متفرق مضامین

حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نظر میں

(ط۔الف۔بشیر)

میں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے (ہزار ہزار درود اور سلام اس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے

حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ و السلام جو کہ سب سے بڑے عاشقِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تھے ان پر بے جا حملے کر کے غلط الزام لگائے جاتے ہیں کہ آپؑ (نعوذ باللہ) حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کے دشمن تھے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ہی اس زمانے میں حقیقی محبِّ رسولؐ ہیں۔ آپؑ کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیارے آقا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی حقیقی شان اور مقام کا جوادراک عطا فرمایا تھا وہ صدیوں سے کسی کو بھی عطانہیں ہوا۔ آپؑ نے اپنے قول و فعل، اپنی تحریروات اور اپنی تقریروں میں مسلمانوں کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کی عظمت اور شان و شوکت اور آپؐ کے مقام کا وہ فہم عطا کیا جو کہ چودہ سو سال میں سوائے صحابہ کے اور کوئی حاصل نہیں کر سکا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام اپنے آقاکے بارے میں فرماتے ہیں کہ ’’وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو وہ ملایک میں نہیں تھا نجوم میں نہیں تھا قمر میں نہیں تھا آفتاب میں بھی نہیں تھا وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔ وہ لعل اور یاقوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔ غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سیّد و مولیٰ سیّد الانبیاء سیّد الاحیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۔‘‘(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 160تا 161)

ختم شد برنفسِ پاکش ہر کمال

لاجرم شد ختم ہر پیغمبرے

جائے او جائےکہ طیرِ قدس را

سوزو از انوارِ آں بال و پرے

(براہین احمدیہ حصّہ اوّل،روحانی خزائن جلد1صفحہ19)

اس کے پاک نفس پر ہر کمال ختم ہو گیا اس لیے اس پر پیغمبروں کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کا مقام وہ ہے جہاں کے انوار سے جبریل کے بال و پر جلتے ہیں۔

دنیا کا مربیٔ اعظم

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا یہ پختہ عقیدہ تھا کہ حضرت اقدس محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ہی ذریعہ فسادات دور ہوئے اور دنیا کی اصلاح ہوئی۔ آپؑ فرماتے ہیں: ’’اصل حقیقت یہ ہے کہ سب نبیوں سے افضل وہ نبی ہے کہ جو دنیا کا مربی اعظم ہے۔ یعنی وہ شخص کہ جس کے ہاتھ سے فساد اعظم دنیا اصلاح پذیر ہوا جس نے توحید گم گشتہ اور نا پدید شدہ کو پھر زمین پر قائم کیا۔ جس نے تمام مذاہب باطلہ کو حجت اور دلیل سے مغلوب کر کے ہر یک گمراہ کے شبہات مٹائے جس نے ہریک ملحد کے وساوس دور کئے اور سچا سامان نجات کا…اصول حقہ کی تعلیم سے از سر نو عطا فرمایا…کتاب آسمانی شاہد ہے اور جن کی آنکھیں ہیں وہ آپ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ نبی جو بموجب اس قاعدہ کے سب سے افضل ٹھہرتا ہے وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۔‘‘(براہین احمدیہ حصہ د وم، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 97، حاشیہ 6)

سب پاک ہیں پیمبر اِک دوسرے سے بہتر

لیک از خدائے برتر خیر الوریٰ یہی ہے

(قادیان کے آریہ اورہم،روحانی خزائن جلد20صفحہ456)

