایا:’’اور سناؤ‘‘، پھر ایک شعر سنایا تو فرمایا:’’اور سناؤ‘‘، یہاں تک کہ میں نے آپؐ کو سو شعر سنائے۔

اقبال نے اپنے بارے میں یہ شعر کہا تھا جو امیہ بن ابی صلت پر بھی صادق آتا ہے:

اقبال بڑا اپدیشک ہے، من باتوں میں موہ لیتا ہے

گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر محض شعرو شاعری اور دکھاوے کی غرض سے جھوٹ اور مبالغے پر مبنی شعر کہے جائیں جس سے نری واہ واہ اور لوگوں کی خوشنودی مقصود ہو تو ایسی شعر گوئی یقیناً ناپسندیدہ ہے اور کسی نبی بلکہ کسی مومن کو بھی زیبا نہیں کہ وہ ایسی شاعری کو اپنا شیوہ بنائے، لیکن اگر شعر گوئی اظہار ِحق اور نیک مقاصد کے لیے ہو تو نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ اجر وثواب کا موجب اور اللہ و رسول ؐکی خوشنودی کا باعث بھی ہے۔

یہی مضمون سورۃ الشعراء کی آخری آیات میں مذکور ہے کہ وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الۡغَاوٗنَ۔اَلَمۡ تَرَ اَنَّہُمۡ فِیۡ کُلِّ وَادٍ یَّہِیۡمُوۡنَ۔ وَاَنَّہُمۡ یَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا یَفۡعَلُوۡنَ۔ اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیۡرًا وَّانۡتَصَرُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا ؕ وَسَیَعۡلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ۔ (الشعراء:225تا228)یعنی شعراءجن کا مقصد صرف لوگوں کی واہ واہ ہوتا ہے تو یاد رہے کہ محض بھٹکے ہوئے ہى اُن کى پىروى کرتے ہىں۔ کیا تو نے دیکھا نہیں کہ ایسے شعراء اپنے خیال کے گھوڑوں کو ہر وادی میں گھماتے پھرتے ہیں اور بڑی مبالغہ آمیز اور اپدیش پر مبنی باتیں کرتے ہیں، مگر کردار کو دیکھیں تو گفتار کے بالکل برعکس نظر آتا ہے۔ یہ وہ شاعری ہے جو کسی مومن کے شایان شان نہیں۔ جو ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں اور اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور خدا کی خاطر ظلم برداشت کرتے ہیں اور خداکے لیے ہی بدلہ لیتے ہیں نہ کہ اپنی ذات کے لیے تو ایسے مومن اس سے مستثنیٰ ہیں۔ ایسے مومن اگر شعر کی صورت میں اظہار کریں گے تو سچی بات ہی کریں گے اور حق کی دعوت دیں گے اور خود بھی حق کی راہوں پر قدم مارنے والے ہوں گے۔

جہاں آنحضرتﷺ کے شاعر ہونے کی نفی فرمائی گئی ہے وہاں اگر معروف معنوں میں شاعر مراد لیا جائے تو یہ مراد ہوگی کہ ہم نے آنحضرتﷺ کو ہوائی گھوڑے دوڑانا اور محض جھوٹی اور مبالغہ آمیز باتیں بنانا نہیں سکھایا، نہ ہی یہ آپؐ کو زیبا تھا۔

ہرچند کہ آنحضرتﷺ شاعر نہیں تھے مگر آپ نے بعض موقعوں پر خود بھی شعر کہے جن کا ذکر صحیح احادیث میں ملتا ہے۔ مثلا ًصحیح البخاری کتاب الجہاد میں آپؐ کے تین اشعار مذکور ہیں جو درج ذیل ہیں:

1۔ جنگ حنین کے موقع پر آپؐ نے فرمایا:

أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ

أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ

ترجمہ: میں نبی ہوں، جھوٹا نہیں۔میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔

2۔اسی طرح ایک جنگ کے موقع پر جب آنحضرتﷺ کی انگلی زخمی ہو گئی اور اس سے خون بہنے لگا تو آپؐ نے اپنی انگلی کو مخاطب کرکے یہ شعر کہا:

هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيْتِ

وَفِي سَبِيْلِ اللّٰهِ مَا لَقِيْتِ

ترجمہ: سوائے اس کے نہیں کہ تو ایک انگلی ہے جس میں سے کہ خون بہ رہا ہے اور یہ جو کچھ تجھے ہوا خدا کی راہ میں ہوا ہے۔

3۔ اسی طرح جنگ خندق کے موقع پر انصار یہ شعر پڑھ رہے تھے:

نَحْنُ الَّذِيْنَ بَايَعُوْا مُحَمَّدَا

عَلَى الْجِهَادِ مَا حَيِيْنَا أَبَدَا

کہ ہم وہ ہیں جنہوں نے محمدﷺ کی بیعت اس بات پر کی ہے کہ جب تک زندہ ہیں جہاد کرتے رہیں گے۔ اس پر آنحضرتﷺ نے ان کے جواب میں یہ شعر کہا:

اللّٰہُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ

فَأَكْرِمِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ

کہ زندگی تو دراصل آخرت کی زندگی ہے، پس (اے اللہ!) تو انصار اور مہاجرین کو عزت بخشنا۔

