متفرق

ماؤں کے قدموں تلے سے جنت چھین لینے والے مرد

(نجم السحر صدیقی۔ جرمنی)

حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کا بہت بلند مقام بنایا ہے وہ اس لیے کہ ماں کی گود میں ہی رہ کر ایک بچہ پرورش پاتا ہے۔ پیدائش سے قبل بچہ جب اس کی ماں کی کوکھ میں ہوتا ہے وہاں سے ہی اس کی تربیت شروع ہو جاتی ہے اور جب وہ بچہ اس دنیا میں آتا ہے تو اس کا سب سے گہرا تعلق ماں کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ باپ سے کئی گنا زیادہ ایک بچہ اپنی ماں کے زیرِ سایہ پروان چڑھتا ہے۔ اسی لیے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک عورت کو اتنا بڑا مقام عطا فرمایا کہ جنت ماں کے قدموں تلے کردی۔ جنت اِنہیں ماؤں کے قدموں تلے ہے جو اپنے بچوں کی اچھے رنگ میں پرورش کرتی ہیں۔

اس سلسلے میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے خطاب میں مستورات کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ’’دوسری بات ایسی ہے جس کا عورت سے بھی تعلق ہے اور مرد سے بھی تعلق ہے۔ بعض دفعہ عورتیں جن کے پاؤں تلے جنت ہونی چاہئے بدنصیب مرد ان کے پاؤں تلے سے جنت چھین لیتے ہیں اور ذمہ داری عورت پر نہیں ہوتی بلکہ ان بدنصیب مردوں پر ہوتی ہے جن کی اولاد ماؤں سے جنت حاصل کرنے کی بجائے جہنم حاصل کر لیتی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو گھروں میں بد خلقی اور بدتمیزی سے پیش آتے ہیں۔ ان کو اپنی بیویوں کے نازک جذبات کا احساس نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ انہیں زیادہ جسمانی طاقت حاصل ہے اس لیے وہ جس طرح چاہیں اپنی بیویوں سے سلوک کریں۔ ان کی باتوں میں تلخی پائی جاتی ہے۔ غصہ پایا جاتا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر بگڑ جانا اور غصے کا اظہار کرنا ان کا معمول ہوتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں اتنی خرابیاں رونما ہوتی ہیں کہ اگر آپ ان کا تجسس کریں۔ اُن کے پیچھے چلیں تو بہت بڑا مضمون ہے جو آپ کے سامنے ابھرے گا۔ میں نے بارہا ان باتوں پر غور کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ گھر کی روزمرہ کی بد خلقی ہمارے معاشرہ کی اکثر خرابیوں کی ذمہ دار بن جاتی ہے۔ جن خاوندوں کا بیویوں کے ساتھ حسن و احسان کا تعلق نہ ہو۔ ان کے نازک جذبات کا احساس نہ ہو۔ اگر کبھی زیادتی بھی ہو جائے تو حوصلے سے کام نہ لے سکیں وہ بھی اپنی اولاد کے لئے ماؤں کے قدموں تلے سےجنت چھین لیتے ہیں اور ایسے مرد بھی ماؤں کے قدموں تلے سےجنت چھین لیتے ہیں جو ماؤں کی بے راہ روی کو بغیر اظہار افسوس کے قبول کرتے چلے جاتے ہیں۔ پس ماں اور باپ کے تعلق کے توازن ہیں جو آئندہ نسلوں کے بنانے یا بگاڑنے کا فیصلہ کرتے ہیںجن گھروں میں مائیں مظلوم ہوں جب باپ ان گھروں سے چلے جاتے ہیں تو مائیں اپنے بچوں کے کانوں میں اُن باپوں کے خلاف باتیں بھرتی چلی جاتی ہیں اور یہ ایک ایسا طبعی قانون ہے جو تمام دنیا میں رائج ہے۔ ایسی نسل پیدا ہوتی ہے جو باپ کی باغی ہوتی ہے اور باغی نسلیں پھر ہر نظم و ضبط کی ہر نظام کی باغی ہو جایا کرتی ہیں۔ مائیں سمجھتی ہیں کہ ہم نے اپنی اولاد کی زیادہ ہمدردی حاصل کر کے باپ سے اپنا بدلہ اتارا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنا بدلہ نہیں اتا ر رہیں بلکہ اولاد کو برباد کر رہی ہیں اور آئندہ کے لئے اسے کسی کام کا نہیں چھوڑتیں۔ وہ اولاد جو اپنے باپ کے خلاف چاہے جائز شکایات ہی ہو، بڑھ بڑھ کر باتیں کرنے لگ جاتی ہے اسے مذہب کی بھی کوئی قدر نہیں رہتی، معاشرے کی بھی کوئی قدر نہیں رہتی۔ اس کا احترام بالعموم اٹھ جاتا ہے۔ اور ایک باغی طرز کے مزاج کے لوگ پیدا ہونے شروع ہوتے ہیں۔ اب ان باتوں کو مزید بڑھا کر دیکھیں تو یہی مرد ہیں جو آئندہ کسی کے خاوند بننے والے ہیں۔ آئندہ عورتوں سے تعلق قائم کرنے والے ہیں تو اس ماں نے در حقیقت اپنا بدلہ خاوند سے نہیں اتارا بلکہ آنے والی معصوم عورتوں سے اتارا ہے۔ اس نے ایسے بد تمیز بچے پیدا کر دئیے جنہوں نے اس ظلم کو جاری رکھا جو ان کے باپ نے ماں سے روا رکھا تھا۔ اسی طرح اس کے برعکس بھی صورتحال ہوتی ہے مائیں بے راہ رو ہوجاتی ہیں اور خاوند ان کو روکنے سے عاجز آجاتے ہیں کیونکہ شروع ہی سے بعض عورتیں اس رنگ میں اپنے مردوں سے تعلقات قائم کرتی ہیں کہ گویا وہ بہتر معاشرہ سے آئی ہیں وہ زیادہ تعلیم یافتہ ہیں وہ زیادہ باتوں کو سمجھتی ہیں۔ مرد میں نقائص ہیں اس کے باوجود انہوں نے قبول کرلیا۔ مرد کا خاندان نسبتاً ہلکا ہے اس کے باوجود وہ شہزادی ان کے گھر آ گئی۔ وہ یہ باتیں منہ سے کہیں نہ کہیں ان کی طرز عمل بتا رہی ہوتی ہے کہ میں اونچی ہوں تم نیچے ہو اور وہ نیچے پھر ہمیشہ کے لئے واقعةً نیچے ہو جاتے ہیں۔ بری باتوں کو گھر میں دیکھتے ہیں، خلاف اسلام باتوں کو رائج دیکھتے ہیں اور ان کی جرأت نہیں ہوتی کہ ان کو روک سکیں۔ اب اندازہ کیجئے کہ ایسی اولاد جو ایسے گھر میں پل رہی ہو وہ کیا سیکھے گی اور کیا سوچ کر بڑی ہو گی۔ رفتہ رفتہ اس اولاد کے دل سے اس ماں کی عزت بھی اٹھ جاتی ہے۔ باپ کہے یا نہ کہے وہ بڑے ہو کر اس ماں کے خلاف گواہیاں دیتے ہیں اور دل سے جانتے ہیں کہ اس ماں نے نہ باپ سےصحیح سلوک کیا نہ حقوق ادا کیے نہ ہماری صحیح تربیت کی لیکن یہ سب کچھ جاننے کے باوجود وہ بداثر کو بہتر اثر کی نسبت جلدی قبول کرتے ہیں۔‘‘ (حوا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ، خطابات حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ، صفحہ 80-82)

حضورؒ کی ان باتوں سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ شادی کے بعدخاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ اچھا تعلق نہ ہو یعنی مائیں مظلوم ہوں اور بچوں کو باپوں کے خلاف باتیں سنائیںتو آنے والی نسل بھی باغی ہو جایا کرتی ہے۔ اوراس طرح وہ اپنی نسل پر منفی اثرات ڈالتی ہیں جس کے نتیجے میں وہ اپنی جنت بھی کھو بیٹھتی ہیں۔ لہٰذا ایک احمدی ہونے کے ناطے ہم سب کو اپنی ازدواجی زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق ہی گزارنی چاہیے۔ حضورؒنے فرمایاکہ ماں اور باپ کے تعلق کے توازن ہیں جو آئندہ نسلوں کے بنانے یا بگاڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close