محمدؐ: جمیع کمالات متفرقہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام انسانی تاریخ میں صرف حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کو ہی جمیع کمالات متفرقہ کے حامل سمجھتے تھے۔ آپؑ فرماتے ہیں: ’’بات یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم تمام انبیاء کے نام اپنے اندر جمع رکھتے ہیں کیونکہ وہ وجود پاک جامع کمالات متفرقہ ہے پس وہ موسیٰ بھی ہے اور عیسیٰ بھی اور آدم بھی اور ابراہیم بھی اور یوسف بھی اور یعقوب بھی۔ اسی کی طرف اللہ جلّ شانہ اشارہ فرماتا ہے۔ فَبِھُدَاھُمُ اقْتَدِہْ (الانعام: 91)یعنے اے رسول اللہ تو اُن تمام ہدایات متفرقہ کو اپنے وجود میں جمع کر لے جو ہر یک نبی خاص طور پر اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ پس اس سے ثابت ہے کہ تمام انبیاء کی شانیں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات میں شامل تھیں اور درحقیقت محمدؐ کا نام صلی اللہ علیہ و سلم اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کیونکہ محمدؐ کے یہ معنے ہیں کہ بغایت تعریف کیا گیا اور غایت درجہ تعریف تبھی متصور ہو سکتی ہے کہ جب انبیاء کے تمام کمالات متفرقہ اور صفات خاصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع ہوں۔ چنانچہ قرآن کریم کی بہت سی آیتیں …اسی پر دلالت کرتی بلکہ بصراحت بتلاتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات پاک باعتبار اپنی صفات اور کمالات کے مجموعہ انبیاء تھی۔‘‘(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 343)

محبت الٰہی کا انحصار اتباع نبویؐ پر ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ کامل یقین تھا کہ اب اگر محبتِ الٰہی حاصل کرنی ہے تو اس کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ مکمل طور پر حضرت اقدس محمد مصطفی ٰصلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی ہے۔ آپؑ تحریر کرتے ہیں کہ’’اللہ تعالیٰ نے اپنا کسی کے ساتھ پیار کرنا اِس بات سے مشروط کیا ہے کہ ایسا شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کرے۔ چنانچہ میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی سچے دل سے پیروی کرنا اور آپ سے محبت رکھنا انجام کار انسان کو خدا کا پیارا بنا دیتا ہے۔ اِس طرح پر کہ خود اُس کے دل میں محبتِ الٰہی کی ایک سوزش پیدا کر دیتا ہے۔ تب ایسا شخص ہر ایک چیز سے دل برداشتہ ہو کر خدا کی طرف جُھک جاتا ہے اور اُس کا اُنس و شوق صرف خدا تعالیٰ سے باقی رہ جاتا ہے تب محبتِ الٰہی کی ایک خاص تجلی اُس پر پڑتی ہے اور اُس کو ایک پورا رنگ عشق اور محبت کا دے کر قوی جذبہ کے ساتھ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ تب جذباتِ نفسانیہ پر وہ غالب آجاتا ہے اور اُس کی تائید اور نصرت میں ہر ایک پہلو سے خدا تعالیٰ کے خارق عادت افعال نشانوں کے رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں۔‘‘(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 67 تا 68)

شانِ حق تیرے شمائل میں نظر آتی ہے

تیرے پانے سے ہی اُس ذات کو پایا ہم نے

(آئینہ کمالات اسلام،روحانی خزائن جلد 5صفحہ225)