ان حوالوں سے ثابت ہو جاتا ہے کہ شعر کہنا فی حد ذاتہ کوئی مذموم بات نہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر کفار کی طرف سے آنحضرتﷺ پر شاعر ہونے کا الزام کیوں لگایا جاتا تھا؟ اور بعض مواقع پر خود آنحضرتﷺ نے بلکہ خود قرآن کریم نے شاعری یا شعراء کی مذمت کیوں فرمائی ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کو جو شاعر کہا جاتا تھا وہ شاعر کے معروف معنوں کے اعتبار سے نہیں کہا جاتا تھا۔ کیونکہ جزیرہ نمائے عرب میں ہر شخص جانتا تھا کہ منظوم اور باوزن کلام کیا ہوتا ہے اور آنحضرتﷺ ان معنوں کے لحاظ سے شاعر نہیں۔ جیسا کہ امام راغبؒ مفردات میں زیر لفظ ’’شعر‘‘ تحریر کرتے ہیں:’’قرآن مجید میں جو یہ آتا ہے کہ کفار آنحضرتﷺ کو شاعر ومجنون کہتے تھے۔ اس سے کافروں کی مراد کلام موزوں کہنا نہ تھی، بلکہ جس بات کا آنحضرتﷺ پر اعتراض کیا جاتا تھا وہ اور تھی۔ کیونکہ قرآن کا نثر ہونا توایسی بات ہے کہ کلام سے خود ہی ظاہر ہے (کہ یہ شعروں کی طرز پر نہیں)۔ اور یہ امر ایک عام آدمی پر بھی مخفی نہیں رہ سکتا چہ جائیکہ بلغائے عرب نثر اور نظم میں تمیز نہ کرسکتے ہوں۔ پس اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے آنحضرتﷺ پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا تھا۔ کیونکہ شعر سے مراد ’جھوٹ‘ اور شاعر کے معنے ’جھوٹا‘ لیےجاتے ہیں۔ عربی میں کہا جاتا ہے کہ اَحْسَنُ الشِّعْرِ اَکْذَبُہٗ سب سے اچھا شعر وہ ہے جس میں سب سے زیادہ جھوٹ ہو۔‘‘(مفردات امام راغب، زیر لفظ ’شعر‘)

اسی طرح انسانی جذبات سے کھیلنے والے کو بھی شاعر کہتے ہیں۔ حضرت مصلح موعود ؓبیان فرماتے ہیں:’’ہر شخص جو شعر کہتا ہے اس کو بھی شاعر کہتے ہیں۔ اور ہر شخص جو انسانی شعور یعنی جذبات سے کھیلتا ہے اس کو بھی شاعر کہہ لیتے ہیں۔ …چونکہ رسولِ کریمﷺپر نازل ہونے والے کلام میں کوئی ایک شعر بھی نہیں اور قرآن کریم خود کہتا ہے کہ یہ کلام کسی شاعر کا نہیں اس لیے یاد رکھنا چاہیے کہ جب قرآن کریم کے متعلق یا پہلے نبیوں کی نسبت شاعر کا لفظ آتا ہے تو اس سے مراد عرفِ عام والا شاعر نہیں ہوتا بلکہ محض جذبات سے کھیلنے والا انسان ہوتا ہے۔

بانیٔ سلسلہ احمدیہ بھی کبھی کبھی شعر کہتے تھے مگر وہ شاعر نہیں کہلا سکتے۔ وہ خود کہتے ہیں:

کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق

اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے

’’زمیندار‘‘اخبار چالیس سال سے اس بات پر تمسخر اڑاتا رہا ہے کہ مرزا صاحب شعر کہتے ہیں حالانکہ ان کے شعروں میں کوئی لطافت ہے نہ فصاحت اور نہ زبان دانی کی جھلک۔ غریب ’’زمیندار‘‘تو یہ سمجھتا رہا کہ اس سے وہ مرزا صاحب کی تردید کر رہا ہے، حالانکہ وہ اس ذریعہ سے احمدیوں کو یہ ہتھیار مہیا کرکے دے رہا تھا کہ باوجود کچھ موزوں کلام کہنے کے مرزا صاحب شاعر نہیں کہلا سکتےاور ان کے ملہم ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ (تفسیرِ کبیر جلد5 صفحہ 494،493، تفسیر سورۃ الانبیاء، آیت بل ھو شاعر)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود ایک شعر پر نوٹ تحریر فرمایا جو اس حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے۔ وہ شعر یہ ہے:

ہم تھے دِلوں کے اندھے سَو سَو دِلوں پہ پھندے

پھر کھولے جس نے جندے وہ مجتبٰی یہی ہے

اس میں لفظ جندے پر حضور ؑنے درج ذیل وضاحتی نوٹ تحریر فرمایا:’’جندے سے مراد اس جگہ قفل ہے۔ چونکہ اس جگہ کوئی شاعری دکھلانا منظور نہیں اورنہ میں یہ نام اپنے لیے پسند کرتا ہوں اس لیے بعض جگہ مَیں نے پنجابی الفاظ استعمال کئے ہیں اور ہمیں صرف اردو سے کچھ غرض نہیں۔ اصل مطلب امر حق کو دلوں میں ڈالنا ہے۔ شاعری سے کچھ تعلق نہیں ہے۔‘‘(قادیان کے آریہ اور ہم ،روحانی خزائن جلد20صفحہ456۔457)

چنانچہ آپ کا مقصد امرِ حق کو دلوں میں ڈالنا تھا۔ مکرم مرزا حنیف احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں:’’ابلاغ رسالت کے لیے آپ نے نثر کو اختیار فرمایا ہے۔ نظم کو ایک ثانوی نوعِ اظہار کے طور پر قبول کیا ہے۔ یعنی اس طرح سے کہ جو مضمون نثر میں بیان ہو رہا ہے اس کے ابلاغ کامل کے لیے اشعار میں بھی اس مضمون کو بیان کر دیا گیا ہے۔ آپ نے بعثت کے بعد کے وقت میں شاید کہیں ایک آدھ بار کے سوا ارادۃً مشقِ سخن نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ شعراء کے دستور کے مطابق آپ کا کوئی مجموعۂ اشعار یا دیوان نہیں ہے۔ آپ کی تینوں زبانوں کے درّ ہائے ثمین آپ کی نثری تصنیفات سے ماخوذ ہیں۔ آپ کا یہ فرمان:

کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق

اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے

دراصل یہی بیان کررہا ہے جو قبل میں کہا گیا ہے۔ یعنی نظم کہنے کا مقصد یہ ہے کہ شاید کوئی انسان نظم کے اثر سے ہدایت پا لے۔ تاہم آپ کے اس فرمان سے آپ کے ادبی حسن وخوبی پر حرف نہیں آتا، کیونکہ عظیم المرتبہ ادیب جس صنفِ ادب کو بھی اظہارخیال کےلیےاختیار کرتا ہے وہ اس میں اپنی ادبی عظمت کو برقرار رکھنے پر قادر ہوتا ہے۔‘‘(ادب المسیح صفحہ2)

