متفرق مضامین

اسلامی قانون میں قذف، زنا بالرضا یا زنا بالجبر کے ثبوت کا طریق اور اس کی سزا (قسط چہارم۔ آخری)

(’ایچ ایم طارق‘)

مدعی کے زنابالجبر کےبلا ثبوت الزام اور ملزم کے اس سےانکار کی صورت میں دنیوی اسلامی سزا حد یا تعزیر سے بری الذمہ ہونے کےلیے آخری طریق قرآنی اصول کے مطابق یہ ہے کہ جس شخص پر الزام ہےوہ چار دفعہ یہ حلفیہ شہادت دےکہ الزام لگانے والا جھوٹا ہےاور پانچویں دفعہ یہ حلفیہ بیان کہ اگر مدعی سچا ہے تو اس ملزم پر خدا کا غضب نازل ہو۔ (النور: 7تا10)

دعویٰ زنابالجبر کی تحقیق کےبارے میں جماعت احمدیہ کا موقف

زنابالجبرکی شکایت پرکارروائی اور تحقیق کے متعلق جماعت احمدیہ کا موقف قرآن و سنت کے عین مطابق ہے۔ جوخلافت رابعہ میں مجلس افتاء کے بھی زیرغورآچکاہےاورحضرت خلیفة المسیح الرابعؒ نے مجلس کی درج ذیل سفارشات منظور فرمائیں:

1.زنابالجبر کا شکار ہونےوالی عورت کو اپنی فریاد متعلقہ حکام تک پہنچانے کی اجازت ہے اور اس کےلیے چار گواہ لانے کی اس پر پابندی نہیں ہوگی۔ بلکہ قرائن کے مطابق جس طرح کسی بھی دوسرے الزام کا معاملہ ہے اس کو بھی نبٹایا جائے گا۔ ایسی صورت میں قرائن کے ذریعہ فیصلہ کرنے کے بارہ میں سورت یوسف کی آیات 27تا29 ایک راہنما اصول ہے۔

2.اگرایسی عورت الزام ثابت نہ کرسکے تب بھی اس پر قذف کی حد نہیں لگائی جائے گی۔ سوائے اس کے کہ یہ ثابت ہوجائے کہ یہ عورت بدنیتی اور محض کسی کو ذلیل و رسوا کرنے کےلیے سازش کررہی ہے اور اس الزام میں اپنے آپ کو بھی ملوث کررہی ہے۔ ایسی صورت میں عدالت( اگر مدعا علیہ مطالبہ کرے تو) اس عورت کےلیے مناسب سزا تجویز کرسکتی ہے۔

3.عورت کو حتی الامکان جلد از جلد حکام کو اس زیادتی سے مطلع کرنا چاہیے لیکن اگر کسی مجبوری یا بدنامی کے خوف کی وجہ سے وہ اس میں تاخیر کرتی ہے تو اس وجہ سے اس سماعت کو رد نہیں کیا جاسکتا لیکن اگر اس عرصہ میں بعض ثبوت ضائع ہوتے ہیں اس کا نقصان مدعیہ کوہی ہوگا۔ (رپورٹ مجلس افتاء مورخہ 23؍اپریل 1998ء)

اس رپورٹ کے تیسرے نکتہ کے بارے میں حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ نےراہنمائی کرتے ہوئے یہ خصوصی ارشاد تحریر فرمایا: ’’رپورٹ میں تاخیر کی وجہ سے سماعت کو ردّ کیوں نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ایسے معاملات میں تو رسول اللہﷺ نے فوراً قدم اٹھایا ہے۔ اور تاخیر کے اندر تو توبہ بھی ہوجاتی ہے۔ تاخیر کے ساتھ جب وہ شکایت کا فیصلہ کرتی ہے تو گزشتہ کسی حوالے کا حق اسے نہیں ہونا چاہیے۔ زیادتی کرنے والے کو منع کرنے کے باوجود اگر وہ آخری وقت بھی کرتا ہے تو صرف اس کی شکایت کرے تاکہ اسے فوری شکایت سمجھاجائے۔ ورنہ کیا پتہ دونوں باہمی رضامندی سے کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔ ‘‘ (ارشادحضرت خلیفة المسیح الرابعؒ مورخہ 7؍ مئی 1998ء)

مدعی کے زنابالجبر کےبلا ثبوت الزام اور ملزم کے اس سےانکار کی صورت میں دنیوی اسلامی سزا حد یا تعزیر سے بری الذمہ ہونے کےلیے آخری طریق قرآنی اصول کے مطابق یہ ہے کہ جس شخص پر الزام ہےوہ چار دفعہ یہ حلفیہ شہادت دےکہ الزام لگانے والا جھوٹا ہےاور پانچویں دفعہ یہ حلفیہ بیان کہ اگر مدعی سچا ہے تو اس ملزم پر خدا کا غضب نازل ہو۔ (النور:7تا10)

