حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ممبران PAAMA (پین افریقن احمدیہ مسلم ایسوسی ایشن) یوکے کی (آن لائن) ملاقات

ہمارا کام اسلام کا حقیقی پیغام پھیلا نا ہے …محبت ، امن اور رواداری

امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 27؍فروری 2022ء کو ممبران PAAMA (پین افریقن احمدیہ مسلم ایسوسی ایشن) یوکے، سے آن لائن ملاقات فرمائی ۔

حضورِ انور نے اس ملاقات کو اسلام آباد (ٹلفورڈ) ميں قائم ايم ٹي اے سٹوڈيوز سے رونق بخشي جبکہ 150 سے زائد مرد و خواتین ممبران نے مسجد بیت الفتوح مورڈن سے آن لائن شرکت کی۔

ملاقات کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جس کے بعد ممبران PAAMA یوکے کو حضور انور سے چند سوالات پوچھنے کا موقع ملا۔ سوال و جواب سے قبل مختلف پریزنٹیشنز پیش کی گئیں۔

PAAMA یوکے کے صدر صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ ہمارے لیے ایک اعزاز اور نادر موقع ہے کہ ہمیں حضور انور کے ساتھ ورچوئل ملاقات کا شرف حاصل ہو رہاہے اور میں اس موقع پر تمام PAAMA فیملی کی طرف سے ایک بار پھر اپنی وفاداری ، محبت ، پیار ، قربانی ، عہد وفا اور مقدس نظامِ خلافت سے اطاعت کا اعادہ کرتا ہوں۔

بعد ازاں اپنے نایاب اور پُر ترنم انداز میں ممبران نے نظمیں سنائیں۔ پہلے لجنہ اماء اللہ نے اور پھر مرد حضرات نے نظمیں پیش کیں۔ سوال و جواب کا آغاز لجنہ اماء اللہ کی طرف سے ہوا۔

ایک ممبر لجنہ اماء اللہ نے عرض کیا کہ قرآن کریم کی سُوْرَۃُالتَّغَابُن کی آیت 15 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہاری بیویوں میں سے اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں۔ پس ان سے بچ کر رہو۔‘‘ میرا سوال ہے کہ یہاں پر بیویوں اور بچوں کا ذکر کیوں ہے اور خاوندوں کا نہیں ہے؟

حضور انور نے فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ یہاں قرآن کریم نے الفاظ ازواجکم و اولادکم استعمال کیے ہیں اور ازواج کا صرف بیویاں ہی مطلب نہیں ہے۔ میری نظر میں ازواج کے معانی بیوی اور خاوند دونوں ہیں۔ اگر خاوند اچھا نہیں ہے تو بیوی کو محتاط رہنا چاہیے اور اس کی حرکات و سکنات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کیا وہ اسلام اور احمدیت کے خلاف تو نہیں ہیں؟ تو یہ میرا نظریہ ہے۔ (اگرچہ) اس کا ترجمہ بیویوں اور بچوں کا کیا گیاہے لیکن جو عربی لفظ استعمال ہوا ہے وہ ازواج ہے جس کا مطلب جیون ساتھی ہے۔ اور جیون ساتھی دونوں ہو سکتے ہیں۔ اب میں نے کوشش کی ہے کہ پتہ لگاؤں کہ ہم کیوں بیویوں کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو مجھے پتہ چلا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا بھی یہی نظریہ تھا کہ ازواج کا مطلب جیون ساتھی ہے اور آپ نے اپنے اردو ترجمہ میں اس کا مطلب ازواج کیا ہے نہ کہ بیویاں۔ تو ترجمہ یوں ہے کہ تمہارے جیون ساتھی اور اولاد۔ تو اگر آپ جیون ساتھی (Spouse) کا لفظ استعمال کریں تو کوئی سوال نہیں رہتا۔ تو اب اس کا حل ہوگیا۔ بعض دفعہ آپ کے خاوند آپ کے دشمن بن جاتے ہیں اگر وہ آپ کو اسلام اور احمدیت کی تعلیمات کے خلاف عمل کرنے کےمتعلق کہہ رہے ہیں۔ بعض دفعہ کچھ خواتین کا اپنے مردوں پر زیادہ اثر ہوتا ہے۔ اور کئی دفعہ ایسا دیکھا گیاہے کہ مردوں کا اپنی بیویوں پر زیادہ اثر ہوتاہے۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ جو اس کا ترجمہ کر رہے تھے وہ متاثر ہو چکے تھے۔ اُس زمانہ میں عورتیں اسلامی تعلیم سے اتنی زیادہ واقف نہ تھیں۔ مگر اب آپ کافی پڑھی لکھی ہوگئی ہیں۔ آپ کو قرآن کا ترجمہ آتا ہے، آپ قرآن پڑھ سکتی ہیں۔ آپ کو اسلام اور احمدیت کی روایات سے آگاہی ہے، آپ کے پاس علم ہے۔ بعض دفعہ ہماری خواتین ہمارے مردوں سے زیادہ پڑھی لکھی ہوتی ہیں۔ یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اپنے خاوندوں اور بچوں سے متنبہ رہو۔