آپ ماموریت سے پہلے بھی اردو اور فارسی میں شعر کہا کرتے تھے۔ عربی نظم ونثر آپ نے ماموریت کے بعد شروع کی کیونکہ عربی زبان آپ کو بطور معجزہ خدا تعالیٰ کی طرف سے سکھائی گئی تھی۔اب جب ہم آپ کے ماموریت سے پہلے اردو اور فارسی منظوم کلام کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں سوائے حمد باری تعالیٰ، نعت رسولؐ اور اسلام کی صداقت کے اور کچھ بھی نہیں۔بعد کے کلام میں یہی چیزیں ہیں اور ان کے علاوہ اپنی بعثت وماموریت، قوم کی حالت، نشانات وافضالِ الہٰیہ، دیگر اقوام پر اتمامِ حجت اورجماعت کو نصائح وغیرہ کا اضافہ ہے۔ یعنی آپ کا پہلے کا کلام اس بات کا آئینہ دار ہے کہ آپ ہمیشہ سے اللہ، رسولؐ اور اس کے دین کی محبت میں فنا تھے۔ اسی بے نظیر محبت کی بدولت اللہ تعالیٰ نے آپ کو ماموریت سے سرفراز کیا۔ آپؑ فرماتے ہیں:

کس قدر ظاہر ہے نور اُس مبدء الانوار کا

بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا

چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہوگیا

کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا

ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف

جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے ترے دیدار کا

(سرمہ چشم آریہ،روحانی خزائن جلد2صفحہ52)

٭…٭…٭

جب سے یہ نور ملا نور پیمبر سے ہمیں

ذات سے حق کے وجود اپنا ملایا ہم نے

مصطفی ٰ ؑپر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت

اس سے یہ نور لیا بارِ خدایا ہم نے

(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد5صفحہ225)

اسی طرح آپ فرماتے ہیں:

وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا

نام اس کا ہے محمد، دلبر مرا یہی ہے

اُس نُور پر فدا ہوں اُس کا ہی مَیں ہوا ہوں

وہ ہے، مَیں چیز کیا ہوں؛ بس فیصلہ یہی ہے

سب ہم نے اُس سے پایا، شاہد ہے تُو خدایا!

وہ جس نے حق دکھایا وہ مہ لقا یہی ہے

(قادیان کے آریہ اور ہم، روحانی خزائن جلد20صفحہ456)

٭…٭…٭

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی بعثت سے متعلق بنیادی بات یہ بتائی کہ یہ کوئی اختیاری امر نہیں جس کو اپنی مرضی سے اختیار یا ترک کیا جا سکتا ہو۔ یہ تو امرِ الٰہی ہے۔ جب خدا کی طرف سے حکم ہو گیا تو پھر میں کون ہوں جو اس کےحکم کو رد کرنے کی جرأت کروں۔ میں تو ایک ضعیف وناتواں شخص ہوں اور بچپن سے خلوت پسند رہا ہوں۔ چنانچہ فرمایا:

ابتدا سے گوشۂ خلوت رہا مجھ کو پسند

شہرتوں سے مجھ کو نفرت تھی، ہر اک عظمت سے عار

پر مجھے تو نے ہی اپنے ہاتھ سے ظاہر کیا

میں نے کب مانگا تھا، یہ تیرا ہی ہے سب برگ و بار

اس میں میرا جرم کیا جب مجھ کو یہ فرماں ملا

کون ہوں تا رد کروں حکمِ شہِ ذی الاقتدار

اب تو جو فرماں ملا اُس کا ادا کرنا ہے کام

گرچہ میں ہوں بس ضعیف و ناتوان و دل فگار

دعوتِ ہر ہرزہ گو کچھ خدمتِ آساں نہیں

ہر قدم میں کوہِ ماراں، ہرگزر میں دشتِ خار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم،روحانی خزائن جلد21صفحہ128)

٭…٭…٭

آپؑ ماموریت سے قبل بھی اسلام کے دفاع میں ایک فتح نصیب جرنیل کی حیثیت رکھتے تھے اور کوئی بھی اسلام یا بانیٔ اسلام پر حملہ آور ہوتا تو آپ کی غیرتِ دینی اس کو گوارا نہ کر سکتی تھی۔ لیکن دوسری طرف جب آپ مسلمانوں کی اخلاقی و روحانی پستی کو دیکھتے تھے تو آپ کا دل خون کے آنسو روتا تھا اور آپ انتہائی درد سے خدا کے حضور التجائیں کرتے تھے کہ اسلام کو پھر سے زندہ کردے اور مسلمان اپنی اخلاقی وروحانی پستی سے نکل کر اپنے خالق حقیقی کی طرف رجوع کریں اور دین کو دنیا پر ترجیح دیتے ہوئے صحابہ کا نمونہ پیدا کریں۔ اللہ نے آپ کے قلبِ صافی سے نکلنے والی ان دردمندانہ دعاؤں کو قبول فرمایا اور آپ کو اس خدمت کےلیے کھڑا کر دیا۔آپؑ فرماتے ہیں:

نورِ دل جاتا رہا، اک رسم دیں کی رہ گئی

پھر بھی کہتے ہیں کہ کوئی مصلحِ دیں کیا بکار

راگ وہ گاتے ہیں جس کو آسماں گاتا نہیں

وہ ارادے ہیں کہ جو ہیں برخلافِ شہریار

ہائے مارِ آستیں وہ بن گئے دیں کے لئے

وہ تو فربہ ہو گئے پر دیں ہوا زار و نزار

اِن غموں سے دوستو خم ہو گئی میری کمر

میں تو مرجاتا اگر ہوتا نہ فضلِ کردگار

اِس تپش کو میری وہ جانے کہ رکھتا ہے تپش

اس الم کو میرے وہ سمجھے کہ ہے وہ دلفگار

کون روتا ہے کہ جس سے آسماں بھی رو پڑا

مہر و ماہ کی آنکھ غم سے ہوگئی تاریک و تار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم،روحانی خزائن جلد21صفحہ132)