اس کے بعد اسلامی قانون سزا کے مطابق یہ معاملہ خدا کے سپردہوگا یعنی قضائی لحاظ سے یہ کیس فائل کردیا جائیگا اورفریقین کو خدائی فیصلہ کا انتظار کرنا ہوگا۔

کم سنی میں فحش باتوں پر اکسانےکے نتیجےمیں بدعادات کاپیداہوجانااور اس کی ذمہ داری

اسلامی تعلیم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو فطرت صحیحہ پر پیدا کیا ہے۔ (الروم: 31)اور وہ طبعاً بدی سے نفرت کرتا ہے۔ بے شک گھر کے ماحول اور خصوصاً والدین کی تربیت کا اتنااثر توہوسکتا ہےجورسول کریمﷺ نے فرمایا کہ ایک صحیح الفطرت بچے کو والدین یہودی، عیسائی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔ (بخاری کتاب الجنائزبَابُ إِذَا أَسْلَمَ الصَّبِيُّ فَمَاتَ، هَلْ يُصَلَّى عَلَيْهِ، وَهَلْ يُعْرَضُ عَلَى الصَّبِيِّ الإِسْلاَمُ)

لیکن یہ بات محض کم سنی کے زمانہ سے تعلق رکھتی ہے۔ عاقل بالغ ہوجانےاورسن شعور کے بعد ہرانسان اپنے فعل کا خود ذمہ دار ہے۔ اور اس کےلیےلَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا(البقرة: 287)کا اصول کارفرماہوتا ہے۔ یعنی ہرعاقل بالغ مسلمان پرذمہ داری اس کی توفیق اور استعداد کے مطابق ہوتی ہے۔ اپنے افعال کا خود ذمہ دار ہے کیونکہ انسانی فطرت میں جو نیکی بدی کا شعور بخشا گیا ہے اس کے بارہ میں فرمایا: فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا(الشمس: 9-10) کہ نفس انسانی کو نیکی بدی دل میں ڈال دی گئی ہے پھر جو نفس کو پاک رکھتا ہے وہ کامیاب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح فرمایا: وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ(البلد: 11)کہ انسان کو دونوں راستے نیکی بدی کے دکھا دیے پھر وہ بلندی کی طرف جانے کی بجائے پستی کی طرف کیوں گیا۔

فطرت میں نیکی بدی کی پہچان کے موجوداس مادہ کے بارہ میں نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تجھے ناپسند ہو کہ لوگوں کو اس کا پتہ چلے۔ (مسلم کتاب البر والصلة والآداب بَابُ تَفْسِيرِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ)

اسی طرح رسول اللہﷺ نے نصیحت فرمائی کہ جو بات تمہیں شک میں ڈالے اسے ترک کردو اور وہ بات اختیار کرو جو مشکوک نہیں۔ (ترمذی كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم باب منہ)

حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں کسی نے عرض کیا کہ کوئی نصیحت فرمائیں۔ آپؑ نے فرمایا۔ تقویٰ اختیار کرو۔ اس نے پوچھا: تقویٰ کیا ہے؟آپؑ نے فرمایا جس بات میں دسواں حصہ بھی شُبہ ہو کہ خدا کو ناراض کرے گی اسے چھوڑ دو۔ (روایت حضرت مفتی محمد صادق صاحب برموقع نکاح حضرت مصلح موعودؓ مع حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ الفضل 30؍ستمبر1935ء)

پس اگر کوئی بچہ واقعی کم سنی میں ہرطرف سے انتہائی خراب بگڑے ہوئے ماحول میں گھرا ہو اور اس طرح پرورش پائے توبھی فطرت صحیحہ کی وجہ سے غالب امکان ہے کہ وہ راہ راست پر قائم رہ سکتا ہے۔ جیسےحضرت موسیٰؑ کا بچپن فرعون کے گھر میں گزرا۔ شاہی محلّات کی شراب نوشی، عیاشی اور اخلاق باختگی کے باوجود وہ نیکی پر قائم رہے۔

خود نبی کریمﷺ کا ابتدائی بچپن حلیمہ سعدیہ کے گاؤں میں اپنے گنواردیہاتی رضاعی بھائی بہنوں کے ساتھ گزرا پھر بعد میں دادا کی کفالت میں چچاؤں اورعمزادوں کے ساتھ رہے جو مشرکانہ ماحول کے پروردہ تھے مگر آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے صدق و ثبات عطا فرمایا۔