ایک اَور ممبر لجنہ اماء اللہ نے سوال کیا کہ ان غیرمعمولی حالات میں جس میں لوگوں کے عزیز و اقارب ان سے جدا ہوگئے ہیں۔ لوگوں کو نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا یا تبدیل کرنی پڑیں۔ کمائی میں اونچ نیچ ہوئی ہے۔ ان حالات میں انسان کس طرح اللہ تعالیٰ پر توکل کر سکتا ہے؟

حضور انور نے فرمایا کہ جب آپ کے پاس زیادہ کام ہو اور آپ دنیاوی معاملات میں مشغول ہوں، اور اپنا کام کر رہی ہوں اور دوسرے کاموں اور ملازمتوں میں مصروف ہوں تو عمومی طور پر دیکھا جاتا ہے کہ انسان نمازوں کی طرف زیادہ توجہ نہیں دیتا۔ میں تو اسے الٹ طرح سے دیکھتا ہوں کہ جب انسان کسی مشکل میں گرفتار ہوتاہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے۔ تو یہی وہ وقت ہے جب آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اپنی نمازوں کو بر وقت ادا کریں۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان تمام مشکلات کو دور کرے اور آپ اس مشکل گھڑی سے نکل جائیں۔ تو میری رائے میں آپ کو زیادہ استقامت دکھانی چاہیے۔ جب آپ کی اچھی نوکری ہو، آپ کما بھی رہے ہوں اور دنیاوی کاموں میں مصروف ہوں تو ہم عمومی طور پر دیکھتے ہیں کہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کون ہے اور ہمیں کب عبادت بجا لانی چاہیے۔ اور یہ کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی بھی چاہیے یا نہیں۔ انسان اللہ کو بھول جاتا ہے۔ دیکھیں ہم اس دنیا میں یہ تجربہ حاصل کرتے ہیں کہ وہ لوگ جو دنیاوی چیزوں میں مستغرق ہیں وہ عمومی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ اسی وجہ سے مغربی دنیا میں دہریت پھیلتی جا رہی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں ان کی اپنی صلاحیتوں ، ان کی تعلیم ، ان کے علم اور ان کے بہتر مالی معیار کی وجہ سے ہے۔ تو یہی ہم عمومی طور پر مشاہدہ کرتےہیں کہ وہ لوگ جو دنیا دار ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت بجا نہیں لاتے اور نہ ہی ان احکام کی تعمیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیے۔ بلکہ جو غریب لوگ ہیں وہ تو زیادہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ اور اب اگر آپ سمجھتی ہیں کہ مجھ پر ایک کڑا وقت ہے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ آپ کی تمام مشکلات کو دور کردے۔ اور پھر یہ عہد بھی کریں کہ جب بھی آپ کے حالات نارمل ہو جائیں گےتو آپ کسی بھی حال میں خشوع و خضوع والی نمازوں کی ادائیگی کو نہیں چھوڑیں گی۔ پس یہی وہ وقت ہے جب آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور زیادہ گریہ و زاری کرنی ہے۔ جب آپ کسی مشکل میں ہوں جب آپ کا بچہ بیمار ہو آپ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتی ہوں، جب آپ خود کسی مشکل میں ہوں یا بیمار ہوں تو آپ اللہ تعالیٰ سے کامل صحت یابی کے لیے دعا کرتی ہیں۔ تو یہی وہ وقت ہے جب آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی ہے۔ بجائے یہ کہنے کے کہ ہم کس طرح دعا مانگیں اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کس طرح ادا کریں ۔