٭…٭…٭

دیں کے غموں نے مارا اب دل ہے پارہ پارہ

دلبر کا ہے سہارا ورنہ فنا یہی ہے

ہم مر چکے ہیں غم سے کیا پوچھتے ہو ہم سے

اُس یار کی نظر میں شرطِ وفا یہی ہے

اِس دیں کی شان و شوکت یارب مجھے دکھادے

سب جھوٹے دیں مٹادے، میری دعا یہی ہے

(قادیان کے آریہ اور ہم، روحانی خزائن جلد20صفحہ455۔459)

٭…٭…٭

پھر بہارِ دیں کو دِکھلا اے مرے پیارے قدیر!

کب تلک دیکھیں گے ہم لوگوں کے بہکانے کے دن

دن چڑھا ہے دُشمنانِ دیں کا ہم پر رات ہے

اے مرے سُورج! دِکھا اس دیں کے چمکانے کے دن

دل گھٹا جاتا ہے ہر دم، جاں بھی ہے زیر و زبر

اک نظر فرما کہ جلد آئیں ترے آنے کے دن

(مشتہرہ پیسہ اخبار31؍مارچ1906ء)

٭…٭…٭

چونکہ اللہ نے احیائے دین کی خدمت کے لیے آپ کو مامور فرمایا تھا اور آپ جانتے تھے کہ یہ عظیم الشان کام نصرت وتائیدِ الٰہی کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لیے آپ اپنے کلام میں جابجا نصرت طلب کرتے نظر آتے ہیں:

دن چڑھا ہے دشمنانِ دیں کا ہم پر رات ہے

اے مرے سورج! نکل باہر کہ میں ہوں بےقرار

اے مرے پیارے! فدا ہو تجھ پہ ہر ذرّہ مرا

پھیر دے میری طرف اے سارباں جگ کی مہار

کچھ خبر لے تیرے کوچہ میں یہ کس کا شورہے

خاک میں ہوگا یہ سرگر تو نہ آیا بن کے یار

فضل کے ہاتھوں سے اب اِس وقت کر میری مدد

کشتی اسلام تا ہو جائے اس طوفاں سے پار

دیکھ سکتا ہی نہیں میں ضعفِ دینِ مصطفیٰ

مجھ کو کر اے میرے سلطاں! کامیاب و کامگار

یا الٰہی!فضل کر اسلام پر اور خود بچا

اس شکستہ ناؤ کے بندوں کی اب سن لے پکار

قوم میں فسق و فجور و معصیت کا زور ہے

چھا رہا ہے ابرِ یاس اور رات ہے تاریک و تار

ایک عالم مرگیا ہے تیرے پانی کے بغیر

پھیر دے اب میرے مولیٰ! اس طرف دریا کی دھار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم،روحانی خزائن جلد21صفحہ132)

نیز فرمایا:

کشتیٔ اسلام بے لطفِ خدا اب غرق ہے

اے جنوں کچھ کام کر بےکار ہیں عقلوں کے وار

مجھ کود ے اک فوقِ عادت اے خدا! جوش و تپش

جس سے ہوجاؤں میں غم میں دیں کے اِک دیوانہ وار

وہ لگادے آگ میرے دل میں ملت کے لیے

شعلے پہنچیں جس سے ہردم آسماں تک بیشمار

اے خدا! تیرے لیے ہر ذرّہ ہو میرا فدا

مجھ کو دکھلادے بہارِ دیں کہ میں ہوں اشکبار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21صفحہ147)

٭…٭…٭

احادیث میں آخری زمانے میں مبعوث ہونے والے امام کے مختلف حیثیتوں کے لحاظ سے مختلف نام مذکور ہیں۔ کہیں آپ کو مجدد، کہیں امام مہدی، کہیں مسیح موعود اور کہیں رجل فارسیبیان کیا گیا ہے۔ یہ سب نام ایک ہی موعود شخصیت کے نام ہیں اور آپ نے جو دعاوی بیان فرمائے ان میں خود کو ان تمام ناموں کا مصداق قرار دیا۔ چنانچہ آپ چودھویں صدی کے مجدد کی حیثیت سے قوم کو یاد دلاتے ہوئے فرماتے ہیں:

ہو گیا دِیں کفر کے حملوں سے چُور

چُپ رہے کب تک خداوند غیور

اِس صَدی کا بیسواں اب سال ہے

شِرک و بِدعت سے جہاں پامال ہے

لعنتی ہوتا ہے مردِ مفتری

لعنتی کو کب ملے یہ سروَری

(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح، روحانی خزائن جلد19صفحہ142)

٭…٭…٭

یہ اللہ تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ اس نے آخرین کی جماعت کا بیج بونے سے پہلے زمین کو ہموار کردیا اور چودھویں صدی شروع ہونے سے پہلے مسلمانوں میں امام مہدی کی آمد کا خیال پھیلا دیا۔ گھر گھر میں یہ چرچا تھا کہ امام مہدی کی آمد قریب ہے جس سے دوبارہ مسلمانوں کو عروج نصیب ہوگا۔ چنانچہ آپ اس حوالے سے بھی مسلمانوں کو یاد دلاتے ہوئے فرماتے ہیں:

یاد وہ دن جبکہ کہتے تھے یہ سب ارکانِ دیں

مہدیٔ موعودِ حق اب جلد ہوگا آشکار

کون تھا جس کی تمنا یہ نہ تھی اک جوش سے

کون تھا جس کو نہ تھا اُس آنے والے سے پیار

پھر وہ دن جب آگئے اور چودھویں آئی صدی

سب سے اوّل ہوگئے منکر یہی دیں کے منار

پر اگر آتا کوئی، جیسی انہیں امید تھی

اور کرتا جنگ اور دیتا غنیمت بے شمار

ایسے مہدی کے لئے میداں کھلا تھا قوم میں

پھر تو اس پر جمع ہوتے ایک دم میں صد ہزار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21صفحہ137۔138)

