الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

حضرت مولانا ظفر محمد ظفر صاحب

روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ 13؍جولائی 2013ء میں مکرم عبدالہادی ناصر صاحب نے حضرت مولانا ظفرمحمد ظفر صاحب کا ذکرخیر ذاتی مشاہدات کے حوالے سے کیا ہے۔ قبل ازیں آپؓ کا تذکرہ 2؍اکتوبر1998ء، 15؍ نومبر2002ء، یکم جولائی2005ء، 12؍دسمبر2014ء اور 22؍اپریل 2016ء کے شماروں میں ’الفضل ڈائجسٹ‘ کی زینت بن چکا ہے۔

مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ جامعہ احمدیہ احمدنگر میں جب مَیں داخل ہوا تو جامعہ کا ہوسٹل کچے کمروں کا تھا۔ بڑے کمروں میں پانچ چارپائیاں بچھی ہوتی تھیں جن کا درمیانی فاصلہ تین فٹ کا ہوتا تھا۔ سائیڈ پر چھوٹی سی ٹیبل لیمپ رکھنے کے لیے ہوتی تھی۔ مطالعہ چارپائی پر کیا جاتا ۔ ہر طالب علم کے پاس اپنی پلیٹ ہوتی تھی جس میں وہ اپنا کھانا لے کر آتا اور چارپائی پر بیٹھ کر ہی کھاتا۔ احمدنگر کی مسجد کچی تھی جس کے فرش پر کسیر ڈال کر صفیں بچھائی گئی تھیں۔ طاق میں مٹی کا ایک دیا ہوا کرتا تھا جس میں سرسوں کا تیل ڈالا جاتا اور اس کی مدھم روشنی میں نماز ادا ہوتی۔ درس کے وقت لالٹین روشن کی جاتی۔

حضرت مولانا ظفرمحمد ظفر صاحب کو مَیں نے پہلے روز جامعہ میں اپنی کلاس میں دیکھا تو آپ کی شخصیت سے بہت متأثر ہوا۔ نیلی اچکن اور سفید پگڑی، پُروقار چہرہ۔ میرا نام پوچھا اور دعا دی: خدا تمہیں علم سے روشناس کرے۔ایک روز اُن کے گھر گیا۔ آپ روٹی پر گُڑ رکھ کر کھارہے تھے۔ فرمایا کہ آؤ تم بھی طعامِ درویش میں شامل ہوجاؤ۔ پھر بتایا کہ گھر میں اکیلا تھا۔ بھوک لگنے پر دیکھا کہ روٹی اور گُڑ موجود ہے۔ مَیں نےتبرک کے طور پر آپ کے ہاتھ سے ایک لقمہ لیا۔ آپ نے آنحضرتﷺ کا وہ واقعہ بیان کیا جب فتح مکّہ کے روز اُمّ ہانیؓ کے ہاں جاکر آپؐ نے پوچھا کہ کچھ کھانے کو ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ گھر میں کچھ نہیں سوائے روٹی کے چند خشک ٹکڑوں کے۔ آپؐ نے پوچھا: تمہارے پاس سرکہ ہے؟ عرض کی: سرکہ موجود ہے۔ آپؐ نے روٹی کے خشک ٹکڑے سرکے میں ڈبودیے اور نرم ہونے پر کھائے اور فرمایا کہ سرکہ بہترین سالن ہے۔

حضرت مولانا صاحبؓ کی زندگی بہت پُرسکون تھی۔ کبھی اپنی کم مائیگی کا ذکر یا گلہ شکوہ نہیں کیا ؎

کتنا ہے خوش نصیب ظفرؔ آج تک جسے

دنیا کے حادثات پریشاں نہ کرسکے

آپ کو خداتعالیٰ سے ایک گونہ محبت تھی۔ قرآن کریم بہت سوز سے پڑھتے کہ سننے والا وجد میں آجاتا۔ تفسیر جس کیفیت میں کرتے اُسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ایک نظم میں اپنی محبتِ الٰہی کو یوں بیان فرماتے ہیں:

دل کے آنگن میں بہاروں کا نظارا ہوتا

تُو کبھی آکے جو مہمان ہمارا ہوتا

مَیں تو اندھا تھا میری جان تجھے پا نہ سکا

ڈھونڈ پاتا جو مجھے تُو نے پکارا ہوتا

ڈوب جاتا مَیں ترے بحرِ محبت میں اگر

پھر تلاطم نہ سفینہ نہ کنارا ہوتا

ہائے تنکوں کے سہاروں نے ڈبویا ہے مجھے

جُز ترے کاش نہ کوئی بھی سہارا ہوتا

تیری دہلیز پہ مَر جاتا خوشی کے مارے

اندر آنے کا اگر مجھ کو اشارا ہوتا

اے مری جانِ تمنّا! مجھے اتنا تو بتا

وہ ادا کیا ہے کہ مَیں بھی تِرا پیارا ہوتا

عہدِ پیری کو سمجھتا مَیں ملاقات کی رات

عمرِ رفتہ کو اگر مَیں نے سنوارا ہوتا

آج تک دل میں ظفرؔ کے یہ تڑپ ہے پیارے

چھوڑ کے سارے جہاں کو وہ تمہارا ہوتا

آپ کو قرآن سے عشق تھا۔ تلاوت فرماتے تو دل یہی چاہتا تھا کہ آپ پڑھتے ہی جائیں۔تفسیر بیان فرماتے تو معلوم ہوتا کہ آپ کی قرآن کریم پر کتنی گہری نظر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حروف مقطعات کے سمجھنے کا شعور بخشا تھا۔ جب بھی آپ کے گھر جانے کا اتفاق ہوا، آپ دروازہ کھولتے تو ہاتھ میں قرآن ہوتا۔آپ نے بچپن میں خواب دیکھا تھا کہ قرآن آپ کے سینے میں چمک رہا ہے۔ اپنی ایک نظم ’’میری آرزو‘‘ میں مختلف لوگوں کی آرزوؤں کا بیان کرنے کے بعد اپنی آرزو یوں بیان فرماتے ہیں کہ ؎

ہاں میرے دل میں بھی ہے ایک تمنّا مولیٰ

وہ اگر پوری ہو تو بندۂ احسان بنوں

آرزو تیرے ظفرؔ کی ہے یہی بچپن سے

عالمِ باعمل و عاشقِ قرآن بنوں

آپ کی یہ دعا قبول ہوئی۔

آپ کی شخصیت پُروقار اور طرزِ بیان دلنشین تھا۔ گفتگو میں علم و حکمت ایسی کہ سننے والا آپ کا گرویدہ ہوجاتا۔ ایک بار ٹرین میں لاہور سے ربوہ تک آپ کا ہم سفر بننے کا شرف حاصل ہوا۔ کالجوں میں تعطیلات شروع ہونے کی وجہ سے لاہور اسٹیشن پر بہت رش تھا۔ جب ٹرین پلیٹ فارم پر رُکی تو مَیں نے جلدی سے اپنے اور آپ کے لیے جگہ روک لی۔ آپ بیٹھ گئے تو گورنمنٹ کالج کے چند طلباء اپنے بلیزر پہنے ڈبّے میں داخل ہوئے اور سیٹوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو زبردستی تنگ کرنے لگے۔ کچھ اوپر سامان رکھنے والی جگہ پر بیٹھ گئے۔ ایک لڑکے نے حضرت مولانا کو عجیب انداز میں کہا: او بابا ذرا پرے کو ہٹ۔ حالانکہ وہاں کسی اَور کے بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔ مجھے غصہ آیا تو آپ بھانپ گئے اور مجھے ہلکا سا اشارہ کیا کہ چپ رہو۔ پھر خود سُکڑ کر بیٹھ گئے اور لڑکے کو بڑے پیار سے بیٹھنے کو کہا۔ گاڑی چل پڑی تو نہایت محبت سے لڑکے سے اُس کا نام پوچھا اور پھر کالج کا نام پوچھا جو اُس نے بڑے فخر سے بتایا۔ آپ نے فرمایا کہ اس کالج نے تو بڑے بڑے سپوت پیدا کیے ہیں جیسے علامہ اقبال اور سر محمد ظفراللہ خان صاحبؓ (اُن دنوں اقوام متحدہ میں کشمیر اور فلسطین کے بارے میں آپؓ کی خدمات اور تقاریر کی وجہ سے ساری دنیا میں ایک دھوم مچی ہوئی تھی)۔ حضرت مولانا نے فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جنہوں نے خاکساری سے اس مقام کو حاصل کیا ہے، تمہیں چاہیے کہ ان کی زندگیوں کا مطالعہ کرو۔ پھر آپ نے شیخ سعدیؒ کی کچھ حکایات بیان فرمائیں تو جوں جوں آپ گفتگو فرماتے جاتے تو اوپر بیٹھے ہوئے لڑکے سُننے کے لیے نیچے اُتر کر آپ کے قدموں میں بیٹھ گئے۔ جو لڑکا زبردستی آپ کے ساتھ بیٹھا تھا وہ بھی آپ کے قدموں میں آبیٹھا۔ ربوہ پہنچنے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ ربوہ اسٹیشن پر اُترنے سے کچھ پہلے آپ تیار ہونے لگے تو اُن لڑکوں کا آپ سے گلے ملنا دیدنی تھا۔ انہوں نے پوچھا کہ سر آپ کیا کرتے ہیں؟ تو مَیں نےآپ کا تعارف کروایا۔ جب گاڑی اسٹیشن پر رُکی تو طلبہ نے ہمارا سامان گاڑی سے نیچے اُتارا اور یوں الوداع کیا جیسے مدّتوں سے شناسا ہوں۔