مردوں میں سےایک ممبر نے سوال کیا کہ ایک مرتبہ پھر بر اعظم افریقہ بے شمار جنگوں اور بغاوتوں سے چُور چُور ہے۔ افریقن سربراہان کے لیے پیارے حضور کی کیا نصائح ہیں؟

حضور انور نے فرمایا کہ دنیا کا کون سا کونا ہے جو ان چیزوں سے پاک ہے۔ صرف افریقہ ہی نہیں بلکہ ہم دنیا کی ہر جگہ دیکھتے ہیں۔ اب ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یورپ کے حالات افریقہ سے زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ یہ حالات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ میں کئی سالوں سے بتا رہاہوں کہ ملک اور معاشرہ کے امن کی خاطر انصاف کی ضرورت ہے بلکہ کامل انصاف کی ۔ جب تک ہماری لیڈر شپ اپنے کاموں میں اپنی عوام کے لیے سچ اور انصاف سے کام نہیں لیتی ہم معاشرہ میں امن کو بر قرار نہیں رکھ سکتے اور یہ چیزیں چلتی رہیں گی۔ آپ دیکھتے ہیں کہ جہاں راہنما اچھے ہیں، اپنی عوام سے مخلص ہیں، وہ ممالک ترقی کر رہے ہیں یا کچھ حد تک کر چکے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے افریقہ میں بلکہ ہم ایشیا اور یورپ میں بھی بہت سے ایسے ممالک دیکھ سکتے ہیں جن کے راہنما مخلص نہیں ہیں۔ پس ہم دعا کرتے ہیں اور ان راہنماؤں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اخلاص اور سچائی پر قائم رہیں اور اپنے خالق حقیقی کو پہچانیں۔ اور اس بات پر یقین رکھیں کہ اللہ ان کے سب اعمال کو دیکھ رہاہے۔ جو کچھ بھی وہ کر رہے ہیں اس کے لیے اگر اس دنیا میں نہیں تو اگلے جہان میںوہ جواب دہ ہوں گے۔ تب کہیں وہ اچھے اعمال بجا لائیں گے۔ پس ہمیں انہیں یہ احساس دلانا ہوگا کہ خدائے واحد موجود ہے۔ اور وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہی ایک جہان ہی ہے۔ بلکہ وہ اگلے جہان میں اپنے سب اعمال کے لیے جواب دہ ہوں گے۔ اور جو کوئی ذمہ داری آپ کو سونپی گئی ہے اس کے بارہ میں آپ سے پوچھا جائے گا۔ اور اگر آپ اپنی ذمہ داری کو صحیح طرح ادا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ آپ کو سزا دے گا۔ پس یہ وہ واحد چیز ہے جو ان کی اصلاح کر سکتی ہے۔ یہ بات میں ہمیشہ کرتا آرہاہوں جب بھی مجھے ان لیڈرز سے بات کرنے کا موقع ملتا ہے کہ ہمیشہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ اگر ہم اس حقیقت کو سمجھ جائیں تو ٹھیک ہے ورنہ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔ ہم صرف دعا کر سکتےہیں یا یہ کوشش کر سکتے ہیں کہ سب ممالک اور براعظم حقیقی اسلام لے آئیں۔ جیساکہ آپ نے تلاوت میں سنا ہے جو آ پ کے سامنے کی گئی ہے کہ آپ ایک قوم بن جائیں اور ایک دوسرے سے اخلاص سے پیش آئیں۔ اور حقوق العباد اور حقوق اللہ ادا کریں۔ یہی واحد حل ہے ورنہ کسی قسم کی اصلاح کی کوئی امید باقی نہیں۔