٭…٭…٭

اسی طرح احادیث میں آپؑ کو امام مہدی کے علاوہ مسیح موعود بھی قرار دیا گیا ہے۔ اور مسلمانوں کو سورت فاتحہ میں یہ تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ تم یہود ونصاریٰ کی طرح مت بن جانا۔ مبادا تم ان کے طریق پر چلتے ہوئے میرے مسیح ومہدی کے منکر ہو جاؤ۔ اسی مضمون کو آپؑ نے یوں موزوں فرمایا:

پھر دوبارہ آگئی احبار میں رسم ِیہود

پھر مسیحِ وقت کے دشمن ہوئے یہ جبہ دار

تھا نوشتوں میں یہی از ابتدا تا انتہا

پھر مٹے کیونکر کہ ہے تقدیر نَے نقشِ جدار

میں تو آیا اس جہاں میں ابنِ مریم کی طرح

میں نہیں مامور از بہرِ جہاد و کارزار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21صفحہ138)

٭…٭…٭

بعض ضعیف احادیث کی بنیاد پر یا بعض احادیث صحیحہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت عیسی ٰؑ زندہ آسمان پر موجود ہیں اور وہی دوبارہ نازل ہوں گے۔ اس غلط اعتقاد کی تردید کرتے ہوئے آپؑ نے یہ ثابت کیا کہ حضرت عیسیٰ وفات پا چکے ہیں۔

موتِ عیسیٰؑ کی شہادت دی خدا نے صاف صاف

پھر احادیثِ مخالف رکھتی ہیں کیا اعتبار

گر گماں صحت کا ہو پھر قابل تاویل ہیں

کیاحدیثوں کے لئے فرقاں پہ کرسکتے ہو وار؟

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21صفحہ146)

٭…٭…٭

ابن مریم مر گیا حق کی قسم

داخلِ جنت ہوا وہ محترم

وہ نہیں باہر رہا اموات سے

ہوگیا ثابت یہ تیس آیات سے

کوئی مُردوں سے کبھی آیا نہیں

یہ تو فرقاں نے بھی بتلایا نہیں

یہ تو رہنے کا نہیں پیارو مکاں

چل بسے سب انبیاء و راستاں

(ازالہ اوہام حصہ دوم، روحانی خزائن جلد3صفحہ513)

٭…٭…٭

پھر مسیح ومہدی کے بارے میں مسلمانوں میں جو یہ غلط نظریہ پایا جاتا ہے کہ امام مہدی جب ظاہر ہوں گے تو وہ تمام دشمنانِ اسلام کو تہِ تیغ کردیں گے اور کہیں گے کہ اسلام لے آؤ، ورنہ قتل کر دیے جاؤ گے۔نیز مسیح آسمان سے نازل ہو کر امام مہدی کے ساتھ اس خونریزی میں شامل ہو جائیں گے اور پھوکیں مار کر لوگوں کو ہلاک کریں گے۔ یہ ایسا بے بنیاد عقیدہ ہے جو اسلام کی روح اوربنیاد کے منافی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اگر جبراً ہی لوگوں کو ایمان پر قائم کرنا ہوتا تو میں کسی کو کافر نہ رہنے دیتا۔ سب جزا وسزا کی بنیاد تو اس اختیار کی وجہ سے ہی ہے کہ جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کردے۔ (الكہف:30)۔ سرورِ کونین اور سید المرسلین کو بار بار یہ فرمایا کہ تیرا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے۔تو ان پر وکیل نہیں، تو ان پر داروغہ نہیں، تو جسے چاہے ہدایت نہیں دے سکتا۔ جب خاتم الانبیاء کو اللہ تعالیٰ نے یہ اختیار نہیں دیا بلکہ ہمیشہ سے خدا کی یہی سنت اور قانون ہے کہ انسان کو اچھی بری راہ چننے کا اختیار دیا گیا ہے تو خدا کیسے یہ سنت تبدیل کرکے امام مہدی اور مسیح موعود کو اسلام کی بنیادی تعلیم کے برخلاف جبراً مسلمان بنانے اور ناحق لوگوں کے قتل کا اختیار دے سکتا ہے۔ مسیح ومہدی کے بارے میں ان غلط نظریات کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

ابنِ مریم ہوں مگر اُترا نہیں میں چرخ سے

نیز مہدی ہوں مگر بے تیغ اور بےکار زار

ملک سے مجھ کو نہیں مطلب نہ جنگوں سے ہے کام

کام میرا ہے دلوں کو فتح کرنا نَے دیار

مجھ کو کیا ملکوں سے، میرا ملک ہے سب سے جدا

مجھ کو کیا تاجوں سے، میرا تاج ہے رضوانِ یار

ہم تو بستے ہیں فلک پر، اس زمیں کو کیاکریں

آسماں کے رہنے والوں کو زمیں سے کیا نقار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21صفحہ141)

٭…٭…٭

کیوں بھولتے ہو تم یَضَعُ الحَرَب کی خبر

کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر

فرما چکا ہے سیدِ کونین مصطفٰےؐ

عیسیٰ مسیح جنگوں کا کردے گا التوا

جب آئے گا تو صلح کو وہ ساتھ لائے گا

جنگوں کے سِلسلہ کو وہ یکسر مٹائے گا

پیویں گے ایک گھاٹ پہ شیر اور گوسپند

کھیلیں گے بچے سانپوں سے بے خوف وے گزند

یہ حکم سُن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا

وہ کافروں سے سخت ہزیمت اُٹھائے گا

اِک معجزہ کے طور سے یہ پیشگوئی ہے

کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے

القصہ یہ مسیح کے آنے کا ہے نشاں

کردے گا ختم آکے وہ دیں کی لڑائیاں

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد17صفحہ78)

