منظوم کلام

خدا تعالیٰ کا شکر اور دعا بزبان حضرت اماں جان

ہے عجب میرے خدا میرے پہ احساں تیرا

کس طرح شکر کروں اے مرے سلطاں تیرا

ایک ذرہ بھی نہیں تو نے کیا مجھ سے فرق

میرے اس جسم کا ہر ذرہ ہو قرباں تیرا

سر سے پا تک ہیں الٰہی تیرے احساں مجھ پر

مجھ پہ برسا ہے سدا فضل کا باراں تیرا

تو نے اس عاجزہ کو چار دیے ہیں لڑکے

تیری بخشش ہے یہ اور فضل نمایاں تیرا

پہلا فرزند ہے محمود، مبارک چوتھا

دونوں کے بیچ بشیر اور شریفاں تیرا

تو نے ان چاروں کی پہلے سے بشارت دی تھی

تو وہ حاکم ہے کہ ٹلتا نہیں فرماں تیرا

تیرے احسانوں کا کیوں کر ہو بیاں اے پیارے

مجھ پہ بے حد ہے کرم اے مرے جاناں تیرا

تخت پر شاہی کے ہے مجھ کو بٹھایا تو نے

دین و دنیا میں ہوا مجھ پہ ہے احساں تیرا

کس زباں سے میں کروں شکر کہاں وہ ہے زباں

کہ میں ناچیز ہوں اور رحم فراواں تیرا

مجھ پہ وہ لطف کئے تو نے جو برترزِ خیال

ذات برتر ہے تری پاک ہے ایواں تیرا

چن لیا تو نے مجھے اپنے مسیحا کے لئے

سب سے پہلے یہ کر م ہے مرے جاناں تیرا

کس کے دل میں یہ ارادے تھے یہ تھی کس کو خبر

کون کہتا تھا کہ یہ بخت ہے رخشاں تیرا

پر مرے پیارے! یہی کام ترے ہوتے ہیں

ہے یہی فضل تری شان کے شایاں تیرا

فضل سے اپنے بچا مجھ کو ہر اک آفت سے

صدق سے ہم نے لیا ہاتھ میں داماں تیرا

کوئی ضائع نہیں ہوتا جو ترا طالب ہے

کوئی رسوا نہیں ہوتا جو ہے جویاں تیرا

آسماں پر سے فرشتے بھی مدد کرتے ہیں

کوئی ہو جائے اگر بندۂ فرماں تیرا

جس نے دل تجھ کو دیا، ہو گیا سب کچھ اس کا

سب ثنا کرتے ہیں جب ہووے ثنا خواں تیرا

اس جہاں میں ہے وہ جنت میں ہی بے ریب و گماں

وہ جو اک پختہ توکل سے ہے مہماں تیرا

میری اولاد کو تو ایسی ہی کردے پیارے

دیکھ لیں آنکھ سے وہ چہرۂ تاباں تیرا

عمر دے ، رزق دے اور عافیت و صحت بھی

سب سے بڑھ کر یہ کہ پاجائیں وہ عرفاں تیرا

اب مجھے زندگی میں ان کی مصیبت نہ دکھا

بخش دے میرے گناہ اور جو عصیاں تیرا

اس جہاں کے نہ بنیں کیڑے یہ کر فضل ان پر

ہر کوئی ان میں سے کہلائے مسلماں تیرا

غیر ممکن ہے کہ تدبیر سے پاؤں یہ مراد

بات جب بنتی ہے جب سارا ہو ساماں تیرا

بادشاہی ہے تری ارض و سما دونوں میں

حکم چلتا ہے ہر اک ذرہ پہ ہر آں تیرا

میرے پیارے مجھے ہر درد و مصیبت سے بچا

تو ہے غفار۔ یہی کہتا ہے قرآں تیرا

صبر جو پہلے تھا اب مجھے میں نہیں ہے پیارے

دکھ سے اب مجھ کو بچا ۔ نام ہے رحماں تیرا

ہر مصیبت سے بچا اے میرے آقا ہر دم

حکم تیرا ہے زمیں تیری ہے دوراں تیرا

(اخبار الحکم 17 نومبر 1900ء)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close