پس بچپن اور لڑکپن میں بدعادتوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنامحض ایک عذر لنگ تو ہوسکتا ہے اس میں کوئی وزن یا حقیقت نہیں کیونکہ اول تو ماحول میں سارے لوگ خراب یا بدعادات سکھانے والے نہیں ہوتے پھر والدین میں سے بھی اگر ایک راہ راست پہ نہ بھی ہوتو دوسرا بہتر تربیت کردیتا ہے اور اگر گھر کا ماحول اجتماعی ہے اور دیگر بزرگوں اور سرپرستوں کی موجودگی کے علاوہ عمومی نیک ماحول میسر آجاتاہے۔ پھراچھے دوست ماحول میں بعض کمزوریاں دور کرنے کا موجب بن سکتے ہیں۔

اسی طرح بعض ترقی یافتہ معاشروں میں تو بچوں کو کم سنی کی ایسی کمزوریوں سے بچنے کےوسائل درسگاہوں کے ذریعہ بھی میسر ہوتے ہیں۔

تاہم اگر کسی بدقسمت بچے کو ماں باپ دونوں کی تربیت اور نگرانی کے ساتھ اس کے گھر کے بزرگوں کی بھی نگرانی میسر نہ آسکے، نہ ہی درسگاہ اور ماحول و معاشرہ سے سیکھ کر وہ بدعادات سے بچ سکےتو پھر بھی ایسا عذر اس کےلیے کافی نہیں ہوسکتا کیونکہ سن شعور کو پہنچنے کے بعد اس کی فطرت صحیحہ کو نیکی بدی کی مکمل پہچان حاصل ہوچکی ہوتی ہے۔ خواہ وہ کتنے ہی عذر کرے جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهٖ بَصِيرَةٌ۔ وَّلَوْ أَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗ (القيامة: 15-16) کہ حقىقت ىہ ہے کہ انسان اپنے نفس پر بہت بصىرت رکھنے والا ہے۔ اگرچہ وہ اپنے بڑے بڑے عذر پىش کرے۔

اس اصول کے لحاظ سے معصوم اور کم سن بچوں کی پاکیزہ فطرت کا تو کیا سوال، مجرموں کی فطرت میں بھی نیکی اور بدی کی پہچان موجود ہوتی ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے تفسیر کبیر میں حضرت خلیفة المسیح الاولؓ کا یہ دلچسپ واقعہ درج فرمایا ہے کہ ان کے پاس ایک دفعہ ایک چور علاج کےلیے آیا۔ آپ نے اسے محنت کرنے اور چوری کے پیشہ سے بچنے کی نصیحت کی۔ اس نے اپنے جرم پر اصرار کرتے ہوئے چوری کےلیےاپنی اور اپنے ساتھی چوروں کے گروہ کی محنت کی طویل داستان سناڈالی جو مال چوری کرنے سے لے کرمال مسروقہ زیورات وغیرہ سنارکے پاس فروخت کرنےتک انہیں کرنی پڑتی ہے۔ حضرت خلیفة المسیح الاولؓ نے اس کی فطرت کوبیدارکرنے کےلیے یہ پوچھاکہ اگر وہ سنار تمہارا چوری کا مال کھاجائے تو پھر؟ اس پر وہ بے اختیار بولا کہ ہم اس بے ایمان کا سر نہ اڑادیں۔ حضورؓ نے اسے فرمایا کہ ابھی تو تم کہہ رے تھے کہ چوری کوئی عیب نہیں اوربڑی محنت کا کام ہے اور ابھی تم اس سنار کو بے ایمان کہہ رہے ہو۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ خود تمہاری فطرت اس چوری کو ناپسند کرتی ہے۔

پس امر واقعہ یہی ہے کہ ہر باشعورانسان کو اللہ تعالیٰ نے یہ ملکہ ودیعت کیا ہوتا ہے مگر وہ اپنے مفادات، دلچسپیوں اور تساہل کے پیش نظر اس سے عمداًصرف نظر کرتا ہے اور یہی اس کا قصور ہوتا ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے بھی یہ واقعہ بیان کرکے اس پر درج ذیل لطیف تبصرہ فرمایا: ’’بہرحال اصل دلیل جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے باربار استعمال کیا ہے وہ یہ ہے کہ انسانی کانشنس میں نیکی اور بدی کا احساس پایا جاتا ہے یعنی ہر شخص میں خواہ وہ کسی مذہب و ملت کا پیرو ہو یہ احساس پایا جاتا ہے کہ کچھ چیزیں اچھی ہیں اور کچھ چیزیں بری ہیں۔ یہ نہیں کہ فلاں چیز اچھی ہے اور فلاں چیز بری۔ یہ علم الاخلاق ہے۔ کانشنس کے معنے صرف اتنے ہوتے ہیں کہ ہر انسان میں ایک مادہ پایا جاتا ہے جو بتاتا ہے کہ کوئی چیز اچھی ہے اور کوئی چیزبری ہے۔ تم ساری دنیا میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں دکھاسکتے جو یہ کہتا ہو کہ ہر چیز اچھی ہے یا ہر چیز بری ہے۔ وہ کسی کو اچھا سمجھتا ہوگا اور کسی کو برا سمجھتا ہوگا۔ مثلاً چورچوری کو اچھا سمجھےگا مگر قتل کو برا سمجھےگا۔ یا قاتل قتل کو اچھا سمجھےگا مگر وعدہ کی خلاف ورزی کو برا سمجھےگا۔ یا ظالم ظلم کو اچھا سمجھے گا مگر جھوٹ پر اسے غصہ آجائے گا۔ یا جھوٹا جھوٹ کو اچھا سمجھے گا مگر قتل پر اسے غصہ آجائے گا۔ غرض اخلاق اور مذہب سے تعلق رکھنے والے جس قدر افراد دنیا میں پائے جاتے ہیں ہندو کیا اور عیسائی کیا اور مسلمان کیا اور سکھ اور یہودی کیا اور چوڑھے کیااور عالم کیا اور جاہل کیا ہر انسان میں یہ مادہ پایا جاتا ہے کہ کچھ کام مجھے کرنے چاہئیں اور کچھ کام نہیں کرنے چاہئیں۔ ‘‘(تفسیر کبیر سورة الشمس جلد 9صفحہ36)