٭…٭…٭

پھر مسیح موعود کے بارے میں یہ بھی مرقوم ہے کہ وہ سربستہ علوم ومعارف کے مال کو ایسے لٹائے گا جیسے پانی بہایا جاتا ہے۔اس مضمون کو کیسی خوبصورتی سے بیان فرمایا:

وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے

اب میں دیتا ہوں اگر کوئی ملے امیدوار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21صفحہ147)

٭…٭…٭

مسلمانوں میں ایک یہ خیال بھی پایا جاتا ہے کہ وہ موعود قریش سے ہوگا۔کوئی اسے حضرت حسن کی اولاد سے قرار دیتا ہے کوئی حضرت حسین کی اولاد سے اور کوئی کسی اور کی اولاد سے۔ حالانکہ صحیح بخاری میں بڑے واضح الفاظ میں فرما دیا کہ وہ موعود فارسی النسل ہو گا نہ کہ قریشی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے: اللّٰهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ۔(الانعام: 125) کہ اللہ ہی سب سے بہترجانتا ہے کہ اپنی رسالت کا انتخاب کہاں سے کرے گا۔ اس مضمون کو نہایت آسان پیرایہ میں آپ نے یوں منظوم فرمایا ہے:

گرکہے کوئی کہ یہ منصب تھا شایانِ قریش

وہ خدا سے پوچھ لے، میرا نہیں یہ کاروبار

مجھ کو بس ہے وہ خدا عہدوں کی کچھ پروا نہیں

ہوسکے تو خود بنو مہدی بحکم کردگار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21صفحہ148)

٭…٭…٭

اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو خاتم النبیین کا مقام عطا فرمایا کیونکہ آپ میں تمام نبیوں کے نقوش پائے جاتے تھے۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک اور جگہ یوں بیان فرمایا: فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ۔(الانعام:91)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’ہمارے نبی تمام انبیاء کے نام اپنے اندر جمع رکھتے ہیں کیونکہ وہ وجودِ پاک جامعِ کمالات متفرقہ ہے۔ پس وہ موسیٰ بھی ہے اور عیسیٰ بھی اور آدم بھی اور ابراہیم بھی اور یوسف بھی اور یعقوب بھی۔ اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرماتا ہے فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ یعنی اے رسول اللہ! تو ان تمام ہدایاتِ متفرقہ کو اپنے وجود میں جمع کرلے جو ہر نبی خاص طور پر اپنے اندر جمع رکھتا تھا۔‘‘(آئینہ کمالاتِ اسلام،روحانی خزائن جلد5 صفحہ343)

سورۂ جمعہ میں اس فارسی النسل موعود کی جماعتِ آخرین میں آمد کو آنحضرتﷺ ہی کی آمد قرار دیا گیا ہے۔ گویا وہ آنے والا اس نبی امیﷺ کا ظل اور مثیل ہوگا۔ اسی کی طرف وہ احادیث بھی اشارہ کرتی ہیں جن میں فرمایا کہ اس کا نام میرے نام اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام پرہوگا۔ یعنی وہ بالکل میرے ہی وجود کا عکس وظل ہوگا۔ پس جو ظلی طور پر محمد بن عبداللہ تھا ضروری تھا کہ وہ بھی ظلی طور پر تمام انبیاء کے نام پاتا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہاماً فرمایا: جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام مزید فرماتے ہیں: ’’ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جامع کمالاتِ متفرقہ ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ (الانعام:91)یعنی تمام انبیاء کو جو ہدایتیں ملی ہیں ان سب کا اقتدا کر۔ پس ظاہر ہے کہ کو شخص ان تمام متفرق ہدایتوں کو اپنے اندر جمع کرلے گا اس کا وجود ایک جامع وجود ہو جائے گا اور وہ تمام نبیوں سے افضل ہوگا۔ پھر جو شخص اس نبیٔ جامع الکمالات کی پیروی کرے گا ضرور ہے کہ ظلی طور پر وہ بھی جامع الکمالات ہو۔‘‘(چشمہ مسیحی،روحانی خزائن جلد 20صفحہ381)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس لطیف نکتہ معرفت کو اپنے منظوم کلام میں یوں بیان فرمایا ہے:

میں کبھی آدم، کبھی موسیٰ، کبھی یعقوب ہوں

نیز ابراہیم ہوں، نسلیں ہیں میری بے شمار

اِک شجر ہوں جس کو داؤدی صفت کے پھل لگے

میں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار

پر مسیحا بن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب

گر نہ ہوتا نامِ احمدؐ جس پہ میرا سب مدار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21صفحہ133)

٭…٭…٭

ایک طوفان ہے خدا کے قہر کا اب جوش پر

نوح کی کشتی میں جو بیٹھے وہی ہورستگار

صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے

ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21صفحہ145)

٭…٭…٭

اپنے تمام دعاوی اور مقام ومرتبہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے ہمیشہ اس بات کا ضرور اظہار فرمایا ہے کہ یہ برکات مجھے فیضان محمدی کے چشمے سے ملی ہیں۔ کُلُّ بَرَکَۃٍ مِّنْ مُحَمَّدٍصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَتَبَارَکَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ۔ ہر برکت محمد رسول اللہﷺ سے ہے، پس مبارک ہے وہ جس نے سکھایا اور جس نے سیکھا۔

زندگی بخش جامِ احمد ہے

کیا ہی پیارا یہ نامِ احمد ہے

باغِ احمد سے ہم نے پھل کھایا

میرا بستاں کلامِ احمد ہے

ابنِ مریمؑ کے ذکر کو چھوڑو

اُس سے بہتر غُلامِ احمد ہے

(دافع البلاء، روحانی خزائن جلد18صفحہ240)

٭…٭…٭

پھر اپنی بعثت کے ذکر کے ساتھ ہی آپؑ نے اپنی صداقت کے دلائل بھی رقم فرمائے ہیں۔ ایک انتہائی مضبوط اور بنیادی دلیل ضرورتِ زمانہ ہے۔ جب زمین خشک ہو جاتی ہے تو آسمان سے پانی نازل ہوتا ہے۔ جب بحروبر میں فساد برپا ہوجاتا ہے تو نورِ خدا اپنا جلوہ فرما کر اندھیروں کو دور کر دیتا ہے۔ فرمایا:

میں اگر کاذب ہوں، کذّابوں کی دیکھوں گا سزا

پر اگر صادق ہوں پھر کیا عذر ہے روزِ شمار

میں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر

میں وہ ہوں نورِ خدا جس سے ہوا دن آشکار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21صفحہ145)

٭…٭…٭

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آپؑ کی تائید ونصرت میں جو نشانات دکھائے اور پیشگوئیاں پوری کیں یہ بھی آپ کےدعوے کی صداقت پر دال ہیں۔ آپؑ نے ان نشانات اور دلائل کو یوں منظوم فرمایا:

اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات و کرم

جن کا مشکل ہے کہ تاروزِ قیامت ہوشمار

آسماں میرے لیے تو نے بنایا اک گواہ

چاند اور سورج ہوئے میرے لیے تاریک و تار

تو نے طاعوں کو بھی بھیجا میری نصرت کے لیے

تا وہ پورے ہوں نشاں جو ہیں سچائی کا مدار

ہوگئے بیکار سب حیلے جب آئی وہ بلا

ساری تدبیروں کا خاکہ اُڑ گیا مثلِ غبار

سرزمینِ ہند میں ایسی ہے شہرت مجھ کو دی

جیسے ہووے برق کا اک دم میں ہرجا انتشار

پھر دوبارہ ہے اُتارا تو نے آدم کو یہاں

تا وہ نخلِ راستی اس ملک میں لاوے ثمار

میں بھی ہوں تیرے نشانوں سے جہاں میں اک نشاں

جس کو تو نے کردیا ہے قوم ودیں کا افتخار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21صفحہ127)

٭…٭…٭

چاند اور سورج نے دکھلائے ہیں دو داغِ کسوف

پھر زمیں بھی ہو گئی بے تاب تھرّانے کے دن

کون روتا ہے کہ جس سے آسماں بھی رو پڑا

لرزہ آیا اس زمیں پر اس کے چِلّانے کے دن

(مشتہرہ پیسہ اخبار31مارچ1906ء)

٭…٭…٭

آگ بھی پھر آگئی جب دیکھ کر اتنے نشاں

قوم نے مجھ کو کہا کذاّب ہے اور بدشعار

ہے یقیں یہ آگ کچھ مدت تلک جاتی نہیں

ہاں مگر توبہ کریں با صد نیاز و انکسار

یہ نہیں اِک اتفاقی امر تا ہوتا علاج

ہے خدا کے حکم سے یہ سب تباہی اور تبار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21صفحہ138)

٭…٭…٭

سورت فاتحہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی ایک گواہ اور آپ کے صدقِ دعویٰ پر ایک الٰہی مہر ہے،جس میں اللہ تعالیٰ نے منعم علیہ گروہ یعنی انبیاءکے رستے پر چلنےنیز مغضوب علیہ گروہ یعنی یہود اور ضالین یعنی نصاریٰ کی راہوں سے بچانے کی دعا سکھائی۔اور آنحضرتﷺ نے امت کو جہاں یہ انذار فرمایا کہ تم اگر قرآن کو چھوڑ دو گے تو یہود کے مشابہ ہو جاؤ گے وہاں یہ خوشخبری بھی دی کہ انعامِ الٰہی کے دروازے مسدود نہیں ہوئے سو خدا ضرور تم میں مسیح کو تمہارا امام اور حکم عدل بنا کر بھیج دے گا۔

اے دوستو! جو پڑھتے ہو اُمّ الکتاب کو

اب دیکھو میری آنکھوں سے اس آفتاب کو

سوچو دعا ئے فاتحہ کو پڑھ کے بار بار

کرتی ہے یہ تمام حقیقت کو آشکار

پڑھتے ہو پنج وقت اسی کو نماز میں

جاتے ہو اس کی رہ سے در بے نیاز میں

یہ میرے رب سے میرے لیے اک گواہ ہے

یہ میرے صدقِ دعویٰ پہ مہر ِالہٰ ہے

میرے مسیح ہونے پہ یہ اک دلیل ہے

میرے لیے یہ شاہدِ رب جلیل ہے

پھر میرے بعد اَوروں کی ہے انتظار کیا

توبہ کرو کہ جینے کا ہے اعتبار کیا

(اعجازالمسیح، روحانی خزائن جلد18صفحہ2)

٭…٭…٭

احادیث میں مسیح موعود کے بارے میں یہ پیشگوئی بھی تھی کہ وہ شادی کرے گا اور اس کا موعود بیٹا بھی ہوگا۔یہ پیشگوئی پوری ہوکر آپ کی صداقت پر مہر توثیق ثبت کرچکی ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں:

بشارت دی کہ اِک بیٹا ہے تیرا

جو ہو گا ایک دن محبوب میرا

کروں گا دور اُس مہ سے اندھیرا

دکھاؤں گا کہ اک عالم کو پھیرا

بشارت کیا ہے اک دل کی غذا دی

فَسُبحَانَ الَّذِی اَخزَی الْاَعَادِی

(الحکم10؍دسمبر1901ء)

٭…٭…٭

آپؑ کے مقابل پر جو بھی آیا ناکام ونامراد اس ہلاک ہوا۔ یہ بھی آپ کی صداقت کا ایک بڑا نشان ہے۔ فرماتے ہیں:

جو خدا کا ہے اُسے للکارنا اچھا نہیں

ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبہء زار ونزار

ہے سرِرہ پر مرے وہ خود کھڑا مولیٰ کریم

پس نہ بیٹھو میری رہ میں اے شریرانِ دیار

مجھ کو پردے میں نظرآتا ہے اک میرا معین

تیغ کو کھینچے ہوئے اُس پر کہ جو کرتا ہے وار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21صفحہ131)

٭…٭…٭

پھر اپنے ربّ کے حضور عرض کرتے ہیں:

گڑھے میں تُو نے سب دُشمن اُتارے

ہمارے کر دیے اُونچے منارے

مقابل پر مرے یہ لوگ ہارے

کہاں مرتے تھے پر تُو نے ہی مارے

شریروں پر پڑے اُن کے شرارے

نہ اُن سے رُک سکے مقصد ہمارے

اُنہیں ماتم ہمارے گھر میں شادی

فَسُبحَانَ الَّذِی اَخزَی الْاَعَادِی

(الحکم10؍دسمبر1901ء)

٭…٭…٭

حضرت مسیح موعود علیہ السلام، جو آنحضرتﷺ کے ظل کے طور پر مثیلِ انبیاء تھے،نے حضرت نوح ؑکی مانند قوم کے ظلم وستم اور استہزا میں حد سے بڑھ جانے کی وجہ سے عذاب کانشان طلب کیا کیونکہ قوم رحمت کے نشانوں کا انکار کرچکی تھی اور ضرور تھا کہ الٰہی نوشتوں میں مذکور پیشگوئیاں بھی پوری ہوں کہ مسیح کے زمانے میں کثرت سے آفات وزلازل آئیں گے اور مری پڑے گی وغیرہ۔ یعنی خدا تعالیٰ اپنے قہری نشان بھی دکھائے گا اور اپنے زور آور حملوں سے اس نذیر کی سچائی کو ظاہر کر دے گا۔ چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں:

میں نے روتے روتے سجدہ گاہ بھی تر کر دیا

پر نہیں اِن خشک دل لوگوں کو خوف ِکردگار

یاالہٰی اک نشاں اپنے کرم سے پھر دکھا

گردنیں جھک جائیں جس سے اور مکذّب ہوں خوار

اِک کرشمہ سے دکھا اپنی وہ عظمت اے قدیر!

جس سے دیکھے تیرے چہرے کو ہر اک غفلت شعار

تیری طاقت سے جو مُنکِر ہیں اُنہیں اب کچھ دکھا

پھر بدل دے گلشن و گلزار سے یہ دشتِ خار

زور سے جھٹکے اگر کھاوے زمیں کچھ غم نہیں

پر کسی ڈھب سے تزلزل سے ہو ملت رَستگار

(درمکنون حصہ دوم صفحہ2تا21)

٭…٭…٭

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت ایک ایسا مژدۂ جانفزا ہے جس سے اسلام کی نشأۃ ثانیہ اور احیائے امت وابستہ ہے۔ یہ سچے وعدوں والے خدا کا وعدہ ہے کہ وہ اس جماعت کو جس کی بنا اس نے اپنے مسیح کے ذریعہ رکھی، ضرور دنیا میں ترقی دے گا۔ وہ اس ننھے پودے کو تناور درخت بنائے گا جس کے سائے میں تمام قومیں آرام پائیں گی۔ جماعت کے روشن مستقبل اور اس کے ذریعہ سے پیدا ہونے والے انقلابِ عظیم کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی منظومات میں فرماتے ہیں:

مسیحِ وقت اب دنیا میں آیا

خدا نے عہد کا دن ہے دکھایا

مبارک وہ جو اَب ایمان لایا

صحابہؓ سے ملا جب مجھ کو پایا

وہی مَے ان کو ساقی نے پلا دی

فَسُبحَانَ الَّذِی اَخزَی الْاَعَادِی

(الحکم10؍دسمبر1901ء)

٭…٭…٭

دوستو اُس یار نے دیں کی مصیبت دیکھ لی

آئیں گے اِس باغ کے اب جلد لہرانے کے دن

اک بڑی مدت سے دیں کو کفر تھا کھاتا رہا

اب یقیں سمجھو کہ آئے کفر کو کھانے کے دن

دن بہت ہیں سخت اور خوف و خطر درپیش ہے

پر یہی ہیں دوستو! اس یار کے پانے کے دن

دیں کی نصرت کے لیے اک آسماں پر شور ہے

اب گیا وقتِ خزاں آئے ہیں پھل لانے کے دن

چھوڑ دو وہ راگ جس کو آسماں گاتا نہیں

اب تو ہیں اے دل کے اندھو! دیں کے گُن گانے کے دن

(مشتہرہ پیسہ اخبار31مارچ1906ء)

٭…٭…٭

کیوں عجب کرتے ہو گر میں آگیا ہوکر مسیح

خود مسیحائی کادم بھرتی ہے یہ بادِ بہار

آسماں پر دعوتِ حق کے لیے اک جوش ہے

ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اتار

آرہا ہے اس طرف احرارِ یورپ کا مزاج

نبض پھر چلنے لگی مردوں کی ناگہ زندہ وار

کہتے ہیں تثلث کو اب اہلِ دانش الوداع

پھر ہوئے ہیں چشمۂ توحید پراز جاں نثار

باغ میں ملت کے ہے کوئی گلِ رعنا کھلا

آئی ہے بادِ صبا گلزار سے مستانہ وار

آرہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے

گو کہو دیوانہ، میں کرتا ہوں اُس کا انتظار

ہر طرف ہر ملک میں ہے بت پرستی کا زوال

کچھ نہیں انساں پرستی کو کوئی عزو وقار

اب اسی گلشن میں لوگو راحت و آرام ہے

وقت ہے، جلد آؤ اے آوارگانِ دشتِ خار!

اِک زماں کے بعد اب آئی ہے یہ ٹھنڈی ہوا

پھر خدا جانے کہ کب آویں یہ دن اور یہ بہار

ملّت احمد کی مالک نے جو ڈالی تھی بِنا

آج پوری ہو رہی ہے اے عزیزانِ دیار!

گلشنِ احمد بنا ہے مسکنِ بادِ صبا

جس کی تحریکوں سے سنتا ہے بشر گفتارِ یار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21صفحہ131تا132)

٭…٭…٭

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’قریب ہے کہ میں ایک عظیم الشان فتح پاؤں، کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے اور میری تقویت کے لیے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی، مگر میں دیکھ رہا ہوں۔ میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے۔‘‘(ازالۂ اوہام،روحانی خزائن جلد3صفحہ403)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close