ایک دوسرے دوست نے سوال کیاکہ ہم نے محسوس کیا ہے کہ ہمارے بعض PAAMA ممبران جماعتی اجلاسات میں اس وجہ سے شامل نہیں ہوتے کہ ان میں زیادہ تر اردو زبان بولی جاتی ہے جسے وہ سمجھ نہیں سکتے۔ پھر ایسے اجلاسات میں شامل ہونے کا کیا مقصد ہے؟

حضور انور نے فرمایا کہ دیکھو! اس صورت میں منتظمین اور عہدے داران اس کے ذمہ دار ٹھہرائے جا نے چاہئیں کہ وہ اپنی میٹنگز اردو میں کیوں کرتے ہیں۔ میں نے بہت دفعہ کہاہے کہ ہماری میٹنگز میں سے 70فیصد انگریزی زبان میں ہونی چاہئیں تاکہ سب سمجھ سکیں۔ اور انگریزی بولنے والوں کو بھی موقع ملنا چاہیے کہ وہ بھی اجلاسات میں کچھ کہہ سکیں۔ چاہے وہ تقریر یا خطاب وغیرہ ہو۔ عہدہ دار ہوں یا نہ ہوں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر بعض کو سمجھ نہیں آتی تو 70 فیصد انگریزی میں اور 30 فیصد اردو میں ہونا چاہیے۔ پس یہ نیشنل امیر صاحب اور صدران کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی عاملہ کو کہیں کہ وہ اجلاسات کو انگریزی میں منعقد کیا کریں تاکہ سب ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔ بہر حال نہ شامل ہونے والے اس ثواب سے جو ایسی مجلس میں بیٹھنے سے ملتا ہے محروم رہ جاتے ہیں جس میں اللہ اور اس کے رسول کا ذکر ہو۔ اور جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے اقتباسات پڑھے جاتے ہوں۔ لیکن یہ عہدہ داران کی غلطی ہے۔ پروگرام کم از کم 70فیصد انگریزی میں ہونا چاہیے۔ پس آپ میرا یہ پیغام اپنے صدر جماعت تک پہنچا سکتے ہیں۔

ایک اور دوست نے سوال کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مطابق اس زمانہ کا جہاد قلم کا جہاد ہے کیونکہ اسلام پر قلم کے ذریعہ حملہ کیا جا رہاہے۔ اگر پہلے مسلمانوں کو دفاعی جنگ کی اجازت ملی تھی تو احمدیوں کو پاکستان اور دیگر ممالک میں ظلم و ستم کے خلاف دفاعی طور پر لڑنے کی اجازت کیوں نہیں ہے؟ کیونکہ یہ ظلم و ستم قلم کے ذریعہ نہیں کیا جاتا۔