کلاس میں آکر حضرت مولانا صاحب کبھی کتاب ہاتھ میں نہیں لیتے تھے۔ طلباء سے پوچھتے کہاں سے پڑھنا ہے؟ ہم پہلا مصرعہ پڑھ دیتے تو آپ اپنی منفرد طرز میں خوش الحانی سے پورا شعر پڑھتے اور پھر تشریح کرتے۔ آپ بعض دفعہ عربی شعر کا ترجمہ اردو شعر میں کردیتے اور کبھی اردو شعراء کا ہم معنی کلام پیش کرتے۔ ہم آپ کو متنبّی اور حماسہ کا حافظ کہا کرتے تھے۔ ’’حماسہ‘‘ کے معنی بہادری کے ہیں اور یہ زمانہ جاہلیت کی شاعری پر مختلف عرب شعراء کا کلام ہے جو جنگوں میں شجاعت کے اظہار کے طور پر تحریر کیا گیا ہے اور بہترین مرثیہ نگاری کا مرقع بھی ہے۔ ’’متنبّی‘‘ ابوتمام متنبّی کا کلام ہے جو زمانۂ جاہلیت کے بعد کا ہے۔

حضرت مولانا صاحب کو علامہ اقبال بھی بہت پسند تھے اور اُن کے بعض اشعار کا عربی میں ترجمہ بھی کردیا کرتے تھے۔ جب بھی آپ کسی شاعر کی شاعری پر تبصرہ کرتے تو وہ بےلاگ تبصرہ ہوتا اور شاعر کے اعتقادات یا اُس کی ذات سے کوئی غرض نہ ہوتی۔ آپ کو ایرانی شاعرہ قرۃالعین طاہرہ کا فارسی کلام بہت پسند تھا اور اکثر یہ اشعار گنگنایا کرتے تھے:

’’اگر مجھے تیرے رُوبرو ہونے اور آمنے سامنے آنے کا موقع ملے تو مَیں تیرا غم نکتہ بہ نکتہ اور ہوبہو بیان کروں۔

مَیں تیرے چہرے کے دیدار کے لیے بادِ صبا کی مانند گھرگھر، در در اور کوچہ کوچہ پھرتی ہوں۔

تیرے ہجر و فراق میں میری آنکھوں سے دجلہ دجلہ، دریا دریا، چشمہ چشمہ اور نہر نہر خون بہ رہا ہے۔

میرے غم زدہ دل نے تیرے عشق کو جان کے تانےبانے میں بُن لیا ہے۔

طاہرہؔ نے اپنی کتابِ دل کا ہر ایک صفحہ، ہر ایک تہ اور ہر ایک پردہ دیکھ لیا مگر وہاں تیرے عشق کے سوا کچھ بھی نہ پایا۔‘‘