زندہ نبیؐ کے زندہ معجزات

آج کل مسلمانوں کا یہ عقیدہ بن چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے تو زندہ ہیں مگر حضور اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کے معجزات اب ختم ہو چکے ہیں۔ ایک مشہور عالم دین نے تو اپنی ایک مجلس میں یہاں تک کہہ دیا کہ نعوذ باللہ حضرت عیسیٰؑ کو وہ معجزے عطا ہوئے جو ہمارے پیارے نبیﷺ کو بھی نہیں ملے اور حضرت عیسیٰ کے معجزات آپﷺ سے بڑھ کر ہیں ۔مگر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بارہا فرمایا ہے کہ اگر کسی کے معجزے اب بھی زندہ ہیں تو وہ حضور اقدس محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’جس قدر معجزات کل نبیوں سے صادر ہوئے۔ ان کے ساتھ ہی اُن معجزات کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے معجزات ایسے ہیں کہ وہ ہر زمانہ میں اور ہر وقت تازہ بتازہ اور زندہ موجود ہیں۔ ان معجزات کا زندہ ہونا اور ان پر موت کا ہاتھ نہ چلنا صاف طور پر اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ہی زندہ نبی ہیں۔ اور حقیقی زندگی یہی ہے جو آپؐ کو عطا ہوئی۔ اور کسی دوسرے کو نہیں ملی۔ آپؐ کی تعلیم اس لئے زندہ تعلیم ہے کہ اس کے ثمرات اور برکات اس وقت بھی ویسے ہی موجود ہیں جو آج سے تیرہ سو سال پیشتر موجود تھے…ہم خدا تعالیٰ کے فضل و کرم، قرآن شریف کی تعلیم کے ثمرات اور برکات کا نمونہ اب بھی موجود پاتے ہیں اور ان تمام آثار اور فیوض کو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سچی اتباع سے ملتے ہیں۔ اب بھی پاتے ہیں ؛ چنانچہ خد تعالیٰ نے اس سلسلہ کو اس لیے قائم کیا ہے تا وہ اسلام کی سچائی پر زندہ گواہ ہو اور ثابت کرے کہ وہ برکات اور آثار اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سچی اتباع سے ملتے ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد 2 صفحہ 27،ایڈیشن1988ء)

آں چراغش داد حق کش تا ابد

نے خطر نے غم ز بادِ صرصرے

(براہین احمدیہ حصہ اول، روحانی خزائن جلد1صفحہ18)

حق نے اُس کو ایسا چراغ دیا ہے کہ تا ابد اُسے ہوائے تند سے کوئی خوف و خطر نہیں

کرامت گرچہ بے نام و نشان است

بیا بنگر زِ غِلمانِ محمدؐ

(سراج منیر،روحانی خزائن جلد 12صفحہ14)

اگرچہ کرامت اب مفقود ہے۔ مگر تو آ اور اسے محمدﷺ کے غلاموں میں دیکھ لے

حقیقی شفیع

بہت سے مسلمان اولیاء پرستی اور قبر پرستی میں مبتلا ہیں اور اولیاء کو ہی اپنا شفیع مانتے ہیں۔ اس کے برعکس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا کیا عقیدہ تھا، آپؑ فرماتے ہیں: ’’سچا شفیع اور کامل شفیع آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۔ جنہوں نے قوم کو بُت پرستی اور ہر قسم کے فسق و فجور کی گندگیوں اور ناپاکیوں سے نکال کر اعلیٰ درجہ کی قوم بنا دیا اور پھر اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر زمانہ میں آپؐ کی پاکیزگی اور صداقت کے ثبوت کے لئے اللہ تعالیٰ نمونہ بھیج دیتا ہے۔‘‘(ملفوظات جلد2صفحہ 160،ایڈیشن 1988ء)

آنحضرتﷺ کی خاتمیت

مسلمانوں نے ختم نبوت کے ایسے معنی اپنا لیے ہیں کہ جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی ہتک ہوتی ہے۔ حقیقی مفہوم خاتمیت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ہی ہمیں سکھایا ہے۔ آپؑ تحریر فرماتے ہیں: ’’ہمارے سیّد و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جس قدر خدا تعالیٰ کی طرف سے نشان اور معجزات ملے وہ صرف اُس زمانہ تک محدود نہ تھے بلکہ قیامت تک اُن کا سلسلہ جاری ہے…آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ ایک خاص فخر دیا گیا ہے کہ وہ ان معنوں سے خاتم الانبیاء ہیں کہ ایک تو تمام کمالات نبوت اُن پر ختم ہیں اور دوسرے یہ کہ اُن کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسول نہیں اور نہ کوئی ایسا نبی ہے جو اُن کی امّت سے باہر ہو بلکہ ہر ایک کو جو شرف مکالمہ الٰہیہ ملتا ہے وہ انہیں کے فیض سے اور اُنہیں کی وساطت سے ملتا ہے اور وہ امتی کہلاتا ہے نہ کوئی مستقل نبی۔ اور رجوع خلائق اور قبولیت کا یہ عالم ہے کہ آج کم سے کم بیس کروڑ ہر طبقہ کے مسلمان آپ کی غلامی میں کمر بستہ کھڑے ہیں اور جب سے خدا نے آپ کو پیدا کیا ہے بڑے بڑے زبردست بادشاہ جو ایک دنیا کو فتح کرنے والے تھے۔ آپ کے قدموں پر ادنیٰ غلاموں کی طرح گرے رہے ہیں اور اس وقت کے اسلامی بادشاہ بھی ذلیل چاکروں کی طرح آنجناب کی خدمت میں اپنے تئیں سمجھتے ہیں اور نام لینے سے تخت سے نیچے اُتر آتے ہیں۔‘‘(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 380 تا 381)

فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے عظیم الشان معجزے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گزرا کہ لاکھوں مُردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہوگئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الٰہی رنگ پکڑ گئے۔ اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے۔ اور گونگوں کی زبان پر الٰہی معارف جاری ہوئے۔ اور دنیا میں یکدفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے آنکھ نے دیکھا۔ اور نہ کسی کان نے سُنا۔ کچھ جانتے ہو وہ کیا تھا؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچا دیا۔ اور وہ عجائب دکھلائیں کہ جو اُس اُمی بیکس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔ اللّٰھم صل و سلم و بارک علیہ و آلہ بعدد ھمہ و غمہ و حزنہ لھٰذہ الامۃ و انزل علیہ انوار رحمتک الی الابد۔‘‘(برکات الدعا، روحانی خزائن جلد 6صفحہ 10تا 11)

آخر از عجز و مناجات و تضرّع کردنش

شد نگاہِ لطفِ حق بر عالمِ تاریک و تار

(آئینہ کمالات اسلام،روحانی خزائن جلد5صفحہ25)

آخر کار اس کی عاجزی مناجات اور گریہ و زاری کی وجہ سے خدا نے تاریک و تار دنیا پر مہربانی کی نظر فرمائی

پر بنانا آدمی وحشی کو ہے اِک معجزہ

معنیٔ رازِ نبوت ہے اِسی سے آشکار

نور لائے آسماں سے خود بھی وہ اِک نور تھے

قومِ وحشی میں اگر پیدا ہوئے کیا جائے عار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم،روحانی خزائن جلد21صفحہ144)

عالی مرتبہ کا نبی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے دل کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’میں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے (ہزار ہزار درود اور سلام اس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ دنیا میں لایا۔ اُس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی اِس لئے خدا نے جو اُس کے دل کے راز کا واقف تھا اُس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مرادیں اُس کی زندگی میں اُس کو دیں۔ وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اُس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ انسان نہیں بلکہ ذریّتِ شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اُس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اُس کو عطا کیا گیا ہے۔ جو اُس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہے۔‘‘

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 118 تا 119)

سب ہم نے اس سے پایا

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے توحید حقیقی اور قرب الٰہی حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ سے ہی حاصل کیا۔ آپؑ فرماتے ہیں: ’’ہم کافر نعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اِسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اِسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اسکے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اُس کا چہرہ دیکھتے ہیں اِسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے۔‘‘(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 119)

سب ہم نے اس سے پایا شاہد ہے تو خدایا

وہ جس نے حق دکھایا وہ مہ لقا یہی ہے

(قادیان کے آریہ اور ہم،روحانی خزائن جلد20صفحہ456)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام تو دن رات حضور اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی مدح و تعریف کرتے تھے اور آپؐ کی ہی غلامی کو اپنے لیے باعث فخر سمجھتے تھے۔ آپؑ کا ذرہ ذرہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت میں سرشار تھا اور اسی کی آپؑ نے اپنی جماعت کو بھی تعلیم دی۔

اُس نور پر فدا ہوں اُس کا ہی میں ہوا ہوں

وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے

(قادیان کے آریہ اور ہم،روحانی خزائن جلد20صفحہ456)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close