حضور انور نے فرمایا کہ دیکھیں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میں اس دنیا میں، اس زمانہ میں امن کے قیام کے لیے آیا ہوں اور میں مسیح موسویؑ کے نقش قدم پر آیا ہوں۔ کیا حضرت عیسیٰ ؑنے کبھی اپنے معاندین کے خلاف جنگ و جدال کیا ہے؟ نہیں۔ ان کی مخالفت کی گئی، ان کو مار اگیا، ان کو صلیب پر لٹکایا گیا۔ گوا للہ تعالیٰ نے ان کو بچا لیا لیکن انہوں نے ان تمام شدائد کو برداشت کیا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میں حضرت عیسیٰؑ کے نقش قدم پر آیا ہوں۔ اسی وجہ سے آ پؑ فرماتے ہیں کہ اب جہاد بالسیف جائز نہیں رہاہے۔ آپ نے آنحضرت ﷺ کی حدیث کا حوالہ دیاہے جوکہ بخاری میں مندرج ہےکہ مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جہاد جائز نہیں ہوگا۔ ہمارا کام حقیقی اسلام، محبت، امن اور ہم آہنگی کا پیغام پھیلانا ہے۔ اس پیغام کے ذریعہ جو ہمیں حاصل ہو رہا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو ہمیں ایک دوسرے کےخلاف جنگ و جدال کے نتیجہ میں حاصل ہو سکتا ہے۔ ایسے پاکستانی جو احمدیت کی آغوش میں آتے ہیں وہ ایسے لوگوں میں سے آئے ہیں، ان کی وہی سوچ اور نفسیات تھی۔ ان میں سے بعض مارشل قبائل سے آئے تھے۔ مگر اس کے باوجود احمدیت قبول کرنے کے بعد وہ کہتے ہیں کہ اسلام احمدیت کی تعلیم یہ ہے کہ صبر کا مظاہرہ کیا جائے۔ اور ان سب مظالم کو برداشت کیا جائے جو مخالفین کی طرف سے احمدیوں پر کیے جاتے ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ چونکہ آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرمائی ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں اس کو اور اس کی جماعت کو ان تمام مظالم کا نشانہ بنایا جائے گا۔ لیکن ان کو برداشت کرنا ہوگا۔ اسی وجہ سے ہم بدلہ نہیں لیتے۔ورنہ ہم بدلہ لے سکتے ہیں مگر اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ ہم ملک کے امن کو برباد کرنے والے ہوں گے جو پہلے سے ہی خطرہ میں ہے۔ ایک مرتبہ کسی نے خلیفہ ثالث کو یہ کہا کہ مجھے اجازت دیں کہ ہم ایک گروپ بنا کر پٹرول بم اور دیگر بم بنا کر ملک میں خلل پیدا کریں۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں تم ایسا کر سکتے ہو۔ مگر پھر اللہ تعالیٰ کہے گا کہ ٹھیک ہے تم اور تمہارے مخالفین جو چاہو کرو میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں۔ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں چھوڑ دیتا ہے تو ہمارے پاس کوئی محفوظ جگہ نہ رہی۔ لہٰذا بہتری اسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کی جائے۔ مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہمیں اپنے پیغام کو محبت، امن اورہم آہنگی کے ساتھ پھیلانا چاہیے اور صبر دکھانا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم مقابلہ نہیں کرتے۔

ایک دوست نے عرض کیا کہ میں جانتا ہوں کہ میں پیارے حضور سے بہت محبت کرتا ہوں تاہم میں نے نوٹ کیا ہے کہ جب مثلاً ورزش کرنے اور فٹ بال گیمز دیکھنے کا وقت آتا ہے تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ حضور انور کو ایم ٹی اے پر دیکھنے کی بجائے ان چیزوں کی طرف زیادہ رجحان ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ میں اپنے اندر پیارے حضور کے لیے ایسے جذبات اور لگن کیسے پیدا کر سکتا ہوں، جو ورزش اور ہر دیگر فعل سے زیادہ ہو کہ میں حضور انور کو ایم ٹی اے پر دیکھنے کی خواہش رکھوں اور ہرآن آپ کی باتیں سنوں۔