کہا جاتا ہے کہ قرۃالعین طاہرہ نے بابی مذہب اختیار کرلیا تھا اور اپنے کلام میں وہ جس ہستی سے ملاقات کے لیے بےچینی کا اظہار کرتی ہے وہ دراصل بابؔ ہے۔ اس الزام کے بعد اُسے قید کردیا گیا اور پھر مُلّاؤں کے فتوے کے نتیجے میں پھانسی دے دی گئی۔ پھانسی سے پہلے اُس نے عروسی لباس پہنا، خوشبو لگائی اور پھر نماز ادا کی۔اُس نے جلّاد کو ایک بڑا ریشمی رومال بھی دیا اور کہا کہ اس رومال کا پھندا اُسے ڈالا جائے۔بہرحال اس کے کلام نے تو علامہ اقبال کو بھی مسحور کیے رکھا ہے اور اس کے کچھ اشعار اقبالؔ نے اپنی کتاب ’’جاویدنامہ‘‘ میں بھی درج کیے ہیں۔

………٭………٭………٭………

ڈاکٹر منصورہ شمیم صاحبہ کا انٹرویو

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10؍جون 2013ء میں مکرم زکریا ورک صاحب نے احمدی خاتون سائنسدان ڈاکٹر منصورہ شمیم صاحبہ کا انٹرویو پیش کیا ہے جو پاکستان کی واحد خاتون طبعیات دان ہیں جنہوں نے جنیوا (سوئٹزرلینڈ) میں واقع یورپین سینٹر فار نیوکلیئر ریسرچ میں ہگزبوسان کی سائنسی تحقیق پر نو ہزار سائنسدانوں کے ہمراہ کام کیا تھا۔ یہ تجربہ گاہ زمین کے اندر ایک سو میٹر گہری اور 27کلومیٹر طویل ہے۔ اس کی تعمیر بیس سال میں آٹھ بلین ڈالر کی لاگت سے مکمل ہوئی تھی۔ اس کی تعمیر کا مقصد چار بلین سال قبل کائنات کی تخلیق کے وقت اس کے ابتدائی سیکنڈز میں ہونے والے تغیرات کو معلوم کرنا ہے۔محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب اور سٹیون وائن برگ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے 1968ء میں ایٹم کے ایسے چھوٹے پارٹیکلز کی نشاندہی کی تھی جنہیں اب ہگزبوسان کہا جاتا ہے۔

ڈاکٹر منصورہ شمیم صاحبہ نے بتایا کہ میرے والد محترم شمیم احمد صاحب الیکٹریکل انجینئر تھے اور واپڈا لاہور میں ملازمت کے بعد اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر ریٹائرڈ ہوئے اور 2008ء میں وفات پاگئے۔ لاہور میں گرین ٹاؤن جماعت کے امین کے علاوہ وہ لالہ موسیٰ میں پندرہ سال تک بطور صدر جماعت خدمت بھی کرتے رہے۔ ہم چار بھائی اور بہنیں ہیں۔ مَیں نے 1998ء میں پنجاب یونیورسٹی سے M.Sc کی اور یونیورسٹی میں دوم رہی۔ پھر عبدالسلام انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹیکل فزکس میں ہائی انرجی فزکس میں ایک سال کا ڈپلومہ کرنے کے لیے وظیفہ مل گیا۔ پھر مَیں نے یونیورسٹی آف کنساس (امریکہ) سے فزکس میں M.Sc اور 2008ء میں Ph.D کی۔ میرے اندر سائنسدان بننے کی خواہش ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی زندگی کے مطالعہ کے نتیجے میں پیدا ہوئی اور اسی لیے مَیں نے اپنے لیے بھی فزکس کے مضمون کا انتخاب کیا۔ اب تک کئی سائنسی انعامات حاصل کرچکی ہوں اور بہت سی کانفرنسوں میں لیکچرز بھی دے چکی ہوں۔ میری کامیابی دعاؤں اور روشن دماغوں کی راہنمائی کا نتیجہ ہے۔

سرن لیبارٹری میں مَیں اُن سائنسدانوں کے گروپ میں شامل ہوں جو یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سے تجربات ریکارڈ کیے جائیں تاکہ مستقبل میں اُن کا سائنسی تجزیہ کیا جاسکے۔ دو سال مَیں اس گروپ کی انچارج رہی اور گزشتہ ایک سال سے Data Analysis پر کام کررہی ہوں۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر صاحبہ نے بتایا کہ مَیں حجاب پہنتی ہوں اور یہ کبھی بھی میری زندگی میں مسئلہ نہیں بنا۔

………٭………٭………٭………

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close