تاہم اگرثابت ہوکہ کسی لڑکے یالڑکی کوواقعی غیراخلاقی عادات سکھائی بھی گئیں یاغلط کاموں کےلیےمجبورکیاگیاتو اس بچےکےلیے کوئی سزا نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَا تُكْرِهُوْا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَنْ يُكْرِھْهُّنَّ فَإِنَّ اللّٰهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَّحِيْمٌ(النور: 34)اور اپنى لونڈىوں کو اگر وہ شادى کرنا چاہىں تو (روک کر مخفى) بدکارى پر مجبور نہ کرو تاکہ تم دنىوى زندگى کا فائدہ چاہو اور اگر کوئى ان کو بے بس کردے گا تو ان کے بے بس کئے جانے کے بعد ىقىناً اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن ابی بن سلول کی ایک باندی تھی جس کا نام مُسَیکہ تھا اور دوسری کانام امیمہ تھا وہ ان دونوں کو زنا پر مجبور کیا کرتا تھا۔ ان دونوں نے نبیﷺ کے پاس اس بات کی شکایت کی۔ دوسری روایت ہے کہ عبد اللہ بن ابی بن سلول اپنی باندی سے کہا کرتا تھا کہ جا اور ہمارے لئے کچھ لے کر آؤ۔ تو ایک روایت کے مطابق اس موقع پر یہ آیت نازل فرمائی وَلَا تُکْرِھُوْا فَتَیَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَآءِ…ترجمہ: اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ شادی کرنا چاہیں تو (روک کر مخفی ) بدکاری پر مجبور نہ کرو تا کہ تم دنیوی زندگی کا فائدہ اُٹھاؤ اگر کوئی ان کو بے بس کردے گا تو ان کے بے بس کئے جانے کے بعد یقیناً اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ (صحیح مسلم کتا ب التفسیر زیر آیت وَلَا تُکْرِھُوا فَتَیَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَآءِ)

اور اگر اس موقع پر اس آیت کا نازل ہونا ثابت نہ بھی ہوتو بھی اس آیت میں عمومی رنگ میں ایسی سوسائٹی کےلیے جس میں غیر اخلاقی اور جنسی جرائم کی سرپرستی کی جاتی ہے یہ پیغام ہے کہ اوّل تخریب اخلاق کے اس سلسلہ کو نظام کے ذریعہ روکنا چاہیے۔ دوسرے جو لوگ مجبوراً غیر اخلاقی جرائم میں ملوث کیے جاتے ہیں وہ قابل رحم ہیں نہ صرف اس دنیا میں ان کےلیے کوئی سزا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جو غفور ورحیم ہے ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے گا ۔تاہم ان کو اس صفت سے فیضیاب ہونے کےلیے خود بھی ا ستغفار کرنا چاہیے کہ اپنی کسی نادانستہ معصیت پنہانی کی وجہ سے وہی کیوں اس مصیبت کے چنگل میں پھنس گیا۔

دوسرےاس جگہ جبراًغیر اخلاقی جرائم کا ارتکاب کروانے والوں کی بھی کوئی سزا بیان نہیں کی گئی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسلام میں محض شبہ کی بنا پر کوئی حدود وغیرہ قائم نہیں کی جاتیں۔ اور اگر وہ ثابت ہوجائے تو ایسے لوگوں کےلیے اسلامی ریاست میں بدکاری وغیرہ کےسنگین جرائم اور ان کی اشاعت و ترویج کی تعزیری سزا موت تک بیان کی گئی ہے جس کا سورة الاحزاب آیت نمبر62 میں ذکر موجود ہے۔ واللّٰہ اعلم بالصواب

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button