حضور انور نے فرمایا کہ دیکھیں حدیث میں آتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے سے اللہ تعالیٰ کی خاطر پیار کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر دو مومن میری خاطر اور میری رضا حاصل کرنے کی خاطر ایک دوسرے سے پیار کریں تو میں ان سے پیار کروں گا اور ان پر کثرت سے اپنے فضل نازل کروں گا۔ پس اگر آپ کا خیال ہے کہ آپ خلیفہ وقت سے اللہ تعالیٰ کی محبت کی خاطر پیار کرتے ہیں تو پھر باقی تمام محبتیں اور طرف ہونی چاہئیں اور صرف ایک بات آپ کے سامنے ہونی چاہیے اور وہ اللہ تعالیٰ کی محبت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی محبت کی خاطر ہی آپ خلیفہ وقت سے اور ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔ اسی طرح خلیفہ وقت اللہ تعالیٰ کی خاطر افراد جماعت سے پیار کرتا ہے۔ اگر یہ بات آپ کے ذہن میں ہو تو فٹ بال اور دوسری چیزوں کے لیے رغبت، خلافت اور اللہ تعالیٰ کی محبت پر غالب نہیں ہوگی۔ ایک مرتبہ آنحضورﷺ کے چوتھے خلیفہ، حضرت علیؓ کے بیٹے نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ میرے سے محبت کرتے ہیں؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ جی ہاں، میں آپ سے پیار کرتا ہوں۔ پھر ان کے بیٹے نے پوچھا کہ کیا آپ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں؟ اس پر حضرت علیؓ نے فرمایا کہ جی ہاں، میں اللہ تعالیٰ سے پیار کرتا ہوں۔ پھر ان کے بیٹے نے پوچھا کہ دو محبتیں ایک دل میں کس طرح جمع ہو سکتی ہیں؟ آپ میرے سے بھی محبت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے بھی محبت کرتے ہیں؟ اس پر حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ جب اللہ تعالیٰ کی محبت کا وقت آتا ہے تو صرف ایک محبت دل میں ہوتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی۔ اگر نماز کا وقت ہو اور آپ اس وقت ٹیلی وژن پر فٹبال کا میچ دیکھ رہے ہوں جو آپ کو بہت پسند ہے تو آپ کو ٹیلی وژن بند کرنا چاہیے اور پہلے توجہ سے اور تضرع سےنمازا دا کرنی چاہیے، جلد بازی میں نہیں۔ اگر اس کے بعد آپ کے پا س وقت ہو تو بے شک میچ دیکھ لو۔ اسی طرح اگر خلیفہ وقت تقریر یا خطاب فرما رہے ہوں اور براہِ راست آپ سے مخاطب ہوں تو آپ کو پہلے خلیفہ وقت کی باتوں کو سننا چاہیے اور بعد میں آپ بے شک میچ کی ریکارڈنگ دیکھ سکتے ہیں۔ آپ کو اپنی ترجیحات کو پہلے دیکھنا ہو گا کہ کونسی محبت آپ کو زیادہ عزیز ہے یعنی آپ کا دین، آپ کی خلافت سے وابستگی، آپ کی اللہ تعالیٰ سے محبت یا فٹ بال میچ سے رغبت، یا جو ٹیم آپ کو زیادہ پسند ہے۔ یہ آپ کو خود فیصلہ کرنا ہوگا۔ میں آپ کو کس طرح کہہ سکتا ہوں کہ آپ کو خلیفہ وقت سے زیادہ محبت کرنی چاہیے۔ یہ آپ کو خود فیصلہ کرنا ہوگا۔ مجھے پتا ہے کہ آپ کی نیک فطرت ہے۔

اس ملاقات کے اختتام پر حضور انور نے صدر صاحب PAAMAکو مخاطب ہوتےہوئے فرمایا کہ آپ دو تین منٹ زائد لے چکے ہیں اور وقت ختم ہو چکا ہے ۔ نیز فرمایا مجھے پتا ہے کہ مزید سوالات ہیں ، لیکن ان کو ہم اگلی بار دیکھیں گے۔ انشاء اللہ

پھر فرمایا: PAAMAکا ایک فرد میرے پاس یہاں بھی بیٹھا ہوا ہے۔ تو اس طرح اس کمرہ میں بھی آپ کی نمائندگی ہو رہی ہے۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close